Islamic Education

All About Islam

تسمیہ 

Facebooktwittergoogle_plusredditpinterestlinkedinmailFacebooktwittergoogle_plusredditpinterestlinkedinmail

  

لفظ اسم کا مطلب 

لفظ اسم عربی زبان کے لفظ وسم سے نکلا ہے جس کا مطلب ہے ایک خاص نشان یا برانڈ کا نام۔ اس لحاظ سے تسمیہ ایک ایسا خاص نشان ہے جو اللہ سے منسوب ہے۔ اس کے علاوہ برانڈ کا نام دوسرے سے مختلف اور نمایاں ہوتا ہے جیسے کہ اللہ کی خصوصیات دوسروں سے نمایاں اور مختلف ہیں۔

اسم کا دوسرا مطلب ہے خوبصورت تو تسمیہ اللہ کی خوبصورتی کو بھی ظاہر کرتا ہے۔ اس سے یہ بھی ظاہر ہوتا ہے کہ اللہ کے ہر کام اور عمل میں خوبصورتی ہے۔

تسمیہ کا مطلب

“شروع اللہ کے نام سے جو نہایت مہربان اور نہایت رحم والا ہے”

تسمیہ کی وضاحت

جیسےلفظ اللہ کے بہت سے مطلب اور وضاحتیں ہیں اسی طرح لفظ الہ کے بھی بہت سےمطلب ہیں۔ کچھ علماء کے مطابق لفظ الہ ایک ایسے ایک خدا کے لئے استعمال کیا جاتا ہے جو عبادت کے لائق ہے۔

اس کے علاوہ پرانے وقتوں میں عربوں میں محبت کے دس درجات ہوتے تھے۔ دسواں درجہ بہت خطرناک اور جان لیوا تھا کیونکہ اس میں انسان مجبور ہو کر اپنی جان لے لیتا تھا۔ محبت کے نویں درجے کو ولہ کہا جاتا تھا۔اس درجے میں انسان کو نہ بھوک لگتی تھی اور نہ پیاس بلکہ عشق اس کی ہر کمی کو پورا کر دیتا تھا اور وہ دنیا اور مافیا سے بےپرواہ ہو جاتا تھا۔ ولہ میں انسان مثبت خیالات سے بھر جاتا تھا۔ اللہ بھی اسی طرح انسان کی ہر کمی کو پورا کرنے والا اور اسےبرائی سے اچھائی کی طرف لانے والا ہے۔

تسمیہ کا دوسرا حصہ ہمیں اللہ کے دو خوبصورت ناموں سے باور کرواتا ہے جو ویسے تو اللہ کی بھرپور رحمت کو ظاہر کرتے ہیں مگر ان کا دائرہ کار مختلف ہے۔ لفظ رحمن اللہ کی تین خصوصیات پیار، پرواہ، اور رحمت کو بےپناہ اندازمیں ظاہر کرتا ہے جو کہ فوری حاصل تو ہو سکتی ہے مگر یہ عارضی ہوتی ہے۔ اس کے عارضی پن سے ہرگز یہ مراد نہیں کہ اللہ اس رحمت، محبت کو اپنی مرضی سے انسان سے دور کرتا ہے بلکہ انسان کے اپنے عمل اور گناہ اللہ کی اس رحمت کو دور کرنے کا سبب بنتے ہیں۔

 جبکہ الرحیم کے ذریعے اللہ کے رحم کا عارضی پن مستقل ہو جاتا ہے۔ کیونکہ اللہ الرحیم مستقل طور پر ہے۔ اور الرحیم کے ذریعے ملنے والی محبت اور رحم بھی فوری میسر ہوتا ہے

تمام سورتوں کا حصہ یا صرف ایک روایت

تسمیہ تمام سورتوں کے شروع میں پڑھی اور لکھی جاتی ہے لیکن علماء کا اس بات پر اختلاف ہےکہ یہ تمام سورتوں کا ایک مستقل حصہ ہے یا صرف روایت کے طور پر پڑھا جاتا ہے۔ جیسا کہ سورة الفاتحہ کی ایک مستقل آیت اور سورت النمل کی آیت نمبر 30 پر تمام علما کا اشتراک ہے مگر باقی سورتوں کے معاملے میں اختلاف ہے۔

تسمیہ کی انفرادیت

 اگر گہرائی سے موازنہ کیا جائے تو تسمیہ ایک مکمل آیت نہیں بلکہ آیت کا حصہ ہے۔ جیسے اللہ کے ہر کام میں کوئی نا کوئی مصلحت چھپی ہوتی ہے ویسے ہی تسمیہ کو مکمل نہ بنا کر ایک چھوٹا حصہ بنایا گیا۔ جو کسی بھی کام سے پہلے جب بولا جاتا ہے تو اس کام کی تکمیل کرتا ہے۔مثلاً  اللہ کے نام سے شروع کر کے میں یہ کھانا کھاتا ہوں۔اس کا مطلب تسمیہ ہر کام کا لازمی حصہ ہے اور تسمیہ کے بغیر انسان کا کیا گیا ہر کام نامکمل ہے۔

بسم اللہ پڑھنے کے فوائد

تسمیہ پڑھنے سے انسان کہ بہت سے فوائد حاصل ہوتے ہیں کیوںکہ بسم اللہ پڑھنے سے

۔ ہر کام میں برکت پڑتی ہے

۔ اللہ کی رحمت اور برکت کا موجب بنتی ہے

۔ انسان کی مشکلات ختم ہو جاتی ہیں

۔ جنت کی ضمانت ہے

۔ دوزخ کی آگ سےحفاظت کرتی ہے

۔ اللہ کی قربت کا ذریعہ ہے

۔ اللہ کے تمام ناموں کا نچوڑ ہے

۔ کسی کام میں شیطان کی شمولیت کو ناممکن بنا دیتا ہے

۔گھر میں داخل ہونے سے پہلے پڑھی جانے والی تسمیہ سے شیطان گھر میں داخل نہیں ہو سکتا

 

اگر اس مکالمے میں ہم سے کوئی غلطی یا کوتاہی ہوئی ہے تو براہ مہربانی غلطی کی نشاندہی کر کے ہماری اصلاح میں مدد کیجیئے۔  اللہ ہماری چھوٹی بڑی غلطیوں کو معاف فرمائے اور ہماری اس کاوش کو اپنی بارگاہ میں قبول و مقبول فرمائے۔ اللہ اس کاوش کو ہمارے خاندان کے لئے نجات کا موجب بنائے اور دین پر ہماری پکڑ کو اور مضبوط کرے۔ آمین

 

Next Post

Previous Post

Leave a Reply

© 2019 Islamic Education

Theme by Anders Norén