Islamic Education

All About Islam

اسلام میں کلمات کی حقیقت

Facebooktwittergoogle_plusredditpinterestlinkedinmailFacebooktwittergoogle_plusredditpinterestlinkedinmail

 

  کلمہ عربی زبان میں لفظ کو کہا جاتا ہے۔ کبھی کبھی کلمہ ایک محاورہ یا ایک جملہ بھی ہو سکتا ہے۔ اگر اسلامی نقطہِ نظر سے دیکھیں تو کلمہ ایسے الفاظ کا مجموعہ ہے جو مسلمان اپنے رب کی بڑائی بیان کرنے کے لئے کہتے ہیں۔ کلمات کے بارے میں مختلف علما کی مختلف رائے ہیں۔

 کلمات کا پس منظر

پاک و ہند کے مسلمانوں نے بہت لمبا عرصہ ہندوؤں کے ساتھ گزارا اور ان کی رسومات کو دیکھ کر انہوں نے بہت سے دعاءوں کو اکٹھا کیا اور ان کو اسلام کا لازمی جزو قرار دے کر بچوں کو ذہن نشین کروانا شروع کر دیا. برصغیر کے علاوہ ان کلمات کا دوسرے اسلامی ممالک میں کوئی تصور نہیں پایا جاتا۔

کلمات کا ثبوت

قرآن اور حدیث سے ان کلمات میں سے کچھ کا ثبوت تو ملتا ہے مگر یہ کلمات اسلام کا لازمی جزو ہیں اس بات کی تصدیق کہیں سے نہیں ملتی۔ یہ کلمات دراصل مختلف قسم کے اذکار ہیں جو مختلف مواقع پر پڑھنا نبی پاک سے ثابت ضرور ہے ۔ ان میں سے کچھ کلمات خودساختہ بھی ہیں۔ اسلام بہ زات خود دین کامل ہے تو اس کی جڑیں مضبوط کرنے کے لئے خود ساختہ کلمات اور اضافوں کی ضرورت نہیں ہے بلکہ ہر وہ کام، جو بیشک اچھا کام ہے اور اس سے کسی دوسرے کو نہ تو نقصان ہوتا ہے مگر جو قرآن اور نبی کی سنت سے ثابت نہیں ہے وہ اسلام میں بدعت قرار دیا جاتا ہے

کلمات

جن 6 کلمات کا ہم اوپر ذکر کر چکے ہیں ان کی تفصیل بھی  حاضر خدمت ہے۔

کلمہ طیبہ

لا إِلَهَ إِلاَّ اللَّهُ مُحَمَّدٌ رَسُولُ اللہ

کلمہ طیبہ کا ثبوت قرآن پاک سے نہیں ملتا۔ قرآن پاک میں یہ دونوں کلمات متعدد جگہ پر استعمال ہوئے ہیں مگر ان کا اکٹھا استعمال قرآن پاک سے ثابت نہیں ہے۔

دوسرا کلمہ شہادت 

أَشْهَدُ أنْ لا إلَٰهَ إِلَّا اللهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيْكَ لَهُ وَأشْهَدُ أنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ

یہ کلمہ بھی قرآن سے نہیں بلکہ صحیح بخاری کی حدیث نمبر  115۔1 سے ثابت ہے۔ کلمہ شہادت اس بات کی شہادت ہے کہ اللہ ایک ہےاس کا کوئی شریک نہیں اور حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے نبی اور عبادت گزار بندے پیں

کلمہ تمجید 

سبحان اللہ، والحمد للہ، ولا إلہ إلا اللہ واللہ اکبر، ولا حول ولا قوۃ إلا باللہ العلي العظیم

  صحیح بخاری 7686 میں اس کلمے کا ذکر موجود ہے

  چوتھا کلمہ توحید

 لَآ اِلٰهَ اِلَّا اللهُ وَحْدَهٗ لَا شَرِيْكَ لَهٗ لَهُ الْمُلْكُ وَ لَهُ الْحَمْدُ يُحْىٖ وَ يُمِيْتُ وَ هُوَحَیٌّ لَّا يَمُوْتُ اَبَدًا اَبَدًاؕ ذُو الْجَلَالِ وَالْاِكْرَامِؕ بِيَدِهِ الْخَيْرُؕ وَهُوَ عَلٰى كُلِّ شیْ ٍٔ قَدِیْرٌؕ

یہ کلمہ بھی توحید سے ملتا جلتا ہے اور یہ بھی حدیث میں شہادت کے بیان میں آیا ہے۔ یا یہ دعا بازار میں داخل یوتے وقت پڑھی جاتی ہے۔

پانچواں کلمہ استغفار 

اَسْتَغْفِرُ اللهَ رَبِّىْ مِنْ كُلِّ ذَنْۢبٍ اَذْنَبْتُهٗ عَمَدًا اَوْ خَطَا ًٔ سِرًّا اَوْ عَلَانِيَةً وَّاَتُوْبُ اِلَيْهِ مِنَ الذَّنْۢبِ الَّذِیْٓ اَعْلَمُ وَ مِنَ الذَّنْۢبِ الَّذِىْ لَآ اَعْلَمُ اِنَّكَ اَنْتَ عَلَّامُ الْغُيُوْبِ وَ سَتَّارُ الْعُيُوْبِ و َغَفَّارُ الذُّنُوْبِ وَ لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ اِلَّا بِاللهِ الْعَلِىِّ الْعَظِيْمِؕ

یہ کلمہ حدیث سے ثابت نہیں ہے اور یہ انسانی تشکیل ہے اس لئے اس کا ودر کرنے میں کفر کا احتمال ہو سکتا ہے۔‎

چھٹا کلمہ  رد کفر

اَللّٰهُمَّ اِنِّیْٓ اَعُوْذُ بِكَ مِنْ اَنْ اُشْرِكَ بِكَ شَيْئًا وَّاَنَآ اَعْلَمُ بِهٖ وَ اَسْتَغْفِرُكَ لِمَا لَآ اَعْلَمُ بِهٖ تُبْتُ عَنْهُ وَ تَبَرَّأْتُ مِنَ الْكُفْرِ وَ الشِّرْكِ وَ الْكِذْبِ وَ الْغِيْبَةِ وَ الْبِدْعَةِ وَ النَّمِيْمَةِ وَ الْفَوَاحِشِ وَ الْبُهْتَانِ وَ الْمَعَاصِىْ كُلِّهَا وَ اَسْلَمْتُ وَ اَقُوْلُ لَآ اِلٰهَ اِلَّا اللهُ مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللهِؕ

یہ کلمہ بھی حدیث سے ثابت نہیں ہے اس لیے اس کا ورد کرنا بھی درست نہیں ہے۔

بدعت

بے شک یہ کلمات برے نہیں ہیں مگر جب قرآن اور حدیث سے ہمیں اچھے اچھے کلمات میسر ہیں تو انسان کے تشکیل شدہ کلمات کا ورد کرنے کا کیا فائدہ۔

اللہ تعالی قرآن پاک 17.88میں فرماتا ہے

کہہ دیجئے کہ اگر تمام انسان اور کل جنات مل کر اس قرآن کے مثل لانا چاہیں تو ان سب سے اس کے مثل لانا ناممکن ہے گو وہ ( آپس میں ) ایک دوسرے کے مددگار بھی بن جائیں.

 یہ اسلام میں اضافہ ہے جس سے اللہ اور اس کے رسول نے منع فرمایا ہے۔

اسلام سے پہلے مذاہب کا طریق

اپنے مذاہب میں بڑھاوے کرنا اسلام سے پہلے مذاہب کا طریق تھا۔ قرآن پاک کے علاوہ  باقی تمام اسلامی کتابیں انسانی تبدیلیوں کا منہ بولتا ثبوت ہیں۔ انہی انسانی بڑھاوں نے باقی تمام مذاہب کو ناقابل عمل بنا دیا ہے۔

تبدیلی کی ابتدا ہمیشہ چھوٹی چھوٹی چیزوں سے ہی ہوتی ہے اور یہ طریق چونکہ شیطان کا طریق ہے. اسی لئے اللہ نے قرآن کی حفاظت کا ذمہ اپنے سر لیا ہے اور دین میں اضافے سے سختی سے منع کیا ہے۔

اگر اس مکالمے میں ہم سے کوئی غلطی یا کوتاہی ہوئی ہے تو براہ مہربانی غلطی کی نشاندہی کر کے ہماری اصلاح میں مدد کیجیئے۔ اللہ ہماری چھوٹی بڑی غلطیوں کو معاف فرمائے اور ہماری اس کاوش کو اپنی بارگاہ میں قبول و مقبول فرمائے۔اللہ اس کاوش کو ہمارے خاندان کے لئے نجات کا موجب بنائے اور دین پر ہماری پکڑ کو اور مضبوط کرے. آمین 

 

Next Post

Previous Post

Leave a Reply

© 2019 Islamic Education

Theme by Anders Norén