Islamic Education

All About Islam

وضو

Facebooktwittergoogle_plusredditpinterestlinkedinmailFacebooktwittergoogle_plusredditpinterestlinkedinmail

وضو کا مطلب

اسلام طہارت پر بہت زور دیتا ہے خاص طور پر ہر عبادت سے پہلے جسم کی پاکیزگی کو ضروری قرار دیا گیا ہے۔ اسی لیے عبادت جیسا کہ نماز اور قرآن پڑھنے سے پہلے وضو کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔  وضو دراصل اردو زبان کا لفظ ہے جس کا مطلب ہے پاک ہونا جبکہ عربی زبان میں اس کے لئے طہارت صغیرہ کا لفظ استعمال ہوتا ہے۔

وضو کی وضاحت 

 جسم کے ان حصوں کو گندگی سے پاک کرنا جو ظاہر ہیں جیسے چہرہ، بازو، پاؤں وغیرہ وضو کے زمرے میں آتا ہے۔ وضو کے لیے اسلام میں خاص شرائط اور  طریقہ واضح کیا گیا ہے۔ اور اس طریقہ پر عمل پیرا ہونا ضروری ہے ۔ 

وضو کا طریقہ 

۔ نیت کرنا 

۔ بسم اللہ پڑھنا 

۔ دونوں ہاتھ دھونا 

۔ ناک میں تین بار پانی ڈالنا 

۔ تین بار کلی کرنا 

۔ تین دفعہ چہرہ دھونا 

(ایک کان سے دوسرے کان تک اور سر کے بالوں سے تھوڑی تک)

                  ۔ دونوں بازو کہنیوں تک دھونا 

۔ مسح کرنا 

۔ دونوں پاؤں ٹخنوں تک دھونا 

۔ شہادت پڑھنا 

۔اس ترتیب کا خیال رکھ کر وضو کرنا 

مسح کرنے کا طریقہ

مسح کے لیے سب سے پہلے ہاتھوں کو سر کے بالوں پر پھیرنا ہوتا ہے۔ پھر شہادت کی انگلی کو کانوں میں پھیرا جاتا ہے اور اسی وقت انگوٹھے کو کانوں کے پیچھے والے حصے پر پھیرا جاتا ہے۔ پھر ہاتھ کا پچھلا حصہ گردن کے پچھلے اور اوپری حصے پر پھیرا جاتا ہے۔ گردن کے اگلے حصے پر ہاتھ پھیرنے سے اجتناب کرنا  چاہیے کیونکہ یہ ممنوع ہے۔ اس سے علاوہ بہت سے لوگ پہلے انگلیاں ہونٹوں کو لگا کر چومتے ہیں اور ٓنکھوں کو بھی لگاتے ہیں مگر اس عمل کا حدیث سے کوئی ثبوت نہیں ملتا۔

وضو کے فرائض 

وضو کے صرف چار فرائض ہیں جن کو نہ کرنے سے وضو پورا نہیں ہوتا۔ ان کے علاوہ باقی تمام افعالمستحب اور سنت ہیں اور اگر ان میں سے کوئی چھوٹ بھی جائے تو وضو ہو جائے گا۔

منہ دھونا

دونوں بازو کہنی تک دھونا

ایک چوتھائی سر کا مسح کرنا

ٹخنوں تک پاؤں دھونا

وضو کے فوائد

وضو صرف ایک عبادت ہی نہیں اور نہ صرف پاکیزگی کا زریعہ ہے بلکہ دوسری تمام اسلامی عبادات اور احکام کی طرح انسانی روزمرہ کی زندگی میں اس کے بہت سے فوائد بھی ہیں۔ اسلام کے احکامات پر سائنس کی ریسرچ مے ثابت کر دیا ہے کہ اللہ کا دیا گیا ایک ایک حکم اور قرآن میں کہی گئی ایک ایک بات انسانی فائدے کے لیے کی گئی ہے۔ وضو کے بہت سے فوائد کا ہمیں علم ہے مگر جن فوائد سے شاید آپ واقف نہیں ان کی تفصیل درج زیل ہے۔  

ہاتھ دھونے کے فوائد 

ہاتھوں کو دن میں پانچ دفعہ دھونے سے جراثیم بھی دھل جاتے ہیں اور اس سے انسان بہت سی بیماریوں سے بچ جاتا ہے۔ 

کلی کرنے کے فوائد 

کلی کرنے سے انسان کا منہ بہت سی بیماریوں سے بچ جاتا ہے۔ دانتوں کو کیڑا نہیں لگتا۔  

ناک میں پانی ڈالنے کے فوائد 

۔ جب انسان وضو کے لئے ناک میں پانی ڈالتا ہے تو اس کا ناک صاف ہو جاتا ہے سانس لینے سے جو گردوغبار اس کے ناک میں جمع ہو جاتا ہے وہ وضو کرنے سے صاف ہوتا ہے۔ 

۔  گردوغبار کے ساتھ جو جراثیم ناک میں جاتے ہیں وہ بھی نکل جاتے ہیں اور بیماری سے بچت ہو جاتی ہے۔ اس  کے علاوہ نزلہ زکام سے بھی حفاظت رہتی ہے۔ 

چہرہ دھونے کے فوائد 

۔ چہرہ بارہا دھونے سے چہرہ گندگی سے پاک ہو جاتا ہے۔ 

۔ چہرے کی صفائی ہونے کی وجہ سے کیل مہاسے نہیں نکلتے۔ 

۔ جھریاں کم پڑتی ہیں۔ 

۔ آنکھیں  گردوغبار سے پاک ہو جاتی ہیں اور آنکھیں تر بھی رہتی ہیں۔ آنکھیں تر رہنے کا سب سے بڑا فائدہ یہ ہے کہ انسانی آنکھ ایک بیماری سے بچ جاتی ہے جو آنکھوں کی خشکی کی وجہ سے لاحق ہوتی ہے اور اس سے انسانی بینائی جانے کا بھی خدشہ ہوتا ہے۔ 

۔ دن میں پانچ دفعہ چہرہ دھونے سے سینہ، چھوٹی آنت اور بڑی آنت پر اچھے اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ 

۔ نفسیاتی بیماریاں اور ذہنی کمزوری میں نمایاں کمی واقع ہوتی ہے۔ 

بازو دھونے کے فوائد

بازو دھونے سے خون کی گردش بہتر ہوتی ہے۔ 

مسح کے فوائد

۔ مسح کرنے سے بالوں پد جمی مٹی دھول صاف ہو جاتی ہے۔ 

۔ دماغ کو سکون ملتا ہے۔ 

۔ دماغ کی گرمی کم ہوتی ہے۔ 

کان میں انگلی ڈالنے کے فوائد 

۔ اس سے کانوں کی صفائی ہو جاتی ہے۔ 

۔ کان تر ہوتے ہیں جس سے سننے کی صلاحیت بہتر ہوتی ہے۔ 

۔ کان کے پیچھے کی صفائی کرنے سے نظر کی کمزوری سے حفاظت ہوتی ہے۔ 

گردن کا مسح

۔ گردن کا مسح کرنے سے جسم کو توانائی ملتی ہے۔ 

۔ گردن کے اس حصے میں حرام مغز ہوتا ہے جس کا تعلق ریڑھ کی ہڈی اور تمام جسمانی جوڑوں سے ہوتا ہے۔ اس حصے کا مسح کرنے سے جسمانی جوڑوں اور ریڑھ کی ہڈی کو طاقت ملتی ہے۔ 

۔ حرام مغز ٹھنڈا ہوتا ہے جس سے دماغ کی نس پھٹنے کا خدشہ کم ہو جاتا ہے۔ 

۔ تھکن دور ہوتی ہے۔ 

۔ اگر گردن کا یہ حصہ خشک رہے تو دماغ میں خشکی پیدا ہوجاتی ہے جو جسمانی اور نفسیاتی بیماریوں کو جنم دیتی ہے۔ 

پاؤں کا وضو 

 پاءوں کا تعلق جسم کے مختلف حصوں سے ہوتا ہے ۔ پاءوں کو ہاتھ مار کر دھونے سے  انسانی جسم پر اچھے اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ 

روحانی فوائد

۔ وضو کرنے سے انسان کے چہرے پر نور آ جاتا ہے۔ 

 میں ( ایک مرتبہ ) ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے ساتھ مسجد کی چھت پر چڑھا۔ تو آپؐ نے وضو کیا اور کہا کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا تھا کہ آپ ﷺ فرما رہے تھے کہ  میری امت کے لوگ وضو کے نشانات کی وجہ سے قیامت کے دن سفید پیشانی  اور سفید  ہاتھ پاؤں والوں کی  شکل میں  بلائے جائیں  گے۔ تو تم میں  سے جو کوئی اپنی    چمک بڑھانا چاہتا ہے تو وہ بڑھا لے ( یعنی  وضو اچھی  طرح کرے ) ۔ صحیح بخاری کتاب وضو حدیث 136 

 ۔ دل کو سکون آتا ہے۔ 

۔وضو کے پانی سے گندگی کے ساتھ ساتھ صغیرہ گناہ بھی دھل جاتے ہیں۔ 

۔ وضو کی حالت میں انسان بہت سے گناہوں سے اجتناب کرتا ہے۔ 

۔ وضو کی حالت میں جادو اثر نہیں کرتا۔ اس لئے سنت نبوی کے مطابق تمام دن باوضو رہنا ثابت ہے اور رات کو سونے سے پہلے بھی وضو کر کے سونا سنت ہے تاکہ رات کو سوتےوقت بھی جادو اثر نہ کر سکے۔  

 ۔ وضو کی حالت میں جن بلا پاس نہیں آتے۔  

وضو کا قرآن سے ثبوت

 اے ایمان والو! جب تم نماز کے لئے اُٹھو تو اپنے منہ کو اور اپنے ہاتھوں کوکہنیوں سمیت دھو لو ۔  اپنے سروں کا مسح کرو اور اپنے پاؤں کو ٹخنوں سمیت دھو لو اور اگر تم جنابت کی حالت میں ہو تو غسل کرلو ہاں اگر تم بیمار ہو یا سفر کی حالت میں ہو یا تم میں سے کوئی حاجت ضروری سے فارغ ہو کر آیا ہو ، یا تم عورتوں سے ملے ہو اور تمہیں پانی نہ ملے تو تم پاک مٹی سے تیمم کر لو ، اسے اپنے چہروں پر اور   ہاتھوں پر مل لو اللہ تعالٰی تم پر کسی قسم کی تنگی ڈالنا نہیں چاہتا بلکہ اس کا ارادہ تمہیں پاک کرنے کا اور تمہیں پنی بھرپور نعمت دینے کا ہے تاکہ تم شکر ادا کرتے رہو ۔ سورت المائدہ آیت 6۔ 

حدیث سے ثبوت

 ایک مرتبہ انہوں نے ( یعنی ابن عباس رضی اللہ عنہا نے ) وضو کیا تو اپنا چہرہ دھویا ( اس طرح کہ پہلے ) پانی کے ایک چلو سے کلی کی اور ناک میں پانی دیا۔ پھر پانی کا ایک اور چلو لیا،  پھر اس کو اس طرح کیا ( یعنی ) دوسرے ہاتھ کو ملایا۔ پھر اس سے اپنا چہرہ دھویا۔ پھر پانی کا دوسرا چلو لیا اور اس سے اپنا   داہنا ہاتھ دھویا۔ پھر پانی کا ایک اور چلو لے کر اس سے اپنا بایاں ہاتھ دھویا۔ اس کے بعد اپنے سر کا مسح کیا۔ پھر پانی کا چلو لے کر داہنے پاؤں پر ڈالا اور اسے دھویا۔ پھر دوسرے چلو سے اپنا پاؤں دھویا۔ یعنی بایاں پاؤں اس کے بعد کہا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اسی طرح وضو کرتے ہوئے  دیکھا ہے ۔صحیح بخاری کتاب وضو حدیث 140۔ 

 رسول اللہ ﷺ جوتا پہننے، کنگھی کرنے، وضو کرنے اور اپنے ہر کام میں داہنی طرف سے کام کی ابتداء کرنے کو پسند فرمایا کرتے تھے۔ صحیح بخاری کتاب وضو حدیث 168 

اگر اس مکالمے میں ہم سے کوئی غلطی یا کوتاہی ہوئی ہے تو براہ مہربانی غلطی کی نشاندہی کر کے ہماری اصلاح میں مدد کیجیئے۔ اللہ ہماری چھوٹی بڑی غلطیوں کو معاف فرمائے اور ہماری اس کاوش کو اپنی بارگاہ میں قبول و مقبول فرمائے۔اللہ اس کاوش کو ہمارے خاندان کے لئے نجات کا موجب بنائے اور دین پر ہماری پکڑ کو اور مضبوط کرے. آمین  

Next Post

Previous Post

Leave a Reply

© 2019 Islamic Education

Theme by Anders Norén