Islamic Education

All About Islam

والدین کا احترام

Facebooktwittergoogle_plusredditpinterestlinkedinmailFacebooktwittergoogle_plusredditpinterestlinkedinmail

 

والدین کی نافرمانی کرنا بھی اسلام میں ایک کبیرہ گناہ ہے۔ اسلام میں والدین اور اولاد کو حقوق اور فرائض سونپے گئے ہیں۔ والدین کی عزت کرنا اور انکی اطاعت کرنے میں بہت فرق ہے۔ اولاد کو والدین کی عزت کرنے کا حکم دیا گیا ہے مگر ان کی اطاعت کا نہیں۔

والدین کون ہیں؟

والدین سے مراد وہ ہیں جنہوں نے ایک بچے کو پیدا کیا۔

اگر والدین کافر ہوں؟

اگر والدین کافر ہوں تو بھی ایک مسلمان پر ان کی عزت کرنا لازم ہے۔ ان کے کفر کی وجہ سے والدین سے ظلم و زیادتی بھی ناقابل معافی گناہ ہے

میری والدہ مشرکہ تھیں وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے قریش کے ساتھ صلح کے زمانہ میں اپنے والد کے ساتھ ( مدینہ منورہ ) آئیں۔ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ان کے متعلق پوچھا کہ میری والدہ آئی ہیں اور وہ اسلام سے الگ ہیں ( کیا میں ان کے ساتھ صلہ رحمی کر سکتی ہوں؟ ) نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ہاں اپنی والدہ کے ساتھ صلہ رحمی کرو۔ صحیح بخاری کتاب آخلاق حدیث نمبر 5979

اطاعت اور عزت کا فرق

ایک انسان پر صرف اللہ تعالیٰ کی اطاعت لازم ہے۔ عزت اور اطاعت میں فرق ہے۔ اطاعت کا مطلب ہے کہ تمام احکام کو بغیر تنقید مان لیا جائے اور عزت کرنے سے مراد ان سے اچھا سلوک روا رکھا جائے۔ ان کی خواہشات کا احترام کیا جائے مگر اگر والدین کی خواہش اللہ تعالیٰ کے احکام کے خلاف ہو تو ان کو نہ مانا جائے

لفظ احسان کا مطلب

قرآن مکں والدین کے ساتھ احسان کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔ احسان سے مراد ہے کہ انسان اپنی استطاعت میں سے سے بہترین فعل سرانجام دے۔ انسان اپنے والدین کے لئے سب سے بہتر عمل کرے مگر اس کے لئے دوسرے رشتوں کو نظرانداز کرنا غلط عمل ہے۔ اگر انسان اپنی استطاعت میں بہترین کرے تو پھر اس پر کسی قسم کا گناہ نہیں ہے۔ والدین پر چیخنا، چلانا یا مارنا منع ہے۔ مگر اس سے یہ مراد نہیں کہ اگر والدیں نا انصافی کرے تو پھر بھی ان کے حکم پر عمل پیرا ہوا جائے۔ اللہ نت اولاد کو والدین کا غلام نہیں بنایا

والدین کے حقوق

والدین کے حقوق کے لئے دوسرا مکالمہ دیکھیں

والدین سے برا سلوک کیوں گناہ ہے؟

سورت الانعام آیت 151 میں اللہ نے فرمایا

آپ کہیے کہ آؤ میں تم کو وہ چیزیں پڑھ کر سناؤں جن ( یعنی جن کی مخالفت ) کو تمہارے رب نے تم پر حرام فرما دیا ہے وہ یہ کہ اللہ کے ساتھ کسی چیز کو شریک مت ٹھہراؤ اور ماں باپ کے ساتھ احسان کرو اور اپنی اولاد کو افلاس کے سبب قتل مت کرو ۔ ہم تم کو اور ان کو رزق دیتے ہیں اور بے حیائی کے جتنے طریقے ہیں ان کے پاس بھی مت جاؤ خواہ وہ اعلانیہ ہوں خواہ پوشیدہ اور جس کا خون کرنا اللہ تعالٰی نے حرام کر دیا ہے اس کو قتل مت کرو ہاں مگر حق کے ساتھ ان کا تم کو تاکیدی حکم دیا ہے تاکہ تم سمجھو ۔

۔ اس آیت میں بتایا گیا ہے کہ والدین سے برا سلوک کرنا منع ہے۔ ودین کی عزت نہ کرنے کو کبیرہ گناہ قرار دینے کی مندرجہ ذیل وجوہات ہیں۔

۔قرآن کی متعدد آیات میں اللہ کی اطاعت کے بعد والدین کے ساتھ اچھا سلوک روا رکھنے کا حکم دیا گیا ہے۔

۔والدین ہی بچے کو اس دنیا میں لاتے ہیں۔ایک ماں اپنے بچے کے لئے بہت سی مشکلات کا سامنا کرتی ہے اس لئے بچون کو ان کی عزت کرنی چاہیے۔

۔ والدین بچوں کو کسی مطلب کے بغیر محبت کرتے ہیں۔

۔ والدین بچوں کے دنیا میں محافظ اور خیر خواہ ہیں۔

۔اللہ والدین کے غصے سے غصہ ہوتا ہے۔

۔والدین انسان کی محبت اور شفقت کے سب سے زیادہ حقدار ہیں۔

نافرمان اولاد کی خصوصیات

قران میں نافرمان اولاد کی مندرجہ زیل خصوصیات بیان کی گئی ہیں

۔ گستاخ

۔ نافرمان

۔ بدبخت

والدین کی عزت کے فوائد

۔ والدین کی عزت کرنا جہاد کرنے سے افضل ہے

۔ گناہوں کا کفارہ ہے

۔ والدین کی خوشی اللہ تعالیٰ کی خوشی ہے

۔ والدین سے حسن سلوک اللہ تعالیٰ کے غصے کو ختم کرتا ہے

۔ یہ انسان کی زندگی کو لمبا کرتا ہے

۔ یہ عمل غربت اور بدنصیبی کو ختم کرتا ہے

۔ والدین کی دعائیں انسان کودنیا اور آخرت میں کامیابی عطا کرتی ہے

والدین کی عزت کرنے کا پیمانہ

ماں اولاد کی محبت اور شفقت کی تین گنا زیادہ حقدار ہے۔

۔ اور ہم نے انسان کو اپنے ماں باپ کے ساتھ حسن سلوک کرنے کا حکم دیا ہے اس کی ماں نے اسے تکلیف جھیل کر پیٹ میں رکھا اور تکلیف برداشت کرکے اسے جنا ۔ اس کے حمل کا اور اس کے دودھ چھڑانے کا زمانہ تیس مہینے کا ہے ۔سورت الاحقاف آیت 15

کن صورتوں میں والدین کی نافرمانی جائز ہے؟

۔ ان حالات میں والدین کی نافرمانی جائز ہے۔

 ہم نے ہر انسان کو اپنے ماں باپ کے ساتھ اچھا سلوک کرنے کی نصیحت کی ہے ہاں اگر وہ یہ کوشش کریں کہ آپ میرے ساتھ اسے شریک کرلیں جس کا آپ کو علم نہیں تو ان کا کہنا نہ مانیئے تم سب کا لوٹنا میری ہی طرف ہے پھر میں ہر اس چیز سے جو تم کرتے تھے تمہیں خبر دوں گا ۔ سورت العنکبوت آیت 8

۔ اگر والدین کا کوئی حکم اللہ کے خلاف شرک ہو تو اسےماننا ممنوع ہے۔

 اور وہ لوگ جب کوئی فحش کام کرتے ہیں تو کہتے ہیں کہ ہم نے اپنے باپ دادا کو اسی طریق پر پایا ہے اور اللہ نے بھی ہم کو یہی بتا یا ہے ۔ آپ کہہ دیجئے کہ اللہ تعالٰی فحش بات کی تعلیم نہیں دیتا کیا اللہ کے ذمہ ایسی بات لگاتے ہو جس کی تم سند نہیں رکھتے؟ سورت الاعراف آیت 28

۔ اس آیت کے مطابق اگر والدین انسان کو کوئی ایسی بات پر عمل کرنے کا کہیں جو اسلام کے خلاف ہو مگر معاشرت کا حصہ ہو تو اس پر عمل نہیں کرنا چاہیے۔

۔ اگر والدین بیوی پر ظلم کرنے کا حکم دیں تو اس کو ماننا بھی اسلامی قوانین کی خلاف ورزی ہے

۔ اگر والدین رشتے اور قرابت داری توڑنے کا حکم دین تو ان پر عمل نہ کیا جائے۔

قرآن اور والدین

۔ اور اس نے مجھے اپنی والدہ کا خدمت گزار بنایا ہے اور مجھے سرکش اور بد بخت نہیں کیا ۔ سورت مریم آیت 32

۔ ہم نے انسان کو اس کے ماں باپ کے متعلق نصیحت کی ہے ، اس کی ماں نے دکھ پر دکھ اٹھا کر اسے حمل میں رکھا اور اس کی دودھ چھڑائی دو برس میں ہے کہ تو میری اور اپنے ماں باپ کی شکر گزاری کر ، ( تم سب کو ) میری ہی طرف لوٹ کر آنا ہے ۔ سورت لقمان آیت 14

۔ اور تیرا پروردگار صاف صاف حکم دے چکا ہے کہ تم اس کے سوا کسی اور کی عبادت نہ کرنا اور ماں باپ کے ساتھ احسان کرنا ۔ اگر تیری موجودگی میں ان میں سے ایک یا دونوں بڑھاپے کو پہنچ جائیں تو ان کے آگے اف تک نہ کہنا ، نہ انہیں ڈانٹ ڈپٹ کرنا بلکہ ان کے ساتھ ادب و احترام سے بات چیت کرنا ۔ سورت بنی اسرائیل آیت 23

۔ ہم نے ہر انسان کو اپنے ماں باپ کے ساتھ اچھا سلوک کرنے کی نصیحت کی ہے سورت العنکبوت آیت 8

حدیث اور والدین

۔ ہمیں اس گھر والے نے خبر دی اور انہوں نے اپنے ہاتھ سے عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے گھر کی طرف اشارہ کیا، انہوں نے بیان کیا کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا اللہ تعالیٰ کے نزدیک کون سا عمل سب سے زیادہ پسند ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ وقت پر نماز پڑھنا۔ پوچھا کہ پھر کون سا؟ فرمایا کہ والدین کے ساتھ اچھا سلوک کرنا، پوچھا پھر کون سا؟ فرمایا کہ اللہ کے راستے میں جہاد کرنا۔ عبداللہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے ان کاموں کے متعلق بیان کیا اور اگر میں اسی طرح سوال کرتا رہتا تو آپ جواب دیتے رہتے۔ صحیح بخاری کتاب اچھے اخلاق حدیث نمبر 5970

۔ ایک صحابی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا کہ یا رسول اللہ! میرے اچھے سلوک کا سب سے زیادہ حقدار کون ہے؟ فرمایا کہ تمہاری ماں ہے۔ پوچھا اس کے بعد کون ہے؟ فرمایا کہ تمہاری ماں ہے۔ انہوں نے پھر پوچھا اس کے بعد کون؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تمہاری ماں ہے۔ انہوں نے پوچھا اس کے بعد کون ہے؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ پھر تمہارا باپ ہے۔ ابن شبرمہ اور یحییٰ بن ایوب نے بیان کیا، کہا ہم سے ابوزرعہ نے اسی کے مطابق بیان کیا۔ صحیح بخاری کتاب اچھے اخلاق حدیث نمبر 5971

۔ ایک صحابی نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کیا میں بھی جہاد میں شریک ہو جاؤں؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا کہ تمہارے ماں باپ موجود ہیں انہوں نے کہا کہ جی ہاں موجود ہیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ پھر انہیں میں جہاد کرو۔ صحیح بخاری کتاب اچھے اخلاق حدیث نمبر 5972

۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یقیناً سب سے بڑے گناہوں میں سے یہ ہے کہ کوئی شخص اپنے والدین پر لعنت بھیجے۔ پوچھا گیا: یا رسول اللہ! کوئی شخص اپنے ہی والدین پر کیسے لعنت بھیجے گا؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ وہ شخص دوسرے کے باپ کو برا بھلا کہے گا تو دوسرا بھی اس کے باپ کو اور اس کی ماں کو برا بھلا کہے گا۔ صحیح بخاری کتاب اچھے اخلاق حدیث نمبر 5973

والدین کی نافرمانی کی سزا

والدین کی نافرمانی کی درج ذیل سزائیں ہیں

۔ نافرمان کی نماز قبول نہیں ہوتی

۔ نافرمان کو دنیا اور آخرت میں اللہ سزا دیتا ہے

۔ نافرمان غربت اور بدحالی کا شکار ہوتا ہے

۔ نافرمان کو اللہ ذلیل کرتا ہے

 

اگر اس مکالمے میں ہم سے کوئی غلطی یا کوتاہی ہوئی ہے تو براہ مہربانی غلطی کی نشاندہی کر کے ہماری اصلاح میں مدد کیجیئے۔ اللہ ہماری چھوٹی بڑی غلطیوں کو معاف فرمائے اور ہماری اس کاوش کو اپنی بارگاہ میں قبول و مقبول فرمائے۔اللہ اس کاوش کو ہمارے خاندان کے لئے نجات کا موجب بنائے اور دین پر ہماری پکڑ کو اور مضبوط کرے۔ آمین 

Next Post

Previous Post

Leave a Reply

© 2019 Islamic Education

Theme by Anders Norén