Islamic Education

All About Islam

نکاح

Facebooktwittergoogle_plusredditpinterestlinkedinmailFacebooktwittergoogle_plusredditpinterestlinkedinmail

 نکاح یا شادی ایک ایسا عمل ہے جو دین اسلام کی رو سے بہت اہم اور ضروری عمل ہے. یہ قرآن اور سنت سے بھی ثابت ہے اور معاشرتی لحاظ سے بھی انسان کو زنا جیسے گناہ سے محفوظ رکھتا ہے۔ نکاح کرنے کی شرائط اور ضوابط بھی ہیں جن کا ذکر درج  زیل میں کیا گیا ہے

نکاح کا مطلب

لفظ نکاح عربی زبان میں شادی کو کہتے ہیں کیونکہ یہ لفظ قرآن میں شادی کے زمرے میں استعمال ہوا ہے۔ نکاح کا اصطلاحی مطلب ہے جب دو الگ چیزیں مل کر ایک بن جائیں اور چونکہ شادی میں مرد اور عورت  ساری عمر کے لئے ایک ایسے رشتے میں بندھ جاتے ہیں جس میں ایک دوسرے کے دکھ سکھ بانٹے جاتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ نکاح کو شادی کے زمرے میں لیا جاتا ہے۔

نکاح کی وضاحت

نکاح ایک ایسا معاہدہ ہے جو ایک بالغ مرد اور بالغ عورت کے درمیان، دونوں کی آزاد مرضی سے دو گواہوں کی موجودگی میں طے پایا جاتا ہے. یہ معاہدہ زبانی یا لکھائی میں دونوں فریقین کے درمیان طے پا جاتا ہے. نکاح مرد اور عورت پر کچھ زمہ داریاں اور حقوق عائد کرتی ہیں۔

نکاح کی تاریخ

اسلام سے پہلے مختلف قسم کی شادیوں کا رواج عام تھا. ان شادیوں میں عورتوں کو نہ تو کوئی حقوق حاصل تھے اس کو کوئی اہمیت حاصل نہیں تھی اور نہ اسے طلاق کا حق حاصل تھا. مرد پر کوئی پابندی نہیں تھی اور وہ جتنی مرضی شادیاں کر سکتے تھے. اور یہ بھی ان کو حق تھا کہ وہ ان سے کیسا رویہ اختیار کرے. عورتوں کو پاؤں کی جوتی تصور کیا جاتا تھا۔

نکاح کی شرائط

نکاح ایک باقاعدہ اسلامی رسم ہے جس کی کچھ خاص شرائط ہیں اور اسلام ان شرائط کے پورا کرنے پر سختی سے زور دیتا ہے۔ ان شرائط میں سے اگر کوئی ایک بھی پوری نہ ہو تو نکاح مکمل نہیں ہوتا۔ یہ شرائط مندرجہ ذیل  ہیں

بالغ

اسلامی قوانین کی رو سے مرد اور عورت کا بَالغ ہونا ضروری ہے. کسی بھی بچے یا عمر بلوغت سے کم ہونے پر والدین یا نگران کی مرضی سے بھی نکاح نہیں کیا جاسکتا۔

مسلمان یا اہل کتاب

ہر عورت کے لئے لازم ہے کہ نکاح ایک مسلمان مرد سے کیا جائے مگر مرد مسلمان عورت کے علاوہ اہل کتاب عورت سے بھی شادی کر سکتا ہے. مگر ایک مسلمان. عورت کو کسی بھی ایل کتاب عورت پر ترجیح دینی چاہیے اور اگر کسی غیر مسلم سے نکاح کرنا ہی مقصود ہو تو اس عورت کے لیے لازم ہے کہ وہ نیک صالح اور پاکیزہ عورت ہو
آج پاکیزہ چیزیں آج تمہارے لئے حلال کی گئیں اور اہل کتاب کا ذبیحہ تمہارے لئے حلال ہے اور تمہارا ذبیحہ ان کے لئے حلال ، اور پاکدامن مسلمان عورتیں اور جو لوگ تم سے پہلے کتاب دیئے گئے ان کی پاک دامن عورتیں بھی حلال ہیں جب کہ تم ان کے مہر ادا کرو ، اس طرح کہ تم ان سے باقاعدہ نکاح کرو یہ نہیں کہ اعلانیہ زنا کرو یا پوشیدہ بدکاری کرو ، منکرین ایمان کے اعمال ضائع اور اکارت ہیں اور آخرت میں وہ ہارنے والوں میں سے ہیں ۔ سورت المائدہ آیت 5

ایجاب
اس سے مرادہے رشتہ بھیجنا. کسی عورت یا اس کے ولی کو شادی کے سلسلہ میں رشتہ بھیجا جاتا ہے. یہ کام لڑکی کے ولی کی جانب سے بھی کیا جا سکتا ہے۔
قبول

ایجاب کے بعد قبول ہونا بھی نکاح کی ایک لازم شرط ہے. اس میں عورت یا مرد کی آزاد مرضی سے رشتہ قبول کیا جاتا ہے۔

گواہان
ایجاب اور قبول کے بعد نکاح کے لئے دو دو گواہ دونوں اطراف کی جانب سے گواہی دینے کے لیے لازم ہوتے ہیں۔
ولی

ایک مسلمان عورت کے لیے لازم ہے کہ اس کا ولی، چاہے وہ باپ ہو یا بھائی یا خاندان کا کوئی اور محرم. مرد ہے، عورت کو مرد کے نکاح میں دے. مگربولی کے لئے یہ ہرگز جائز نہیں کہ وہ عورت پر دباؤ ڈالے بلکہ نکاح کا آخری فیصلہ عورت کا ہی ہونا چاہیے. ولی عورت کو مشورہ دے سکتا ہے مگر زبردستی نہیں کر سکتا۔

حق مہر

نکاح کے وقت عورت کی حیثیت اور خواہش کے مطابق اس کا مہرمقرر کیا جاتا ہے. یہ عورت کا حق ہے
اے ایمان والو! جب تمہارے پاس مومن عورتیں ہجرت کر کے آئیں تو تم ان کا امتحان لو دراصل ان کے ایمان کو بخوبی جاننے والا تو اللہ ہی ہے لیکن اگر وہ تمہیں ایمان والیاں معلوم ہوں تو اب تم انہیں کافروں کی طرف واپس نہ کرو ، یہ ان کے لئے حلال نہیں اور نہ وہ ان کے لئے حلال ہیں اور جو خرچ ان کافروں کا ہوا ہو وہ انہیں ادا کردو ان عورتوں کو ان کے مہر دے کر ان سے نکاح کر لینے میں تم پر کوئی گناہ نہیں اور کافر عورتوں کی ناموس اپنے قبضے میں نہ رکھو اور جو کچھ تم نے خرچ کیا ہو ، مانگ لوا ور جو کچھ ان کافروں نے خرچ کیا ہو وہ بھی مانگ لیں یہ اللہ کا فیصلہ ہے جو تمہارے درمیان کر رہا ہے اللہ تعالٰی بڑے علم ( اور ) حکمت والا ہے ۔ سورت الممتہینہ آیت 10

حق مہر کی مقررہ رقم

حق مہر کی کوئی خاص مقررہ قیمت نہیں ہے. یہ مرد کی جیب یا عورت کی حیثیت اور خواہش کے مطابق مقرر کی جا سکتی ہے۔

ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن سے روایت ہے ، انہوں نے کہا : میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اہلیہ ، ( ام المومنین ) حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ( کی بیویوں ) کا مہر کتنا ( ہوتا ) تھا؟ انہوں نے جواب دیا : اپنی بیویوں کے لیے آپ کا مہر بارہ اوقیہ اور ایک نَش تھا ۔ ( پھر ) انہوں نے پوچھا : جانتے ہو نش کیا ہے؟ میں نے عرض کی : نہیں ، انہوں نے کہا : آدھا اوقیہ ، یہ کل 500 درہم بنتے ہیں اور یہی اپنی بیویوں کے لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا مہر تھا۔ صحیح مسلم کتاب نکاح حدیث نمبر 3489

نکاح نامہ

نکاح کا کاغذی شکل میں ہونا ضروری نہیں ہے بلکہ یہ عورت کی حفاظت کے پیش نظر کیا گیا ہے تاکہ کوئی انسان اس سے نکاح کر کے اور اس کا فائدہ اٹھا کر بھاگ نہ جائے۔

نکاح لازم

اگر ایک مسلمان با لغ ہے اور اس کی جنسی خواہشات اجاگر ہو چکی ہیں تو زنا سے بچنے کے لیے نکاح کرنا لازم ہے۔

نکاح ایک سنت

نکاح ہمارے پیارے نبی کریم کی سنت مبارکہ بھی ہے اور اس سے اجتناب کرنا اسلام میں برا تصور کیا گیا ہے. تا عمر کنوارا رہنے کی شرط کو غلط عمل قرار دیا گیا ہے۔

ابراہیم بن سعد نے ہمیں ابن شہاب زہری سے حدیث بیان کی ،انہو ں نے سعید بن مسیب سے روایت کی ‘ انہوں نے کہا کہ میں نے سعد سے سنا وہ کہہ رہے تھے ’’عثمان بن مظعون ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ کے ترک نکاح کو ( ارادے کو ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرف سے رد کر دیا گیا ‘ اگر انہیں اجازت مل جاتی تو ہم سب خصی ہو جاتے۔ صحیح مسلم کتاب نکاح حدیث نمبر 3405

رشتے سے انکار کرنا

کسی بھی رشتے سے انکار کرنا عورت اور ولی کے لئے ٹھیک ہے. مرد کے اخلاق اور نیکی کو مدنظر رکھنا اچھی بات ہے مگر کسی کی دولت، حیثیت کو مدنظر رکھ کر انکار کرنا صحیح عمل نہیں ہے۔

اسلام اور پسند کی شادی

اسلام میں پسند کی شادی میں کوئی قباحت نہیں ہے. ایک بالغ مرد اور عورت اپنی مرضی سے شادی کر سکتے ہیں. پہلے ولی کے پاس رشتہ بھیجنا چاہیئےاور اسے چاہیئے کہ وہ عورت سے پوچھے. اگر عورت راضی ہو تو ولی اس کو مجبور نہیں کر سکتا. مگر نکاح کے بغیر مرد عورت کا ملنا جلنا اسلام میں حلال نہیں ہے۔

نکاح کس کے ساتھ منع ہے

اسلام میں مندرجہ ذیل کت ساتھ نکاح منع ہے

۔ ایک وقت پر دوبہنوں سے
۔ اپنی ماں یاباپ سے
۔ سگے بہن یا بھائی سے
۔ سگے ماموں یا ممانی سے
۔ سگے چچا یا چچی سے
۔ سگے تایا یا تائی سے
۔ سگے نانا یا نانی سے
۔ سگے دادا یا دادی
۔ سگے بہن یا بھائی کی اولاد یا اپنی اولاد
۔ رضائی ماں یا رضائی بہن بھائی
۔ سگی خالہ یا پھپھو
۔ ساس یا سسر ، بہو یا داماد
۔ میاں یا بیوی کے چچا تایا وغیرہ
۔ سوتیلا بیٹا یا بیٹی جس کی نگرانی آپ کے سپرد ہو
۔ ہم جنسغیر مذہب یا کافر

حرام کی گئیں ہیں تم پر تمہاری مائیں اور تمہاری لڑکیاں اور تمہاری بہنیں تمہاری پھوپھیاں اور تمہاری خالائیں اور بھائی کی لڑکیاں اور بہن کی لڑکیاں اور تمہاری وہ مائیں جنہوں نے تمہیں دودھ پلایا ہو اور تمہاری دودھ شریک بہنیں اور تمہاری ساس اور تمہاری وہ پرورش کردہ لڑکیاں جو تمہاری گود میں ہیں ، تمہاری ان عورتوں سے جن سے تم دخول کرچکے ہو ، ہاں اگر تم نے ان سے جماع نہ کیا ہو تو تم پر کوئی گناہ نہیں اور تمہارےصلبی سگے بیٹوں کی بیویاں اور تمہارا دو بہنوں کا جمع کرنا ہاں جو گُزر چکا سو گُزر چکا یقیناً اللہ تعالٰی بخشنے والامہربان ہے ۔ سورت النساء آیت 23

اعرج نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، انہوں نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : کسی عورت اور اس کی پھوپھی کو ، اور کسی عورت اور اس کی خالہ کو ( نکاح میں ) اکٹھا نہ کیا جائے۔ صحیح مسلم کتاب نکاح حدیث نمبر 3436

ایک سے زیادہ نکاح

اسلام کی رو سے ایک مسلمان مرد بیک وقت ایک سے زائد شادیاں کر سکتا ہے۔ اسکے لئے کچھ خاص شرائط ہیں جنہیں پورا کر کے مرد ایک سے زائد عورتوں سے نکاح کر سکتا ہے۔ لیکن مرد  کو اس معاملے میں کچھ خاص ہدایات دی ہیں مثلا ایک وقت میں دو بہنیں نکاح میں نہیں رکھ سکتا، اور دونوں میں مکمل انصاف کرنا وغیرہ وغیرہ

ایک سے زیادہ نکاح کی شرائط

۔ تمام عورتیں مسلمان یا اہل کتاب ہوں
۔ اپنی پہلی بیوی یا بیویوں کی اجازت سے شادی کرنی ہو گی
۔ سب بیویوں سے مساوی رویہ روا رکھے. اور اگر نہیں رکھ سکتا تو دوسرا نکاح مت کرے

اگر تمہیں ڈر ہو کہ یتیم لڑکیوں سے نکاح کر کے تم انصاف نہ رکھ سکو گے تو اور عورتوں میں سے جو بھی تمہیں اچھی لگیں تم ان سے نکاح کر لو دو دو تین تین چار چار سے لیکن اگر تمہیں برابری نہ کر سکنے کا خوف ہو تو ایک ہی کافی ہے یا تمہاری ملکیت کی لونڈی یہ زیادہ قریب ہے ، کہ ( ایسا کرنے سے نا انصافی اور ) ایک طرف جُھک پڑنے سے بچ جاؤ ۔ سورت النساء آیت 3

ولی کی اجازت

۔ اسلام کی رو سے ایک کنواری عورت کو نکاح کے لئے اپنے ومی کی اجازت کی ضرورت ہوتی ہے اس کے بغیر نکاح ٹھیک نہیں تصور کیا جاتا ہے. مگر کسی بیوہ یا طلاق یافتہ لڑکی کے لئےولی کی اجازت ضروری نہیں ہے

۔ آج کل ماں باپ اولاد کی جنسی ضروریات سے منہ موڑ کر ان کی شادی کرنے سے گریز کرتے ہیں. اس طرح کے حالات میں ولی کی اجازت ضروری نہیں ہے

زبردستی کی شادی

۔ اسلام عورت یا مرد کی زبردستی شادی کے سخت مخالف ہے اور یہ عمل اسلام میں حرام قرار دیا گیا ہے

ایمان والو! تمہیں حلال نہیں کہ زبردستی عورتوں کو ورثے میں لے بیٹھو. سورت النساء آیت 19

کسی منقوحہ یا منگنی شدہ کو شادی کا پیغام بھیجنا

۔ کسی بھی مسلمان مرد کو یہ زیب نہیں دیتا کہ وہ کسی منقوحہ یا منگنی شدہ لڑکی کو رشتہ بھیجے

اسلام اور منگنی

اسلام کی رو سے جب ایجاب اور قبول ہو جاتا ہے تو وہ منگنی ہی ہوتی ہے مگر جس قسم کی تقریبات کا انعقاد آج کل کیا جاتا ہے وہ اسلام میں جائز نہیں. منگنی کے بعد اکٹھے گھومنا پھرنا ملنا جلنا بھی جائز نہیں ہے. ایک دوسرے کو دیکھنا جائز ہے۔

سفیان نے ہمیں یزید بن کیسان سے حدیث بیان کی ، انہوں نے ابوحازم سے ، انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، انہوں نے کہا : میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس حاضر تھا ، آپ کے پاس ایک آدمی آیا اور بتایا کہ اس نے انصار کی ایک عورت سے نکاح ( طے ) کیا ہے ۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سےفرمایا : کیا تم نے اسے دیکھا ہے؟ اس نے جواب دیا : نہیں ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : جاؤ اور اسے دیکھ لو کیونکہ انصار کی آنکھوں میں کچھ ہے ۔صحیح مسلم کتاب نکاح حدیث نمبر 3485

انکار کی وجہ بیان کرنا

کسی بھی رشتے سے انکار کی صورت میں اس کے متعلق وجہ بتانا ضروری نہیں ہے کیونکہ یہ ہر کسی کی پسند ناپسند کا معاملہ ہےاور دوسرے سے ذبردستی کرنا نامناسب بات ہے۔

عورت کسی کو رشتہ بھیج سکتی ہے

 اسلام مرد اور عورت دونوں کو بربر حق دیتا ہے رشتہ کا سوال بھجوانے کے لئے لہٰذا عورت بھی کسی کو نکاح کے لئے رشتہ بھیج سکتی ہے اس میں کوئی قباحت نہیں۔

اسلام اور شادی سے پہلے مرد اور عورت کا رشتہ

اسلام میں نامحرم عورت اور مرد کا صرف ایک ہی جائز زشتہ ہے اور وہ نکاح ہے۔ اس سے پہلے کے میل ملاپ اسلام میں جائز نہیں. اھر کسی لو دوسرا فریق پسند آ جائے تو اس کے

گھر نکاح کے لئے رشتہ بھیج دینا چاہیے۔

اگر اس مکالمے میں ہم سے کوئی غلطی یا کوتاہی ہوئی ہے تو براہ مہربانی غلطی کی نشاندہی کر کے ہماری اصلاح میں مدد کیجیئے۔ اللہ ہماری چھوٹی بڑی غلطیوں کو معاف فرمائے اور ہماری اس کاوش کو اپنی بارگاہ میں قبول و مقبول فرمائے۔اللہ اس کاوش کو ہمارے خاندان کے لئے نجات کا موجب بنائے اور دین پر ہماری پکڑ کو اور مضبوط کرے. آمین

Next Post

Previous Post

Leave a Reply

© 2019 Islamic Education

Theme by Anders Norén