Islamic Education

All About Islam

نماز یا صلوة

Facebooktwittergoogle_plusredditpinterestlinkedinmailFacebooktwittergoogle_plusredditpinterestlinkedinmail

  

 نماز یا صلوة اسلام کا دوسرا اہم رکن ہے۔ یہ شہادت کے بعد سب سے اہم رکن تسلیم کیا جاتا ہے۔ نماز فارسی زبان کا لفظ ہے اور قران میں نماز کے لئے صلوة کا لفظ استعمال ہوا ہے۔ صلوة کا مطلب ہے رابطہ۔ تو صلوة  اللہ سے رابطے کو کہا جاتا ہے۔

تمام اسلامی کتابوں میں نماز کا حکم

نماز تمام امتوں پر فرض کی گئی تھی کیونکہ تمام آسمانی کتابوں میں اللہ  نے نماز کا حکم دیا ہوا ہے۔

انجیل میں نماز کا ذکر

انجیل میں بھی نماز کا ذکر ہے کیونکہ انجیل میں اللہ  نے حضرت ابراہیم کے اپنے سامنے جھکنے اور عبادت کرنے کا ذکر کیا ہوا ہے۔

تورات میں نماز کا ذکر

اگرچہ تورات میں بھی اللہ حضرت سلیمان، حضرت داءود کا ذکر کرتا ہے کہ وہ یروشلم کی طرف منہ کر کے اللہ کے حضور جھکتے تھے۔ اس لیے یہ ثابت ہوتا ہے کہ نمازکا حکم اسلام  سے پہلے بھی اللہ  نے اپنے نبیوں کو کیا تھا مگر کیونکہ کفار نے اپنی کتاب میں بہت سی تبدیلیاں کر لی وہیں ان احکامات کو بھی بدل دیا ہے۔ نماز اور اللہ کے حضور جھکنا انبیاء کا طریقہ ہے۔ 

نماز کی تاریخ

نماز اسلام کا اٹوٹ حصہ

ایک عام تاثر نماز کے لیے یہ پایا جاتا ہے کہ یہ شب معراج پر فرض کی گئی تھی کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اپنے پیارے نبی کریم کو معراج پر بلایا تو اس رات انہیں پانچ نمازوں کا تحفہ عطا کیا تھا۔ اس سے مراد یہ نہیں کہ شب معراج سے پہلے مسلمانوں پر نماز فرض نہیں تھی بلکہ شب معراج کو اللہ تعالیٰ نے انسانوں پر پانچ نمازیں فرض کی تھیں۔ بلکہ اس سے پہلے کسی قوم پر ایک اور کسی پر دو نمازیں فرض تھیں۔

آپ کا رب بخوبی جانتا ہے کہ آپ اور آپ کے ساتھ کے لوگوں کی ایک جماعت قریب دو تہائی رات کے اور آدھی رات کے اور ایک تہائی رات کے تہجد پڑھتی ہے اور رات دن کا پورا اندازہ اللہ تعالٰی کو ہی ہے ، وہ ( خوب ) جانتا ہے کہ تم اسے ہرگز نہ نبھا سکو گے پس اس نے تم پر مہربانی کی لہذا جتنا قرآن پڑھنا تمہارے لیے آسان ہو اتنا ہی پڑھو وہ جانتا ہے کہ تم میں بعض بیمار بھی ہوں گے بعض دوسرے زمین میں چل پھر کر اللہ تعالٰی کا فضل ( یعنی روزی بھی ) تلاش کریں گے اور کچھ لوگ اللہ تعالیٰ کی راہ میں جہاد بھی کریں گے سو تم بہ آسانی جتنا قرآن پڑھ سکو پڑھو اور نماز کی پابندی رکھو اور زکوۃ دیتے رہا کرو اور اللہ تعالٰی کو اچھا قرض دو اور جو نیکی تم اپنے لیے آگے بھیجو گے اسے اللہ تعالٰی کے ہاں بہتر سے بہتر اور ثواب میں بہت زیادہ پاؤ گے اللہ تعالٰی سے معافی مانگتے رہو یقیناً اللہ تعالٰی بخشنے والا مہربان ہے ۔سورت المزمل آیت 2

قرآن کی یہ آیت اس کی شروع کی چند آیات میں سے ایک ہے۔ یہ آیت شب معراج سے بہت قبل نازل ہوئی۔ اس آیت میں نماز ادا کرنے کا ذکر اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ نماز دین کا بنیادی جزو ہے

پانچ نمازوں کا تحفہ

کچھ مفکرین کے مطابق شب معراج سے پہلے مسلمانوں پر ایک نماز جبکہ کچھ کے مطابق دو نمازیں فرض تھیں۔ پانچ نمازوں کا  خوبصورت تحفہ شب معراج کی دین ہے۔

پچاس نمازوں سے پانچ نمازیں

اللہ نے سب سے پہلے شب معراج پر نبی اکرم پر 50نمازیں اتاری۔ حضرت محمد جب حضرت موسی کے پاس آئے تو انہوں نے دریافت کیا کہ اللہ کے پاس سے کی لائے ہو تو انہوں نے پچاس نمازوں کا حکم بیان کیا جس پر حضرت موسی نے آپ صلی اللہ علیہ و سلم کو واپس جا کر نمازوں میں کا مشعرہ دیا۔ یہ پورا واقعہ صحیح بخاری کتاب 8 حدیث نمبر  348 میں بیان کیا گیا ہے

نماز کس پر فرض

نماز ہر مسلمان، بالغ اور عاقل پر فرض کی گئی ہے۔ بالغ سے مراد ہر وہ شخص ہے جسکی عمر بارہ سال سے زیادہ ہے۔

نماز کی معافی

اللہ تعالی نے ہر نابالغ، مجنوں، پاگل، بیہوش، حائضہ عورت اور نفاس والی عورت کے لیے نماز میں چھوٹ رکھی ہے۔

نماز کی شرائط

نماز پڑھنے کے لئے لازم ہے کہ انسان پاک ہو۔ اس کی شرائط یہ ہیں

۔ کپڑوں کا پاک ہونا

۔ وضو

۔ نماز کا وقت

۔ قبلہ کی طرف منہ

۔ نیت نماز

نماز کے فرائض

نماز کے سات فرائض ہیں جن کے نہ پڑھنے سے نماز نہیں ہوتی

۔ تکبیر تحریمہ

۔ قیام

۔ تسبیحات کا ورد

۔ رکوع

۔ سجدہ

(۔ آخری قعدہ (بیٹھنے کی آخری حالت

۔ تسلیمہ 

نماز کی اہمیت

نماز انسان کی زندگی میں بہت اہمیت رکھتی ہے کیونکہ یہ

۔ انسان کا رشتہ اللہ سے جوڑتی ہے
۔ اللہ کی قربت کا زریعہ ہے
۔ تقوی کا زریعہ ہے
۔ رب سے دعا کا زریعہ ہے
۔ مشکلات دور کرتی ہے
۔ اللہ میں یقین پختہ کرتی ہے
۔ دنیا اور آخرت میں نجات کا زریعہ ہے

فرض نمازوں کے نام اور اوقات

مسلمان پر ایک دن میں پانچ نمازیں فرض کی گئی ہیں۔ ان کے نام اور اوقات درج ذیل ہیں 

فجر            صبح صادق سے طلوع آفتاب تک

ظہر            زوال سورج سے عصر تک

عصر           سہہ پہر سے غروف آفتاب تک

 مغرب     غروب آفتاب سے لے کر ڈیڑھ گھنٹہ تک

                                   عشاء       مغرب کے اختتام سے فجر سے

       پہلے                       

نماز کے رکعات

پانچ فرض نمازوں کے فرض رکعات درج ذیل ہیں

فجر                   دو فرض 

ظہر                  چار فرض 

عصر              چار فرض

مغرب               3 فرض

عشاء               4 فرض

یہ نماز کی وہ رکعات ہیں جو انسان پر فرض کی گئی. ان کو ادا کر دینے کا مطلب ہے کہ نماز کی لازم شرط مکمل ہو گئی. اس کے علاوہ سنت موکدہ اور غیر موکدہ کا ادا کرنا انسان کا اپنا ذاتی فعل ہے. کیونکہ نماز میں بس فرض کا سوال کیا جائے گا. سنت یا نوافل کا نہیں. وتر بھی فرض نماز کا حصہ نہیں ہے بلکہ واجب ہیں 

سنت موکدہ اورغیر موکدہ

موکدہ اردو زبان کا لفظ ہے جس کا مطلب ہے تاکید کرنا. یہ اسلامی اصطلاح نہیں ہے اور نہ ہی کسی حدیث سے ثابت ہے. سنت موکدہ اور غیر موکدہ کا نظریہ صرف کچھ اسلامی ایشیائی ممالک میں پایا جاتا ہے جس طرح 6 کلمات کا نظریہ ہے. ان ممالک کے علاوہ یہ نظریہ کسی اسلامی ملک میں نہیں ہے

سنت کا نظریہ بہت سادہ سا ہے. وہ تمام نماز کی رکعات جو ہمارے نبی اکرم نے بطور نفل ادا کی وہ ہمارے لئے سنت کا مقام رکھتی ہے اور جو نماز کے ساتھ مزید نوافل شامل کئے جاتے ہیں وہ اسلامی علماء کی جانب سے شامل کئے گئے ہیں

سنت موکدہ وہ سنتیں ہیں جو ہمارے پیارے نبی اکرم نے کبھی بھی نہیں چھوڑی اور انہیں باقاعدگی سے ادا کرتے تھے اور سنت غیر موکدہ وہ سنتیں ہیں جو ہمارے پیارے نبی کریم نے کبھی پڑھیں اور کبھی انہیں چھوڑ دیا

نماز میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے صرف فرض ہم پر لازم کئے گئے ہیں تو سنت موکدہ اور غیر موکدہ کی بحث نامناسب ہے

اگر کوئی انسان انہیں پڑھتا ہے تو اس کا اجر و ثواب انسان کے درجات کی بلندی میں نمایاں کردار ادا کریں گے مگر اس کا چھوڑنا سزا کا موجب نہیں بنے گا اور نہ ہی اس سے نماز نامکمل رہے گی. کچھ مفکرین کے مطابق ان سنتوں کو نماز کا لازم جزو کہنا بدعت ہے. اگر کوئی انسان یہ سنتیں (12 دکعت= 2 فجر، 4 ظہرکے فرائض سے ہہلے اور 2ظہر کے فرائض کے بعد ، 2 مغرب، 2 عشاء کے فرائض کے بعد) پابندی سے پڑھتا ہے تو انہیں جنت میں ایک مکان کی بشارت ہمارے پیارے نبی کریم کی ایک حدیث سے ثابت ہے

اللہ نے اس دین کو انسان کے لئے آسان بنایا ہے اس لئے اس میں مشکلات پیدا کرنے سے بچنا چاہیئے

آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، آسانی کرو اور سختی نہ کرو اور خوش کرو اور نفرت نہ دلاؤ۔ صحیح بخاری کتاب علم حدیث نمبر 69

عورت اور مرد کی نماز کا فرق

مفکرین کی رائے میں مرد اور عورت کی نماز میں کوئی فرق نہیں ہے. کچھ مسالک اس پر بھی اختلاف رکھتے ہیں

نماز میں قصر

قصر نماز سے مراد ہے کہ جب انسان حالت سفر میں ہو تو نماز کو کم کر لیا جائے. جن نمازوں کی چار رکعات ہیں انہیں کم کر کے دو کر دیا جائے. فجر اور مغرب کی نماز کی رکعت میں تبدیلی نہیں آتی. سفر کی حالت میں افضل ہے کہ قصر پڑھی جائے

سفر کیسا ہو

قصر نماز کے لئے سفر میں ہونا لازم ہے. اس سے مراد ہے کہ انسان اپنی روز مرہ کے راستے سے ہٹ کر سفر کر رہا ہو. اگر ایک انسان روز 100 کلومیڑ کا فاصلہ طے کر کے اپنے کام کی جگہ پر جاتا ہے تو وہ سفر نہیں ہے

فاصلہ کتنا ہو

اس پر علماء کا اختلاف ہے. کچھ کے مطابق ایک میل اور کچھ کے مطابق جب بھی آپ کسی نئے راستے پر گامزن ہوں تو وہ سفر ہے

قیام کی مدت

اس بات پر بھی علماء کا اختلاف ہے. کچھ کے مطابق قیام کی کوئی مدت نہیں یہ لامحدود بھی ہو سکتا ہے مگر واپسی کا ارادہ ہونا چاہیئے اور کچھ کے مطابق 10 دن، 20 دن ایک مہینہ ہے

 

بیمار کے لئے نماز

اللہ تعالیٰ  نے مذہب اسلام انسان کے لئے آسان بنا کر بھیجا ہے. اس میں کسی قسم کا جبر نہیں ہے. اگر ایک انسان بیمار ہے وہ بیٹھ نہیں سکتا یا کھڑا نہیں ہو سکتا تو اس کو بھی اسلام نے چھوٹ دی ہوئی ہے. مندرجہ ذیل احادیث ملاحظہ فرمائیں

آپ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا ( دوسری سند ) اور ہمیں اسحاق بن منصور نے خبر دی، کہا کہ ہمیں عبدالصمد نے خبر دی، کہا کہ میں نے اپنے باپ عبدالوارث سے سنا، کہا کہ ہم سے حسین نے بیان کیا اور ان سے ابن بریدہ نے کہا کہ مجھ سے عمران بن حصین رضی اللہ عنہما نے بیان کیا، وہ بواسیر کے مریض تھے انہوں نے کہا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کسی آدمی کے بیٹھ کر نماز پڑھنے کے بارے میں پوچھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ افضل یہی ہے کہ کھڑے ہو کر پڑھے کیونکہ بیٹھ کر پڑھنے والے کو کھڑے ہو کر پڑھنے والے سے آدھا ثواب ملتا ہے اور لیٹے لیٹے پڑھنے والے کو بیٹھ کر پڑھنے والے سے آدھا ثواب ملتا ہے۔ صحیح بخاری کتاب نماز میں قصر حدیث نمبر 1115

میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے بیٹھ کر نماز پڑھنے کے بارے میں پوچھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ کھڑے ہو کر نماز پڑھنا افضل ہے لیکن اگر کوئی بیٹھ کر نماز پڑھے تو کھڑے ہو کر پڑھنے والے سے اسے آدھا ثواب ملے گا اور لیٹ کر پڑھنے والے کو بیٹھ کر پڑھنے والے سے آدھا ثواب ملے گا۔ ابوعبداللہ ( امام بخاری رحمہ اللہ ) فرماتے ہیں کہ حدیث کے الفاظ میں «نائم» «مضطجع» کے معنی میں ہے یعنی لیٹ کر نماز پڑھنے والا۔ صحیح بخاری کتاب نماز میں قصر حدیث نمبر 1116 

انسان نماز اشارتا بھی پڑھ سکتا ہے 

نماز کا ٹوٹنا

مندرجہ ذیل کام اگر دوران نماز کئے جائیں تو نماز ٹوٹ جاتی ہے

۔ کوئی ایسا کام جس سے وضو ٹوٹ جائے جیسے ریح، اونگھنا، پیشاب نکل جانا، خون کا بہہ نکلنا

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب تک تم اپنے مصلے پر جہاں تم نے نماز پڑھی تھی، بیٹھے رہو اور ریاح خارج نہ کرو تو ملائکہ تم پر برابر درود بھیجتے رہتے ہیں۔ کہتے ہیں «اللهم اغفر له اللهم ارحمه» ”اے اللہ! اس کی مغفرت کیجیئے، اے اللہ! اس پر رحم کیجیئے۔‘‘ صحیح بخاری کتاب نماز حدیث نمبر 445 

۔ کسی سے بات کرنا

( قہقہہ لگانا۔ (مسکرانے سے نماز نہیں ٹوٹتی 

نماز ارادتاً چھوڑنے کی سزا

سورت المدثر  کی آیت نمبر 40 سے 43 میں اللہ بے نمازی کا انجام دوزخ کی آگ کو قرار دیتا ہے

ترمذی شریف کتاب ایمان اور اسلام حدیث 2620  میں ارشاد پاک ہے

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بندے اور کفر کے درمیان فرق کرنے والی چیز نماز کا چھوڑ دینا ہے“۔

نماز میں غفلت

کسی مجبوری کے بغیر نماز میں غفلت کرنا گناہ کا باعث ہے کیونکہ یہ انسان پر فرض ہے اور ایسی غفلت گناہ کبیرہ سمجھی جاتی ہے اسلام میں ۔

نماز کا قرآن سے ثبوت

۔ اور نمازوں کو قائم کرو اور زکوۃ دو اور رکوع کرنے والوں کے ساتھ رکوع کرو ۔سورت البقرہ آیت 43 

۔ نمازوں کی حفاظت کرو ، بالخصوص درمیان والی نماز کی اور اللہ تعالٰی کے لئے با ادب کھڑے رہا کرو ۔ سورت البقرہ 238 

۔ اگر تمہیں خوف ہو تو پیدل ہی سہی یا سوارہی سہی ، ہاں جب امن ہو جائے تو اللہ کا ذکر کرو جس طرح کے اس نے تمہیں اس بات کی تعلیم دی جسے تم نہیں جانتے تھے ۔ سورت البقرہ آیت 239 

۔ پھر جب تم نماز ادا کر چکو تو اٹھتے بیٹھتے اور لیٹے اللہ تعالٰی کا ذکر کرتے رہو اور جب اطمینان پاؤ تو نماز قائم کرو! یقیناً نماز مومنوں پر مقررہ وقتوں پر فرض ہے ۔سورت النسا آیت 103

 ۔ دن کے دونوں سروں میں نماز برپا رکھ اور رات کی کئی ساعتوں میں بھی یقیناً نیکیاں برائیوں کو دور کر دیتی ہیں ۔ یہ نصیحت ہے نصیحت پکڑنے والوں کے لئے ۔ سورت ھود آیت 114 

نماز کے فوائد

 انسان کو س بات کا باخوبی اندازہ ہونا چاہیئے کہ نماز کوئی مشقت نہیں ہے بلکہ اس کی بہتری کے لئے لازم قرار دی گئی ہے. اللہ ک ہماری عبادتوں کہ کوئی ضرورت نہیں بلکہ ہمیں اپنی زندگی گزارنے کے لئے اللہ تعالیٰ کی ضرورت ہے. مذہب اسلام انسان کی بہتری کے لئے بنایا گیا ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ انسان کو خوش اور کامیاب دیکھنا چاہتا ہے. نماز کے بہت سے روحانی اورجسمانی فوائد ہیں جن میں سے کچھ درج ذیل ہیں.

۔ نماز خالق اور مخلوق کا رشتہ جوڑتی ہے

۔ نماز اللہ کو واحدانیت اور ہونے پر انسان کا ایمان مضبوط کرتی ہے

۔ یہ انسانی دماغ، روح اور دل کو سکون فراہم کرتی ہے

۔ فانی دنیا اورآخرت کے درمیان متوازن قائم کرنے کا ذریعہ نماز ہے

۔ نماز اللہ سے دعا، رحم اور معافی مانگنے کا اہم ذریعہ ہے

۔ یہ نہ صرف  دل کو روشن کرتی ہے بلکہ روح کی بھی غذا ہے

۔ باجماعت نماز مسلمانوں کے آپس کے تعلقات کو بہتر کرنے میں مددگار ثابت ہوتا ہے

۔ نماز روح کو سکون بخشتی ہےاور اچھائی کو بڑھاتی ہے

۔یہ مراقبے کا بھی باعث ہے

۔ نماز میں کی جانے والی جسمانی حرکات انسان کے لئے مفید ہیں

۔ یہ گناہوں اور  پریشانیوں سے روکتی ہے

۔ نماز انسان کی سوچ کو مثبت بنانے میں مدد دیتی ہے

۔ دوران نماز سجدہ کی جگہ کو دیکھتے رہنے سے انسان کی نظر پر اچھے اثرات مرتب ہوتے ہیں

۔ رکوع کی حالت انسان کی ریڑھ کی ہڈی کے آخری حصے کے لئے بہت فائدہ مند ثابت ہوتی ہے

۔ حالت رکوع انسانی پٹھوں کہ افزائش کرتی ہے

۔ رکوع کی حالت رداصل گردوں کو ایک خاص قسم کی مساج فراہم کرتی ہے جو اس کی کارکردگی بہتر بنانے میں مدد دیتی ہے

۔ سجدے کی حالت انسانی ٹانگ کے پٹھوں کے لئے بھی بہت فائدہ مند ثابت ہوتی ہے

۔حالتِ سجدہ انسانی معدہ کے لئے بھی فائدہ مند ہے

۔ سجدے کی حالت میں انسانی ریڑھ کہ ہڈی اور کمر کے پٹھوں پر بھی اچھے اعر دیرپا اثرات مرتب ہوتے ہیں

۔ حالتِ سجدہ کی وجہ سے سر درد اور دماغ کی نس کے پھٹنے کا خطرہ نہیں ہوتا

۔ سجدے کی حالت میں انسانی دماغ کی جانب خون تیزی سے گردش کرتا ہے جو اس کے دماغ اعر سر کے لئے کافی مفید ثابت ہوتا ہے

۔ نماز جسم کے مختلف غدود کے لئے بھی فائدہ مند ثابت ہوتی ہے

۔ حالت سجدہ پر جب انسان پاؤں کے بل بیٹھتا ہے تو اس کے پاؤں پر پڑتا وزن ایکوپریشر کا کام کرتا ہے جو جسم کے مختلف حصوں کی درد ختم کرنے کے کام آتا ہے

۔ نماز کے اختتام پر جب انسان تسلیمہ کے لئے گردن دائیں اور بائیں جانب گھاتا یے تو یہ گردن اور کندھوں کے پٹھوں کے لئے بہت فائدہ مند ورزش ہوتی ہے

۔  اللہ تعالیٰ سے قربت کی چاہت کو بڑھانے کا اور شیطان سے بچاؤ کا بھی ذریعہ ہے

اگر اس مکالمے میں یا ان ناموں کا مطلب بیان کرنے میں ہم سے کوئی غلطی یا کوتاہی ہوئی ہے تو براہ مہربانی ہماری غلطی کی نشاندہی کر کے ہماری اصلاح میں ہماری مدد کیجیئے۔ اللہ ہماری چھوٹی بڑی غلطیوں کو معاف فرمائے اور ہماری اس کاوش کو اپنی بارگاہ میں قبول و مقبول فرمائے۔ آمین 

Next Post

Previous Post

2 Comments

  1. Haider May 5, 2019

    لفظ نماز كا وجود كب اور كهان

  2. Bint-e-Ikhlaq November 25, 2018 — Post Author

    As salam u laikum
    Namaz or salat are same things. Namaz is the most common word used for salat in urdu. Thx alot

Leave a Reply

© 2019 Islamic Education

Theme by Anders Norén