Islamic Education

All About Islam

نماز کا طریقہ

Facebooktwittergoogle_plusredditpinterestlinkedinmailFacebooktwittergoogle_plusredditpinterestlinkedinmail
نماز اسلام کے بنیادی ارکان میں سے دوسرا اہم رکن ہے۔ ہر مسلمان عورت اور مرد پر دن میں پانچ مرتبہ فرض ہے۔ نماز کی کچھ شرائط ہیں جنہیں پورا کرنا ضروری ہے اور  ایک خاص طریقہ ہے جسے حضرت محمدؐ نے اپنی سنت سے مسلمانوں کو بتایا۔
نماز نیت سے شروع ہو کر اپنے رب کے حضور سجدہ ریز ہونے پر ختم ہوتی ہے۔
نیت

سب سے پہلے نماز کی نیت کرتے ہیں. نیت زبانی ہونا لازم نہیں ہے. انسان جب نماز کا ارادہ کر کے وضو کرے اور مسجد کی جانب پیش قدمی کرے یا گھر میں نماز کے مقام پر کھڑا ہو جائے تو وہ نیت بھی کافی ہوتی ہے. اس کے علاوہ اگر آپ زبان سے نیت کے الفاظ بولنا چاہیں تو اس میں کوئی قباحت نہیں. نماز کی نیت کے کوئی خاص الفاظ نہیں ہیں. کسی بھی زبان اور الفاظ میں کی جا سکتی ہے

تکبیر تحریمہ

اس سے مراد ہے وہ تکبیر جو انسان کو دنیاوی کاموں سے الگ کر کے اس کا ناتا نماز سے جوڑتی ہے. تکبیر تحریمہ نماز کا آغاز ہے.  نمازی ہاتھوں کو کندھوں یا کانوں تک اٹھاتے ہوئے تکبیر کہتا ہے

 نماز کا آغاز تکبیر تحریمہ سے جبکہ اختتام تسلیم سے ہوتا ہے

قیام

تکبیر پڑھنے کے بعد نمازی اپنے دونوں ہاتھ سینے یا زیر ناف باندھ کر کھڑا ہو جاتا ہے. اور سب سے پہلے اللہ کی ثناء بیان کرتا ہے. ثناء عام طور پر ایک دعا ہے جو نماز شروع کرتے ہی نبی پاک صل اللہ علیہ و سلم اللہ سے کرتے تھے. اس کے علاوہ اور دعائیں بھی حدیثوں سے ثابت ہیں. ثنا یا دوسری دعائیں تکبیر تحریمہ کے بعد ہی پڑھی جاتی ہیں. دوسری تیسری یا چوتھی رکعت میں ان کو نہیں پڑھتے بلکہ یہ رکعات تعوذ، تسمیہ اور سورت الفاتحہ سے شروع ہوتی ہیں

 ثناء کے بعد نمازی تعوذ، تسیمہ اور سورت الفاتحہ پڑھتا ہے. سورت الفاتحہ کے بعد کوئی بھی سورت پڑھی جا سکتی ہے مگر رائج العام سورت اخلاص ہی ہے

رکوع

قیام کے بعد نمازی اللہ اکبر کہتے ہوئے رکوع میں جاتا ہے. رکوع میں نمازی جھک کر اپنے دونوں ہاتھوں سے اپنے دونوں ٹخنوں کو مضبوطی سے تھام لیتا ہے. اور پھر رکوع کی تسبیحات پڑھتا ہے

قومہ

رکوع کے بعد نمازی دوبارہ اللہ اکبر کہتا ہوا سیدھا کھڑا ہو جاتا ہے

سجدہ

قومہ کے بعد نمازی اللہ اکبر کہہ کر سجدہ ریز ہو جاتا ہے. اس کے لئے بھی نمازی پہلے جھک کر زمین پر  گھٹنے لگا کر بیٹھ جاتا ہے. پھر دونوں ہاتھ اپنے سامنے رکھ کر سجدہ ریز ہوتا ہے کہ  پہلے اس کا ناک اور پھر اس کا ماتھا زمین پر لگے. پھر نمازی سجدے کی تسبیحات پڑھتا ہے

جلسہ

جلسہ دو سجدوں کے درمیان بیٹھنے کو کہتے ہیں. ایک سجدے سے اٹھ کر نمازی اللہ اکبر کہتا ہے اور پھر سجدہ ریز ہو کر پہلے والا عمل دوھراتا ہے اور اللہ اکبر کہہ کر کھڑا ہو جاتا ہے

دوسری رکعت کا آغاز

اس مقام  پر نماز کی ایک رکعت مکمل ہو جاتی ہے اور پھر دوسری رکعت شروع ہو جاتی ہے جو کہ ثنا کے بغیر تعوذ، تسمیہ اور سورت الفاتحہ سے شروع ہو کر دو سجدوں تک بالکل ایسے ہی پڑھی جاتی ہے. دوسری رکعت میں دو سجدوں کے بعد تشہد پڑھی جاتی ہے

تشہد

تشہد میں نمازی گھٹنوں کے بل بیٹھ جاتا ہے اور اپنے دونوں ہاتھ دونوں زانوں یا گھٹنوں پر رکھ لیتا ہے. اس کے بعد التحیات،کلمہ شہادت پڑھا جاتا ہے. التحیات کے بعد جب کلمہ شہادت پڑھا جاتا ہے تو نمازی اپنی شہادت کی انگلی اٹھا کر اس بات کی گواہی دیتا ہے کہ اللہ ایک ہے

حدیث مبارکہ

ہم پہلے نماز میں یوں کہا کرتے تھے فلاں پر سلام اور نام لیتے تھے۔ اور آپس میں ایک شخص دوسرے کو سلام کر لیتا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سن کر فرمایا اس طرح کہا کرو۔ «التحيات لله والصلوات والطيبات،‏‏‏‏ السلام عليك أيها النبي ورحمة الله وبركاته،‏‏‏‏ السلام علينا وعلى عباد الله الصالحين،‏‏‏‏ أشهد أن لا إله إلا الله وأشهد أن محمدا عبده ورسوله» ”یعنی ساری تحیات، بندگیاں اور کوششیں اور اچھی باتیں خاص اللہ ہی کے لیے ہیں اور اے نبی! آپ پر سلام ہو، اللہ کی رحمتیں اور اس کی برکتیں نازل ہوں۔ ہم پر سلام ہو اور اللہ کے سب نیک بندوں پر، میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور گواہی دیتا ہوں کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم اس کے بندے اور رسول ہیں۔“ اگر تم نے یہ پڑھ لیا تو گویا اللہ کے ان تمام صالح بندوں پر سلام پہنچا دیا جو آسمان اور زمین میں ہیں۔ صحیح بخاری کتاب نماز حدیث 1202

اگر نماز صرف دو رکعت پڑھنی ہو تونمازی  کلمہ شہادت کے بعد درود شریف اور پھر ایک دعا پڑھتا ہے. اس مقصد کے لئے بھی بہت سی سورتیں احادیث سے ثابت ہیں

تسلیمہ

نماز کے اختتام پر درود اور دعا کے بعد نمازی پہلے اپنے دائیں جانب منہ کر کے۔

اسلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ

پڑھتا ہے اور پھر منہ بائیں جانب گھما کر یہی کلمات دوبارہ پڑھتا ہے اور نماز ختم ہو جاتی ہے۔ 

تین یا چار رکعت اور وتر

مندرجہ بالا طریقہ دو رکعت نماز پڑھنے کا طریقہ ہے. اگر نمازی دو رکعت سے زیادہ نماز پڑھ رہا ہے تو اس کے لئے کلمہ شہادت کے بعد دوبارہ اللہ اکبر کہہ کر کھڑے ہو جاتے ہیں اور قیام کی حالت اختیار کرتے ہیں. دوسری، تیسری اور چوتھی رکعت میں ثنا نہیں پڑھی جاتی۔ 

تین رکعت نماز

دوسری رکعت میں کلمہ شہادت پڑھ کر دوبارہ اللہ اکبر کہہ کر قیام کرتے ہیں. پھر تعوذ، تسمیہ سے شروع کر کے سجدہ تک اور اس کے بعد التحیات سے تسلیمہ تک پڑھتے ہیں۔ 

چار رکعت نماز

چار رکعت نماز پڑھنے کے لئےلئے دوسری رکعت میں کلمہ شہادت تک پڑھ کر دوبارہ قیام. کرتے ہیں اور ثناء پڑھے بغیر تعوذ، تسمیہ سے شروع کرتے ہوئے پہلی دو رکعات کی طرح نماز پڑھی جاتی ہے اور بالاخر کلمہ شہادت کے بعد درود ابراہیمی، دعا اور تسلیمہ پڑھ کر نماز کا اختتام کیا جاتا ہے۔ 

تین وتر

تین وتر کا طریقہ ذرا مختلف ہے. تین وتر کے لئے پہلی دو رکعات سادے طریقے سے پڑھتے ہیں مگر دوسری رکعت میں سجدہ کر کے تشہد پڑھے بغیر کھڑے ہو جاتے ہیں اور تیسری رکعت شروع کرتے ہیں. تیسری رکعت میں سورت الفاتحہ کے بعد دعائے قنوت یا کوئی اور دعا پڑھی جا سکتی ہے. دعائے قنوت پڑھنا لازم نہیں ہے اور اگر غلطی سے یہ دعا چھوٹ بھی جائے تو سجدہ سہو بھی لازم نہیں ہے. اس کے بعد باقی تمام رکعت بھی عام طریقے سے پڑھ لی جاتی ہے۔ 

نماز کے اختلافات 

یہ نماز کا مجرب طریقہ ہے. اس کے علاوہ مختلف مفکرین کا نماز میں بہت سی باتوں کو لے کر اختلاف ہے. ان اختلافات کو بالائے طاق رکھ کر اللہ کی خوشنودی کے لئے نماز پڑھنے کو مقصد حیات بنانا چاہیئے. اللہ تعالیٰ بہت غفور اور رحیم ہے تو بخشش کا معاملہ اس پر چھوڑ کر انسان کو بہتر انسان بننے کی کوشش کرنی چاہیئے. اسلام اتنا سخت نہیں تو تفرقے میں پڑنے کی بجائے یکجا ہونے کی کوشش کریں. اختلافات پر بحث کرنے کی بجائے مفاہمتی معاملات پر خوش ہونا چاہیئے۔

سجدہ سہو

سجدہ سہو دراصل ایک ایسا سجدہ ہے جو نماز میں غلطی کی تلافی کے طور پر اللہ تعالیٰ کے حضور کیا جاتا ہے. سجدہ سہو صرف دو غلطیوں کے ازالے کے طور پر کیا جاتا ہے. ان کے علاوہ اگر کوئی دوسری چھوٹی موٹی غلطی ہو جائے تو اللہ تعالیٰ معاف کرنے والی ذات ہے. اور سجدہ سہو کی ضرورت نہیں ہوتی

۔ اگر دوسری رکعت میں سجدہ کے بعد تشہد پڑھے بغیر انسان کھڑا ہو جائے

۔ اگر کوئی رکعت چھوٹ جائے یا زیادہ پڑھی جائے 

تشہد کا بھول جانا

اگر انسان دوسری رکعت میں سجدہ کرنے کے بعد تشہد پڑھنا بھول جائے اور کھڑا ہو جائے تو اس پر سجدہ سہو لازم ہو جاتا ہے. اگر انسان کو قیام کی حالت میں آنے سے پہلے یا مکمل سیدھا ہونے سے پہلے یاد آ جائے کہ اس نے تشہد نہیں پڑھی تو وہ دوبادمرہ بیٹھ کر تشہد پڑھ سکتا ہے پھر اس پر سجدہ سہو لازم نہیں ہوتا. اگر انسان بالکل سیدھا کھڑا ہو جائے تب سجدہ لازم ہوتا ہے. اگر مکمل کھڑے ہونے کے بعد یاد آئے تو بیٹھنا منع ہے. اور اگلی رکعت پڑھنے کا حکم ہے

رکعت کا چھوٹنا یا بڑھنا

اگر کوئی رکعت چھوٹ جائے یا بڑھا کر پڈھ لی جائے تب بھی سجدہ سہو کرنا لازم ہوتا ہے

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ظہر میں پانچ رکعت پڑھ لیں۔ اس لیے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا گیا کہ کیا نماز کی رکعتیں زیادہ ہو گئی ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ کیا بات ہے؟ کہنے والے نے کہا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پانچ رکعتیں پڑھی ہیں۔ اس پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سلام کے بعد دو سجدے کئے۔ صحیح بخاری کتاب سجدہ سہو حدیث نمبر 1226 

سجدہ سہو کا طریقہ

سجدہ سہو دو طریقوں سے کیا جاتا ہے 

تسلیمہ سے پہلے

نمازی کو اگر مندرجہ بالا بیان کردہ کسی بات کا یقین ہے تو وہ آخری رکعت میں درود ابراہیمی اور دعا کے بعد دو سجدے کر کے تسلیمہ کر سکتا ہے. جب تسلیمہ سے پہلے سجدہ سہو کیا جائے تو صرف سجدے کر کے سلام پھیر لیا جاتا ہے اور تشہر وغیرہ نہیں پڑھتے 

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کسی ( چار رکعت ) نماز کی دو رکعت پڑھانے کے بعد ( قعدہ تشہد کے بغیر ) کھڑے ہو گئے، پہلا قعدہ نہیں کیا۔ اس لیے لوگ بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کھڑے ہو گئے۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نماز پوری کر چکے تو ہم سلام پھیرنے کا انتظار کرنے لگے۔ لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سلام سے پہلے بیٹھے بیٹھے «الله اكبر» کہا اور سلام ہی سے پہلے دو سجدے بیٹھے بیٹھے کیے پھر سلام پھیرا۔ صحیح بخاری کتاب سجدہ سہو حدیث نمبر 1224

تسلیمہ کےبعد

اگر تسلیمہ کے بعد نمازی کو غلطی کا احساس ہو تو پھر دو سجدے کر کے نمازی تشہد، کلمہ شہادت، درود ابراہیمی دعا پڑھے اور تسلیمہ دوبارہ کر لے

سجدہ سہو کا بہترین طریقہ

ویسے تو مندرجہ بالا دونوں طریقوں سے سجدہ سہو ہو جاتا ہے مگر طریقہ نمبر دو زیادہ بہتر ہے کیونکہ نماز کو بیچ میں روک کر سجدہ سہو کرنے سے بہتر ہے کہ نماز جتم. کر کے سجدہ سہو کیا جائے

سجدہ سہو کا وقت

سجدہ سہو کا کوئی خاص وقت نہیں. جب بھی انسان. کو اپنی غلطی کا احساس ہو سجدہ سہو کر لے. نماز پڑھنے کے دس گھنٹے بعد بھی غلطی یاد آ جائے تو سجدہ سہو کر لے

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ظہر یا عصر کی نماز پڑھائی جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سلام پھیرا تو ذوالیدین کہنے لگا کہ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! کیا نماز کی رکعتیں کم ہو گئی ہیں؟ ( کیونکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بھول کر صرف دو رکعتوں پر سلام پھیر دیا تھا ) نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے اصحاب سے دریافت کیا کہ کیا یہ سچ کہتے ہیں؟ صحابہ نے کہا جی ہاں، اس نے صحیح کہا ہے۔ تب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دو رکعت اور پڑھائیں پھر دو سجدے کئے۔ سعد نے بیان کیا کہ عروہ بن زبیر کو میں نے دیکھا کہ آپ نے مغرب کی دو رکعتیں پڑھ کر سلام پھیر دیا اور باتیں بھی کیں۔ پھر باقی ایک رکعت پڑھی اور دو سجدے کئے اور فرمایا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسی طرح کیا تھا۔ صحیح بخاری کتاب سجدہ سہو حدیث نمبر 1227 

حدیث سے سجدہ سہو کا بیان

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جب نماز کے لیے اذان ہوتی ہے تو شیطان ہوا خارج کرتا ہوا بھاگتا ہے تاکہ اذان نہ سنے، جب اذان پوری ہو جاتی ہے تو پھر آ جاتا ہے۔ جب اقامت ہوتی ہے تو پھر بھاگ پڑتا ہے۔ لیکن اقامت ختم ہوتے ہی پھر آ جاتا ہے اور نمازی کے دل میں طرح طرح کے وسوسے ڈالتا ہے اور کہتا ہے کہ فلاں فلاں بات یاد کرو، اس طرح اسے وہ باتیں یاد دلاتا ہے جو اس کے ذہن میں نہیں تھیں۔ لیکن دوسری طرف نمازی کو یہ بھی یاد نہیں رہتا کہ کتنی رکعتیں اس نے پڑھی ہیں۔ اس لیے اگر کسی کو یہ یاد نہ رہے کہ تین رکعت پڑھیں یا چار تو بیٹھے ہی بیٹھے سہو کے دو سجدے کر لے۔ صحیح بخاری کتاب سجدہ سہو حدیث نمبر 1231

  

اگر اس مکالمے میں ہم سے کوئی غلطی یا کوتاہی ہوئی ہے تو براہ مہربانی غلطی کی نشاندہی کر کے ہماری اصلاح میں مدد کیجیئے۔ اللہ ہماری چھوٹی بڑی غلطیوں کو معاف فرمائے اور ہماری اس کاوش کو اپنی بارگاہ میں قبول و مقبول فرمائے۔اللہ اس کاوش کو ہمارے خاندان کے لئے نجات کا موجب بنائے اور دین پر ہماری پکڑ کو اور مضبوط کرے. آمین 

 

Next Post

Previous Post

Leave a Reply

© 2019 Islamic Education

Theme by Anders Norén