Islamic Education

All About Islam

نشہ آور اشیاء اور اسلام

Facebooktwittergoogle_plusredditpinterestlinkedinmailFacebooktwittergoogle_plusredditpinterestlinkedinmail

 

اسلام میں نشہ آور چیزوں کا استعمال منع ہے۔ جو چیز بھی نشہ آور چیزوں کی فہرست میں شامل ہے اس کی مقدار سے قطع نظر اسلام نے اس کا استعمال منع فرمایا ہے۔ نشہ آور اشیاء کے لیے عربی میں خمر کا لفظ استعمال کیا جاتا ہے جس کا مطلب صرف شراب نہیں بلکہ ہر طرح کی نشہ آور اشیاء ہیں۔ اسلام قیامت تک ہر انسان کے لیے ہدایت کا منبع ہے تو یہ تصور کرنا غلط ہے کہ اس دوت میں جو نشہ آور اشیاء موجود نہیں تھیں وہ حرام نہیں ہیں

نشہ آور اشیاء کی تعریف

ہر وہ چیز جو انسان کے ہوش و حواس اور عقل کو ختم۔ کر دے وہ نشہ آور اشیاء ہیں۔ خمر کا مطلب ہے ڈھک لینا تو وہ چیز جو انسانی عقل کو ڈھک لے اور انسان کو اچھے برے کی تمیز بھلا دے وہ نشہ ہے۔ نشہ انسانی دماغ اور جس پر مختلف اثرات مرتب کرتا ہے۔ کبھی خوشی، آزادی، بے خوفی، خوف، چستی وغیرہ نشہ آور اشیاء کے کچھ اثرات ہیں

نشہ کب حرام کیا گیا؟

شروعات میں شراب اور دوسری نشہ آور اشیاء کا استعمال عام تھا۔ قران کے نزول کے بعد اسے آہستہ آہستہ حرام قرار دیا گیا۔ دور نبوتؐ میں بھی لوگ شراب کا عام استعمال کرتے تھے اس لیے اگر اسے یکدم حرام قرار دے دیا جاتا تو لوگ کبھی بھی اس حکم کو نہ مانتے

نشہ آور اشیاء کی اقسام

نشہ آور اشیاء کی بہت سی اقسام ہیں۔ کچھ عام الفہم ہیں اور کچھ کا استعمال عام نہیں ہے مگر اس کا یہ مطلب نہیں کہ وہ حرام نہیں ہیں۔ کچھ نشہ آور اشیاء درج ذیل ہیں

شراب
شپرٹ
کوکین
میریجوانہ
گلو
پیٹرول
ایل ایس ڈی
سٹیروئڈز
ایکسٹسی

تھینر

اسلام میں نشہ کیوں حرام ہے؟

ہر وہ شے جو انسان کے لئے کسی طور بھی نقصان دہ ہے وہ اسلام نے اس پر حرام کی ہے۔ شراب اور نشے کے برے اثرات سے کون واقف نہیں ہے۔ اس کے جسمانی، سماجی، دماغی اور ذاتی نقصانات کی وجہ سے اس کی ممانعت کی گئی ہے۔ اس کے علاوہ نشے اور جرائم کا آپس میں بہت گہرا تعلق ہے۔ جب انسان کو نشے کی لت لگ جاتی ہے تو وہ اسے پورا کرنے کے لیے کسی بھی گناہ کو کرنا برا نہیں سمجھتا

نشہ کیوں حرام ہے؟

نشہ حرام اس لئے ہے کہ اس کے گناہ اس کی بہتری سے بہت زیادہ ہیں۔ مندرجہ ذیل باتوں کع وجہ سے اسے حرام قرار دیا ہے

یہ تمام گناہوں کی جڑ ہے

نشہ اسلام میں حرام ہے

نشہ تقریباً تمام قسم کی برائیوں کا سرچشمہ ہے

یہ تمام جرائم اور گناہوں کی جڑ ہے

یہ شیطان کا پسندیدہ عمل ہے

نشہ آور اشیاء کی مقدار

عام لوگوں میں یہ بات زیر بحث ہے کہ کم۔ مقدار میں اگر نشہ آور اشیاء استعمال کی جاتی ہے تو وہ حرام نہیں ہے کیونکہ انسان اس سے اپنے یوش وحواس میں رہتا ہےمگر یہ طرز عمل غلط ہے۔ اگر اسلام نے ایک کام منع کیا ہے تو اس کی مقدار پر بحث بےسود ہے۔ اسلام نے موسیقی کو حرام قرار دیا ہے تو روزانہ کا ایک گانا سننا بھی اتنا ہی حرام ہے جتنا ہو وقت اس عمل میں مصروف رہنا۔ قتل بھی حرام ہے تو تمام عمر میں بس ایک قتل حلال نہیں ہو سکتا۔ شرک کے ساتھ بھی یہی معاملہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کے ساتھ دس شریک ٹھرائے جائیں یا ایک شرک تو شرک ہی رہے گا۔ بالکل یہی طرز نشے کے استعمال کے حوالے سے بھی زہن نشین کر لینا چاہئے

نشے آور اشیاء کی خرید و فروخت وغیرہ

علماء کرام کا اس بات پر اجماع ہے کہ نشہ آور اشیاء کے ساتھ کسی بھی قسم کا ناتا اس کام۔ کو حرام ہی رکھے گا۔ اگر کوئی انسان اس کی کاشت، خرید و فروخت، نقل مکانی میں نلوث ہو تو یہ عوامل بھی حرام ہی ہیں اور ان سے حاصل کردہ رقم بھی حرام ہے۔ مندرجہ ذیل حدیث اس بات پر روشنی ڈالتی ہے

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دس قسم کے لوگوں پر شراب کی وجہ سے لعنت فرمائی: اس کے نچوڑنے والے پر، نچڑوانے والے پر، اور اس پر جس کے لیے نچوڑی جائے، اسے لے جانے والے پر، اس شخص پر جس کے لیے لے جائی جائے، بیچنے والے پر، اس پر جس کو بیچی جائے، پلانے والے پر اور اس پر جس کو پلائی جائے ، یہاں تک کہ دسوں کو آپ نے گن کر اس طرح بتایا۔ سنن ابن ماجہ کتاب مشروبات کا بیان حدیث نمبر 3381

نشے کے نقصان

نشے کے بہت سے دماغی، جسمانی، روحانی نقصانات میں سے چند درج زیل ہیں

دھندلا پن
رگوں میں خون کا جم جانا
حافظہ ختم ہونا
دماغی کمزوری
پھیپھڑے، گردے اور جگر کی کمزوری
دماغ اور جذبات میں تبدیلی
فیصلہ نہ کر پانا
کام میں دل نہ لگنا
توجہ میں کمی
ہزیان کی بیماری لاحق ہونا
گھبراہٹ ہونا
پاگل پن کے دورے پڑنا
بے چینی بڑھنا
دماغ کمزور ہونا
جرائم کی جانب رغبت ہونا
وزن کم ہونا
بھوک اور پیاس ختم ہونا
ڈپریشن
موڈ پر اثر ہونا

پرفیوم اور آفٹر شیو میں شراب کی ملاوٹ

اس بات پر علماء کا اختلاف رائے ہے۔ کچھ علماء کے مطابق شراب جسمانی طور پر نجس ہے تو اگر اس کے قطرے کپڑوں یا جسم۔ پر گر جائیں تو وہ بھی نجس ہو جاتا ہے اور اسے دھونا لازم ہوتا ہے۔ مگر دوسرے علماء کے مطابق شراب روحانی طوت پر نجس ہے اور اس کا پینا ہی حرام ہے اگر یہ کپڑوں پر لگے تو گناہ نہیں ہے

قرآن سے نشے کا حرام ہونے کا ثبوت

نشے کے حرام ہونے کی سب سے پہلی آیت اس کے گناہ اور فوائد کا موازنہ کرتی ہے کہ فوائد سے زیادہ گناہ ہے نشے میں

لوگ آپ سے شراب اور جوئے کا مسئلہ پوچھتے ہیں ، آپ کہہ دیجئے ان دونوں میں بہت بڑا گناہ ہے اور لوگوں کو اس سے دنیاوی فائدہ بھی ہوتا ہے ، لیکن ان کا گناہ ان کے نفع سے بہت زیادہ ہے سورت البقرۃ آیت 219

سورت البقرۃ کے بعد سورت النساء میں نماز اور نشے کا موازنہ کیا گیا ہے کہ نشے کی حالت میں نماز ادا نہ کرو۔ نماز فرض عمل ہے تو نماز کی ادائیگی زیادہ ضروری ہے۔ نماز اور نشے کا موازنہ اس سے روکنے کے لیے ہی کیا تھا

اے ایمان والو! جب تم نشے میں مست ہو نماز کے قریب بھی نہ جاؤ ، جب تک کہ اپنی بات کو سمجھنے نہ لگو سورت النساء آیت 43

نشے کے حرام ہونے کے بارے میں آخری آیت سورت المائدہ میں اتری جس کے آخر میں اللہ تعالیٰ نے سخت الفاظ میں تنبیہہ کی ہے

اے ایمان والو! بات یہی ہے کہ شراب اور جوا اور تھان اور فال نکالنے کے پانسے کے تیرپہ سب گندی باتیں ، شیطانی کام ہیں ان سے بالکل الگ رہو تاکہ تم فلاح یاب ہو سورت المائدہ آیت 90

شیطان تو یوں چاہتا ہے کہ شراب اور جوئے کہ ذریعے سے تمہارے آپس میں عداوت اور بغض واقع کرا دے اور اللہ تعالٰی کی یاد سے اور نماز سے تم کو باز رکھے سو اب بھی باز آجاؤ ۔ سورت المائدہ آیت 91

حدیث سے نشے کے حرام ہونے کا ثبوت

حضرت طارق بن سوید جعفی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے شراب ( بنانے ) کےمتعلق سوا ل کیا ، آپ نے اس سے منع فرمایا یا اس کے بنانے کو نا پسند فرمایا ، انھوں نےکہا : میں اس کو دوا کے لئے بناتا ہوں ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : یہ دوا نہیں ہے ، بلکہ خود بیماری ہے ۔ صحیح مسلم کتاب مشروبات کا بیان حدیث 5141

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جس نے دنیا میں شراب پی اور پھر اس نے توبہ نہیں کی تو آخرت میں وہ اس سے محروم رہے گا۔ صحیح بخاری کتاب مشروبات کا بیان حدیث 5575

ہم سے عامر نے بیان کیا اور ان سے ابن عمر رضی اللہ عنہما نے کہ عمر رضی اللہ عنہ ممبر پر کھڑے ہوئے اور کہا امابعد! جب شراب کی حرمت کا حکم نازل ہوا تو وہ پانچ چیزوں سے بنتی تھی انگور، کھجور، شہد، گیہوں اور جَو اور شراب ( خمر ) وہ ہے جو عقل کو زائل کر دے۔ صحیح بخاری کتاب مشروبات کا بیان حدیث 5581

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے «بتع» کے متعلق پوچھا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جو بھی پینے والی چیز نشہ لاوے وہ حرام ہے۔ صحیح بخاری کتاب مشروبات کا بیان حدیث 5585

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہر نشہ لانے والی چیز حرام ہے ۔سنن ابی ماجہ کتاب مشروبات کا بیان حدیث 3386

 

نشہ آور اشیاء کا استعمال اور اسلام میں اس کی سزا

اسلام میں نشہ آور چیزیں استعمال کرنے میں حد کا اطلاق ہوتا ہے اور اس کی سزا 80 کوڑے ہیں

 

اگر اس مکالمے میں ہم سے کوئی غلطی یا کوتاہی ہوئی ہے تو براہ مہربانی غلطی کی نشاندہی کر کے ہماری اصلاح میں مدد کیجیئے۔ اللہ ہماری چھوٹی بڑی غلطیوں کو معاف فرمائے اور ہماری اس کاوش کو اپنی بارگاہ میں قبول و مقبول فرمائے۔اللہ اس کاوش کو ہمارے خاندان کے لئے نجات کا موجب بنائے اور دین پر ہماری پکڑ کو اور مضبوط کرے۔ آمین

Next Post

Previous Post

Leave a Reply

© 2019 Islamic Education

Theme by Anders Norén