Islamic Education

All About Islam

ناشکری

Facebooktwittergoogle_plusredditpinterestlinkedinmailFacebooktwittergoogle_plusredditpinterestlinkedinmail

 

اللہ اور اس کی مخلوق کا ناشکرا ہونا بھی اسلام میں ایک گناہ ہے۔یہ بہت عام عادت ہے انسان کی کہ وہ تمام آسائشوں کے باوجود بھی اللہ تعالیٰ کی ناشکری کرتا ہے۔ ہم اللہ کی عطا کردہ نعمتوں کو اپنا حق تصور کرتے ہیں۔ سورت الرحمن میں اللہ اپنی عطا کردہ نعمتوں کا تذکرہ کرتے ہوئے فرماتا ہے کہ تم اللہ تعالیٰ کی کون کون سی نعمت کو جھٹلاؤ گے۔ ناشکری کے بارے میں تفصیل سے جانتے ہیں

ناشکری کا مطلب

قرآن پاک میں ناشکری کے لئے لفظ کفر استعمال کیا گیا ہے۔ لفظ کفر سے مراد ہے ڈھک لینا۔ جو انسان اللہ تعالی کے احکامات کو نظر انداز کرتا ہے اور خدا کا شریک ٹھراتا ہے اس کی روح کو شیطان ڈھک لیتا ہے اس لئے اسے کافر کہتے ہیں۔ اس کے علاوہ جو انسان اللہ کا شکر ادا نہیں کرتا اس کا دل اور روح بھی ڈھک جاتے ہیں تو وہ کافر کہلاتا ہے۔

ناشکری کی وضاحت

انسان بہت بے صبرا اور ناشکرا ہے۔ وہ اللہ کی عطا کردہ نعمتوں کو بھلا بیٹھتا ہے جیسے ہی اسے کوئی مشکل پیش آتی ہے۔ جب انسان تمام تر نعمتوں کے ہونے کے باوجود بھی ان کی قدر نہ کرے تو وہ ناشکرا کہلاتا ہے اور یہ اللہ کی عطا کردہ نعمتوں کی ناشکری ہے۔ لوگ ان نعمتوں کو اپنا حق سمجھتے ہیں اور ان کا شکر ادا نہیں کرتے، پھر جب یہ نعمتیں چھن جائیں تو وہ اللہ سے شکوہ کرنا شروع کر دیتے ہیں۔ اللہ ہی انسان کو اپنی آزاد مرضی سے عطا کرتا ہے۔

 قارون اور لقمان کی مثال

۔سورت القصص کی آیت نمبر 76 سے 83 تک قارون کا واقعہ بیان کیا گیا ہے۔وہ بہت مغرور اور ناشکرا تھا۔ اسے اللہ تعالیٰ نے بہت دولت اور عقل سے نوازا تھا مگر وہ کفر کرتا تھا۔ اس نے اپنے دولت کی حفاظت کے لئے پوری فوج متعین کی ہوئی تھی۔ وہ سمجھتا تھا کہ یہ تمام نعمتیں اس کا حق ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اسے اپنی اطاعت کرنے کا حکم دیا مگر وہ اپنے غرور میں ناشکری کرتا ریا۔ ایک دن وہ بہت غرور سے کہیں جا رہا تھا اور لوگ اسے حسرت سے دیکھ رہے رھے تبھی اس پر اللہ تعالیٰ کا عذاب نازل ہوا اور وہ اپنے غرور کے ساتھ زمیں کے اندر دھنس گیا۔

۔سورت لقمان کی آیت 12 سے 19 میں اللہ نے لقمان کا ذکر کیا ہے جو اللہ کے نبی نہیں تھے مگر انہیں بھی اللہ نے بہت دولت اور عقل سے نوازا تھا۔ مگر وہ اللہ کے برگزیدہ بندے تھے اور اپنی اولاد کو بھی نیکی، صبر اور شکر کی ہدایت کرتے رہے۔

۔ان واقعات کو بتانے کا مقصد یہ ہے کہ اگر ایک انسان اللہ تعالیٰ کی عطا کردہ نعمتوں کو اپنا حق سمجھتا ہے تو وہ غلط سمجھتا ہے۔ ان نعمتوں پر فخر کرنا اچھا عمل نہیں ہے۔ لیکن اللہ تعالی کی عطا کردہ نعمتوں پر خوش ہونے کے ساتھ اس کا شکر بجا لانا ہی اچھا اور افضل عمل ہے۔

۔اس کے علاوہ لقمان کی کہانی سے معلوم ہوتا ہے کہ اللہ ان سے پیار کرتا ہے جو اس کی عطا کرتا نعمتوں کا شکر ادا کرتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ انسان کے دنیاوی مال سے بے نیاز ہے۔ اللہ شکر ادا کرنے والوں کو پسند کرتا ہے۔

شکر ادا کرنا

 ایک انسان شکرگزار کہلاتا ہے جب وہ یہ تین شرائط پوری کرتا ہے

۔ دل میں نعمتوں کا شکر ادا کرنا

۔ زبان سے شکر ادا کرنا

۔ اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرنے کی غرض سے اچھے کام کرنا

شکرگزاری دکھانے کا عام عمل

ایک بہت چھوٹا اور عام عمل جس سے انسان کی شکرگزاری کا علم۔ ہوتا ہے وہ الحمد اللہ ہے۔ کسی کام میں ٹھیک ہے یا اچھا ہے کہنے کی بجائے الحمداللہ کہنا زیادہ بہتر فعل ہے

ناشکری کی علامات

ایک انسان ناشکرا کہلاتا ہے اگر وہ یہ اعمال کرتا ہو

۔ جب مشکل آئے تو اللہ سے سوال کرنے لگے

۔ اپنی زندگی کا موازنہ دوسروں سے کرے

۔ نعمتوں کو اپنا حق سمجھے

۔ نعمتوں کی قدر نہ کرنا

انسانوں کے کئے گئے احسانوں کی قدر نہ کرنا

۔ والدین، اولاد، خاوند، بیوی وغیرہ کی ناشکری کرنا

ناشکری کی سزا

اللہ تعالیٰ ناشکری والوں کو سخت ناپسند کرتا ہے اور ان کے لئے درج ذیل سزائیں ہیں

۔ اللہ تعالیٰ اپنی عطا کردہ نعمتیں واپس لے لے گا

۔ اپنی نعمتوں میں کمی واقع کر سکتا ہے

۔ اس دنیا اور آخرت میں سخت سزا ملے گی

ہم نے ان کی ناشکری کا یہ بدلہ انہیں دیا ۔ ہم ( ایسی ) سخت سزا بڑے بڑے ناشکروں ہی کو دیتے ہیں ۔ سورت سبا آیت 17

قرآن کی آیات

۔ لوگوں کے سامنے اپنے گال نہ پھلا اور زمین پراترا کر نہ چل کسی تکبر کرنے والے شیخی خورے کو اللہ تعا لٰی پسند نہیں فرماتا ۔ سورت لقمان آیت 18

۔ اللہ تعالٰی تمہیں سزا دے کر کیا کرے گا؟ اگر تم شکر گزاری کرتے رہو اور با ایمان رہو ، اللہ تعالٰی بہت قدر کرنے والا اور پورا علم رکھنے والا ہے ۔ سورت النساء آیت 147

۔ ارشاد ہوا کہ اے موسیٰ! میں نے پیغمبری اور اپنی ہمکلامی سے اور لوگوں پر تم کو امتیاز دیا ہے تو جو کچھ تم کو میں نے عطا کیا ہے اس کو لو اور شکر کرو ۔ سورت الاعراف آیت 144

۔ اور انسان کو جب کبھی کوئی تکلیف پہنچتی ہے تو وہ خوب رجوع ہو کر اپنے رب کو پکارتا ہے، پھر جب اللہ تعالٰی اسے اپنے پاس سے نعمت عطا فرما دیتا ہے تو وہ اس سے پہلے جو دعا کرتا تھا ( اسے ) بھول جاتا ہے اور اللہ تعالٰی کے شریک مقرر کرنے لگتا ہے جس سے ( اوروں کو بھی ) اس کی راہ سے بہکائے ، آپ کہہ دیجئے! کہ اپنے کفر کا فائدہ کچھ دن اور اٹھالو ، ( آخر ) تو دوزخیوں میں ہونے والا ہے ۔ سورت الزمر آیت 8

۔ پس ( اے انسانو اور جنو! ) تم اپنے پروردگار کی کس کس نعمت کو جھٹلاؤ گے؟ سورت الرحمٰن آیت 13

حدیث اور ناشکری

۔ نبی یا ( یہ بیان کیا کہ ) ابوالقاسم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ” ( بنی اسرائیل میں ) ایک شخص ایک جوڑا پہن کر کبر و غرور میں سر مست، سر کے بالوں میں کنگھی کئے ہوئے اکڑ کر اتراتا جا رہا تھا کہ اللہ تعالیٰ نے اسے زمین میں دھنسا دیا اب وہ قیامت تک اس میں تڑپتا رہے گا یا دھنستا رہے گا۔“ صحیح بخاری کتاب لباس کا بیان حدیث نمبر 5789

۔ اگر اس مکالمے میں ہم سے کوئی غلطی یا کوتاہی ہوئی ہے تو براہ مہربانی غلطی کی نشاندہی کر کے ہماری اصلاح میں مدد کیجیئے۔ اللہ ہماری چھوٹی بڑی غلطیوں کو معاف فرمائے اور ہماری اس کاوش کو اپنی بارگاہ میں قبول و مقبول فرمائے۔اللہ اس کاوش کو ہمارے خاندان کے لئے نجات کا موجب بنائے اور دین پر ہماری پکڑ کو اور مضبوط کرے۔ آمین

 

Next Post

Previous Post

Leave a Reply

© 2019 Islamic Education

Theme by Anders Norén