Islamic Education

All About Islam

  میاں بیوی کے حقوق، فرائض اور پابندیاں

Facebooktwittergoogle_plusredditpinterestlinkedinmailFacebooktwittergoogle_plusredditpinterestlinkedinmail

  

اسلام میں مرد اور عورت کو شادی کے بعد کچھ حقوق اور فرائض سونپے گئے ہیں اور کچھ پابندیاں بھی عائد کی گئی ہیں۔ تاکہ میاں بیوئ اپنی حدود سے تجاوز نہ کریں۔ مندرجہ ذیل میں ان حقوقَ، فرائض اور پابندیوں کا ذکر کیا گیا ہے

خاوند کے فرائض , بیوی کے حقوق

 نان و نفقہ

خاوند اپنی بیوی کو نان ونقفہ فراہم کرنے کا پابند ہے۔ نان و نفقہ میں گھر، کھانا، لباس، اور وہ تمام بنیادی ضروریات شامل ہیں جو عورت کو ایک سادہ زندگی گزارنے کے لیے ضروری ہیں۔ مرد اپنی بیوی اور اولاد کے اخراجات کا ذمہ دار ہے۔

محافظ

ایک خاوند اپنی بیوی کا محافظ ہوتا ہے اور اس کا فرض ہے کہ وہ دوسروں سے اور ان کے رویوں سے اپنی بیوی کی ہر ممکن حفاظت کرے۔ اس کے علاوہ مرد کو اسلام نے عورت کا محافظ بنا کر بھیجا ہے نہ کہ کوئی تھانیدار یا مار پیٹ کرنے والا۔

پیار، محبت اور خلوص

مرد کا فرض ہے کہ وو اپنی بیوی سے پیار، محبت کا رویہ اختیار کرے اور اس سے ہر حال میں مخلص رہے۔ وہ اپنی بیوئ کی موجودگو اور غیر موجودگی میں بھی غیر عورتوں سے تعلقات استوار نہ کرے۔

حق مہر

یہ بھی ایک خاوند کا فرض ہے کہ وہ نکاح کے بعد جلد از جلد اپنی بیوی کو اس کا حق مہر ادا کر دے۔ بیوی کو حق مہر کے لیے تنگ کرنا یا ڈرانا دھمکانا قطعاً ٹھیک عمل نہیں ہے۔

سائبان

خاوند کو عورت کا سائبان بنایا گیا ہے تاکہ وہ ہر کسی سے اور دوسرے کے برے اور ترش رویوں سے اپنی بیوی کو بچا سکے اور اس کی عزت قائم رکھ سکے۔

عزت

یہ ایک مرد کی ذمہ داری ہے اور بیوی کا حق ہے کہ اس کی عزت کی جائے۔

درگزر کرنے والا

ایک مرد کو درگزر کرنے والا ہونا چاہیئے تاکہ بیوی کی کوتاہیوں کو درگزر کر سکے۔ اور بار بار بیوی کو اس کی غلطیوں کا احساس نہ دلائے۔

 الگ گھر کی فراہمی

اگر بیوی کا گزارہ میاں کے گھر والوں کے ساتھ نہیں ہو سکتا یا وہ ان کے ساتھ نہیں رہنا چاہتی تو یہ میاں کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنی بیوی کو الگ گھر لے کر دے۔

دودھ پلانے کا معاوضہ

ایک عورت اگر چاہے تو اولاد کو دودھ پلانے کا معاوضہ اپنے خاوند سے مانگ سکتی ہے اور اگر خاوند انکار کرے تو دودھ نہ پلانا عورت کا حق ہے۔

خاوند پر عائد پابندیاں

اسلام جہاں مرد اور عورت کو کچھ حقوق اور فرائض دیتا ہے وہیں ان پر کچھ پابندیاں بھی عائد کرتا ہے۔

مارنا پیٹنا

اسلام خاوند کو ہرگز اس بات کی اجازت نہیں دیتا کہ وہ اپنی بیوی سے مار پیٹ کرے۔ اسلام مرد کو عورت کو لعن طعن کرنے سے بھی منع کرتا ہے۔

بےعزتی کرنا

میاں کو اس بات کی اجازت نہیں ہے کہ وہ کسی کے سامنے یا اکیلے میں بھی کسی بات کی وجہ سے اپنی بیوی کی بےعزتی کرے یا اسے ذلیل کرے اور اس کو غلط القاب سے نوازے جو مرد کی نفرت کو ظاہر کریں یا جو بیوی کوگراں گزرے۔

ناشکری

مرد کو اس بات سے منع کیا گیا ہے کہ وہ اپنی بیوئ کی خدمتوں کے ناشکری کرے اور اس کو ایذا پہنچائے۔

بے یار و مددگار چھوڑنا

مرد کو منع ہے کہ وہ کسی لڑائی اور بحث کے بعد بیوئ کو غصے میں اکیلا چھوڑ کر گھر سے باہر نکل جائے۔

 سسرال والوں کے ساتھ رہنے پر زور

میاں کے لئے ہرگز یہ جائز نہیں کہ وہ بیوی کو اس بات پر مجبور کرے کہ وہ اپنے سسرال والوں کے ساتھ رہے۔

والدین اور رشتہ داروں سے میل جول

مرد کو اسلام اس بات کی بھی اجازت نہیں دیتا کہ وہ اپنی بیوی کو اس کے گھر والوں اور رشتہ داروں سے ملنے سے روکے۔ اگر عورت کماتی ہے اور اپنی تنخواہ سے اپنے والدین کو کچھ دینا چاہتی ہے تو مرد اس کو روکنےبھی نہیں ہے کیونکہ عورت کے پیسے پر میاں کا کوئی حق نہیں ہے۔ البتی اگر عورت مرد کی دولت میں سے اپنے ماں باپ کو کچھ دینا چاہتی ہے تو میاں کی اجازت لینی ضروری ہے۔

عورت کے فرائض اور مرد کے حقوق

جیسے اسلام نے عورت کو حقوق دئیے ہیں ویسے ہی اپنے خاوند کے لئے اس کے کچھ فرائض بھی ہیں جو درج ذیل ہیں

خاوند کا خیال رکھنا

یہ ایک بیوی کا فرض ہے کہ وہ اپنے خاوند کی ہر خواہش اور ضرورت کا خیال رکھے۔اللہ نے عورت کو مرد کا غلام نہیں بلکہ اس کے گھر کا مالک بنا کر بھیجا ہے۔ جو گھر کے تمام معاملات خوش اسلوبی سے سرانجام دے سکتا ہے۔ اس لئے اگر ایک مرد اپنے تمام فرائض پورے کرتا ہے تو بیوی کو بھی چاہیئے کہ وہ اپنے خاوند اور بچوں کا ہر ممکن خیال رکھے

عزت

یہ ایک عورت کا بھی اولین فرض ہے کہ وہ اپنے خاوند کی عزت کرے اور اس کی عزت دوسروں کے سامنے قائم رکھے

کفایت شعار

ایک عورت کا فرض ہے کہ وہ اپنے خاوند کا دیا ہوا مال اور پیسہ کفایت شعاری اور سوچ سمجھ کے ساتھ خرچ کرے۔ مرد عورت کو اگر اپنے مال اور دولت کے معاملے میں کوئی تنگی نہیں آنے دیتا تو عورت کو اس نات کا ناجائز فائدہ نہیں اٹھانا چاہیئے

پاکیزگی اور وفا شعاری

ایک عورت کا فرض ہے کہ وہ اپنے خاوند کے ساتھ وفاشعار رہے اس کی امانت میں خیانت نہ کرے۔ مرد کی غیر موجودگی میں بھی اپنی ذینت کی خفاظت کرے

پیار اور محبت

یہ ایک بیوی کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنے خاوند سے پیار، محبت اور خلوص سے رہے اور اس کی تمام نفسانی اور جنسی خواہشات کی تکمیل کرے

اولاد کی پرورش

یہ ایک عورت کا فرض ہے کہ وہ اپنی اولاد کی بہترین پرورش کرے اور انہیں نیک بنائے

درگزر کرنے والی

یہ ایک عورت کے لئے بھی لازم ہے کہ وہ درگزر کرے اگر مرد سے کوئی غلطی ہا کوتاہی ہو جائے اور اس کی غلطیوں کی بار بار یاد دہانی نہ کروائے

عورت پر عائد پابندیاں

اسلام مرد کی طرح عورت پر بھی کچھ پابندیاں عائد کرتا ہے

بدکار

عورت کے لئے لازم ہے کہ وہ بدکاری نہ کرے بلکہ اپنی عصمت کی حفاظت کرے

فضول خرچ

ایک عورت کوچاہیئے کہ وہ اپنے مرد کی کمائی ہوئی دولت کو سمجھداری سے خرچ کرے اور ضائع مت کرے

ناشکری

بیوی پر لازم ہے کہ وہ اپنے مرد کی ناشکری مت کرے بلکہ ہر حال میں اللہ کا شکر ادا کرے

نامحرم سے ملاقات

عورت کے لئے گناہ ہے کہ وہ اپنے میاں کی غیر موجودگی میں کسی غیر مرد سےملاقات کرے یا اس سے روابط رکھے

بے عزتی کرنا

میاں کی عزت کرنا ہر حال میں عورت پر فرض ہے۔ میاں کی بےعزتی کرنا یا اس سے ناروا رویہ اختیار کرنے سے اسلام نے منع کیا ہے

والدین سے ملنے سے منع کرنا

عورت کو اس بات کی ہرگز اجازت نہیں ہے کہ وہ اپنے خاوند کو اس کے والدین اور رشتہ داروں سے ملنے سے منع کرے

 

اگر اس مکالمے میں ہم سے کوئی غلطی یا کوتاہی ہوئی ہے تو براہ مہربانی غلطی کی نشاندہی کر کے ہماری اصلاح میں مدد کیجیئے۔ اللہ ہماری چھوٹی بڑی غلطیوں کو معاف فرمائے اور ہماری اس کاوش کو اپنی بارگاہ میں قبول و مقبول فرمائے۔اللہ اس کاوش کو ہمارے خاندان کے لئے نجات کا موجب بنائے اور دین پر ہماری پکڑ کو اور مضبوط کرے۔آمین 

Next Post

Previous Post

Leave a Reply

© 2019 Islamic Education

Theme by Anders Norén