Islamic Education

All About Islam

موسیقی کے بارے میں اسلامی تعلیمات

Facebooktwittergoogle_plusredditpinterestlinkedinmailFacebooktwittergoogle_plusredditpinterestlinkedinmail

 

موسیقی  ایک قدیم طرز عمل ہے جو لوگوں کو صدیوں سے انسان کو اپنی طرف راغب کرتا آیا ہے۔ ایک مسلمان ہونے کی حیثیت سے یہ جاننا ہمارا فرض ہے کہ موسیقی اسلام میں حرام ہے یا حلال۔  

موسیقی کی تاریخ

موسیقی کا آغاز کم و بیش آج سے 50000 سال پہلے افریقہ کے علاقے سے ہوا تھا۔ اور پھر آہستہ آہستہ یہ پوری دنیا میں اپنی جڑیں پھیلاتا گیا۔  

دور نبوتؐ اور موسیقی

دور نبوت میں بھی کفار میں موسیقی کا عام رواج تھا۔ وہ مسلمانوں کو تنگ کرنے اور انہیں عبادات سے روکنے کے لئے موسیقی کا استعمال کرتے تھے۔ 

 موسیقی اور شیطان 

موسیقی کو اسلام میں حرام قرار دیا گیا ہے اس کی سب سے بڑی وجہ موسیقی اور شیطان کا گہرا تعلق ہے ۔

شیطان کی اذان 

موسیقی کو شیطان کی اذان قرار دیا گیا ہے. جیسے اللہ اذان کے ذریعے انسان کو اپنے حضور جھکنے کا پیغام دیتا ہے ویسے ہی شیطان موسیقی کے ذریعے لوگوں کو اپنے سامنے جھکنے کا پیغام دیتا ہے۔ 

اعمال پر اثر انداز ہونا

انسان جس چیز کو سنتا ہے وہ انسانی دل، دماغ اور اعمال پر اثر انداز ہوتا ہے. موسیقی کے ذریعے شیطان انسان کے اعمال پر اثر انداز ہوتا ہے۔

بے راہ روی کا فروغ

شیطان موسیقی کے ذریعے بے راہ روی کو آسانی سے فروغ دیتا ہے. گانوں کے الفاظ انسانی دماغ پر بہت گہرا اثر چھوڑتے ہیں اور اسے بےراہ و روی کی جانب مبذول کرتے ہیں۔

اللہ سے دوری

شیطان انسان کو اللہ سے دور کرنے کی ہر سعی کرتا ہے اور موسیقی اس کا سب سے آسان طریقہ ہے۔

گناہوں کی طرف رغبت

موسیقی کو سننا ہی صرف گناہ نہیں ہے بلکہ اس کے ساتھ دوسرے گناہ بھی جڑ جاتے ہیں. مثلاً ناچنا اور نشہ آور اشیاء کا استعمال بھی انسان کو غلط نہیں لگتا۔

لغو گفتگو کا فروغ

موسیقی کے ذریعے شیطان انسان کو لغو گفتگو کی جانب اکساتا ہے جو کہ اسلام میں ناپسند کی گئی ہے۔

موسیقی کیوں حرام ہے

موسیقی فطرت کا ایک خاص عمل ہے. ماں کی لوری ، چڑیا کا چہچہانا، پتوں کی سرسراہٹ، ہر چیز میں موسیقی کا عنصر شامل ہے اور یہ ایک فطری عمل ہے .اس کو حرام قرار دینا فطرت انسان کی نفی ہے. اللہ نے ماں کی لوری کو حرام قرار نہیں دیا. اللہ نے حمد یا نعت پڑھنے کو حرام قرار نہیں دیا بلکہ  

۔موسیقی کے آلات اور گانوں کے لغو بول 

۔موسیقی کے ساتھ جڑے دوسرے گناہ 

۔انسانی زندگی پر اس کے برے اثرات 

۔اللہ اور قرآن سے دوری کی وجہ سے ان چیزوں کو حرام قرار دیا ہے 

حرام آلات موسیقی

اللہ نے موسیقی کو وہ آلات جو تار سے بجتے ہیں مثلاً ستار، گٹار، پیانو، وائلن اور وہ آلات جو ہوا سے بجتے ہیں مثلاً بانسری، اور اس کی دیگر اقسام کو حرام قرار دیا ہے

دف کا بجانا اسلام میں حرام قرار نہیں دیا ۔ مگر دف بجا کر نازیبا الفاظ  اور بے حیائی کو فروغ دینے والے گانے گانا پھر بھی حرام ہی رہے گا۔

حمد، نعت اور آلات موسیقی

نعت یا حمد ویسے تو نبیؐ اور اللہّٰ  کی یاد اور بڑائی بیان کرنے کا ایک طریقہ ہے جس میں با ظاہر تو کوئی قباحت نہیں مگر اگر ان میں بھی آلات موسیقی کا استعمال کیا جائے تو یہ بھی حرام ہی کے زمرے میں آئے گا۔

روح کی غذا

 جب کوئی انسان نماز اور قرآن سے دور ہو جاتا ہے تو اس کی روح بے چین رہنے لگتی ہے اور سکون کی تلاش کرنے لگتی ہے.اس میں ایک خلش باقی رہ جاتی ہے. اس خلش اور تشنگی کو پورا کرنے کے لئے روح موسیقی کا سہارا لے کر اپنی تسلی کرتی ہے۔جیسے انسانی جسم کو غذا کی ضرورت ہوتی ہے مگر خراب اور نامناسب غذا انسانی جسم کو صحت مند کرنے کی بجائے بیمار کر دیتا ہے بالکل اسی طرح انسانی روح کو بھی اصل غذا (نماز اور تلاوت قرآن) کی بجائے گندی اور نامناسب غذا سے صحت مند نہیں کیا جا سکتا۔

موسیقی کے بارے میں قرآن اور حدیث کی رائے

اور بعض لوگ ایسے بھی ہیں جو لغو باتوں کو مول لیتے ہیں کہ بے علمی    کے ساتھ لوگوں کو اللہ کی راہ سے بہکائیں اور اسے ہنسی بنائیں یہی    وہ لوگ ہیں جن کے لئے رسوا کرنے والا عذاب ہے ۔ سورت لقمان آیت 6 

 

ان میں  سے تو جسے بھی  اپنی  آواز سے بہکا سکے گا بہکا لے اور ان پر اپنے سوار اور پیادے  چڑھا لے  اور ان کے مال اور اولاد میں  سے اپنا بھی  ساجھا   لگا اور انہیں  ( جھوٹے ) وعدے دے لے ان سے جتنے بھی  وعدے شیطان   کے ہوتے ہیں  سب کے سب سراسر فریب  ہیں  ۔ سورت بنی اسرائیل آیت 64

حدیث مبارکہ

میری قوم میں ایسے بھی لوگ ہوں گے جو میرے بعد خود پر شرمگاہ، ریشم، شراب اور موسیقی کے آلات کو حلال کر لیں گے۔

بخاری 7.494 

حضرت محمدؐ کا فرمان ہے کہ اللہ نے مجھے تمام آلات موسیقی، بت اور شیطانی کاموں کو نست و نابود کرنے کا حکم دیا ہے. حدیث قدسی 19.5 

 

اگر اس مکالمے میں ہم  سے کوئی غلطی یا کوتاہی ہوئی ہے تو براہ مہربانی غلطی کی نشاندہی کر کے ہماری اصلاح میں مدد کیجیئے۔ اللہ ہماری چھوٹی بڑی غلطیوں کو معاف فرمائے اور ہماری اس کاوش کو اپنی بارگاہ میں قبول و مقبول فرمائے۔اللہ اس کاوش کو ہمارے خاندان کے لئے نجات کا موجب بنائے اور دین پر ہماری پکڑ کو اور مضبوط کرے. آمین 

Next Post

Previous Post

Leave a Reply

© 2019 Islamic Education

Theme by Anders Norén