Islamic Education

All About Islam

مرد عورت پر حاکم یا محافظ

Facebooktwittergoogle_plusredditpinterestlinkedinmailFacebooktwittergoogle_plusredditpinterestlinkedinmail

 

یہ مسلمانوں میں بہت عام خیال ہے کہ مرد عورت پر حاکم ہے لیکن حقیقت اس سے بالکل برعکس ہے اسلام میں مرد کو حاکم نہیں بلکہ عورت کا محافظ بنایا ہے۔  مگر یہ خیال بالکل غلط ہے. سورت النساء کی آیت نمبر 34 کو لوگ غلط معنوں میں لیتے ہیں اور باقی امت مسلمہ میں بھی اس غلط خیال کو پھیلایا جاتا ہے. اس مکالمے کے ذریعے اس آیت کا صحیح مطلب سمجھانے کی کوشش کی جا رہی ہے

سورت النساء آیت 34

اَلرِّجَالُ قَوّٰمُوۡنَ عَلَی النِّسَآءِ بِمَا فَضَّلَ اللّٰہُ بَعۡضَہُمۡ عَلٰی بَعۡضٍ وَّ بِمَاۤ اَنۡفَقُوۡا مِنۡ اَمۡوَالِہِمۡ ؕ فَالصّٰلِحٰتُ قٰنِتٰتٌ حٰفِظٰتٌ لِّلۡغَیۡبِ بِمَا حَفِظَ اللّٰہُ ؕ وَ الّٰتِیۡ تَخَافُوۡنَ نُشُوۡزَہُنَّ فَعِظُوۡہُنَّ وَ اہۡجُرُوۡہُنَّ فِی الۡمَضَاجِعِ وَ اضۡرِبُوۡہُنَّ ۚ فَاِنۡ اَطَعۡنَکُمۡ فَلَا تَبۡغُوۡا عَلَیۡہِنَّ سَبِیۡلًا ؕ اِنَّ اللّٰہَ کَانَ عَلِیًّا کَبِیۡرًا.

سورت النساء آیت 34 کا مطلب

مرد عورتوں پر کفیل ہیں اس وجہ سے  اللہ تعالٰی نے ایک کو دوسرے پر فضیلت دی ہے اور اس وجہ سے  مردوں نےاپنے مال خرچ کئے ہیں ، پس نیک فرمانبردار عورتیں خاوند کی عدم موجودگی میں بہ حفاظتِ الٰہی نگہداشت رکھنے والیاں ہیں اور جن عورتوں کی نافرمانی اور بددماغی کا تمہیں خوف ہو انہیں نصیحت کرو اور انہیں الگ بستروں پر چھوڑ دو اور انہیں مار کی سزا دو پھر اگر وہ تابعداری کریں تو ان پر راستہ تلاش نہ کرو ، بیشک اللہ تعالٰی بڑی بلندی اور بڑائی والا ہے

سورت النساء کی آیت 34 کی وضاحت

اس آیت کا لفظ قومون ہی جسے غلط معنوں میں لیا جاتا ہے. اس غلط فہمی کو ختم کرنے کے لئے لفظ قوام کا مطلب سمجھنے کی ضرورت ہے.

قوام کا مطلب

لفظ قوام عربی کی لفظ قومہ سے اخذ کیا گیا ہے جس کا مطلب ہے قیام کرنا یا کھڑے ہونا جیسے انسان نماز میں قیام کی حالت اختیار کرتا ہے. اس سے مراد ہے وہ جو مضبوطی سے کھڑا رہے.

لفظ قوام کا ایک مطلب کفیل ہے. اللہ تعالیٰ کا ایک نام القیوم جس کا مطلب ہے کفالت کرنے والا.  تو اللہ وہ ہے جو سب کی کفالت کرتا ہے اور قوام وہ ہے جو دوسروں کی کفالت کرتا ہے.

لفظ قومہ کا ایک مطلب ہے ہمیشہ قائم رہنے والا. تو اللہ بطور القیوم ہمیشہ قائم رہنے والا ہے.

قوام کا مطلب ہے وہ جو اپنے تمام کاموں میں بہترین انصاف کرنے والا ہے.

لفظ قوام عربی زبان کے ایک لفظ تبت کو اپنے اندر گم کر لیتا ہے. تبت کا مطلب ہے غصہ جبکہ قوام کا مطلب ہے پرسکون.

قوام کا ایک مطلب یہ بھی ہے وہ جو سمجھدار اور عقلمند ہو.

قوام کی وضاحت

مفکرین کی رائے میں لفظ قوام اگر مرد کے لئے استعمال کیا جائے تو اس کا مطلب ہے کہ وہ وفاشعار، مخلص، کفیل، محافظ، ساتھ دینے والا اور مفاہمت کرنے والا ہے. اسسے مراد ہے کہ مرد عورت کا کفیل ہے. تمام مخلوق اللہ کی غلام ہے اور اللہ واحد حاکم ہے. اللہ نے کسی ایک کو دوسرے کا حاکم اور مالک نہیں بنایا

اس کے علاوہ مرد تمام معاملات میں بہترین انصاف کرنے والا اور اپنے خاندان کی جانب مخلص ہے. اس کا پیار کبھی بھی نا ختم ہونے والا ہے. اس کے علاوہ مرد اپنے خاندان کے جانب سمجھداری کا رویہ رکھتا ہے اور پرسکون رہتا ہے

قوام صرف خاوند یا تمام محرم مرد

اس آیت میں لفظ قوام محرم مردوں کے لئے استعمال ہوا ہے. اس میں خاوند کے لفظ کی بجائے مرد استعمال کیا گیا ہے. ہر مرد خواہ وہ بیٹا ہو، باپ ہو، میاں یا بھائی ہو وہ اپنے خاندان کی ہر عورت جیسے ماں، بیٹی، بیوئ یا بہن ہو سب کی حفاظت اور مدد کرتا ہے.  وہ اپنے خاندان کی عورتوں کے بارے میں مخلص اور انصاف پسند ہوتے ہیں

قوام صرف عورت کے لئے یا تمام خاندان کے لئے

مرد اپنے تمام خاندان مطلب والدین، اولاد اور بیوی کے لئے قوام ہے

آیت 34 پارٹ 2

اس آیت کا دوسرا حصہ ک ایک کو دوسرے پر برتری حاصل ہے سے بھی غلط مرادی جاتی ہے. اگر پہلے حصے کا موازنہ غور سے کیا جائے تو معلوم ہو گا کہ عورت کو فائدہ پہنچایا کیا ہے نہ کہ مرد کو. تو عورت کو مرد پر اس لحاظ سے برتری حاصل ہے کہ اسے گھر بیٹھے بیٹھائے تمامسہولیات فراہم کی جا رہی ہیں اور وہ مرد سے تمام فوائد حاصل کر رہی ہے تو اس حصے کو مرد کی عورت پر برتری کے تنازعے میں نہیں لینا چاہیئے.

آیت 34 حصہ 3

اس آیت کے تیسرے حصے میں مرد کو یہ حکم دیا گیا ہے کہ وہ عورت کی کفالت کا ذمہ دار ہے اور خاندان کی ضروریات کا خیال رکھنا اس کا فرض ہے

عورت کو طلاق کا حق

اگر مرد بطور ایک خاوند عورت کو نان و نفقہ مہیا نہیں کرتا تو وہ اس سے طلاق لینے کا حق رکھتی ہے

آیت 34 کا غلط استعمال

آیت 34 کو غلط طریقے سے مشہور کر کے اس سے فائدہ اٹھانے والے اسلام کا ناکس علم رکھنے والے نانہاد علماء ہیں جو اس طرح کی غلط باتیں کم. تعلیم یافتہ اسلامی طبقہ میں پھیلا کر گھریلو ناچاکی پھیلانے کا باعث بنتے ہیں

قوام کے ذریعے عائد کی گئی ذمہ داری

قوام لفظ مرد پر کچھ ذمہ داریاں عائد کرتا ہے.

مرد اپنے خاندان کی کفالت کرے ورنہ وہ اللہ کے حضور اس بات کا جوابدہ ہو گا

مرد اگر اپنی بیوی یا ذیر کفالت لوگوں سے برا سلوک روا رکھے تو وہ قیامت والے دن اس گناہ کے لئے عزاب کا حقدار ہو گا.

مرد اگر بے انصافی کرنے والا ہو گا تو قیامت والے دن اس بات کا بھی حساب دینا ہو گا.

عورت کو مارنا یا ظلم کرنا

اس آیت کے آخری حصے میں بتایا گیا ہے کہ عورت کو اچھا اور نیک ہونا چاہیئے اگر عورت نافرمان ہو تو مرد کو حق ہے کہ وہ اس سے دور ہو جائے. یہاں لفظ اضربون استعمال ہوا ہے جس سے علماء مار پیٹ کا مطلب دیتے ہیں مگر اس لفظ سے یہاں مراد عورت سے دور رہنا ہے. اور اگر عورت پھر بھی نہ. مانے تو اس سے طلاق لے لی جائے.

اگر اس مکالمے میں یا ان ناموں کا مطلب بیان کرنے میں ہم سے کوئی غلطی یا کوتاہی ہوئی ہے تو براہ مہربانی ہماری غلطی کی نشاندہی کر کے ہماری اصلاح میں ہماری مدد کیجیئے۔ اللہ ہماری چھوٹی بڑی غلطیوں کو معاف فرمائے -اور ہماری اس کاوش کو اپنی بارگاہ میں قبول و مقبول فرمائے۔ آمین

Next Post

Previous Post

Leave a Reply

© 2019 Islamic Education

Theme by Anders Norén