Islamic Education

All About Islam

قطع رحمی

Facebooktwittergoogle_plusredditpinterestlinkedinmailFacebooktwittergoogle_plusredditpinterestlinkedinmail

 

اسلام میں رشتہ داروں کو بہت اہمیت حاصل ہے اور ان سے تعلقات بہتر بنانے کی ہدایت دی گئی ہے۔ اسلام ایک مکمل ضابطہ حیات ہے اور زندگی خوش اخلاقی سے گزارنے کی ترغیب دیتا ہے۔ اسلام میں قطع رحمی کرنا ایک کبیرہ گناہ ہے۔ رشتہ کتنا بھی برا کیوں نہ ہو مگر اسے توڑنے کی اجازت نہیں ہے۔ ان رشتے داروں سے قطع تعلقی کرنے کی بجائے ان سے احتیاط سے ملنا چاہیئے۔

رشتے داروں سے مراد

اسلام میں رشتہ دار مختلف نوعیت کے ہیں۔ ماں، باپ، بہن، بھائی، بیوئ، بچے رشتے دار کہلاتے ہیں۔ عربی میں رشتے داروں کو مختلف الفاظ میں مخاطب کیا گیا ہے

۔ رحام

رحام سے مراد ہے بہن بھائی۔ رحام لفظ رحم سے اخز کیا گیا ہے جو عورت کے اعضاء ولادت کو کہا جاتا ہے۔

۔ اصابیاہ

لفظ اصابیاہ سے مراد ہے ماں یا باپ کے طرف سے بننے والے رشتے دار جیسے ماموں، چاچو، دادی، نانی وغیرہ۔

۔ نسب

اس سے مراد وہ رشتے جو نکاح، وراثت وغیرہ کی وجہ سے بنتے ہیں۔

رشتے داروں کے حقوق

۔ ان سے صلہ رحمی کی جائے۔
۔ ان کو اسلام کے بیان کردہ تمام حقوق دیئے جائیں۔
۔ان سے ملاقات کی جائے۔
۔ ان کی مدد کی جائے۔
۔ ان سے جب ملا جائے خوش دلی سے ملا جائے۔
۔ مہمان نوازی کی جائی۔
۔ جب صدقہ یا زکوۃ دی جائے ان کا حق سب سے پہلے ہے۔
۔ ان کی خوشی اور غم میں شریک ہوا جائے۔

صلہ رحمی سے مراد

صلہ رحمی سے مراد ہے کہ ان کے ساتھ بہترین سلوک کیا جائے۔ ان کو سمجھا جائے، ان سے ہمدردی کی جائے اور ان کے حقوق کا خیال رکھا جائے۔

رشتے داروں کی درجہ بندی

۔ محرم جیسے باپ، دادا، بہن، ماں، چچی، ممانی، ماموں وغیرہ۔
۔ جو وراثت میں شریک ہوں۔
۔ قریب کے رشتے دار۔

صلہ رحمی کے فوائد

۔ صلہ رحمی کرنے والا جنت میں جائے گا۔
۔ اللہ اس سے خوش ہو گا۔
۔ اللہ اسے دولت سے نوازے گا۔
۔ انسان سے اچھے تعلقات رکھنے والے سے اللہ بھی تعلقات استوار کرے گا۔

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ رحم کا تعلق رحمن سے جڑا ہوا ہے پس جو کوئی اس سے اپنے آپ کو جوڑتا ہے اللہ پاک نے فرمایا کہ میں بھی اس کو اپنے سے جوڑ لیتا ہوں اور جو کوئی اسے توڑتا ہے میں بھی اپنے آپ کو اس سے توڑ لیتا ہوں۔ صحیح بخاری کتاب اچھے اخلاق حدیث نمبر 5988

۔ اس سے زندگی بڑھتی ہے اور اللہ ترقی دیتا ہے۔

اللہ کے تین خاص احکام

سورت النحل آیت 90 میں اللہ فرماتا ہے کہ رشتے داروں سے بہترین سلوک کرنا نہایت ضروری ہے اس سے اللہ کی برکات نازل ہوتی ہیں۔

اللہ تعالٰی عدل کا ، بھلائی کا اور قرابت داروں کے ساتھ سلوک کرنے کا حکم دیتا ہے اور بے حیائی کے کاموں ، ناشائستہ حرکتوں اور ظلم و زیادتی سے روکتا ہے ، وہ خود تمہیں نصیحتیں کر رہا ہے کہ تم نصیحت حاصل کرو ۔ سورت النحل آیت 90

قطع رحمی کی سزا

۔ جو قطع رحمی کرتا ہے وہ اللہ کو جوابدہ ہے۔
۔ قطع رحمی کرنے سے انسان کا دنیا میں بھی نقصان ہے۔

جو لوگ اللہ تعالٰی کے مضبوط عہد کو توڑ دیتے ہیں اور اللہ تعالٰی نے جن چیزوں کے جوڑنے کا حکم دیا ہے ، انہیں کاٹتے ہیں اور زمین میں فساد پھیلاتے ہیں ، یہی لوگ نقصان اٹھانے والے ہیں ۔ سورت البقرہ آیت 27

۔ قطع رحمی کرنے والوں پر اللہ کی لعنت ہے۔

اور تم سے یہ بھی بعید نہیں کہ اگر تم کو حکومت مل جائے تو تم زمین میں فساد برپا کردو اور رشتے ناتے توڑ ڈالو یہ وہی لوگ ہیں جن پر اللہ کی پھٹکار ہے اور جن کی سماعت اور آنکھوں کی روشنی چھین لی ہے ۔ سورت محمد آیت 22.23

۔ قطع رحمی کرنے والے کا آخری ٹھکانہ جہنم ہے۔

اور جو اللہ کے عہد کو اس کی مضبوطی کے بعد توڑ دیتے ہیں اور جن چیزوں کے جوڑنے کا اللہ نے حکم دیا ہے انہیں توڑتے ہیں اور زمین میں فساد پھیلاتے ہیں ، ان کے لئے لعنتیں ہیں اور ان کے لئے برا گھر ہے ۔ سورت الرعد آیت 25

۔ ان کے دلوں پر اللہ مہر لگا دیتا ہے۔
۔ قطع رحمی کہ وجہ بننے والے کو بھی اللہ سزا دے گا۔

اگر والدین قطع رحمی کا حکم دیں

اگر والدین اولاد کو قطع رحمی کا حکم دیں تو اولاد اس حکم کو نہ مانے کیونکہ یہ حکم اللہ کے حکم کے منافی ہے۔

اگر والدین اولاد کو اپنے شریک حیات سے طلاق لینے کی ترغیب دیں جبکہ میاں بیوئ آپس میں خوش ہوں اور ان دونوں میں سے کوئی غیر شرعی حرکات اور کاموں میں ملوث نہ ہو تو اولاد پر اس حکم کو ماننے کی پابندی بھی نہیں ہے بلکہ یہ ایک گناہ ہے۔

قرآن اور قطع رحمی

۔ اے لوگو! اپنے پروردگار سے ڈرو ، جس نے تمہیں ایک جان سے پیدا کیا اسی سے اس کی بیوی کو پیدا کر کے ان دونوں سے بہت سے مرد اور عورتیں پھیلا دیں ، اس اللہ سے ڈرو جس کے نام پر ایک دوسرے سے مانگتے ہو اور رشتے ناطے توڑنے سے بھی بچو بیشک اللہ تعالٰی تم پر نگہبان ہے ۔ سورت النساء آہت 1

مندرجہ ذیل دو آیات میں اللہ نے صلہ رحمی کو اللہ کی اطاعت کے ساتھ بیان لر کے اس کی اہمیت بتائی ہے۔

۔ آپ سے پوچھتے ہیں کہ وہ کیا خرچ کریں؟ آپ کہہ دیجئے جو مال تم خرچ کرو وہ ماں باپ کے لئے ہے اور رشتہ داروں اور یتیموں اور مسکینوں اور مسافروں کے لئے ہے اور تم جو کچھ بھلائی کرو گے اللہ تعالٰی کو اس کا علم ہے ۔ سورت البقرہ آیت 215

۔ اور جب ہم نے بنی اسرائیل سے و عدہ لیا کہ تم اللہ کے سوا دوسرے کی عبادت نہ کرنا اور ماں باپ کے ساتھ اچھا سلوک کرنا ، اسی طرح قرابتداروں ، یتیموں اور مسکینوں کے ساتھ اور لوگوں کو اچھی باتیں کہنا ، نمازیں قائم رکھنا اور زکوۃ دیتے رہا کرنا ، لیکن تھوڑے سے لوگوں کے علاوہ تم سب پھر گئے اور منہ موڑ لیا ۔ سورت البقرہ آیت 83

حدیث اور قطع رحمی

۔ ہرقل نے انہیں بلا بھیجا تو انہوں نے اسے بتایا کہ وہ یعنی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں نماز، صدقہ، پاک دامنی اور صلہ رحمی کا حکم فرماتے ہیں۔ صحیح بخاری کتاب اخلاق حدیث نمبر 5980

۔ انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ قطع رحمی کرنے والا جنت میں نہیں جائے گا۔ صحیح بخاری کتاب اخلاق حدیث نمبر 5984

۔ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جسے پسند ہے کہ اس کی روزی میں فراخی ہو اور اس کی عمردراز کی جائے تو وہ صلہ رحمی کیا کرے۔ صحیح بخاری کتاب اخلاق حدیث نمبر 5985

 

 

اگر اس مکالمے میں ہم سے کوئی غلطی یا کوتاہی ہوئی ہے تو براہ مہربانی غلطی کی نشاندہی کر کے ہماری اصلاح میں مدد کیجیئے۔ اللہ ہماری چھوٹی بڑی غلطیوں کو معاف فرمائے اور ہماری اس کاوش کو اپنی بارگاہ میں قبول و مقبول فرمائے۔اللہ اس کاوش کو ہمارے خاندان کے لئے نجات کا موجب بنائے اور دین پر ہماری پکڑ کو اور مضبوط کرے. آمین

Next Post

Previous Post

Leave a Reply

© 2019 Islamic Education

Theme by Anders Norén