Islamic Education

All About Islam

قتل

Facebooktwittergoogle_plusredditpinterestlinkedinmailFacebooktwittergoogle_plusredditpinterestlinkedinmail

 

قتل اسلام کی رو سے شرک کے بعد دوسرا سب سے بڑا گناہ ہے. کسی بھی انسان کی جان لینا اسلام میں برا سمجھا جاتا ہے چاہے وہ مسلمان ہو یا نہ ہو. اسلام تو جانور یا پرندوں کی ناحق جان لینے کے بھی خلاف ہے. انسانی زندگی اللہ کی امانت ہے اور اس کو ختم کرنے کا حق اللہ تعالیٰ کے سوا کسی کے پاس نہیں ہے. یہاں تک کہ انسان اپنی جان کا خاتمہ خود بھی نہیں کر سکتا. انسان کو جس صورت میں اللہ تعالیٰ نے پیدا کیا اسی صورت میں اس کو لوٹانا چاہیئے

قتل کا مطلب

کسی کو بغیر حق کے مارنا قتل کہلاتا ہے. یہ کسی چیز یا عمل سے کیا جاتا ہے

قتل کی تاریخ

بی بی حوا نے اللہ تعالیٰ کے حکم سے 20 دفعہ بچوں کو جنم دیا. ان کے ہاں ہر دفعہ لڑکا اور لڑکی کا جوڑا پیدا ہوتا. یہ تمام بچے رنگ، نین نقش، جسامت میں ایک دوسرے سے مختلف تھے. اماں حوا اور حضرت آدم کی ہونے والی اولاد کے پہلے دو جوڑے بھی شکل و صورت میں ایک دوسرے سے مختلف تھے. چھوٹا والا خوش شکل اور بڑا زرا کم شکل تھا. اسی طرح ان کی بہنیں بھی مختلف تھیں. جب یہ بچےجوان ہوئے اور شادی کی خواہش پیدا ہوئی تو حضرت آدم نے انہیں حکم دیا کہ وہ ایک دوسرے کے ساتھ پیدا ہونے والی لڑکی سے شادی کر لیں. بڑے لڑکے کے ساتھ پیدا ہونے والی لڑکی خوبصورت جبکہ چھوٹے والے کے ساتھ پیدا ہونے والی لڑکی کم شکل تھی. بڑے بھائی کو یہ بات گوارہ نہ ہوئی کہ وہ کم شکل لڑکی سے شادی کرے اور وہ اپنی ہی بہن سے شادی پر بضد ہو گیا. جب حضرت آدم کو اس بات کا علم ہوا تو انہوں نے اللہ تعالیٰ سے مدد مانگی

اللہ تعالیٰ نے حکم دیا کہ دونوں بھائی اللہ کے حضور صدقہ دیں . جس کا صدقہ اللہ کو پسند آیا وہ خوبصورت لڑکی سے شادی کرے گا. چھوٹا بھائی چرواہا جبکہ بڑا کسان تھا. چرواہے نے اپنا سب سے بہترین جانور اللہ تعالی کی نذر کیا. اس وقت دنیا میں انسان نہ ہونے کے برابر تھے اور کوئی غریب بھی نہیں تھا اس لئے اللہ کے حکم کے مطابق ایک پہاڑ کی چوٹی پر وہ نذرانہ رکھا جاتا اور آگ جس نظرانے کو نگل جاتی وہ قبول مانا جاتا تھا. اسی طرح بڑے بھائی نے اپنے اناج میں سے سب سے برا اناج اللہ کی نذر کیا. آگ آئی اور جانور کو نگل گئی. اس بات پر بڑے بھائی کو بہت غصہ آیا اور اس نے چھوٹے کو کہا کہ میں تمہارا قتل کر دوں گا. شیطان نے بڑے کے کانوں میں سرگوشی کر کے اسے قتل کا طریقہ سکھایا. بڑے نے پتھر اٹھا کر چھوٹے کو مارا اور وہ مر گیا. ( ہابیل اور کابیل نام اس لئے استعمال نہیں کئے گئے کیونکہ یہ قرآن اور سنت سے ثابت نام نہیں بلکہ من گھڑت نام ہیں)

اور انہیں آ دم کے دو بیٹوں کا بر حق واقعہ پڑھ کر سُناؤ، جب اُن دونوں نے قربانی پیش کی تواُن دونوں میں سے ایک کی قربانی قبول کی گئی اور دوسرے کی قبول نہ کی گئی ۔اُس (دوسرے)نے کہا: ’’میں ضرور بہ ضرورتجھے قتل کردوں گا،‘‘اُس نے جواب دیاکہ بے شک اﷲ تعالیٰ توصرف متقیوں ہی سے قبول کرتاہے۔ سورت المائدہ آیت 27

کبیرہ گناہ

آدم کی پیدائش اور زمیں پر بھیجے جانے کے بعد قتل دراصل پانچواں گناہ ہے. سب سے پہلا گناہ تو وہ تھا جو شیطان نے تکبر کیا اس کے بعد شیطان اورحضرت آدم نے نافرمانی کر کے کیا. اس کے بعد روئے عرض پر حسد، غصہ اوراس کے نتیجے میں قتل کیا گیا. اللہ تعالیٰ کی نافرمانی تو اللہ تعالیٰ سے متعلق گناہ ہے مگر غصہ، حسد اور قتل انسان سے متعلق گناہ ہیں اور ان تینوں میں سب سے خطرناگ گناہ قتل ہے. اس بات سے اندازہ ہوتا ہے کہ شرک سے قبل شیطان نے انسانوں کو دوسرے گناہوں کی جانب مبذول کیا تھا

قتل دوسرا بڑا گناہ کیوں؟

کسی کا قتل کرنا انسان کی فطرت کے خلاف ہے. جب ایک شخص دوسرے کا قتل کرے تو دوسرے اس سے نفرت کرنے لگتے ہیں. یہ ایسا گناہ ہے جو انسان کو دوزخ میں لے جائے گا. قتل کا زکر بتاتا ہے کہ یہ بہت سنگین گناہ ہے. قرآن اور سنت میں کسی اور گناہ کے لئے ایسے الفاظ استعمال نہیں ہوئے جیسے قتل کے لئے ہوئے

۔ قاتل دوزخ میں بھیجا جائے گا

۔ وہ وہاں ہمیشہ رہے گا

۔ اللہ تعالیٰ قاتل سے ناراض ہو گا

۔ قتل کرنے والے پر اللہ تعالیٰ کی لعنت ہو گی

۔ اللہ کی جانب سے قاتل کو سخت سزا دی جائے گی

اس کے علاوہ سورت المائدہ کی آیت 32 میں ارشاد آیا

اسی وجہ سے ہم نے بنی اسرائیل پر لکھ دیاکہ یقیناجس شخص نے کسی جان کوبغیرکسی جان کے (بدلے)قتل کیایازمین میں فسادکے بغیرقتل کیا توگویااُس نے تمام انسانوں کو قتل کردیا اور جس نے کسی ایک جان کوزندہ کیاتوگویااُس نے تمام انسانوں کوزندہ کیا

قتل اور موت

موت ایک فطری عمل ہے اور یہ اللہ تعالیٰ کے حکم سے کسی انسان کی مداخلت کے بغیر ہوتی ہے. موت ایک لازم عمل ہے اور قتل ایک غیر فطری عمل ہے. قتل کے لئے ایک انسان کا دوسرے انسان کو نقصان پہنچانا لازم ہے

قتل کی اقسام

فقہ کے مطابق قتل کی تین اقسام ہیں

۔ قتل عمد

۔ قتل بسبب

۔ قتل خطا

قتل عمد

اس سے مراد ارادتاً قتل ہے جب انسان اپنی مرضی سے دوسرے کا قتل کرے.  اس میں سزا کے طور پر قصاص ادا کرنا پڑتا ہے جس سے مراد ہے جان کے بدلے جان. مگر یہ کام حاکم وقت کا ہے کوئی عام آدمی یہ نہیں کر سکتا. اگر قصاص نہ دیا جائے تو دیت کی ادائیگی لازم ہے جو اسی وقت ادا کرنا ہوتا ہے اور انسان کو خود ادا کرنا ہوتا ہے اس کا خاندان کے افراد یہ ادا نہیں کر سکتے

قتل بسبب

اس سے مراد اگر دو انسانوں کی لڑائی ہو ایک غیر ارادی طور پر دوسرے کا قتل ہو جائے. پھر انسان کو ایک غلام آزاد کرنا ہو گا یا دو مہینے لگاتار روزے رکھنا ہوں گے. یا دیت کی رقم ادا کرنا ہو گی جو قسطوں میں بھی دی جا سکتی ہے اور یہ خاندان کا کوئی فرد بھی ادا کر سکتا ہے

قتل خطا

اس سے مراد ہے وہ قتل جو غلطی سے ہو جائے جیسے کوئی ٹریفک حادثہ وغیرہ. اس کے لئے بھی دیت دینی ہو گی. ایک غلام کی آزادی یا دو مہینے کے لگاتار روزے یا سو اونٹ یا اس کے برابر کی رقم ادا کی جائے گی. یہ انسان اپنے ضمیر کے سکون کے لئے کرتا ہے تاکہ اللہ اس کو معاف کر دے اور اس کے دل سے بوجھ اتر جائے

اسلام اور غیرت کے نام پر قتل

اسلام میں کسی طور بھی قتل کی اجازت نہیں. قتل میں غیرت کا کوئی عمل دخل نہیں. یہ اسلامی نظریہ نہیں بلکہ لوگوں کی چھوٹی زہنیت کی پیداوار ہے

اسلام اور اسقاط حمل

اسلام میں اس کی اجازت نہیں ہے. حمل چاہے کتنے دن کا بھی ہو اس کا ختم کرنا انسانی جان لینے کے مترادف ہے

اسلام اور ہم جنسوں کو قتل

اسلام میں ہم جنس پرستی اس کے مضر اثرات اور فطرت سے مخالفت کی بنا پر منع ہے مگر یہ بات کسی انسان کو ہم جنس پرستوں کا قتل کرنے کی اجازت نہیں دیتی

مرتد کا قتل

جب ایک مسلمان مرتد ہو جائے تو اس کا قتل کرنا بھی عام انسان کے لئے منع ہے. مرتد ہونا اسلام سے غداری کرنے کے مترادف ہے اس لئے مرتد کو سزا حاکم وقت دے گا. اس کے علاوہ وہ مرتد جو اسلام کے خلاف پروپیگنڈہ کرتا ہے اس کو بھی قتل کی اجازت نہیں بلکہ وہ بھی حکومت وقت سے سزا پائے گا

قتل کی رعایت

اسلام کی رو سے ہر قسم کا قتل منع ہے مگر انسان اگر قتل کرے تو اس کی معافی ہے مگر دیت ادا کرنی ہو گی

اپنی جان بچانے کے لئے کیا گیا قتل

قرآن اور قتل

اورکسی مومن کایہ کام نہیں ہے کہ کسی مومن کوقتل کرے مگرغلطی سے اورجو کسی مومن کو غلطی سے قتل کردے تو ایک مومن غلام آزاد کرنا ہے اورمقتول کے گھروالوں کو دیت اداکرنی ہے مگریہ کہ وہ صدقہ کر(کے معاف کر)دیں۔پھر اگر مقتول ایسی قوم سے ہوجو تمہاری دشمن ہے حالانکہ وہ خود مومن ہوتو ایک مؤمن غلام کوآزادکرناہے اور اگر وہ ایسی قوم سے ہوجس کے اور تمہارے درمیان معاہدہ ہو چکا ہوتو دیت اداکرنی ہے جواس کے گھروالوں کے حوالے کی گئی ہواورایک مؤمن غلام کو آزادکرناہے تو جو کوئی نہ پائے(غلام)تواس پر دومہینے کے لگاتار روزے رکھناہے یہ اﷲ تعالیٰ کی طرف سے توبہ کے لیے ہیں۔ اور اﷲ تعالیٰ ہمیشہ سے سب کچھ جاننے والا،کمال حکمت والا ہے۔ سورت النساء آیت 92

اور اپنی اولاد کو مُفلسی کے ڈرسے قتل نہ کروہم انہیں بھی رزق دیتے ہیں اورتمہیں بھی ،یقینااُن کاقتل ہمیشہ سے بہت بڑاگناہ ہے۔ سورت بنی اسرائیل آیت 31

حدیث اور قتل

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے کسی مومن کو جان بوجھ کر قتل کیا اسے مقتول کے وارثوں کے حوالے کیا جائے گا، اگر وہ چاہیں تو اسے قتل کر دیں اور چاہیں تو اس سے دیت لیں، دیت کی مقدار تیس حقہ، تیس جذعہ اور چالیس خلفہ ۱؎ ہے اور جس چیز پر وارث مصالحت کر لیں وہ ان کے لیے ہے اور یہ دیت کے سلسلہ میں سختی کی وجہ سے ہے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: عبداللہ بن عمرو کی حدیث حسن غریب ہے۔ ترمزی شریف 1387

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” ( آخرت میں ) بندوں کے درمیان سب سے پہلے خون کے بارے میں فیصلہ کیا جائے گا“ ترمزی شریف 1396

اگر اس مکالمے میں ہم سے کوئی غلطی یا کوتاہی ہوئی ہے تو براہ مہربانی غلطی کی نشاندہی کر کے ہماری اصلاح میں مدد کیجیئے۔ اللہ ہماری چھوٹی بڑی غلطیوں کو معاف فرمائے اور ہماری اس کاوش کو اپنی بارگاہ میں قبول و مقبول فرمائے۔اللہ اس کاوش کو ہمارے خاندان کے لئے نجات کا موجب بنائے اور دین پر ہماری پکڑ کو اور مضبوط کرے. آمین 

 

Next Post

Previous Post

Leave a Reply

© 2019 Islamic Education

Theme by Anders Norén