Islamic Education

All About Islam

قانون وراثت

Facebooktwittergoogle_plusredditpinterestlinkedinmailFacebooktwittergoogle_plusredditpinterestlinkedinmail

 

وراثت اسلامی تعلیمات کا ایک بہت اہم حصہ ہے۔ اسلام وراثت کے قوانین پر بہت روز دیتا ہے۔ ہمارے پیارے نبی کریم نے فرمایا کہ اسلام میں قانون وراثت کو سمجھنا تقریبا آدھے اسلام لو سمجھنے کے برابر ہے۔ اللہ قرآن پاک میں واضح الفاظ میں بیان کرتا ہے کہ وراثت کی شرع کیا ہے۔ قرآن کی باقی تعلیمات کو سمجھنے کے لئے ہمیں حدیث کا ساا لینا پڑتا ہے مگر وراثت کی شرع اللہ نے خود بیان کر دی ہے۔ وراثت کے قوانین کو بنانے کی وجہ شخصی اجارہداری کو ختم کرنا ہے۔

وراثت

وراثت سے مر مراد ایسا عمل جس کے تحت جائداد، اور دوسری ضرورت کی اشیاء مردہ کے لواحقین میں تقسیم کر دی جاتی ہیں۔

قانون وراثت

قرآن کہ سورت النساء میں اللہ نے قانون وراثت بیان کیا ہے۔ اس کی آیات 11 سے 14 میں اللہ نے وراثت کی شرع بیان کی ہے۔

جائداد کے وارث

اسلام کی رو سے مندرجہ زیل افراد وارث کہلاتے ہیں۔

۔ براہ راست وارث

۔ بالواسطہ وارث

۔ ریاست

براہ راست وارث

اس سے مراد ہے وہ افراد جو اپنی ضروریات کے لئے مردہ پر منحصر تھے۔ ان کی درجہ بندی یہ ہے۔

۔ بیوی

۔ والدین

۔ بیٹا

۔ بیٹی

۔ دادا یا دادی

 بالواسطہ وارث

اس سے مراد وہ وارث ہیں جن سے خون کا رشتہ ہو مگر وہ مردہ کی ذمہ داری نہ ہوں۔

۔ بہن

۔ بھائی

وراثت کا حصہ کرنے سے پہلے کی ذمہ داری

وراثت کا حصہ کرنے سے پہلے ان دو باتوں کا خیال رکھنا چاہیے

 قرض

سب سے پہلے وہ قرض جو مردہ کسی سے لے چکا تھا مگر وہ ادا ہونے رہ گئے تھے ان کو ادا کیا جائے۔

 خواہش

اگر مردہ مرنے سے پہلے کوئی خواہش کرے تو اس کو پورا کرنا ضروری ہے۔

اولاد کا حصہ

اسلام کے مطابق ایک لڑکی کا حصہ لڑکے سے آدھا ہے۔

 اگر لڑکا نہ ہو

اگر لڑکا نہ ہو بس لڑکیاں ہوں تو ان سب کو دو تہائی حصہ ملے گا۔

 اگر ایک بیٹی ہو

اگر مردہ کی بس ایک بیٹی یو  تو اسے جائداد کا آدھا حصہ ملے گا۔

 اگر ایک بیٹا ہو

اگر مردہ کا ایک بیٹا ہو تو تمام جائداد سے ملے گی۔

بیوی کا حصہ

 بےاولاد

اگر مردہ بے اولاد ہو تو بیوی کو ایک چوتھائی حصہ ملے گا۔

 اولاد ہو

اگر اولاد ہو تو بیوئ کو آٹھواں حصہ ملے گا۔

والدین کا حصہ

 اولاد ہو تو

اگر مردہ کی اولاد ہو تو اس کے والدین (دونوں کو الگ الگ) چھٹا حصہ ملے گا اور باقی دو تہائی حصہ اولاد کو ملے گا۔

 اولاد نہ ہو

اگر مردہ کی اولاد نہ ہو تو ماں کو ایک تہائی اور باپ کو دو تہائی حصہ ملے گا۔

 اولاد نہ ہو مگر بہن بھائی ہوں

اگر مردہ کی اولاد نہ ہو مگر بہن بھائی ہوں تو ماں کو چھٹا حصہ ملے گا اور باقی ماندہ حصہ بین، بھائیوں کو ملے گا۔

عورت کی جائداد

ایک عورت کی وفات کے بعد اس کی جائداد کا بھی بٹوارا ہوتا ہےمگر مرد کی طرح اس کی خواہش اور قرض وغیرہ اتارنے کے بعد۔

بے اولاد عورت

اگر عورت بے اولاد ہو تو اس کہ آدھی جائداد میاں کو ملے گی اور باقی آدھی والدین اور بہن بھائیوں میں تقسیم ہو گی۔

اولاد

اگر عورت کی اولاد بھی ہے تو خاوند کو ایک چوتھائی جبکہ بچوں کو تین چوتھائی حصہ ملے گا مگر شرع وہی رہے ھی کہ بیٹے کے دو حصے اور بیٹی کا ایک حصہ۔

اگر عورت اکیلی ہو

اگر عورت اکیلی ہو مطلب خاوند، بچے یا ماں باپ نہ ہوں تو یہ جائداد اس کے بہن بھائیوں کو ملے گی اس تقسیم کے تین حقدار ہیں۔

۔ سگے بہن بھائی

۔ ایک باپ مگر مختلف مائیں

۔ ایک ماں مگر مختلف باپ

جائداد کی تقسیم

اگر عورت کی ایک بہن اور ایک بھائی ہے تو انہیں جائداد کا چھٹا حصہ ملے گا۔ اگر بہن بھائی زیادہ ہے تو سب کو تیسرا حصہ ملے گا۔

کوئی سگا یا سوتیلا رشتہ نہ ہو

اگر عورت یا مرد کا کوئیبھی سوتیلا یا سگا رشتہ نہ ہو تو جائداد حکومت کی ہو جاتی ہے۔

مرد کا حصہ دوگنا کیوں؟

مرد کو اسلام۔ نے عورت کی نسبت دو گنا حصہ دیا ہے اس سے امتیازی سلوک روا رکھنا نیت نہیں تھی بلکہ اس کا مقصد یہ ہے کہ مرد کے لئے آسانی پیدا کی جائے۔ ایک عورت کو جو حصہ ملتا ہے وہ صرف اس کی ملکیت ہے اور عورت اسے کسی پر خرچ کرنے کی بجائے صرف اپنے پاس رکھ سکتی ہے مگر مرد کو بہت سے لوگوں کو پالنا ہوتا ہے جیسے بیوئ، بچے، ماں، باپ اور وہ بہن بھی جسے جائداد سے اپنا حصہ مل چکا ہوتا ہے۔ اگر بہن ضرورت مند ہے تو بھائی پر فرض ہے کہ اس کا خیال رکھے۔

بیمار خاوند بیوی کو طلاق نہیں دے سکتا

اسلام عورت کے حقوق کا تحفظ کرتا ہے۔ اگر ایک مرد بیمار ہے تو وہ اس بیماری میں عورت کو طلاق نہیں دے سکتا۔ اگر وہ اپنی جائداد بچانے کے لئے اپنی بیوی کو طلاق دینا چاہتا ہے تو یہ طلاق جائز نہیں اور اگر میاں بیوی کو زبردستی طلاق دے بھی دیتا ہے اور ایک سال کے اندر اندر اس بیماری کی وجہ سے خاوند مر جاتا ہے تو بیوی کو جائداد میں حصہ ملے گا۔

وراثت کے قانون پر عمل نہ کرنے کی سزا

۔ اللہ ظلم کرنے والے کو دوزخ میں ڈالے گا

۔ یہ جائداد ظالم کو کچھ فائدہ نہیں دے گی

حدیث اور وراثت

۔ شروع اسلام میں ( میراث کا ) مال اولاد کو ملتا تھا اور والدین کے لیے وصیت ضروری تھی لیکن اللہ تعالیٰ نے جس طرح چاہا اس حکم کو منسوخ کر دیا پھر لڑکے کا حصہ دو لڑکیوں کے برابر قرار دیا اور والدین میں سے ہر ایک کا چھٹا حصہ اور بیوی کا ( اولاد کی موجودگی میں ) آٹھواں حصہ اور ( اولاد کے نہ ہونے کی صورت میں ) چوتھا حصہ قرار دیا۔ اسی طرح شوہر کا ( اولاد نہ ہونے کی صورت میں ) آدھا ( اولاد ہونے کی صورت میں ) چوتھائی حصہ قرار دیا۔  صحیح بخاری کتاب وصیت حدیث 2747

۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”جو آدمی میرے وارث ہیں ‘ وہ روپیہ اشرفی اگر میں چھوڑ جاؤں تو وہ تقسیم نہ کریں ‘ وہ میری بیویوں کا خرچ اور جائیداد کا اہتمام کرنے والے کا خرچ نکالنے کے بعد صدقہ ہے۔“  صحیح بخاری کتاب وصیت حدیث 2776

 

 

اگر اس مکالمے میں ہم سے کوئی غلطی یا کوتاہی ہوئی ہے تو براہ مہربانی غلطی کی نشاندہی کر کے ہماری اصلاح میں مدد کیجیئے۔ اللہ ہماری چھوٹی بڑی غلطیوں کو معاف فرمائے اور ہماری اس کاوش کو اپنی بارگاہ میں قبول و مقبول فرمائے۔اللہ اس کاوش کو ہمارے خاندان کے لئے نجات کا موجب بنائے اور دین پر ہماری پکڑ کو اور مضبوط کرے۔ آمین

 

 

 

Next Post

Previous Post

Leave a Reply

© 2019 Islamic Education

Theme by Anders Norén