Islamic Education

All About Islam

طلاق کا طریقہ

Facebooktwittergoogle_plusredditpinterestlinkedinmailFacebooktwittergoogle_plusredditpinterestlinkedinmail

 

تمام اسلامی عوامل اور احکام کی طرح طلاق کا بھی ایک طریقہ کار قرآن مجید اور احادیث سے ثابت ہے۔ علماء کا اس طریقہ کار میں بھی اختلاف ہے کچھ کے مطابق اگر کوئی شخص کسی عورت کو اکٹھی تین طلاقیں دیتا ہے تو وہ ایک ہی تصور کی جاتی ہے اور اس کے بعد میاں بیوی ایک دوسرے سے رجوع کر سکتے ہیں۔ جبکہ دوسری رائے کے مطابق اگر ایک ہی دفعہ تین طلاقیں دی جاتی ہیں تو وہ تین ہی تصور کی جائیں گی اور اس کے بعد رجوع کی کوئی گنجائش باقی نہیں رہتی۔

طلاق کی اقسام

اسلام میں طلاق کی تین اقسام ہیں 

۔ طلاق

۔ خلع

۔ طلاقِ تفویض

طلاق تفویض

طلاق تفویض ایک ایسا طریقہ ہے جس میں عورت کو مرد کی جانب سے طلاق کا حق تفویض کیا جاتا ہے۔ نکاح نامے کے اندر ایک شق ہوتی ہے جس میں مرد عورت کو بھی طلاق کا حق دیتا ہے۔ اگر عورت کو یہ حق دیا جائے تو وہ مرد کی موجودگی میں خود کو تین دفعہ طلاق دے کر شادی کے بندھن سے آزاد کر سکتی ہے۔

خلع

اگر نکاح نامے میں عورت کو طلاق کا حق نہ دیا گیا ہو تو عورت عدالت کے ذریعے مرد سے خلع لے سکتی ہے۔ اگر عورت کسی بھی وجہ سے مرد کے ساتھ نہیں رہنا چاہتی تو اسلامی عدالت سےخلع کی اپیل کر سکتی ہے اور عدالت اسلامی طریقہ کار کو مدنظر رکھتے ہوئے طلاق جاری کر دیتی ہے۔خلع کا طریقہ ایک اور مکالمے میں ملاحظہ فرمائیں۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس عورت نے بغیر کسی بات کے اپنے شوہر سے طلاق طلب کی تو اس پر جنت کی خوشبو حرام ہے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں:  ترمذی شریف کتاب طلاق حدیث نمبر 1187

طلاق

طلاق کے مختلف علماء کی رائے میں مختلف طریقے ہیں. دور حاضر میں طلاق تین طرح سے دی جاتی ہے اور یہ فرق فقہی بنیاد پر ہے۔

۔ طلاق بدعت

۔ طلاق حسن

۔ طلاق احسن

طلاق کی تاریخ

طلاق حسن اور طلاق احسن تو قرآن اور سنت سے باقاعدہ ثابت ہیں. سورت البقرہ آیت 227-232  اور سعرت الاحزاب آیت 28، 29، 49 میں اور سورت الطلاق آیت 1-7 میں طلاق حسن اور طلاق احسن پر بات کی گئی ہے۔ مختلف احادیث کی کتابوں میں بھی طلاق احسن اور حسن کے متعلق کافی احادیث ملتی ہیں۔

ؐطلاق بدعت حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے دور میں شروع ہوئی تھی. اس سے قبل حضرت محمد صل اللہ علیہ وسلم کے دور میں وہ طلاق کے معاملے میں زیادہ سخت رویہ نہیں رکھتے تھے بلکہ طلاق دینے والے سے پوچھتے تھے کہ اس کی نیت تین طلاق کی تھی یا چار طلاق کی تھی اور پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس کی بات کو اہمیت دیتے ہوئے طلاق کے متعلق اپنا فیصلہ سناتے تھے. مگر حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے دور میں انہوں نے اس بات پر لوگوں کو پابند کر دیا کہ اگر تین طلاق بیک وقت دے دی جائے تو وہ تین طلاق کا درجہ ہی رکھیں گی چاہے دینے والے کی نیت ایک طلاق تھی۔

معمر نے ہمیں ابن طاوس سے خبر دی ، انہوں نے اپنے والد ( طاوس بن کیسان ) سے ، انہوں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کی ، انہوں نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور ابوبکر رضی اللہ عنہ کے عہد میں اور عمر رضی اللہ عنہ کی خلافت کے ( ابتدائی ) دو سالوں تک ( اکٹھی ) تین طلاقیں ایک شمار ہوتی تھی ، پھر حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے کہا : لوگوں نے ایسے کام میں جلد بازی شروع کر دی ہے جس میں ان کے لیے تحمل اور سوچ بچار ( ضروری ) تھا ۔ اگر ہم اس ( عجلت ) کو ان پر نافذ کر دیں ( تو شاید وہ تحمل سے کام لینا شروع کر دیں ) اس کے بعد انہوں نے اسے ان پر نافذ کر دیا ۔ ( اکٹھی تین طلاقوں کو تین شمار کرنے لگے۔) صحیح مسلم   کتاب طلاق حدیث نمبر 3673

ابراہیم بن میسرہ نے طاوس سے روایت کی کہ ابوصبہاء نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے عرض کی : آپ اپنے نوادر ( جن سے اکثر لوگ بے خبر ہیں ) فتووں میں سے کوئی چیز عنایت کریں ۔ کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور ابوبکر رضی اللہ عنہ کے عہد میں تین طلاقیں ایک نہیں تھیں انہوں نے جواب دیا : یقینا ایسے ہی تھا ، اس کے بعد جب حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا زمانہ آیا تو لوگوں نے پے در پے ( غلط طریقے سے ایک ساتھ تین ) طلاقیں دینا شروع کر دیں ۔ تو انہوں نے اس بات کو ان پر لاگو کر دیا۔ صحیح مسلم کتاب طلاق حدیث نمبر 3675

طلاق بدعت

طلاق بدعت پاکستان کے مسلمانوں میں سب سے رائج العام قسم کی طلاق ہے۔ اس طلاق کا قرآن اور سنت سے کوئی ثبوت نہیں ملتا بلکہ یہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے دور میں شروع ہوئی تھی۔ اسے طلاق مغلزہ بھی کہتے ہیں. اس طلاق میں مرد عورت کو بیک وقت تین طلاقیں دیتا ہے۔ اور وہ تین طلاق ہی تصور کی جاتی ہے۔ یہ حتمی طلاق ہوتی ہے اور اس کے بعد رجوع کی کوئی گنجائش نہیں ہوتی۔

عدت

اس قسم کی طلاق کے بعد عورت عدت گزار کی کسی بھی مرد سے نکاح کر سکتی ہے سوائے اپنے سابقہ شوہر کے۔

طلاق شدہ میاں بیوی میں دوبارہ نکاح 

اگر طلاق شدہ جوڑہ دوبارہ آپس میں نکاح کرنے کا خواہش مند ہو تو یہ کام کسی دوسرے مرد سے نکاح کیے بغیر ممکن نہیں ہے۔ اگر عورت کسی دوسرے مرد سے نکاح کرے اور وہ مرد عورت کو اپنی آزاد مرضی سے طلاق دے دے تو عورت دوبارہ اپنے شوہر سے نکاح کر سکتی ہے۔  مگر اگر نکاح طلاق کی نیت یا شرط پر کیا گیا ہو تو وہ نکاح جائز نہیں ہے۔

طلاق احسن

اس قسم کی طلاق میں مرد عورت کو ایک طلاق (طلاق رجعی) دیتا ہے اور پھر ایک مہینے کا وقفہ ہوتا یے۔ پھر آدمی دوسری طلاق دیتا ہے اور دوبارہ ایک مہینہ انتظار کرتا ہے۔ پھر تیسری اور آخری طلاق دیتا ہے۔ تیسری طلاق کے بعد طلاق مکمل ہو جاتی ہے۔ اور پھر عورت کسی دوسرے مرد سے شادی کرنے کے لئے آزاد ہوتی ہے۔

پہلی یا دوسری طلاق کے بعد

پہلی یا دوسری طلاق کے بعد اگر میاں بیوی آپس میں رجوع نہیں کرتے تو عدت گزارنے کے بعد عورت آزاد ہوتی ہے کہ کسی اور مرد سے یا اسی مرد سے دوبارہ نکاح کر لے۔

تیسری طلاق کر بعد

تیسری طلاق کے بعد اگر مرد اور عورت دوبارہ نکاح کرنا چاہیں تو یہ کسی دوسرے مرد کی مداخلت کے بغیر نہیں ہو سکتا۔ اسے عام الفہم زبان میں حلالہ بھی کہتے ہیں۔ مگر حلالہ اگر طلاق کی نیت سے کیا جائے تو جائز نہیں ہے۔ مرد عورت کو اپنی آزاد مرضی سے طلاق دے تو وہ پہلے مرد سے شادی کر سکتی ہے۔

طلاق حسن

یہ قرآن کے مطابق سب سے تصدیق شدہ طلاق ہے۔ اس قسم کی طلاق میں مرد ایک طلاق دیتا ہے اور تین مہینے کی عدت کا وقت شروع ہو جاتا ہے۔ اگر ان تین مہینوں میں مرد رجوع کر لے تو طلاق نہیں ہوتی اور اگر رجوع نہ کرے تو طلاق واقع ہو جاتی ہے۔

رجوع کرنے کے بعد اگر میاں دوبارہ عورت کو طلاق دے دے تو یہ دوسری طلاق شمار ہوتی ہے۔ پھر عدت کے تین مہینے شروع ہوتے ہیں اور اگر ان میں رجوع کر لیا جائے تو ٹھیک ورنہ عدت کے بعد طلاق ہو جاتی ہے۔

اگر رجوع کے بعد مرد عورت کو تیسری دفعہ پھر طلاق دے دے تو یہ طلاق مغلزہ کہلاتی ہے اور یہ حتمی طلاق ہوتی ہے۔ عدت گزارنے کے بعد عورت اپنے پہلے خاوند کی بجائے کسی اور سے شادی کر سکتی ہے۔

پہلی اور دوسری طلاق

اگر پہلی اور دوسری طلاق کے بعد مرد عدت میں رجوع نہ کرے تو عورت آزاد ہوتی ہے کسی اور یا اسی مرد سے شادی کرنے کے لئے۔

اور جب تم اپنی عورتوں کو طلاق دو اور وہ اپنی عدّت پوری کرلیں تو انہیں ان کے خاوندوں سے نکاح کرنے سے نہ روکو جب کہ وہ آپس میں دستور کے مطابق رضامند ہوں ۔ یہ نصیحت انہیں کی جاتی ہے جنہیں تم میں سے اللہ تعالٰی پر اور قیامت کے دن پر یقین و ایمان ہو اس میں تمہاری بہترین صفائی اور پاکیزگی ہے ۔ اللہ تعالٰی جانتا ہے اور تم نہیں جانتے ۔ سورت البقرہ آیت 232

تیسری طلاق کے بعد شادی

اگر مرد تیسری طلاق دے دے تو عورت پھر کسی بھی مرد سے شادی کر سکتی ہے مگر پہلے شوہر سے شادی کرنے کے لئے حلالہ کرنا ہو گا۔

پھر اگر اس کو ( تیسری بار ) طلاق دے دے تو اب اس کے لئے حلال نہیں جب تک کہ وہ عورت اس کے سوا دوسرے سے نکاح نہ کرے پھر اگر وہ بھی طلاق دے دے تو ان دونوں کو میل جول کر لینے میں کوئی گناہ نہیں ، بشرطیکہ یہ جان لیں کہ اللہ کی حدوں کو قائم رکھ سکیں گے ، یہ اللہ تعالٰی کی حدود ہیں جنہیں وہ جاننے والوں کے لئے بیان فرما رہا ہے ۔ سورت البقرہ آیت 230

دو گواہ

جب ایک آدمی عورت کو طلاق دے تو اسے دو گواہ بنا لینے چاہیئے

پس جب یہ عورتیں اپنی عدت پوری کرنے کے قریب پہنچ جائیں تو انہیں یا تو قاعدہ کے مطابق اپنے نکاح میں رہنے دو یا دستور کے مطابق انہیں الگ کر دو اور آپس میں سے دو عادل شخصوں کو گواہ کر لو اور اللہ کی رضامندی کے لئے ٹھیک ٹھیک گواہی دو یہی ہے وہ جس کی نصیحت اسے کی جاتی ہے اور جو اللہ پر اور قیامت کے دن پر ایمان رکھتا ہو اور جو شخص اللہ سے ڈرتا ہے اللہ اس کے لئے چھٹکارے کی شکل نکال دیتا ہے ۔ سورت الطلاق آیت 2

طلاق کے حق میں قرآن کی دلیل

طلاق والی عورتیں اپنے آپ کو تین حیض تک روکے رکھیں ، انہیں حلال نہیں کہ اللہ نے ان کے رحم میں جو پیدا کیا ہو اُسے چھپائیں ، اگر انہیں اللہ تعالٰی پر اور قیامت کے دن پر ایمان ہو ، ان کے خاوند اس مدت میں انہیں لوٹا لینے کے پورے حقدار ہیں اگر ان کا ارادہ اصلاح کا ہو اور عورتوں کے بھی ویسے ہی حق ہیں جیسے ان پر مردوں کے ہیں اچھائی کے ساتھ ہاں مردوں کو عورتوں پر فضیلت ہے اور اللہ تعالٰی غالب ہے حکمت والا ہے ۔ سورت البقرہ آیت 228

جب تم عورتوں کو طلاق دو اور وہ اپنی عدّت ختم کرنے پر آئیں تو اب انہیں اچھی طرح بساؤ ، یا بھلائی کے ساتھ الگ کر دو اور انہیں تکلیف پہنچانے کی غرض سے ظلم وزیادتی کے لئے نہ روکو ، جو شخص ایسا کرے اس نے اپنی جان پر ظلم کیا تم اللہ کے احکام کو ہنسی کھیل نہ بناؤ اور اللہ کا احسان جو تم پر ہے یاد کرو اور جو کچھ کتاب و حکمت اس نے نازل فرمائی ہے جس سے تمہیں نصیحت کر رہا ہے ، اسےبھی ۔ اور اللہ تعالٰی سے ڈرتے رہا کرو اور جان رکھو کہ اللہ تعالٰی ہرچیز کو جانتا ہے ۔ سورت البقرہ آیت 231

حدیث سے طلاق کا ثبوت

امام مالک بن انس نے نافع سے ، انہوں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت کی کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد میں اپنی بیوی کو جبکہ وہ حائضہ تھی ، طلاق دے دی ، حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے اس کے بارے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا : اسے حکم دو کہ وہ اس سے رجوع کرے ، پھر اسے رہنے دے حتی کہ وہ پاک ہو جائے ( طہر شروع ہو جائے ) ، پھر اسے حیض آ جائے ، پھر وہ پاک ہو جائے ۔ پھر اگر وہ چاہے تو اس کے بعد اسے اپنے پاس رکھے اور اگر چاہے تو اس سے مجامعت کرنے سے پہلے طلاق دے دے ۔ یہی وہ عدت ہے جس کا اللہ نے حکم دیا ہے کہ اس کے مطابق عورتوں کو طلاق دی جائے۔ صحیح مسلم کتاب طلاق حدیث نمبر 3652

 

اگر اس مکالمے میں ہم سے کوئی غلطی یا کوتاہی ہوئی ہے تو براہ مہربانی غلطی کی نشاندہی کر کے ہماری اصلاح میں مدد کیجیئے۔ اللہ ہماری چھوٹی بڑی غلطیوں کو معاف فرمائے اور ہماری اس کاوش کو اپنی بارگاہ میں قبول و مقبول فرمائے۔اللہ اس کاوش کو ہمارے خاندان کے لئے نجات کا موجب بنائے اور دین پر ہماری پکڑ کو اور مضبوط کرے. آمین 

Next Post

Previous Post

Leave a Reply

© 2019 Islamic Education

Theme by Anders Norén