Islamic Education

All About Islam

صوم

Facebooktwittergoogle_plusredditpinterestlinkedinmailFacebooktwittergoogle_plusredditpinterestlinkedinmail

 

صوم یا روزہ اسلام کا تیسرا اہم رکن ہے۔ اسلام میں روزے کو بہت اہمیت حاصل ہے اور اسے چھوڑنا اسلام میں کبیرہ گناہ تصور کیا جاتا ہے۔ رمضان کے بابرکت مہینے میں روزے رکھنا لازمی ہے اور ہر مسلمان پر فرض ہے۔ اس کے علاوہ روزے کفارے کا زریعہ بھی ہیں

صوم کا مطلب

لفظ صوم عربی زبان کا لفظ ہے جس کا مطلب ہے کسی کام سے رک جانا۔ اردو زبان میں صوم کے لئے روزے لفظ استعمال کیا جاتا ہے

صوم کی وضاحت

روزے سے مراد ہے انسان کا کھانے، پینے، اور جنسی خواہشات سے اجتناب کرنا۔ یہ پابندی طلوع آفتاب سے غروب آفتاب تک ہوتی ہے

جسمانی پابندی

جسمانی طور پر انسان کھانے، پینے اور جنسی خواہشات کے پورا کرنے سے خود کو بچاتا ہے

روحانی پابندی

روحانی اور دینی طور پر انسان کو روزے کی حالت میں تمام برائیوں سے سے بچنا چاہیئے جیسے الزام تراشی، جھوٹ، لعن طعن، غیبت، لغو گفتگو وغیرہ

روزے کی تاریخ

اسلام سے پہلے بھی تمام امتوں پر روزے فرض کئے گئے تھے۔اس کے علاوہ حضرت جبرائیل شعبان کے مہینے میں روزے کے متعلق پہلی وحی لے کر اترے تھے۔ مسلمان پر روزہ دوسری ہجری میں فرض کیا گیا تھا۔ حضرت محمد صل اللہ علیہ وسلم نے اپنی تمام زندگی میں 9 دفعہ رمضان کے روزے رکھے۔ قرآن پاک بھی رمضان میں مکمل ہوا تھا۔ مانا جاتا ہے کہ وہ شب قدر کی رات تھی 

۔ اے ایمان والو !تم پر روزے رکھنا فرض کیا گیا جس طرح تم سے پہلے لوگوں پر فرض کئے گئے تھے تاکہ تم تقویٰ اختیار کرو ۔ سورت البقرۃ آیت 183 

روزہ کب رکھا جائے

رمضان کے مہینے میں روزہ رکھا جاتا ہے

۔ ابن عمر رضی اللہ عنہما نے کہا میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جب رمضان کا چاند دیکھو تو روزہ شروع کر دو اور جب شوال کا چاند دیکھو تو روزہ افطار کر دو اور اگر ابر ہو تو اندازہ سے کام کرو۔ ( یعنی تیس روزے پورے کر لو ) اور بعض نے لیث سے بیان کیا کہ مجھ سے عقیل اور یونس نے بیان کیا کہ ”رمضان کا چاند“ مراد ہے۔ صحیح بخاری کتاب روزے کا بیان، حدیث نمبر 1900

سحر اور افطار

سحر سے مراد ہے سورج طلوع ہونے سے پہلے کھانا کھانا۔ آزان کے بعد کھانا کھانا منع ہے۔ اس وقت سے انسان پر کھانے پینے کی پابندی شروع ہو جاتی ہے

۔ تم کھاتے پیتے رہو یہاں تک کہ صبح کا سفید دھاگہ سیاہ دھاگے سے ظاہر ہو جائے پھر رات تک روزے کو پورا کرو سورت البقرہ آیت 187

۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، سحری کھاؤ کہ سحری میں برکت ہوتی ہے۔ صحیح بخاری کتاب صوم حدیث 1923

افطار سے مراد ہے کہ آزان مغرب پر کھانا پینا شروع کر دیا جائے۔ یہ روزہ کا اختتام ہوتا ہے

۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، جب رات اس طرف ( مشرق ) سے آئے اور دن ادھر مغرب میں چلا جائے کہ سورج ڈوب جائے تو روزہ کے افطار کا وقت آ گیا۔ صحیح بخاری کتاب صوم حدیث 1954

روزے کا مقصد

روزے کا مقصد یہ ہے کہ انسان کو غریبوں اور بے کسوں کی بھوک اور تکلیف کا احساس ہو۔اس سے انسان اپنے نفس پر قابو پانا سیکھ جاتا ہے۔ اس کے علاوہ روزہ انسان کے اپنے نفس کا موازنہ کرنے کا بھی ایک ذریعہ ہے تاکہ وہ جان سکے کہ وہ کون کون سے گناہوں میں ملوث ہے۔ اس کے علاوہ یہ اللہ کا قرب حاصل کرنے کا بھی ایک اہم ذریعی ہے اور تقویٰ کی بھی نشانی ہے

روزے کی روح

روزے سے انسان کو کھانا پینا چھوڑنے کی ترغیب نہیں دی جاتی بلکہ اس سے انسان کے دل کی اصلاح ہوتی ہے

۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جو شخص ( روزہ کی حالت میں ) جھوٹ بات کرنا اور فریب کرنا اور جہالت کی باتوں کو نہ چھوڑے تو اللہ کو اس کی کوئی ضرورت نہیں کہ وہ اپنا کھانا پینا چھوڑے۔  صحیح بخاری کتاب اچھے اعمال حدیث 6057

روزے کی شرائط

روزہ رکھنے کی مندرجہ ذیل شرائط ہیں

نیت

روزے کے لئے سب سے اہم نیت ہے۔ انسان کو روزہ رکھنے سے پہلے نیت ہونی چاہیئے کہ وہ روزہ رکھے۔ اس کے لئے کسی خاص الفاظ کی ادائیگی لازم نہیں مگر نیت دل مین ہونی چاہیے

خود لگامی

انسان کو اپنی عام ضروریات زندگی کو خود پر بند کرنا ہوتا ہے

پابندی وقت

انسان کو صبح صادق سے غروب آفتاب تک  اپنی خواہشات پر روک لگانا لازم ہے

روزہ کس پر فرض ہے

۔ انسان کو روزہ رکھنے کے لئے لازم ہے کہ وہ

۔ مسلمان ہو

۔ بالغ ہو

۔ روزہ رکھنے کے قابل ہو

۔ مسافر نہ ہو

کن کو روزہ معاف ہے

۔ مجنون

۔بچے

۔ غیر مسلم

روزہ سے مستثنیٰ

روزہ کی رخصت کسی کو بھی حاصل نہیں۔ اس کی دو عام اقسام ہیں۔ عارضی رخصت، دائمی رخصت

عارضی رخصت

اگر کوئی انسان بیمار ہو اور جلد ٹھیک ہونے وال ہو تو اسے روزے سے رخصت حاصل ہے جیسے

۔ بیمار

۔ حاملہ عورت

۔ دودھ پلانے والی ماں

۔ مسافر

۔ بے ہوش

۔ حائضہ

وہ تمام لوگ ہیں جو عارضی رخصت میں آتے ہیں۔ جیسے ہی وہ ٹھیک ہوں تو روزہ رکھیں اور جو چھوٹ گئے ہیں وہ بھی پورے کریں

۔ جو بیمار ہو یا مسافر ہو اُسے دوسرے دنوں یہ گنتی پوری کرنی چاہیے۔سورت البقرہ آیت 185

مستقل رخصت

ایسی حالت جس میں  بیماری مستقل ہو یا انسان بوڑھا ہو جو روزہ نہ رکھ سکتا ہو۔ مگر ایسی صورت میں بھی اسے ہرجانہ دینا ہو گا

گنتی کے چند ہی دن ہیں لیکن تم میں سے جو شخص بیمار ہو یا سفر میں ہو تو وہ اور دنوں میں گنتی کو پورا کر لے اور اس کی طاقت رکھنے والے فدیہ میں ایک مسکین کو کھانا دیں پھر جو شخص نیکی میں سبقت کرے وہ اسی کے لئے بہتر ہے لیکن تمہارے حق میں بہتر کام روزے رکھنا ہی ہے اگر تم باعلم ہو ۔ سورت البقرہ آیت 184

روزہ توڑنے کی شرائط

مندرجہ ذیل حالات میں انسان روزک توڑ سکتا ہے

۔ بیمار

۔ حاملہ اگر بچے کی جان کو خطرہ ہو

۔ دودھ پلانے والی ماں

۔ مسافر

روزہ مکروہ ہونے کی وجوہات

مندرجہ ذیل باتوں سے روزہ مکروہ ہو جاتا ہے

۔ جان بوجھ کر قے کرنا

۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جسے قے آ جائے اس پر روزے کی قضاء لازم نہیں ۱؎ اور جو جان بوجھ کر قے کرے تو اسے روزے کی قضاء کرنی چاہیئے۔ جامع ترمذی کتاب روزوں کا بیان حدیث 720

۔ جان بوجھ کر کھانا، پینا

۔ مشت زنی

۔ مباشرت

۔ جنسی مباشرت روزے کے دوران ممنوع ہے۔ مگر روزہ ختم ہونے کے بعد اس پر پابندی نہیں ہوتی

۔ حیض اور نفاس

۔ حائضہ عورت یا وہ عورت جو نفاس میں ہو اس پر روزہ رکھنا منع ہے

۔ جب عورت حائضہ ہو تو نہ نماز پڑھ سکتی ہے نہ روزہ رکھ سکتی ہے، صحیح بخاری کتاب حیض کا بیان حدیث 304

۔ خون کا بہہ نکلنا

روزہ توڑنے کا ہرجانہ

کسی وجہ سے چھوٹے ہوئے روزوں کا ہرجانک بھرنا یا ان کو پورا کرنا ضروری ہوتا ہے۔ اس کے درج زیل طریقے ہیں

۔ رمضان کے بعد روزہ رکھا جائے

۔ فدیہ ادا کرنا جو سحر اور افطار کے کھانے کے برابر رقم ہو

جنسی مباشرت کا ہرجانہ

اگر انسان دوران روزہ جنسی مباشرت کرتا ہے تو اس کا ہرجانہ

۔ ایک غلام کی آزادی

2 ۔ مہینے کے لگاتار روزے رکھنا

۔ ساٹھ آدمیوں کو کھانا کھلانا

۔ ساٹھ آدمیوں کو کپڑے پہنانا

ہاں جو شخص نہ پائے اس کے ذمہ دو مہینوں کے لگا تار روزے ہیں اس سے پہلے کہ ایک دوسرے کو ہاتھ لگائیں اور جس شخص کو یہ طاقت بھی نہ ہو اس پر ساٹھ مسکینوں کا کھانا کھلانا ہے ۔ یہ اس لئے کہ تم اللہ کی اور اس کے رسول کی حکم برداری کرو یہ اللہ تعالٰی کی مقرر کردہ حدیں ہیں اور کفار ہی کے لئے دردناک عذاب ہے ۔  سورت المجادلہ آیت 4

ایک شخص نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کی کہ یہ بدنصیب رمضان میں اپنی بیوی سے جماع کر بیٹھا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا کہ تمہارے پاس اتنی طاقت نہیں ہے کہ ایک غلام آزاد کر سکو؟ اس نے کہا کہ نہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر دریافت فرمایا کیا تم پے در پے دو مہینے کے روزے رکھ سکتے ہو؟ اس نے کہا کہ نہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر دریافت فرمایا کہ کیا تمہارے اندر اتنی طاقت ہے کہ ساٹھ مسکینوں کو کھانا کھلا سکو؟ اب بھی اس کا جواب نفی میں تھا۔ راوی نے بیان کیا پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ایک تھیلا لایا گیا جس میں کھجوریں تھیں «عرق» زنبیل کو کہتے ہیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اسے لے جا اور اپنی طرف سے ( محتاجوں کو ) کھلا دے، اس شخص نے کہا میں اپنے سے بھی زیادہ محتاج کو حالانکہ دو میدانوں کے درمیان کوئی گھرانہ ہم سے زیادہ محتاج نہیں آپ نے فرمایا کہ پھر جا اپنے گھر والوں ہی کو کھلا دے۔ صحیح بخاری کتاب روزہ کا بیان حدیث 1937

روزہ اور گناہ

صحیح بخاری کتاب روزہ کی حدیث 1901کے مطابق 

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جو کوئی شب قدر میں ایمان کے ساتھ اور حصول ثواب کی نیت سے عبادت میں کھڑا ہو اس کے تمام پچھلے گناہ بخش دیئے جائیں گے اور جس نے رمضان کے روزے ایمان کے ساتھ اور ثواب کی نیت سے رکھے اس کے اگلے تمام گناہ معاف کر دیئے جائیں گے۔

شب قدر کیا ہے؟

سورت القدر میں بتایا گیا ہے کہ رمضان کی راتوں میں شب قدر بھی ہے۔ ایک حدیث کے مطابق یہ رمضان کی آخری راتوں میں ایک رات ہے

یقیناً ہم نے اسے بابرکت رات میں اتارا ہے بیشک ہم ڈرانے والے ہیں ۔ سورت الدخان آیت 3

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، شب قدر کو رمضان کے آخری عشرہ کی طاق راتوں میں ڈھونڈو۔ صحیح بخاری کتاب روزے کا بیان حدیث 2017

شیطان کی قید

رمضان رمضان کے دوران اللہ تعالیٰ شیطان کو قید کر دیتا ہے تو جو گناہ ہم رمضان میں کرتے ہیں وہ انسان کی اپنی فطرت کا حصہ بن چکے ہیں

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب رمضان کا مہینہ آتا ہے تو آسمان کے تمام دروازے کھول دیئے جاتے ہیں، جہنم کے دروازے بند کر دیئے جاتے ہیں اور شیاطین کو زنجیروں سے جکڑ دیا جاتا ہے۔ صحیح بخاری کتاب روزے کا بیان حدیث 1899

حدیث سے رمضان کا ثبوت

۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا روزہ دوزخ سے بچنے کے لیے ایک ڈھال ہے اس لیے ( روزہ دار ) نہ فحش باتیں کرے اور نہ جہالت کی باتیں اور اگر کوئی شخص اس سے لڑے یا اسے گالی دے تو اس کا جواب صرف یہ ہونا چاہئے کہ میں روزہ دار ہوں، ( یہ الفاظ ) دو مرتبہ ( کہہ دے ) اس ذات کی قسم! جس کے ہاتھ میں میری جان ہے روزہ دار کے منہ کی بو اللہ کے نزدیک کستوری کی خوشبو سے بھی زیادہ پسندیدہ اور پاکیزہ ہے، ( اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ) بندہ اپنا کھانا پینا اور اپنی شہوت میرے لیے چھوڑ دیتا ہے، روزہ میرے لیے ہے اور میں ہی اس کا بدلہ دوں گا اور ( دوسری ) نیکیوں کا ثواب بھی اصل نیکی کے دس گنا ہوتا ہے۔ صحیح بخاری کتاب روزے کا بیان حدیث 1894

۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، جنت کا ایک دروازہ ہے جسے ریان کہتے ہیں قیامت کے دن اس دروازہ سے صرف روزہ دار ہی جنت میں داخل ہوں گے، ان کے سوا اور کوئی اس میں سے نہیں داخل ہو گا، پکارا جائے گا کہ روزہ دار کہاں ہے؟ وہ کھڑے ہو جائیں گے ان کے سوا اس سے اور کوئی نہیں اندر جانے پائے گا اور جب یہ لوگ اندر چلے جائیں گے تو یہ دروازہ بند کر دیا جائے گا پھر اس سے کوئی اندر نہ جا سکے گا۔ صحیح بخاری کتاب روزے کا بیان حدیث 1896

۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب رمضان آتا ہے تو جنت کے دروازے کھول دیئے جاتے ہیں۔ صحیح بخاری کتاب روزے کا بیان حدیث 1898

رمضان کے انعامات

ایک حدیث میں ہمارے پیارے نبی کریم نے کہا کہ روزہ اللہ تعالیٰ کے لئے ہے اور اس کا انعام بھی اللہ تعالیٰ ہی دے گا۔ اس کے علاوہ روزے سے انسانی جسم پر بھہ مثبت اثرات مرتب ہوتے ہیں۔

۔ دل کی حرکت بہتر ہوتی ہے

۔ دل کی شریانوں پر اچھے اثرات مرتب ہوں گے

۔ دل کو سکون اور آرام ملتا ہے

۔ جسم سے کولیسٹرول کم ہوتا ہے

۔ السر سے بچاؤ ہوتا ہے

۔ گردوں پر دباؤ کم ہوتا ہے

۔ جگر پر دباؤ کم ہوتا ہے

۔ وزن کم ہوتا ہے

۔ جسم سے فاضل مواد کم ہوتے ہیں

۔ قوت مدافعت بڑھتی ہے

۔ انسان کی زندگی بڑھتی ہے

۔ نشے سے چھٹکارا دلانے میں مفید ہے

۔ ضبط نفس کے لئے بہترین ہے

۔ محاسبہ نفس کے لئے بہترین ہے

۔ بری عادات چھوڑنے میں مدد ملتی ہے

۔ جسم کے اعضاء کی کارکردگی بہتر ہوتی ہے

۔ دماغ پر مثبت اثرات مرتب ہوں گے

۔ دماغی دباؤ کم ہوتا ہے

۔ تقوی بڑھتا ہے

۔ اللہ تعالیٰ سے قربت بڑھتی ہے

قرآن سے ثبوت

اے ایمان والو !تم پر روزے رکھنا فرض کیا گیا جس طرح تم سے پہلے لوگوں پر فرض کئے گئے تھے تاکہ تم تقویٰ اختیار کرو ۔ سورت البقرہ آیت 183

روزہ گناہوں سے توبہ کا ذریعہ

۔ اگر ایک انسان غلطی سے کسی کو قتل کر دے تو کفارے کے طور پر 2 مہینے کے لگاتار روزے رکھنا پڑتا ہے

۔ اگر ایک انسان حالت احرام میں شکار کر لے تو کفارے کے روزے ےکھنے ہوں گے

۔ احرام کی حالت میں بالوں کی شیو کر لی جائے تو کفارہ ادا کرنا ہو گا وہ بھی روزے کی صورت میں

۔ قسم توڑنے کی صورت میں بھی روزہ رکھ کر کفارہ ادا کرنا چاہیے

۔ اگر دوران حج انسان جانور کی قربانی نہ کر سکتا ہو تو روزہ اس کا بھی کفارہ ہو گا

۔ اگر میاں بیوئ سے زہار کرے  مطلب بیوئ کو ماں کے جیسا قراردے تو 2 مہینے کے لگاتار روزے رکھنا اس کا کفارہ ہو گا

 

اگر اس مکالمے میں ہم سے کوئی غلطی یا کوتاہی ہوئی ہے تو براہ مہربانی غلطی کی نشاندہی کر کے ہماری اصلاح میں مدد کیجیئے۔ اللہ ہماری چھوٹی بڑی غلطیوں کو معاف فرمائے اور ہماری اس کاوش کو اپنی بارگاہ میں قبول و مقبول فرمائے۔اللہ اس کاوش کو ہمارے خاندان کے لئے نجات کا موجب بنائے اور دین پر ہماری پکڑ کو اور مضبوط کرے۔ آمین 

 

Next Post

Previous Post

Leave a Reply

© 2019 Islamic Education

Theme by Anders Norén