Islamic Education

All About Islam

شرک

Facebooktwittergoogle_plusredditpinterestlinkedinmailFacebooktwittergoogle_plusredditpinterestlinkedinmail

 

تمام کبیرہ گناہوں میں سے شرک سب سے بڑا گناہ ہے. دوسرے تمام گناہ اللہ تعالیٰ اپنی مرضی سے معاف بھی کر دیں گے مگر شرک کی اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں کوئی معافی نہیں ہے. اسلام کی بنیاد توحید اور شہادت ہے جبکہ شرک توحید کی ضد ہے. اسلام اللہ تعالیٰ کی وحدانیت کا درس دیتا ہے جبکہ شرک بہت سے خداؤں کو ماننے کا نام ہے.

شرک کا مطلب

شرک عربی زبان کا لفظ ہے جس کا مطلب ہے بانٹنا یا شریک کرنا. اسلامی نقطہ نظر میں شرک اللہ تعالیٰ کے ساتھ شریک ٹھرانا ہے. اس کا مطلب کہ اللہ تعالیٰ کو واحد خدا ماننے کی بجائے اس کی خدائی یا کاموں میں کسی اور کو اللہ تعالیٰ کا مددگار ٹھرانا

شرک کرنے والوں کو کیا کہتے ہیں؟

شرک کرنے والوں کو قرآن میں مشرک کہا گیا ہے. اس کے علاوہ کافر بھی مشرکین کو ہی کہتے ہیں

اے ایمان والو! بیشک مشرک بالکل ہی ناپاک ہیں

سورت التوبۃ آیت 23

شرک کی تاریخ

شیطان نے انسان کو روئے زمین پر مختلف طریقوں سے بہکانا شروع کیا مثلاً موسیقی، قتل، زنا وغیرہ. وہ جانتا تھا کہ اگر وہ انسان کو پہلے شرک کی دعوت دے گا تو لوگ اسے پہچان جائیں گے اور وہ اپنے مقصد میں ناکام رہے گا. دوسرے گناہوں کی جانب راغب کرنے کے بعد شیطان نے انسان کو شرک کی جانب بڑھانا شروع کیا. حضرت آدم علیہ السلام کے دور سے حصرت ادریس کے دور تک (تقریباً 10 صدیاں ) شرک کا نام و نشان نہیں تھا

 حصرت آدم علیہ السلام، شیتھ علیہ السلام، حضرت ادریس علیہ السلام لوگوں کو خبردار کرنے اور خوشخبری سنانے کے لئے اتارے گئے تھے. سورت البقرۃ کی آیت نمبر 213 میں اللہ نے فرمایا

در اصل لوگ ایک ہی گروہ تھے اللہ تعالٰی نے نبیوں کو خوشخبریاں دینے اور ڈرانے والا بنا کر بھیجا اور ان کے ساتھ سچی کتابیں نازل فرمائیں ، تاکہ لوگوں کے ہر اختلافی امر کا فیصلہ ہو جائے ۔ اور صرف ان ہی لوگوں نے جنہیں کتاب دی گئی تھی ، جو اسے دیئے گئے تھے ، اپنے پاس دلائل آچکنے کے بعد آپس کے بغض و عناد کی وجہ سے اس میں اختلاف کیا اس لئے اللہ پاک نے ایمان والوں کی اس اختلاف میں بھی حق کی طرف اپنی مشیت سے رہبری کی اور اللہ تعالٰی جس کو چاہے سیدھی راہ کی طرف رہبری کرتا ہے ۔

 

حضرت نوح علیہ السلام کی ولادت سے پہلے، سلف کے گروہ کے پانچ بہت نیک اور اللہ کے برگزیدہ بندے گزرے جن کا زکر سورت نوح کی آیت نمبر 23 میں کیا گیا ہے

اور کہا انہوں نے کہ ہرگز اپنے معبودوں کو نہ چھوڑنا اور نہ ود اور سواع اور یغوث اور یعوق اور نسر کو ( چھوڑنا )

یہ پانچ سب سے پہلے پوجے جانے والے افراد تھے جن کو شیطان کے بہکاوے میں آ کر بت بنا کر خدا کا درجہ دیا گیا. اس کی تفصیل دربار بنانا اور ان پر جانا کیوں ممنوع ہے میں ملاحظہ فرمائیں

اسلام سے پہلے تین بت پوجے جاتے تھے جن کا نام تھا المنت، اللات، العزہ ان کا زکر بھی سورت النجم کی آیت 19اور 20 میں کیا گیا ہے

کیا تم نے لات اور عزیٰ کو دیکھا ۔ اور منات تیسرے پچھلے کو ۔

 ان کو بھی اللہ تعالیٰ کا شریک تصور کیا جاتا تھا. ان تراشے ہوئے بتوں کے علاوہ مشرک دولت، سورج، چاند، ستاروں، جانوروں، درختوں اور بہت سی چیزوں کو اپنا خدا مانتے تھے

شرک کی اقسام

شرک کی تین اقسام ہیں

 ۔ شرک ربوبیت

۔ شرک اسماء الصفات

۔ شرک الوہیہ

شرک ربوبیت

اس سے مرادکہ انسان اللہ تعالیٰ کے وجود کو جھٹلائے اور اس کے خدا ہونے کو نہ مانے. یہ سب سے بری قسم کا شرک ہے

شرک ربوبیت کی تاریخ

یہ شرک ان اقوام سے شروع ہوا جو انبیاء اور رسولوں کی ماننے والی تھیں. حضرت ابراہیم علیہ السلام اور حضرت اسحاق علیہ السلام کے دور میں لوگوں نے فرشتوں کو اللہ تعالیٰ کی بیٹیاں ماننا شروع کر دیا. اسی لیے ان کے زیادہ تر بتوں کو نام عورتوں والے ہیں مثلاً منت، عزہ، لات. وہ مانتے تھے کہ یہ فرشتے اللہ سے بخشش کروانے اور باتیں منوانے میں ان کی مدد کریں گے. اس کے بعد حضرت موسیٰ علیہ السلام کی قوم کے کچھ یہود بھی یہ ماننے لگے کہ حضرت عزیر اللہ تعالیٰ کے بیٹے ہیں مگر ان ماننے والوں کی تعداد محدود تھی. حضرت عیسی علیہ السلام کے ماننے والے اور چاہنے والے بھی انہیں اللہ تعالیٰ کا بیٹا مانتے ہیں اور یہ سب سے بدترین قسم کا شرک ہے

شرک اسماء الصفات

اس سے مراد کہ انسان اللہ تعالیٰ کی صفات میں کسی کو اس کا شریک ٹھرائے. جیسے کوئی کہے کہ کوئی شخص غیب کا علم جانتا ہے یا وہ ہر جگہ موجود ہے. یا وہ غائب ہو کر بھی اسے سن سکتا ہے یہ تمام باتیں شرک ہیں

شرک الوہیہ

یہ شرک کی سب سے عام قسم ہے جس میں انسان اللہ تعالیٰ کے سوا اور کسی کو پوجتا ہے یا اللہ کے سوا کسی کو مدد کے لئے پکارتا ہے. یا اللہ کی بجائے کسی اور سےمانگتا ہے اور کسی اور کے لئے صدقہ، خیرات دیتا ہے

شرک کیوں منع کیا گیا

شرک خوف، تنگ دستی اور زلت کا باعث ہے. شرک کرنے والے کی مثال ایک ایسے بندے کی ہے جو کسی بہت اونچے مقام اور رتبے سے کسی گہری اور اندھیری گھائی میں چھلانگ لگا دے. شرک کی شروعات عام طور پر کسی ایک شخص(زندہ یا مردہ) یا چیز سے والہانہ محبت سے شروع ہوتی ہے اور پھر آہستہ آہستہ یہ محبت جنون کا درجہ اختیار کر جاتی ہے اور انسان اس محبت میں حد سے گزرتے ہوئے اسے خدا کا درجہ دینا شروع کر دیتا ہے

اللہ تعالیٰ کا بت بنانا کیوں منع ہے؟

اللہ تعالیٰ کا بت بنانا اس لئے منع ہے کیونکہ یہ اللہ کی توہین کرنے کے مترادف ہے.

اللہ تعالیٰ نے انسان کو بنایا ہے تو انسان کے لیے یہ کیسے ممکن ہے کہ وہ اپنے خالق کو تخلیق کر سکے جب کہ انسان نے کبھی اللہ تعالیٰ کو دیکھا بھی نہیں ہے

شرک اور کفر کا فرق

لفظ کفر کا مطلب ہے انکار کرنا. اسلامی نقطہ نظر میں کفر سچائی کو در کرنا ہے کہ اللہ ایک ہے اور انبیاء اکرام کے پیغام کو جھٹلانا ہے. جبکہ شرک کا مطلب ہے اللہ کے ساتھ دوسرے خداؤں کو شریک ٹھرانا. کبھی کبھار انسان صرف کافر ہوتا ہے جو اللہ تعالیٰ کے وجود کو جھٹلاتے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ دنیا بذات خود چل رہی ہے. اور بعض اوقات  انسان کفر اور شرک دونوں کا مرتکب ہوتا ہے جب وہ اللہ کی واحدانیت کو بھی جھٹلاتا ہے اور اس کے ساتھ شریک بھی ٹھراتا ہے

کیا شرک قابل معافی ہے؟

شرک سب سے بڑا گناہ ہے جس کی معافی نہیں ہے. ایک انسان  جب اللہ تعالیٰ کے ساتھ شریک ٹھراتا ہے تو وہ اللہ تعالی کی کھلی نافرمانی کرتا ہے. قرآن کی مندرجہ زیل آیات میں اس کا واضح حکم ہے

یقیناً اللہ تعالٰی اپنے ساتھ شریک کئے جانے کو نہیں بخشتا اور اس کے سِوا جسے چاہے بخش دیتا ہے اور جو اللہ تعالٰی کے ساتھ شریک مُقّرر کرے اس نے بہت بڑا گناہ اور بُہتان باندھا ۔  سورت النساء آیت 48

 

جو شخص اللہ کے ساتھ شریک کرتا ہے اللہ تعالٰی نے اس پر جنت حرام کر دی ہے ، اس کا ٹھکانا جہنم ہی ہے اور گنہگاروں کی مدد کرنے والا کوئی. سورت المائدہ آیت 72

اسے اللہ تعالٰی قطعًا نہ بخشے گا کہ اس کے ساتھ شریک مقرر کیا جائے ، ہاں شرک کے علاوہ گناہ جس کے چاہے معاف فرما دیتا ہے اور اللہ کے ساتھ شریک کرنے والا بہت دور کی گمراہی میں جا پڑا ۔ سورت النساء آیت 116

شرک صرف اس حالت میں قابل معافی ہے اگر انسان شرک کرنے کے بعد اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں معافی مانگے اور دوبارہ یہ گناہ نہ کرے مگر اگر ایک انسان حالت شرک میں مر جاتا ہے تو اس کا آخری ٹھکانہ جہنم ہی ہے

کیا مسلمان بھی مشرک ہو سکتا ہے

جی ایک مسلمان بھی اگر اللہ تعالیٰ کے ساتھ کسی کو ملائے تو وہ بھی مشرک ہو گا. سورت یوسف کی آیت نمبر 106 میں اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں

ان میں سے اکثر لوگ باوجود اللہ پر ایمان رکھنے کے بھی مشرک ہی ہیں ۔ 

شرک سے متعلق آیات

سورت التوبۃ مشرکین کے متعلق آیات سے بھری ہوئی ہے. اس کے علاوہ قرآن میں بار بار مشرکین کا زکر آیا ہے.

اور یہ لوگ اللہ کے سوا ایسی چیزوں کی عبادت کرتے ہیں جو نہ ان کو ضرر پہنچا سکیں اور نہ ان کو نفع پہنچا سکیں اور کہتے ہیں کہ یہ اللہ کے پاس ہمارے سفارشی ہیں ۔ آپ کہہ دیجئے کہ کیا تم اللہ کو ایسی چیز کی خبر دیتے ہو جو اللہ تعالٰی کو معلوم نہیں ، نہ آسمانوں میں اور نہ زمین میں وہ پاک اور برتر ہے ان لوگوں کے شرک سے ۔سورت یونس آیت 18

ان میں سے اکثر لوگ باوجود اللہ پر ایمان رکھنے کے بھی مشرک ہی ہیں ۔ سورت یوسف 106

مشرک لوگوں نے کہا اگر اللہ تعالٰی چاہتا تو ہم اور ہمارے باپ دادے اس کے سوا کسی اور کی عبادت ہی نہ کرتے ، نہ اس کے فرمان کے بغیر کسی چیز کو حرام کرتے ۔ یہی فعل ان سے پہلے کے لوگوں کا رہا ۔ تو رسولوں پر تو صرف کھلم کھلا پیغام پہنچا دینا ہے ۔ سورت النحل آیت 35

شرک سے متعلق حدیث 

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”اے معاذ! کیا تمہیں معلوم ہے کہ اللہ کا اس کے بندوں پر کیا حق ہے؟“ انہوں نے کہا کہ اللہ اور اس کے رسول ہی زیادہ جانتے ہیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ یہ ہے کہ وہ صرف اسی کی عبادت کریں اور اس کا کوئی شریک نہ ٹھہرائیں۔ کیا تمہیں معلوم ہے پھر بندوں کا اللہ پر کیا حق ہے؟ عرض کیا کہ اللہ اور اس کے رسول ہی زیادہ جانتے ہیں، فرمایا یہ ہے کہ وہ انہیں عذاب نہ دے۔ صحیح بخاری کتاب اللہ کے ناموں اور صفات کا بیان حدیث نمبر 7373

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”تکلیف دہ بات سن کر اللہ سے زیادہ صبر کرنے والا کوئی نہیں ہے، کم بخت مشرک کہتے ہیں کہ اللہ اولاد رکھتا ہے اور پھر بھی وہ انہیں معاف کرتا ہے اور انہیں روزی دیتا ہے۔“ صحیح بخاری کتاب اللہ کا نام. اور صفات کا بیان حدیث 7378

 

 

اگر اس مکالمے میں ہم سے کوئی غلطی یا کوتاہی ہوئی ہے تو براہ مہربانی غلطی کی نشاندہی کر کے ہماری اصلاح میں مدد کیجیئے۔ اللہ ہماری چھوٹی بڑی غلطیوں کو معاف فرمائے اور ہماری اس کاوش کو اپنی بارگاہ میں قبول و مقبول فرمائے۔اللہ اس کاوش کو ہمارے خاندان کے لئے نجات کا موجب بنائے اور دین پر ہماری پکڑ کو اور مضبوط کرے. آمین )

Next Post

Previous Post

Leave a Reply

© 2019 Islamic Education

Theme by Anders Norén