Islamic Education

All About Islam

سورت لہب

Facebooktwittergoogle_plusredditpinterestlinkedinmailFacebooktwittergoogle_plusredditpinterestlinkedinmail

 

لہب قرآن کی ۱۱۱ھویں سورت ہے۔لہب کا مطلب ہے لال اور آگ کی مناسبت   سے اس سورت نام سورت لہب رکھا گیا۔ اس سورت میں ابو لہب اور اسکی بیوی کو تنبیہہ کی گئی ہے کہ حضرت محمد ﷺ کے خلاف انکی کوئی تدبیر کام نہیں آئے گی اور اللہ کے عذاب کے سامنے انکی دولت بھی کام نہ آئے گی ۔

ابولہب کون تھا

ابو لہب حضرت محمد صل اللہ علیہ وسلم کے چچا تھے جو ان کے بد ترین دشمن تھے اور ایک کافر تھے. وہ بہت خوبصورے تھے اور ان کا چہرہ سرخ وسفید تھا. ان کا اصلی نام عبد العزہ تھا جس کا مطلب ہے عزہ ( کفار کے ایک مشہور بت کا نام) کا عبادت گزاراور ان کا لقب ابو لہب تھا. یہ لقب اس کی خوبصورتی کی وجہ سے ان کو دیا گیا تھا. اس کے علاوہ وہ بہت غیض و غضب والے تھے۔

اس سورت کا نزول

یہ ایک مکی سورت ہے اور اس کی پانچ آیات ہیں. یہ قرآن کی 111 ویں سورت ہے۔

سورت لہب کی تاریخ

سورت لہب قرآن کی پہلی وحیوں میں شمار کی جاتی ہے. بلکہ علما کے مطابق یہ پانچویں وحی ہے جو ہمارے پیارے نبی پر اتری. اس کے علاوہ یہ دوسری سورت ہے جو پوری کی پوری ایک ہی وقت میں اتاری گئی. سورت الفاتحہ ( پہلی سورت جو پوری نازل ہوئی تھی) کے فوراً بعد سورت لہب نازل ہوئی تھی۔

نبوت کے پہلے تین سال نبی پاک نے تبلیغ اسلام اپنے قریبی لوگوں میں کی اور چھوٹے درجے پر کی. جب اللہ نے کھلے لفظوں میں تبلیغ کرنے کی تاکید کی تو آپ ایک منبر پر کھڑے ہو کر لوگوں کو بلانے لگے. اس دور میں یہ عام رواج تھا کہ جب کسی مصیبت کی خبر دینی ہوتی تھی تو ایک شخص ایک مخصوص مقام پر کھڑا ہو کر آواز لگاتا تھا اور لوگ جمع ہو جاتے تھے. ہمارے بنی نے بھی لوگعں کو جمع کیا اور دعوت اسلام دی. اس موقع پر ابو لہب بے کہا کہ تم نے ہم سب کو اس بات کے لئے جمع کیا ہے تمہارے ہاتھ ٹوٹ جائیں (نعوز باللہ). اس واقعہ کے بعد سورت لہب نازل ہوئی جس میں اللہ نے ابو لہب اور اس کی بیوئ پر لعنت کی۔

سورت لہب کا دوسرا نام

سورت لہب کا دوسرا نام سورت المسد ہے جس کا مطلب ہے کھجور کے ریشے. یہ نام اس سورت کی آخری آیت سے اخز کیا گیا ہے. اس آیت میں ابو لہب کی بیوئ کے بارے میں بیان کیا گیا ہے. اس کو گلے میں ہار پہننے کا بہت شوق تھا. تو اللہ نے اس کی سرکشی اور نبی کریم صل اللہ علیہ وسلم سے نفرت کی بنا پر اس کے بارے میں فرمایا کہ اس کے گلے میں دوزخ کی آگ کو کجھور کے ریشے کی مانند رسی بنا کر اس کے گلے کا ہار بنا ہیا جائے گا.

سورت لہب کی وضاحت

سورت لہب کی پہلی آیت میں ابو لہب کو کہا گیا ہے کہ اس کے ہاتھ بھی ٹوٹ جائیں اور وہ بھی غرق ہونے والا ہے. دوسری آیت میں بیان کیا گیا ہے کی ابولہب کو اس کی تمام دعلت اور رتبے کا کوئی فائدہ نہیں ہے اور وہ ابو لہب کا کوئی بھلا نہیں کر سکیں گی. ابا لہب اس وقت وزیر خزانہ تھا اور اس کا تعلق قریش قبیلہ کے اعلی منصب لوگوں میں ہوتا تھا. ابو لہب کی بیوی کا شمار بھی اس وقت کے اعلی منصب خاندانوں میں ہوتا تھا اور وہ بی اپنی خوبصورتی اور رتبے کی وجہ سے بہت سرکش اور بدتمیز تھی. اس سورت کی تیسری آیت میں اللہ فرماتا ہے کہ ابو لہب کو لال رنگ کی آگ میں جلایا جائے گا جو اسی کی مانند غیض و غضب والی اور جلےی ہوئی ہو گی. چوتھی اعت پانچویں آیت میں اللہ فرماتا ہے کہ ابو لہب کی بیوی بھی اسی کی مانند آگ یں جلے گی بلکہ اس آگ کو اور بھڑکانے کا سامان بنے گی. اور اس کے گلے کا ہار کھجور کے ریشوں کی مانند آگ کی رسی بنا کر اس کے گلے میں لٹکایا جائے گا۔

سورت لہب کا مقصد

اس سورت کے زریعے اللہ یہ بتانا چاہ رہا ہے کہ اسلام اور نبی کریم کے دشمنوں کو کبھی کوئی فائدہ نہیں پہنچ سکتا ہے اور وہ اس جہان اور اگلے جہان میں ذلیل و خوار ہوں گے. دوزخ ہی ان کا آخری اور ہمیشہ رہنے والا ٹھکانا ہے۔

اس کے علاوہ دنیاوی دولت اور رتبہ انسان کو اس وقت تک فائدہ نہیں دے سکتا جب تک انسان کا یقین اللہ کی زات پر نہ ہو اور وہ نبی کریم کا ماننے والا نہ ہو

سورت لہب کی اہمیت

سورت لہب میں اللہ نے انسان کو بہت اہم باتیں باور کروائی ہیں جن کی ایک مسلمان کی زندگی میں بہت اہمیت ہے.
سورت لہب میں اللہ نے انسان کو جہنمی افراد کا سب سے نچلا درجہ بتایا ہے. پہلے تین درجات دوسری سورتوں میں بیان کئے گئے جن کی تفصیل دوسرے مکالمے میں بیان کی جائے گی. اس سورت میں بدترین عورت اور بدترین مرد کا زکر ہے جو دشمنی اور بغض میں ہر حد پار کر سکتے ہیں.
اس کے علاوہ اس سورت کے زریعے انسان کو بتایا گیا ہے کہ اللہ کے نزدیک نجات کا بس ایک ہی زریعہ ہو اور وہ ایمان اور اللہ کہ شہادت پر یقین ہے اس کے علاوہ اچھا کردار اور نیک اعمال بھی ضروری ہیں. جیسے ابو لہب حضرت محمد صل اللہ علیہ وسلم کاچچا تھا مگر اس بات سے اس کے کفر اور عذاب میں کوئی کمی نہیں آئی.
تیسرے نمبر پر اللہ انسان کو بتانا چاہ رہا ہے کہ خوبصورتی، دولت، شہرت رتبہ تو اللہ کی دین ہے اللہ ان کا مالک ہے. انسان صرف اپنے عمل کی وجہ سے اللہ کا پیارا یا اللہ کے غیض و غضب کا شکار ہوتا ہے

اگر اس مکالمے میں ہم سے کوئی غلطی یا کوتاہی ہوئی ہے تو براہ مہربانی غلطی کی نشاندہی کر کے ہماری اصلاح میں مدد کیجیئے۔ اللہ ہماری چھوٹی بڑی غلطیوں کو معاف فرمائے اور ہماری اس کاوش کو اپنی بارگاہ میں قبول و مقبول فرمائے۔اللہ اس کاوش کو ہمارے خاندان کے لئے نجات کا موجب بنائے اور دین پر ہماری پکڑ کو اور مضبوط کرے. آمین

Next Post

Previous Post

Leave a Reply

© 2019 Islamic Education

Theme by Anders Norén