Islamic Education

All About Islam

سورت الکافرون

Facebooktwittergoogle_plusredditpinterestlinkedinmailFacebooktwittergoogle_plusredditpinterestlinkedinmail

 

 

سورت الکافرون قرآن پاک کی 109 ویں سورت ہے۔ یہ سورت اللہ نے اپنے نبیؐ پر تب اتاری جب وہ کافروں کی غلط باتوں اور پیش کردہ غلط تجاویز سے ان کہ غلط فہمی کو دور کرنا چاہتے تھے کہ ہمارے پیارے نبی کبھی ان کے بنائے ہوئے بتوں کو پوجیں گے۔

کافرون کا مطلب

 

کافرون لفظ کافر کی جمع ہے اور اس کا مطلب ہے کفر کرنے والا، انکار کرنے والا۔

سورت الکافرون کا نزول

سورت الکافرون مکی سورت ہے اور اس کی صرف چھ آیات ہیں. یہ قرآن کی 109 سورت ہے۔

سورت الکافرون کا ترجمہ

 

آپ کہہ دیجئے کہ اے کافرو!

نہ میں عبادت کرتا ہوں اس کی جس کی تم عبادت کرتے ہو ۔

نہ تم عبادت کرنے والے ہو اس کی جس کی میں عبادت کرتا ہوں ۔

اور نہ میں عبادت کرونگا جسکی تم عبادت کرتے ہو

اور نہ تم اس کی عبادت کرنے والے ہو جس کی میں عبادت کر رہا ہوں ۔

تمہارے لئے تمہارا دین ہے اور میرے لئے میرا دین ہے ۔

سورت الکافرون کا دوسرا نام

 

اس سورت کا ایک اور نام سورت البرات ہے. براۃ کا مطلب ہے تعلق ختم کرنا. اس سورت میں نبی پاک نے کفار اور ان کے دیوی دیوتاؤں سے اپنی لاتعلقی ظاہر کی ہے. اس لئے اسے سورت البرۃ کہتے ہیں۔

سورت الکافرون کی تاریخ

مکہ مکرمہ کے کفار نے ہمارے پیارے نبی اکرم کو ابتر کہہ کر انہیں نیچا دکھانے کی کوشش کی۔ اس موقع پر اللہ تعالیٰ نے یہ سورت نازل کی اور اس میں پہلی دفعہ کفار کا لفظ استعمال کیا گیا اور اس سورت کا اختتام بھی لفظ ابتر سے ہی ہوتا ہے۔

اس کے علاوہ کافر چاہتے تھے کہ حضرت محمد صل اللہ علیہ وسلم ایک سال ان کے بتوں کی عبادت کریں اور ایک سال وہ سب اپنے بتوں کو چھوڑ کر اللہ تعالیٰ کی عبادت کریں گے۔ کفار آپ صل اللہ علیہ وسلم کویقین دلانا چاہتے تھے کہ وہ بھی اللہ کو مانتے ہیں. اس موقع پر اللہ نے کفار کو جھوٹا ثابت کرتے ہوئے یہ سورت نازل کی۔

اس کے علاوہ جب ایک نبی اپنا پیغام مکمل کر لیتا ہے تو نافرمان لوگوں کے متعلق اپنی بیزاری اور براۃ کا کھلا اعلان کرتے ہیں. یہ سورت بھی اس تعلق سے بیان کی جاتی ہے۔ 

سورت الکافرون کی وضاحت

اس سورت کی پہلی آیت میں اللہ تعالیٰ نے اپنے پیغمبر کو یہ حکم دیا کہ وہ اب سے ان نافرمان لوگوں کو کفار کہیں مگر انہیں ہدایت کے لئے مت پکاریں. اس کے اگلی چار آیات حال اور مستقبل کی ایات ہیں. پہلی دو آیات میں نبی کریم ان کفار کو بتا رہے کہ نہ تو وہ ان کفار کی طرح بتوں کو پوجتے ہیں اور نہ یہ کفار نبی پاک کی طرح اللہ تعالیٰ کی عبادت کر سکتے ہیں۔

چوتھی اور پانچویں آیات میں نبی پاک کو حکم دیا گیا ہے کہ وہ صاف الفاظ میں کفار کی پیش کش ٹھکرا دیں اور انہیں بنا دیں کہ وہ مستقبل میں بھی کبھی ان بتوں کو نہیں پوجیں گے اور نہ ہی کفار کو اللہ تعالیٰ کی عبادت کی ضرورت ہے۔ مگر پانچویں آیت میں کفار کے لئے اللہ تعالیٰ کی عبادت کے رستے بند نہیں کئے گئے بلکہ جب بھی وہ چاہیں  اسلام کی جانب لوٹ سکتے ہیں۔ اس سورت کی آخری آیت میں اللہ حضرت محمد صل اللہ علیہ وسلم کو حکم دیتے ہیں کہ وہ کفار کر ساتھ سختی کریں۔

سورت الکافرون کی فضیلت

سورت الکافرون کی تلاوت کرنے کا اجر ایک چوتھائی قرآن پڑھنے کے برابر ہے

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «إذا زلزلت» ( ثواب میں ) آدھے قرآن کے برابر ہے، اور «قل هو الله أحد» تہائی قرآن کے برابر ہے اور «قل يا أيها الكافرون» چوتھائی قرآن کے برابر ہے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۔ جامع ترمذی شریف کتاب فضائل قرآن  حدیث نمبر 2894

یہ سورت انسان سے کفر اور شرک کو دور کرتی ہے

نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آ کر انہوں نے کہا: اور کہا: اللہ کے رسول! مجھے کوئی ایسی چیز بتائیے جسے میں جب اپنے بستر پر جانے لگوں تو پڑھ لیا کروں، آپ نے فرمایا: «قل يا أيها الكافرون» پڑھ لیا کرو، کیونکہ اس سورۃ میں شرک سے برأۃ ( نجات ) ہے۔ شعبہ کہتے ہیں:    ( ہمارے استاد ) ابواسحاق کبھی کہتے ہیں کہ سورۃ «قل يا أيھا الكافرون» ایک بار پڑھ لیا کرو، اور کبھی ایک بار کا ذکر نہیں کرتے۔ جامع ترمذی شریف کتاب دعا حدیث نمبر 3403

یہ سورت کفر کا رد ہے

وہ طواف کی دونوں رکعتوں میں: «قل يا أيها الكافرون» اور «قل هو الله أحد» پڑھنے کو مستحب سمجھتے تھے۔  جامع ترمذی شریف کتاب حج حدیث نمبر 896 

سورت الکافرون کی اہمیت 

یہ سورت اس لئے اہم ہے کیونکہ اس میں انسان کو باور کروایا ہے کہ جو اللہ تعالیٰ کی واحدانیت پر یقین رکھتا ہے وہ کفر اور شرک کے پاس بھی نہیں جاتا

اس سورت کے زریعے اللہ تعالی نے یہ بات بھی واضح کر دی کہ نبی پاک صل اللہ علیہ وسلم کبھی بھی بت پرست نہیں رہے. اسلام کے نزول سے پہلے بھی وہ سیدھے راستے پر ہی گامزن تھے

اگر اس مکالمے میں ہم سے کوئی غلطی یا کوتاہی ہوئی ہے تو براہ مہربانی غلطی کی نشاندہی کر کے ہماری اصلاح میں مدد کیجیئے۔ اللہ ہماری چھوٹی بڑی غلطیوں کو معاف فرمائے اور ہماری اس کاوش کو اپنی بارگاہ میں قبول و مقبول فرمائے۔اللہ اس کاوش کو ہمارے خاندان کے لئے نجات کا موجب بنائے اور دین پر ہماری پکڑ کو اور مضبوط کرے. آمین 

Next Post

Previous Post

Leave a Reply

© 2019 Islamic Education

Theme by Anders Norén