Islamic Education

All About Islam

سورت النصر

Facebooktwittergoogle_plusredditpinterestlinkedinmailFacebooktwittergoogle_plusredditpinterestlinkedinmail

 

 

سورت النصر قرآن کی آخری اور سب سے چھوٹی سورتوں میں سے ایک ہے۔ اس سورت میں اللہ مسلمانوں کو جیت کی خوشخبری دے رہا ہے۔ یہ سورت حضرت محمد صل اللہ علیہ وسلم پر اس وقت نازل ہوئی جب وہ لوگوں کی نافرمانی کی وجہ سے غم کا شکار تھے۔ اس سورت کو الوداعی سورت بھی کہا جا سکتا ہے۔ اس سورت کا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی زاتی زندگی پر بھی گہرا اثر ہوا۔ کیونکہ اس سورت کے بعد وہ پہلے سے زیادہ استغفار پڑھنا شروع ہو گئے۔

نصر کا مطلب

نصر کا مطلب ہےغیبی مدد یا کامیابی۔

سورت النصر کا نزول

یہ مدنی سورت ہے اور اس کی تین آیات ہیں. یہ قرآن کی 110 ویں سورت ہے. یہ سب سے آخر میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل ہوئی اور قرآن پاک میں سورت الکافرون کے بعد آتی ہے۔

دیگر نام

اس سورت کے دیگر نام بھی ہیں مثلاً مدد خدا، غیبی سہارا۔

سورت النصر کا ترجمہ

جب اللہ کی مدد آ گئی اور مکہ فتح ہو گیا

اور آپ نے دیکھ لیا کہ لوگ گروہ در گروہ اللہ کے دین میں داخل ہو رہے ہیں

 تو آپ رب کی حمد و ثناء کریں اور اس سے بخشش مانگیں٫وہ بڑا توبہ

سورت النصر کی وضاحت

اس سورت میں اللہ تعالیٰ مسلمانوں کو ان کی کامیابی کی بشارت دیتا ہے کہ مسلمان ہی کامیاب ہوں گے۔ اس سورت کا سورت الکافرون سے گہرا تعلق ہے. سورت الکافرون میں اللہ تعالیٰ نے حضرت محمد صل اللہ علیہ وسلم کو حکم دیا کہ وہ کافروں سے قطع تعلق کر لیں۔ اور اس کے بعد سورت النصر میں مسلمانوں کو کامیابی کا یقین دلایا گیا ہے۔ اس کے علاوہ حضرت محمد صل اللہ علیہ وسلم کو بھی اس دنیا اور آخرت میں کامیابی کی نوید سنائی ہے۔

اس سورت کی پہلی آیت میں اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو ان کی کامیابی کی خوشخبری سنائی ہے۔ دوسری آیت میں اللہ حضرت محمد صل اللہ علیہ وسلم کو یقین دیانی کروا رہے ہیں کہ وہ پریشان نہ ہوں وہ اپنی آنکھوں سے دیکھیں گے کہ لوگ کیسے جوق در جوق اسلام میں داخل ہوں گے۔ اس سورت کی تیسری آیت میں اللہ تعالیٰ حضرت محمد صل اللہ علیہ وسلم کو استغفار کرنے کی تلقین کرتے ہیں کیونکہ اللہ تعالیٰ سب سے زیادہ معاف کرنے والے ہیں۔ اس سورت کے نزول کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دن میں 100 مرتبہ استغفار کرنا شروع کر دیا اور عبادت میں بھی زیادتی کرنے لگے۔

سورت النصر کی تاریخ

یہ سورت فتح مکہ کے بعد نبوت کے آخری سال میں نازل ہوئی تھی۔ کہا جاتا ہے کہ جب یہ سورت حضرت ابوبکر صدیق نے سنی تو وہ ذاروقطار رونے لگے۔ اس سورت کے نزول کے بعد آپ صل اللہ علیہ وسلم نے عبادت کثرت سے شروع کر دی اور استغفار کرنے لگے۔ یہ سورت آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اس دنیا سے وداع کی نشانی تھی۔ جب آپ صل اللہ علیہ وسلم کو مسلمانوں کی جیت کی بشارت سنایی گئی تو اس سے واضح ہوا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا اس دنیا میں آنے کا مقصد پور؛ ہو چکا ہے اوراس کے بعد آپ کا اس دنیا میں رہنے کا کوئی جواز نہیں بنتا۔

سورت النصر کے فوائد

جو اپنی زندگی کے کسی حلال معاملے میں کامیابی حاصل کرنا چاہتے ہیں وہ اس سورت کا ورد کریں

اس سورت کی تلاوت اللہ تعالیٰ سے استغفار کرنے کے مترادف بھی ہے

یہ سورت تمام دنیاوی مشکلات میں فائدہ مند ہے

توکل میں اضافہ کے لئے بھی اس کا ورد مفید ہے

سورت النصر کا مقصد

اس سورت میں حضرت محمد صل اللہ علیہ وسلم کو بتایا گیا ہے کہ مسلمانوں کی ہی جیت ہو گی ہمیشہ. اس کے علاوہ ان کا اس دنیا میں آنے کا. مقصد بھی پورا ہو چکا ہے۔ اور آپ صل اللہ علیہ وسلم کو اللہ سے زیادہ سے زیادی معافی مانگنی چاہیئے اور آپ صل اللہ علیہ وسلم کے زریعے عام مسلمان کو بھی استغفار کرنے کی ہدایت بھی دی ہے۔

 

 

اگر اس مکالمے میں ہم سے کوئی غلطی یا کوتاہی ہوئی ہے تو براہ مہربانی غلطی کی نشاندہی کر کے ہماری اصلاح میں مدد کیجیئے۔ اللہ ہماری چھوٹی بڑی غلطیوں کو معاف فرمائے اور ہماری اس کاوش کو اپنی بارگاہ میں قبول و مقبول فرمائے۔اللہ اس کاوش کو ہمارے خاندان کے لئے نجات کا موجب بنائے اور دین پر ہماری پکڑ کو اور مضبوط کرے. آمین

Next Post

Previous Post

Leave a Reply

© 2019 Islamic Education

Theme by Anders Norén