Islamic Education

All About Islam

سورت القریش

Facebooktwittergoogle_plusredditpinterestlinkedinmailFacebooktwittergoogle_plusredditpinterestlinkedinmail

 

جیسا کہ ہم پہلے بیان کر چکے ہیں کہ سورت الفیل اور سورت القریش آپس میں مشابہت رکھتی ہیں اور ملحقہ ہیں۔ ان دونوں سورتوں کو اکٹھا رکھنا بھی قرآن کا ایک معجزہ ہی ہے۔ یہ سورت قریش سے منسوب ہے جو کہ عرب کی سب سے مضبوط اور طاقتور قوم تھی۔ اس کے قبضے میں خانہ کعبہ تھا جس میں تمام اقوام کے بت پڑے ہوئے تھے

قریش کا مطلب

لفظ قریش عربی زبان کے لفظ تقرش سے اخذ کیا گیا ہے جس کا مطلب ہے مختلف علاقوں سے جمع کیا گیا۔ تاریخ بتاتی ہے کہ قریش سے تعلق رکھنے والے افراد پہلے مختلف علاقوں میں بستے تھے۔ وہ سب جب عرب کے علاقے میں جمع ہوئے اور رہنے لگے تو انہیں قریش کہا جانے لگا

اس کے علاوہ قریش قرش سے بھی اخذ کیا جا سکتا ہے جس کا مطلب بہت بڑا سمندری جانور جو صرف آگ سے شکست کھا سکتا ہے۔ سمندری جانور پر آگ کا اثر اس لئے نہیں ہو سکتا کیونکہ سمندر میں آگ جلے گی نہیں تع در حقیقت قریش ایسی طاقت ہے جس کو فنا کرنا ممکن نہیں

سورت القریش کا نزول

یہ قرآن کی 106 سورت ہے اور اس کی صرف چار آیات ہیں۔ یہ مکی سورت ہے

سورت القریش کا ترجمہ

قریش کو رغبت دلانے کے سبب

انہیں سردیوں اور گرمیوں کے سفر سے مانوس کر دیا

پس انہیں چاہیئے کہ اس گھر کے رب کی عبادت کریں

جس نے انہیں بھوک میں کھانا دیا اور خوف سے امن بخشا

سورت القریش کی وضاحت

سورت القریش کی پہلی آیت میں اللہ نے قریش کا رتبہ تمام لوگوں کو بتایا ہے۔ پہلی یآت کو سورت الفیل سے جوڑا گیا ہے کہ اللہ نے ابرہہ کو ناکام کیا تاکہ قریش کو اس بات سے سبق ملے۔ اس واقعے کے بعد قریش کی عزت اور رتبے میں اور اضافہ ہو گیا۔ اس آیت کے پہلے الفاظ لا یلف القریش سے مراد ہے کہ اللہ قریش کے بارے میں بات کر رہا ہے۔ اس میں قریش کو مخاطب نہیں کیا گیا بلکہ ان کا زکر دوسروں سے کر کے انہیں نظرانداز کیا گیا ہے۔ ہاشم اور اس کے بھائی جہنوں نے یمن کے تجارتی نظام پر اپنی دھاک بیٹھائی ہوئی تھی ان کو اصحاب ایلاف بھی کہتے تھے

اس سورت کی دوسری آیت میں لفظ ایلاف کا لفظ دوبارہ دہرایا گیا ہے جو ایک بات پر زور دینے کی غرض سے استعمال کیا گیا ہے۔ اللہ تعالیٰ اس سورت میں قریش کو اپنی عطا کردہ نعمتوں کا ذکر کرتے ہیں اور ان سے اپنی عبادت کا کہتے ہیں۔ قریش کو اللہ کی جانب سے دی گئی عزت، رزق، حفاظت سب کو مدنظر رکھتے ہوئے انہیں اللہ کا متقی بن جانا چاہیئے

سورت القریش کا مقصد

اس سورت میں اللہ قریش کو اپنی عطا کردہ نعمتوں کا ذکر کر کے ان سے اپنا شکر گزار اور پرہیزگار بننے کا کہہ رہا ہے۔ اس کے ذریعے اللہ تمام انسانیت کو بتانا چاہتا ہے کہ جب اللہ تعالیٰ نے ان کو نعمتوں سے نوازا ہے تو سب کو اللہ کا شکرگزار ہونا چاہیئے

سورت القریش کے فوائد

سورت القریش کا ورد انسان کی مشکلات ختم کرتا ہے

سورت القریش دنیاوی فوائد اور روحانی فوائد کے لئے بہترین ہے

اللہ کی نعمتوں کے شکر کے لئے اس کا ودر مفید ہے

مفلسی دور کرنے کے لئے اس سورت کا ورد کرنا چاہیئے

سورت القریش اور سورت الفیل کا تعلق

سورت القریش کی آخری آیت دونوں سورتوں کو جوڑتی ہے کیونکہ قریش کی ہٹ دھرمی کے باوجود اللہ کی نعمتوں کا نزول اور ان کی ابرہہ جیسے لوگوں سے حفاظت ہی اللہ کی محبت کو ثابت کرتا ہے

دونوں سورتوں میں اللہ قریش کی حفاطت کا ذکر کرتا ہے۔ پہلے دشمنوں سے حفاظت اور پھر رزق کی فراہمی

سورت القریش کی پہلی آیت سورت الفیل کا نتیجہ ہے جس میں ان کے بچاؤ کا زکر ہے

اگر اس مکالمے میں ہم سے کوئی غلطی یا کوتاہی ہوئی ہے تو براہ مہربانی غلطی کی نشاندہی کر کے ہماری اصلاح میں مدد کیجیئے۔ اللہ ہماری چھوٹی بڑی غلطیوں کو معاف فرمائے اور ہماری اس کاوش کو اپنی بارگاہ میں قبول و مقبول فرمائے۔اللہ اس کاوش کو ہمارے خاندان کے لئے نجات کا موجب بنائے اور دین پر ہماری پکڑ کو اور مضبوط کرے۔ آمین 

 

Next Post

Previous Post

Leave a Reply

© 2019 Islamic Education

Theme by Anders Norén