Islamic Education

All About Islam

سورت الفیل

Facebooktwittergoogle_plusredditpinterestlinkedinmailFacebooktwittergoogle_plusredditpinterestlinkedinmail

 

سورت الفیل اور سورت الکافرون ویسے تو قرآن کی دو الگ سورتیں ہیں مگر یہ ایک دوسرے سے بہت لحاظ سے ملتی جلتی ہیں۔ ان دونوں سورتوں کی روح ایک ہی ہے۔ ان دونوں سورتوں کا تاریخی پس منظر بھی ایک ہی طرح کا ہے۔ اس سورت میں اللہ تعالیٰ اسلام کے دشمنوں کا انجام بتا رہا ہے اور انسان کو باور کروا رہا ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے گھر کی حفاظت خود کرتا ہے

فیل کا مطلب

لفظ فیل کا عربی زبان میں مطلب ہے ہاتھی

سورت الفیل کا نزول

یہ قرآن پاک کی 105 سورت ہے اور اس کی 5 آیات ہیں۔ یہ مکی سورت ہے

سورت الفیل کا ترجمہ

کیا تم نے نہیں دیکھا کہ تمہارے رب نے ہاتھی والوں کے ساتھ کیا کیا؟

کیا اس نے ان کے مکروفریب کو ناکام نہیں کر دیا

اور اس نے ان پر پرندوں کے جھنڈ کے جھنڈ بھیج دئیے

جو ان پر کنکر اور پتھر مارتے تھے

پھر ان کو کھائے ہوئے بھوسے کی طرح کر دیا

سورت الفیل کی تاریخ

مہارانی سنا کی حکومت کے خاتمے کے بعد عبد مناف کا بیٹا ہاشم اور اس کے باقی تین بھائیوں نے تجارتی نظام کو اپنے ہاتھوں میں لے لیا۔ ان بھائیوں نے بہت مضبوط تجارتی نظام قائم کیا اور وہ اصحاب الایلاف یا المتجرین ( تجارت کرنے والے) کہلاتے تھے۔ حضرت محمد صل اللہ علیہ وسلم کے دادا حضرت عبدالمطلب، ہاشم کے بیٹے تھے۔  یمن کے فوجی کمانڈر ابرہہ نے یمن کے بادشاہ کو قتل کر دیا۔ نجاشی اس وقت حبشہ کا بادشاہ تھا۔ ابرہہ نے نجاشی سے الحاق کیا اور پھر اس نے یمن میں ایک بہت بڑا قلیسہ بنایا جسے القلیسہ کا نام دیا۔ وہ چاہتا تھا کہ خانہ کعبہ کی بجائے القلیسہ تمام علاقوں میں مرکزی عبادت گاہ کی حیثیت اختیار کر جائے۔ اس کے زریعے وہ تجارتی نظام پر بھی قبضہ کرنا چاہتا تھا

ابرہہ نے تمام علاقوں کو القلیسہ میں آنے اور حج کرنے کی دعوت دی۔ تاریخ میں درج ہے کہ نجف سے آنے والوں نے القلیسہ میں لگا دی۔ ابرہہ کو اس بات پر شدید غصہ آیا اور اس نے خانہ کعبہ کو مٹا دینے کا فیصلہ کر لیا۔ اس نے 6 لاکھ لوگوں کی فوج تیار کی جس میں 9 یا 13 یاتھی بھی تھے۔ بادشاہ کے ہاتھی کا نام محمود تھا۔ یہ واقعہ اور ہمارے پیارے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی سن پیدائش ایک ہی ہے

سورت الفیل کی وضاحت

اس سورت کی زبان بہت سادہ زبان میں نازل ہوئی۔ اس سورت میں اللہ بیان کرتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے گھر کو نقصان پہنچانے والے کو اللہ کبھی بھی نعاف نہیں کرے گا اور ناکامی اس کا مقدر ہو گی۔ اس سورت میں استعمال کردہ لفظ ابابیل سے مراد پرندوں کا جھنڈ ہے۔ ان پرندوں کے جھنڈ نے فوج پر مٹی سے بنے چھوٹے پتھر پھینکے۔ لفظ سجیل سے مراد مٹی سے بنے چھوٹے پتھر ہیں۔ یہ پتھر جس کے جسم پر گرتے اس کو جلا دیتی اور پھاڑ دیتی۔ اس کے علاوہ طاعون کی طرح کا مرض ان کے جسموں میں پھیل جاتا۔ تاریج کے مطابق اسی سن میں دنیا میں سب سے پہلے طاعون پھیلا تھا

اس سورت کے بارے دو اور بھی رائے ہیں۔ ایک یہ کہ پرندوں کی بجائے مکہ کے افراد نے پہاڑوں پر چڑھ کر پتھراو کیا اور اللہ تعالیٰ کی جانب سے غیبی مدد بھی اس میں شامل ہو گئی۔ ایک رائے یہ ہے کہ پرندوں اور انسانوں کی مدد نہیں لی گئی تھی بلکہ اللہ تعالیٰ نے آسمان سے اس فوج پر نحوست اتاری تھی اور وہ سب ہلاک ہوئے تھے

سورت الفیل کی روح

اس سورت میں اللہ تعالیٰ انسانوں کو باور کروا رہا ہے کہ وہ اکیلا ہی اپنے دین، اپنی کتاب اور اپنے گھر کا محافظ ہے۔ دین اسلام اور خانہ کعبہ کو کوئی نقصان نہیں پہنچا سکتا۔ اس کے علاوہ اللہ بتانا چاہتا ہے کہ کوئی بھی مخلوق بےکار نہیں ہے۔ ہر چیز اللہ کے حکم کے تابع ہے

سورت الفیل کے فوائد

اس سورت کا ورد انسان کو دشمنوں سے بچانے میں مفید ثابت ہوتا ہے

یہ سورت ناگہانی آفتوں اور بیماریوں سے بھی حفاظت کرتی ہے

یہ سورت برے حاکم کے شر سے محفوظ رکھتا ہے

اس سورت کا ورد مشکلات کی آسانی میں مفید ثابت ہوتا ہے

اس سورت سے انسان کو طاقت اور مضبوطی ملتی ہے

ایمان کی تازگی کے لئے بھی اس سورت کا ورد مفید ہے

 

 

اگر اس مکالمے میں ہم سے کوئی غلطی یا کوتاہی ہوئی ہے تو براہ مہربانی غلطی کی نشاندہی کر کے ہماری اصلاح میں مدد کیجیئے۔ اللہ ہماری چھوٹی بڑی غلطیوں کو معاف فرمائے اور ہماری اس کاوش کو اپنی بارگاہ میں قبول و مقبول فرمائے۔اللہ اس کاوش کو ہمارے خاندان کے لئے نجات کا موجب بنائے اور دین پر ہماری پکڑ کو اور مضبوط کرے۔ آمین 

Next Post

Previous Post

Leave a Reply

© 2019 Islamic Education

Theme by Anders Norén