Islamic Education

All About Islam

سورة الفاتحہ

Facebooktwittergoogle_plusredditpinterestlinkedinmailFacebooktwittergoogle_plusredditpinterestlinkedinmail

عربی زبان میں سورة لفظ کے بہت سے مطلب ہیں۔ اسے مختلف معنوں میں استعمال کیا جا سکتا ہے۔ اس کا مطلب ایک ایسی بنیاد ہے جس کے بغیر عمارت کا وجود نا ممکن ہے یا پھر ایک دیوار یا ایک علامت۔ لیکن جب ہم اسے قرآن کے حوالے سے دیکھیں تو اس سے مرادہے باب۔ یہ قرآن کے مختلف حصوں یا بابوں کو ظاہر کرتی ہے۔ قرآن پاک ایک مکمل کتاب ہے جس میں روزمرہ زندگی کے ہر پہلو کے بارے میں بیان کیا گیا ہے۔ اس لئے اسے مختلف حصوں میں تقسیم کیا گیا ہے اور ایک حصہ کو ایک باب یا سورة کہتے ہیں۔

مضبوط بنیاد

لفظ سورة کا مطلب ہے مضبوط بنیاد جس پر ایک عمارت کا دارومدار ٹکا ہوتا ہے۔

بیرونی حفاظتی دیوار

سورة کا ایک مطلب ہے ایک ایسی حفاظتی دیوار جو بہت نایاب اشیاء کی حفاظت کے پیش نظر ان اشیاء کے اردگرد تعمیر کی جاتی ہے۔

ایک علامت

سورة کا مطلب ہے ایک خاص علامت یا برانڈ کا نام۔

خوبصورت عمارت

سورة کا مطلب ہے ایک ایسی عمارت جو اپنی خوبصورتی اور انفرادیت میں اپنی مثال آپ ہو۔

اونچا مرتبہ

لفظ سورة کا مطلب ہے کوئی بھی ایسی چیز جو بہت اونچا مقام رکھتی ہو۔

بیرونی باڑ

سورة کا ایک مطلب بیرونی باڑ بھی ہے جو اپنے اندر چیزوں کو محفوظ رکھتی ہیں۔

سورة کا اصطلاحی مطلب

لفظ سورة سر سے نکلا ہے اور اس کا اصطلاحی مطلب ہے ایک باب. جیسے قرآن پاک کی ہر سورة ایک الگ باب کو ظاہر کرتی ہے۔

فاتحہ کا مطلب

لفظ فاتحہ فتح سے اخذ کیا گیا ہے جس کا مطلب ہے وضاحت کرنا. یہ قرآن. کی سب سے پہلی سورة ہے اور قرآن کا نچوڑ بھی تصور کی جاتی ہے۔

سورة الفاتحہ کا ترجمہ

شروع اللہ کے نام سے جو نہایت مہربان اور نہایت رحم والا ہے
سب تعریفیں کائنات کے مالک کے لیے ہیں
جو نہایت مہربان اور نہایت رحم والا ہے
قیامت کے دن کا مالک ہے
ہم اسی کی عبادت کرتے ہیں اور اسی سےمانگتے ہیں
ہمیں سیدھا راستہ دکھا
راستہ ان پر جس پر تو نے اپنی نعمت اتاری
اور ان کا راستہ نہیں جن پر تیرا غضب ہوا اور جن کو تو نے راکھ کر دیا

سورة الفاتحہ کا نزول

یہ قرآن کی سب سے پہلی سورة ہے جو مکہ میں پوری ایک ساتھ ہمارے پیارے نبی پر نازل ہوئی. اس کی سات آیات ہیں۔

سورة الفاتحہ کی وضاحت

یہ سورة قرآن کی سب سے پہلی سورة ہے اور یہ قرآن کا نچوڑ ہے. یہ بہت اہم سورة ہے کیونکہ اس میں اللہ کی تعریف اور واحدانیت کا ذکر ہے. اس سورة کی پہلی تین آیات اللہ کی تعریف ہیں. چوتھی آیت میں انسان اللہ سے مدد طلب کرتا ہے. اس آیت کے بارے میں اللہ کہتا ہے کہ یہ انسان اور اللہ کے درمیان کا معاملہ ہے جب انسان اس آیت کو پڑھ کر اللہ سے مدد طلب کرتا ہے تو اللہ اس کی دعا ضرور قبول کرتا ہے۔
اس سورة کی پانچویں آیت میں انسان اللہ سے ہدایت طلب کرتا ہے. پھر چھٹی آیت میں اللہ اس کو بتاتا ہے کہ کن کے نقش قدم پر چلنے کی ہدایت مانگنی چاہیئے. اور آخری آیت میں اللہ انسان کو تنبیہہ کرتا ہے کہ ان لوگوں کا دستہ طلب نہ کیا جائے جن پر اللہ نے اپنا عذاب نازل کیا اور جن کو اللہ نے غرق کیا۔

سورة الفاتحہ کے مختلف نام

قدیم عربوں میں یہ عام روایت تھی کہ جس چیز سے انہیں خاص انسیت ہوتی تھی وہ اس کے بہت سے نام رکھا کرتے تھے بس اسی طرح سورة الفاتحہ کے بھی بہت سے نام ہیں۔

یہ قرآن کی سے سے پہلی سورة ہے اس لئے اسے ام السورة بھی کہتے ہیں۔

۔اسے حمد بھی کہا جاتا ہے

۔الاسس یعنی بنیاد بھی اس سورة کا ایک نام ہے

۔اس سورة کو سورة الشفا بھی کہا جاتا ہے

۔الرقیہ بھی اس کا ایک نام ہے

۔سورة الدعا

۔سورةالکافیہ

۔سبحہ مثانی بھی اس سورة کا ایک نام ہے جس کا مطلب ہے بار بار پڑھی جانے والی سات آیاتِ

۔الصلاۃ کیونکہ یہ نماز کا ایک مخصوص حصہ ہے

تسمیہ اس سورة کا حصہ یا نہیں

اس بات میں علماء کا اختلاف ہے کہ تسمیہ سورة الفاتحہ کا ایک حصہ یا یہ ایک روایت ہے کہ ہر سورة سے پہلے بسم اللہ پڑھی جائے. سورة الفاتحہ کی سات آیات ہیں. کچھ علماء کے مطابق

صِرَاطَ الَّذِیۡنَ اَنۡعَمۡتَ عَلَیۡہِمۡ ۙ ۬ غَیۡرِ الۡمَغۡضُوۡبِ عَلَیۡہِمۡ وَ لَا الضَّآلِّیۡنَ

ایک آیت ہے اور تسمیہ اس سورة کا ایک حصہ ہے جبکہ کچھ علماء کے مطابق یہ دو آیات ہیں اور بسم اللہ ایک روایت ہے. مگر ان دونوں صورتوں میں اس سورة کی آیات سات ہی رہتی ہیں۔

سورة الفاتحہ کا مقصد

اس سورة میں مسلمانوں کو اللہ کی تعریف کرنا سکھایا گیا ہے اور اس سے ہدایت مانگنے کا طریقہ سکھایا گیا ہے۔

سورة الفاتحہ کے فوائد

۔سورة الفاتحہ کے ذریعے دعا مانگی جا سکتی ہے

۔یہ تمام جسم کے لئے شفا کا باعث ہے

ہم ایک فوجی سفر میں تھے ( رات میں ) ہم نے ایک قبیلہ کے نزدیک پڑاؤ کیا۔ پھر ایک لونڈی آئی اور کہا کہ قبیلہ کے سردار کو بچھو نے کاٹ لیا ہے اور ہمارے قبیلے کے مرد موجود نہیں ہیں، کیا تم میں کوئی بچھو کا جھاڑ پھونک کرنے والا ہے؟ ایک صحابی ( خود ابوسعید ) اس کے ساتھ کھڑے ہو گئے، ہم کو معلوم تھا کہ وہ جھاڑ پھونک نہیں جانتے لیکن انہوں نے قبیلہ کے سردار کو جھاڑا تو اسے صحت ہو گئی۔ اس نے اس کے شکرانے میں تیس بکریاں دینے کا حکم دیا اور ہمیں دودھ پلایا۔ جب وہ جھاڑ پھونک کر کے واپس آئے تو ہم نے ان سے پوچھا کیا تم واقعی کوئی منتر جانتے ہو؟ انہوں نے کہا کہ نہیں میں نے تو صرف سورۃ فاتحہ پڑھ کر اس پر دم کر دیا تھا۔ ہم نے کہا کہ اچھا جب تک ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کے متعلق نہ پوچھ لیں ان بکریوں کے بارے میں اپنی طرف سے کچھ نہ کہو۔ چنانچہ ہم نے مدینہ پہنچ کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ذکر کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ انہوں نے کیسے جانا کہ سورۃ فاتحہ منتر بھی ہے۔ ( جاؤ یہ مال حلال ہے ) اسے تقسیم کر لو اور اس میں میرا بھی حصہ لگانا۔ اور معمر نے بیان کیا ہم سے عبدالوارث بن سعید نے بیان کیا، کہا ہم سے ہشام بن حسان نے بیان کیا، کہا ہم سے محمد بن سیرین نے بیان کیا، کہا ہم سے معبد بن سیرین نے بیان کیا اور ان سے ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ نے یہی واقعہ بیان کیا۔ صحیح بخاری کتاب فضائل قرآن حدیث نمبر 5007

۔اللہ سے ہدایت مانگنے کا ذریعہ ہے

۔اللہ کی تعریف سکھاتی ہے

۔انسان کا اللہ پر یقین اور تقویٰ بڑھاتی ہے

حدیث سے سورة الفاتحہ کا ثبوت

میں نماز میں مشغول تھا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے بلایا اس لیے میں کوئی جواب نہیں دے سکا، پھر میں نے ( آپ کی خدمت میں حاضر ہو کر ) عرض کیا: یا رسول اللہ! میں نماز پڑھ رہا تھا۔ اس پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیا اللہ تعالیٰ نے تمہیں حکم نہیں فرمایا ہے «استجيبوا لله وللرسول إذا دعاكم‏» کہ ”اللہ کے رسول جب تمہیں پکاریں تو ان کی پکار پر فوراً اللہ کے رسول کے لیے لبیک کہا کرو۔“ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مسجد سے نکلنے سے پہلے قرآن کی سب سے بڑی سورة میں تمہیں کیوں نہ سکھا دوں۔ پھر آپ نے میرا ہاتھ پکڑ لیا اور جب ہم مسجد سے باہر نکلنے لگے تو میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! آپ نے ابھی فرمایا تھا کہ مسجد کے باہر نکلنے سے پہلے آپ مجھے قرآن کی سب سے بڑی سورة بتائیں گے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ہاں وہ سورة «الحمد لله رب العالمين» ہے یہی وہ سات آیات ہیں جو ( ہر نماز میں ) باربار پڑھی جاتی ہیں اور یہی وہ قرآن عظیم ہے جو مجھے دیا گیا ہے۔ صحیح بخاری کتاب فضائل قرآن حدیث نمبر 5006

 

اگر اس مکالمے میں ہم سے کوئی غلطی یا کوتاہی ہوئی ہے تو براہ مہربانی غلطی کی نشاندہی کر کے ہماری اصلاح میں مدد کیجیئے۔ اللہ ہماری چھوٹی بڑی غلطیوں کو معاف فرمائے اور ہماری اس کاوش کو اپنی بارگاہ میں قبول و مقبول فرمائے۔اللہ اس کاوش کو ہمارے خاندان کے لئے نجات کا موجب بنائے اور دین پر ہماری پکڑ کو اور مضبوط کرے. آمین

Next Post

Previous Post

Leave a Reply

© 2019 Islamic Education

Theme by Anders Norén