Islamic Education

All About Islam

سورة الاخلاص

Facebooktwittergoogle_plusredditpinterestlinkedinmailFacebooktwittergoogle_plusredditpinterestlinkedinmail

 

سورة الاخلاص قرآن پاک کی سب سے چھوٹی اور زیادہ تلاوت کی جانے والی سورت ہے۔ یہ سورة اللہ کی وحدانیت کی مظہر ہے اور اللہ کی کاملیت اور طاقت کا مظہر ہے۔ سورةالاخلاص کو ان خوبیوں کی بناٗ پر سورة التوحید بھی کہا جاتا ہے۔

سورة الاخلاص کا مطلب 

اخلاص سے مراد ہے سچائی، خلوص، پاکیزگی۔

سورة الاخلاص کا ترجمہ

کہہ دو اللہ ایک ہے”

اللہ بے نیاز ہے

نہ اس نے کسی کو پیدا کیا اور نہ وہ کسی سے پیدا ہوا

“اس کا کوئی بھی ہمسر نہیں 

سورة الاخلاص کی وضاحت 

قرآن کی یہ سورة اللہ کی واحدانیت کو ظاہر کرتی ہے۔ اس کی پہلی آیت میں اللہ کے اکیلے ہونے کی شہادت دی گئی ہے۔ دوسری آیت میں لفظ الصمد استعمال ہوا ہے جو قرآن میں اور کہیں استعمال نہیں ہوا۔الصمد سے مراد ہے بے نیاز ہونا۔ اسے اپنے کسی کام کے لئے مدد کی ضرورت نہیں بلکہ تمام کائنات اس پر منحصر کرتی ہے اور اسی سے مدد طلب کرتی ہے

تیسری آیت میں اللہ بیان کرتا ہے کہ وہ کسی قسم کے شریک سے پاک ہے۔ اس کی نہ کئی اولاد ہے اور نہ ہی اس کے والدین۔وہ بالکل اکیلا تمام کائنات کا مالک ہے

اس سورة کی آخری آیت میں بیان کیا گیا ہے کہ اللہ اپنے ہر عمل میں منفرد ہے اور اس جیسا کوئی نہیں ہے۔  

سورة الاخلاص کا نزول

یہ مکی سورة ہے اور اس کی چار آیات ہیں۔ 

سورة الاخلاص کی تاریخ 

یہ سورة ان پہلی سورتوں میں سے ہے جو ہمارے پیارے نبی کریم پر اللہ تعالیٰ نے اتاری۔ ایک دفعہ کفار مکہ نے آپ سے اللہ کے نسب کے متعلق سوال کیا تو اس موقع پر یہ سورة نازل ہوئی۔  

سورة الاخلاص کی فضیلت 

یہ سورة ہر نماز میں پڑھی جانے والی سورة ہے۔اس سورة کے بارے میں ہمارے پیارے نبی کریم نے فرمایا کہ یہ پورے قرآن کا  1/3ہے۔ اس سے مراد ہے کہ اس کے فوائد تمام قرآن کے ایک تہائی کے برابر ہیں۔

ایک صحابی  نے اپنے بھائی کو دیکھا کہ وہ رات کو سورۃ  الاخلاص باربار پڑھ رہے ہیں۔ صبح ہوئی تو وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کا ذکر کیا گویا انہوں نے سمجھا کہ اس میں کوئی بڑا ثواب نہ ہو گا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! یہ سورت قرآن مجید  کے ایک تہائی حصہ کے برابر ہے۔  صحیح بخاری کتاب قرآن کے فضائل حدیث نمبر 5013

۔ اس کے علاوہ یہ سورة توحید کے موضوع پر بہت وسعت رکھتی ہے.

۔سورة کا نام  الاخلاص، دوسری سورتوں کے برعکس، اس سورت میں استعمال نہیں ہوا بلکہ یہ سورت کے موضوع کو ذہن میں رکھتے ہوئے رکھا گیا ہے

۔سورة الاخلاص سے خاص محبت رکھنے والے کے لئے اللہ بھی اپنے دل میں خاص محبت رکھتا ہے 

سورة الاخلاص کی روح  

قرآن کی یہ چھوٹی سی سورة قرآن کی روح یعنی توحید کا نچوڑ ہے۔ یہ سورت ویسے تو بہت چھوٹی ہے مگر یہ قرآن کا نچوڑ ہے۔ 

سورة الاخلاص کا مقصد 

یہ سورة انسان کو پاکیزہ کرتی ہے. یہ انسان کے دل اور زندگی کو اللہ کے پیار اور واحدانیت کے یقین سے بھر دیتی ہے۔ 

سورة الاخلاص کے فوائد 

سورة الاخلاص پڑھنے کے مندرجہ ذیل فوائد ہیں

۔ اللہ پر انسان کا ایمان پکا کرتی ہے

۔ ایمان کو بڑھاتی ہے

۔ حکمت کو بڑھاتی ہے

۔ اس کا ورد 1/3 قرآن پڑھنے کے برابر ہے

۔ پاکیزگی کی علامت ہے

۔ کامیابی کا باعث ہے

۔ ناگہانی آفات سے بچاتی ہے

۔ گمراہی سے بچاتی ہے

۔ ایمان کی روشنی سے انسان کا دل منور کرتی ہے

۔ انسان کی زندگی کو سکون اور اطمینان سے بھرتی ہے

۔ مغفرت مانگنے کا ذریعہ ہے

۔ اللہ کے قرب کا ذریعہ ہے

۔ اللہ کی محبت پانے کا ذریعہ ہے

 سورت الاخلاص کا حدیث سے ثبوت

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے صحابہ سے فرمایا کہ کیا تم میں سے کسی کے لیے یہ ممکن نہیں کہ قرآن کا ایک تہائی حصہ ایک رات میں پڑھا کرے؟ صحابہ کو یہ عمل بڑا مشکل معلوم ہوا اور انہوں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! ہم میں سے کون اس کی طاقت رکھتا ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پر فرمایا کہ «الواحد الصمد» ( یعنی «قل  هو الله أحد‏» ) قرآن مجید کا ایک تہائی حصہ ہے۔  صحیح بخاری کتاب فضائل قرآن حدیث نمبر 5015

 

اگر اس مکالمے میں ہم سے کوئی غلطی یا کوتاہی ہوئی ہے تو براہ مہربانی غلطی کی نشاندہی کر کے ہماری اصلاح میں مدد کیجیئے۔ اللہ ہماری چھوٹی بڑی غلطیوں کو معاف فرمائے اور ہماری اس کاوش کو اپنی بارگاہ میں قبول و مقبول فرمائے۔اللہ اس کاوش کو ہمارے خاندان کے لئے نجات کا موجب بنائے اور دین پر ہماری پکڑ کو اور مضبوط کرے. آمین 

Next Post

Previous Post

Leave a Reply

© 2019 Islamic Education

Theme by Anders Norén