Islamic Education

All About Islam

سود یا رباہ

Facebooktwittergoogle_plusredditpinterestlinkedinmailFacebooktwittergoogle_plusredditpinterestlinkedinmail

 

رباہ اسلامی قانون کے مطابق ان 7 گناہوں میں سے ہے جو سب سے بڑے اور ناقابل معافی سمجھے جاتے ہیں۔ رباہ کو شرک، قتل جیسے گناہوں کے ساتھ بیان کرنے کا مطلب ہے کہ یہ واقعی بہت سنگین گناہ ہے۔ رباہ کو عام زبان میں انٹرسٹ کہا جاتا ہے مگر رباہ صرف اس تک محیط نہیں ہے۔ رباہ یا سود اسلام سے پہلے کے دور میں بھی پایا جاتا تھا۔ اسلامی نظریہ کے مطابق رباہ یا سود لینا اللہ تعالٰی اور اس کے رسول کے خلاف اعلان جنگ کرنا ہے۔ اسلام میں کسی اور گناہ کے بارے میں اتنے سخت الفاظ میں مزاحمت نہیں کی گئی۔ یہ اتنا بڑا گناہ کیوں ہے اس کی وضاحت مندرجہ ذیل ہے

رباہ یا سود کا مطلب

لفظ رباہ کا مطلب ہے بڑھانا یا اضافی رقم۔ اسلامی نظریے میں کاروبار یا تجارت میں نامناسب فائدہ۔ یہ اصلی رقم سے اوپر لی جانے والی رقم کو کہتے ہیں

سود کی تاریخ

رباہ یا سود اسلام سے پہلے کی تہزیب میں بھی پایا جاتا تھا۔ اسلام سے پہلے بھی دوسری کتابوں میں اس کی مزاحمت کی گئی ہے۔ مغربی ممالک میں بھی کچھ صدیوں پہلے رباہ یا سود کو گناہ تصور کیا جاتا تھا مگر اس کا چھوٹے پیمانے پر استعمال شروع کیا گیا اور آہستہ آہستہ یہ پورے مغربی معاشرتی نظام کی بنیاد بن گیا

رباہ کی اقسام

نبی پاک صل اللہ علیہ وسلم کی ایک حدیث کے مطابق رباہ کی 70 سے زائد اقسام ہیں اور سب سے ہلکی قسم اس طرح ہے جیسے انسان نے اپنی ماں کے ساتھ زنا کیا ہے۔ اس حدیث میں رباہ کی اقسام کا ذکر نہیں ہے مگر مسلمان علما اس کی کچھ اقسام بیان کرتے ہیں جو مندرجہ ذیل ہیں

رباہ ان جاہیلیہ

یہ رباہ کی وہ قسم ہے جو دور جاہلیت میں عام تھی

رباہ ان ناسیاہ

رباہ کی یہ قسم اس وقت لاگو ہوتی ہے جب دو پارٹیوں کے درمیان ایک چیز کا تبادلہ ہوتا ہے مگر مقررہ وقت پر ادائیگی ممکن نہیں ہوتی اور اس طرح سود ادا کرنا پڑتا ہے۔ آج کل بینک اس طریقے پر کام کرتے ہیں

رباہ الفلد

اس قسم میں کسی چیز کا معیار اور مقدار بیک وقت نامباسب انداز سے ردوبدل کیا جاتا ہے۔ یہ مخفی قسم کا رباہ ہے۔ اس میں رقم کی بجائے اشیاء استعمال۔ کی جاتی ہیں

تجارت اور سود

کچھ لوگوں کے مطابق تجارت اور سود میں فرق نہیں ہے۔ جب انسان اپنے تجارتی مال پر منافع لیتا ہے تو ویسے ہی سود میں مال پر منافع لیا جاتا ہے مگر یہ غلط بات ہے۔ اللہ تعالیٰ کے فرمان کے مطابق رقم پر منافع کسی قسم کے فائدے کی بجائے نقصان کا باعث ہے اور ان پر اللہ کی لعنت کی گئی ہے

قرآن اور سود

قرآن پاک میں کم و بیش 8 دفعہ رباہ کا ذکر آیا ہے

جو لوگ سود کھاتے ہیں وہ ( قیامت میں ) اٹھیں گے تو اس شخص کی طرح اٹھیں گے جسے شیطان نے چھوکر پاگل بنا دیا ہو ، یہ اس لیے ہوگا کہ انہوں نے کہا تھا کہ : بیع بھی تو سود ہی کی طرح ہوتی ہے ۔ ( ١٨٤ ) حالانکہ اللہ نے بیع کو حلال کیا ہے اور سود کو حرام قرار دیا ہے ۔ لہذا جس شخص کے پاس اس کے پروردگار کی طرف سے نصیحت آگئی اور وہ ( سودی معاملات سے ) باز آگیا تو ماضی میں جو کچھ ہوا وہ اسی کا ہے ۔ ( ١٨٥ ) اور اس ( کی باطنی کیفیت ) کا معاملہ اللہ کے حوالے ہے ۔ اور جس شخص نے لوٹ کر پھر وہی کام کیا ( ١٨٦ ) تو ایسے لوگ دوزخی ہیں ، وہ ہمیشہ اسی میں رہیں گے ۔ سورت البقرۃ آیت 275

اللہ سود کو مٹاتا ہے اور صدقات کو بڑھاتا ہے ، اور اللہ ہر اس شخص کو ناپسند کرتا ہے جو ناشکرا گنہگار ہو ۔ سورت البقرۃ آیت 276

اے ایمان والو اللہ سے ڈرو اور اگر تم واقعہ مومن ہو تو سود کا جو حصہ بھی ( کسی کے ذمے ) باقی رہ گیا ہو اسے چھوڑ دو ۔ سورت البقرۃ آیت 278

پھر بھی اگر تم ایسا نہ کرو گے تو اللہ اور اس کے رسول کی طرف سے اعلان جنگ سن لو ۔ اور اگر تم ( سود سے ) توبہ کرو تو تمہارا اصل سرمایہ تمہارا حق ہے ، نہ تم کسی پر ظلم کرو نہ تم پر ظلم کیا جائے ۔سورت البقرۃ آیت 279

دور حاضر کا معاشرتی نظام

دور حاضر کا معاشرتی نظام رباہ کے اردگرد گھومتا ہے۔ ہمارے پیارے نبی کریم صل اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا کہ ایک وقت آئے گا جب لوگ رباہ نہیں بھی لیتے ہونگے مگر وہ اس کی دھول سے بچ نہیں سکیں گے۔ یہ وہی وقت ہے جس کا ذکر حدیث نیں ہوا ہے۔ براہ راست اور بالواسطہ رباہ میں بھی فرق ہے۔ ایک کمپنی جو رباہ کے پیسے سے چلتی ہے اس کے تمام تر ملازمین بالواسطہ طور پر اس رباہ کا حصہ بنتے ہیں۔ براہ راست رباہ بینک، قرض وغیرہ ہیں

اسلامی معاشرتی نظام

اگر انسان قرآن کی رباہ کی آیات کا موازنہ کرے تو ااے اندازہ ہو گا کہ رباہ کی آیات کے ساتھ صدقے کی آیات آئی یں جس سے مراد ہے کہ اللہ صدقہ کو پسند کرتا ہے اور رباہ کو ناپسند۔ اس کے علاوہ اگر کسی ایکونومسٹ سے پوچھیں تو ان کے مطابق سود کے بغیر آج کا معاشرتی نظام چلنا ناممکن ہے مگر بہت سی اسلامی ممالک کا کامیاب نظام جس میں رباہ کی کوئی گنجائش نہیں وہ اس بات کے منافی حقیقت ہے

دولت کی گردش کا اسلامی نظریہ

اسلامی اصولوں کے مطابق دولت صرف امیروں کے ہاتھوں میں ہی نہیں رہنی چاہیئے بلکہ اس کا فائدہ غریبوں کو بھی ملنا چاہیئے۔ یہ امیروں سے غریبوں تک منتقل ہونی چاہیئے

سود اور دوسری آسمانی کتابیں

سود کا ذکر اور مناہی پہلی آسمانی کتابوں میں بھی ہے۔ بائبل میں بھی یہ پوری طرح ممنوع ہے مگر تورات میں اس کا حکم مختلف ہے کہ ایک انسان اپنے بھائی یا قریبی لوگوں سے سود وصول نہیں کو سکتا مگر باقیوں سے کر سکتا ہے

بینک اور دوسری جگہ کام کرنا جہاں سودی نظام ہو

وہ تمام جگہیں جن کا کم سود پر چلتا ہو ان جگہوں پر کام کرنا اسلام کی رو سے منع ہے

بچت اکاؤنٹ کے ذریعے سود

بینک میں دو قسم کے اکاؤنٹ ہوتے ہیں موجودہ اکاؤنٹ اور بچت اکاؤنٹ۔ اگر انسان اپنی مرضی سے بچت اکاؤنٹ کھولتا ہے تو اا سے آنے والی اضافی رقم۔ سود ہی سمجھی جائے گی۔ اگر انسان یہ رقم خود استعمال نہ بھی کرے مگر وہ گناہ گار ضرور ہو گا۔ ہاں، اگر بینک میں بس بچت اکاؤنٹ کھل سکتا ہے تو انسان اس سے ملی ہوئی رقم خود استعمال نہ کرے تو وہ گناہ گار نہیں ہو گا

سود والے قرض

سود والے قرض بھی اسلام میں منع ہیں۔ جو ان کو دے، لے، رجسٹر کرے یا گواہی دے وہ سب گناہ گار ہیں

سود کی ممانعت کی حکمت

سود کے زریعے خریدوفروخت کے عمل میں دولت صرف امیروں میں گردش کرتی رہتی ہے۔ یہ غریبوں سے نا انصافی ہے کیونکہ اس عمل کے زریعے امیر امیرتر اور غریب غریب تر ہوتا جاتا ہے۔ اس صورت میں امیر تمام منافع لے لیتا ہے اور جس غریب کو اپنے کام کے لئے پیسہ درکار ہوتا ہے وہ پیسہ وصول کر کے اور مشکل میں پھنس جاتا ہے

Next Post

Previous Post

Leave a Reply

© 2019 Islamic Education

Theme by Anders Norén