Islamic Education

All About Islam

سجدہ سہو

Facebooktwittergoogle_plusredditpinterestlinkedinmailFacebooktwittergoogle_plusredditpinterestlinkedinmail

 

سجدہ سہو دراصل ایک ایسا سجدہ ہے جو نماز میں غلطی کی تلافی کے طور پر اللہ تعالیٰ کے حضور کیا جاتا ہے۔ سجدہ سہو صرف دو غلطیوں کے ازالے کے طور پر کیا جاتا ہے۔ ان کے علاوہ اگر کوئی دوسری چھوٹی موٹی غلطی ہو جائے تو اللہ تعالیٰ معاف کرنے والی ذات ہے۔ اور سجدہ سہو کی ضرورت نہیں ہوتی۔

۔ اگر دوسری رکعت میں سجدہ کے بعد تشہد پڑھے بغیر انسان کھڑا ہو جائے

۔ اگر کوئی رکعت چھوٹ جائے یا زیادہ پڑھی جائے 

تشہد کا بھول جانا

اگر انسان دوسری رکعت میں سجدہ کرنے کے بعد تشہد پڑھنا بھول جائے اور کھڑا ہو جائے تو اس پر سجدہ سہو لازم ہو جاتا ہے۔ اگر انسان کو قیام کی حالت میں آنے سے پہلے یا مکمل سیدھا ہونے سے پہلے یاد آ جائے کہ اس نے تشہد نہیں پڑھی تو وہ دوبادمرہ بیٹھ کر تشہد پڑھ سکتا ہے پھر اس پر سجدہ سہو لازم نہیں ہوتا۔ اگر انسان بالکل سیدھا کھڑا ہو جائے تب سجدہ لازم ہوتا ہے۔ اگر مکمل کھڑے ہونے کے بعد یاد آئے تو بیٹھنا منع ہے. اور اگلی رکعت پڑھنے کا حکم ہے۔

رکعت کا چھوٹنا یا بڑھنا

اگر کوئی رکعت چھوٹ جائے یا بڑھا کر پڈھ لی جائے تب بھی سجدہ سہو کرنا لازم ہوتا ہے۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ظہر میں پانچ رکعت پڑھ لیں۔ اس لیے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا گیا کہ کیا نماز کی رکعتیں زیادہ ہو گئی ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ کیا بات ہے؟ کہنے والے نے کہا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پانچ رکعتیں پڑھی ہیں۔ اس پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سلام کے بعد دو سجدے کئے۔ صحیح بخاری کتاب سجدہ سہو حدیث نمبر 1226

سجدہ سہو کا طریقہ

سجدہ سہو دو طریقعں سے کیا جاتا ہے

۔ تسلیمہ سے پہلے

۔ تسلیمہ کے بعد 

تسلیمہ سے پہلے

نمازی کو اگر مندرجہ بالا بیان کردہ کسی بات کا یقین ہے تو وہ آخری رکعت میں درود ابراہیمی

اور دعا کے بعد دو سجدے کر کے تسلیمہ کر سکتا ہے۔ جب تسلیمہ سے پہلے سجدہ سہو کیا جائے تو صرف سجدے کر کے سلام پھیر لیا جاتا ہے اور تشہد وغیرہ نہیں پڑھتے۔ 

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کسی ( چار رکعت ) نماز کی دو رکعت پڑھانے کے بعد ( قعدہ تشہد کے بغیر ) کھڑے ہو گئے، پہلا قعدہ نہیں کیا۔ اس لیے لوگ بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کھڑے ہو گئے۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نماز پوری کر چکے تو ہم سلام پھیرنے کا انتظار کرنے لگے۔ لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سلام سے پہلے بیٹھے بیٹھے «الله اكبر» کہا اور سلام ہی سے پہلے دو سجدے بیٹھے بیٹھے کیے پھر سلام پھیرا۔ صحیح بخاری کتاب سجدہ سہو حدیث نمبر 1224

تسلیمہ کےبعد

اگر تسلیمہ کے بعد نمازی کو غلطی کا احساس ہو تو پھر دو سجدے کر کے نمازی تشہد، کلمہ شہادت، درود ابراہیمی دعا پڑھے اور تسلیمہ دوبارہ کر لے۔

سجدہ سہو کا بہترین طریقہ

ویسے تو. مندرجہ بالا. دونوں طریقوں سے سجدہ سہو ہو جاتا ہے مگر طریقہ نمبر دو زیادہ بہتر ہے کیونکہ نماز کو بیچ میں روک کر سجدہ سہو کرنے سے بہتر ہے کہ نماز جتم. کر کے سجدہ سہو کیا جائے۔

سجدہ سہو کا وقت

سجدہ سہو کا کوئی خاص وقت نہیں. جب بھی انسان. کو اپنی غلطی کا احساس ہو سجدہ سہو کر لے۔ نماز پڑھنے کے دس گھنٹے بعد بھی غلطی یاد آ جائے تو سجدہ سہو کر لے۔

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ظہر یا عصر کی نماز پڑھائی جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سلام پھیرا تو ذوالیدین کہنے لگا کہ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! کیا نماز کی رکعتیں کم ہو گئی ہیں؟ ( کیونکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بھول کر صرف دو رکعتوں پر سلام پھیر دیا تھا ) نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے اصحاب سے دریافت کیا کہ کیا یہ سچ کہتے ہیں؟ صحابہ نے کہا جی ہاں، اس نے صحیح کہا ہے۔ تب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دو رکعت اور پڑھائیں پھر دو سجدے کئے۔ سعد نے بیان کیا کہ عروہ بن زبیر کو میں نے دیکھا کہ آپ نے مغرب کی دو رکعتیں پڑھ کر سلام پھیر دیا اور باتیں بھی کیں۔ پھر باقی ایک رکعت پڑھی اور دو سجدے کئے اور فرمایا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسی طرح کیا تھا۔ صحیح بخاری کتاب سجدہ سہو حدیث نمبر 1227 

حدیث سے سجدہ سہو کا بیان

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جب نماز کے لیے اذان ہوتی ہے تو شیطان ہوا خارج کرتا ہوا بھاگتا ہے تاکہ اذان نہ سنے، جب اذان پوری ہو جاتی ہے تو پھر آ جاتا ہے۔ جب اقامت ہوتی ہے تو پھر بھاگ پڑتا ہے۔ لیکن اقامت ختم ہوتے ہی پھر آ جاتا ہے اور نمازی کے دل میں طرح طرح کے وسوسے ڈالتا ہے اور کہتا ہے کہ فلاں فلاں بات یاد کرو، اس طرح اسے وہ باتیں یاد دلاتا ہے جو اس کے ذہن میں نہیں تھیں۔ لیکن دوسری طرف نمازی کو یہ بھی یاد نہیں رہتا کہ کتنی رکعتیں اس نے پڑھی ہیں۔ اس لیے اگر کسی کو یہ یاد نہ رہے کہ تین رکعت پڑھیں یا چار تو بیٹھے ہی بیٹھے سہو کے دو سجدے کر لے۔ صحیح بخاری کتاب سجدہ سہو حدیث نمبر 1231

اگر اس مکالمے میں ہم سے کوئی غلطی یا کوتاہی ہوئی ہے تو براہ مہربانی غلطی کی نشاندہی کر کے ہماری اصلاح میں مدد کیجیئے۔ اللہ ہماری چھوٹی بڑی غلطیوں کو معاف فرمائے اور ہماری اس کاوش کو اپنی بارگاہ میں قبول و مقبول فرمائے۔اللہ اس کاوش کو ہمارے خاندان کے لئے نجات کا موجب بنائے اور دین پر ہماری پکڑ کو اور مضبوط کرے۔ آمین

Next Post

Previous Post

Leave a Reply

© 2019 Islamic Education

Theme by Anders Norén