Islamic Education

All About Islam

زکوۃ

Facebooktwittergoogle_plusredditpinterestlinkedinmailFacebooktwittergoogle_plusredditpinterestlinkedinmail

 

زکوۃ اسلام کا چوتھا اہم رکن ہے جس پر اسلام کی بنیاد ٹکی ہوئی ہے. زکوۃ کا مطلب اور وضاحت درج ذیل ہے

زکوۃ کا مطلب

زکوۃ کے دو مطلب ہیں

۔ کسی چیز کا بڑھانا

۔ کسی چیز کو پاک کرنا

زکوۃ کی وضاحت

اسلام میں ایک مخصوص سالانہ رقم مسلمان کے مال سے اللہ کی راہ میں غریبوں اور حقداروں پر خرچ کی جاتی ہے اسے مال کو زکوۃ کہتے ہیں۔

زکوۃ کا حکم

زکوۃ کو مکہ میں فرض کیا گیا مگر اس کے بارے میں حتمی آیات دوسری ہجری میں مدینہ میں اتاری گئی. تقریباً 26 آیات میں زکوۃ اور نماز کا اکٹھا حکم آیا ہے۔

زکوۃ کی فرضیت

زکوۃ ہر مسلمان مرد اورعورت پر فرض کی گئی ہے اور فرضیت کی شرائط یہ ہیں

۔ مسلمان

۔ بالغ

۔ صاحب استطاعت

۔ آزاد (غلام) نہ ہو

۔ ملکیت ہو ان چیزوں پر جن پر زکوۃ فرض ہے

۔ مقروض نہ ہو

۔ ملکیت والی اشیاء حلال ہونی چاہیئے

۔ زکوۃ شدہ مال ایک سال تک جمع رہے

مصارف زکوۃ

زکوۃ مندرجہ ذیل اقسام کے لوگوں کو ادا کی جا سکتی ہے

۔ فقراء

۔ مساکین

۔ مسافر

۔ زکوۃ اکٹھا کرنے والے

۔ اسلام قبول کرنے والے

۔ غلام کو آزاد کروانے کے لیے

۔ قرض دار کا قرض ادا کرنے کے لیے

۔ اللہ کی راہ میں

صدقے صرف فقیروں کے لئے ہیں اور مسکینوں کے لئے اور ان کے وصول کرنے والوں کے لئے اور ان کے لئے جن کے دل پرچائے جاتے ہوں اور گردن چھڑانے میں اور قرضداروں کے لئے اور اللہ کی راہ میں اور راہرو مسافروں کے لئے فرض ہے اللہ کی طرف سے ، اور اللہ علم و حکمت والا ہے ۔ سورت التوبہ آیت 60

اس کے علاوہ یتیموں اور ضرورت مندوں کو بھی دی جا سکتی ہے٫

خاندان کے لوگ جنہیں زکوۃ دی جا سکتی ہے

۔ بہن اور اس کا خاندان مطلب اولاد اود اولاد کی اولاد

۔ بھائی اور اس کا خاندان

۔ ماموں، خالہ اور ان کے خاندان

۔ چاچا، تایا، پھوپھو اور ان کا خاندان

ان میں سے کسی کو بھی زکوۃ دیتے ہوئے اس بات کا خیال رکھنا چاہیئے کہ زکوۃ صرف غرباء اور ضرورت مند کو دی جاتی ہے. اگر یہ خاندان کے لوگ صاحب استطاعت ہیں تو ان پر زکوۃ لاگو نہیں ہو گی

زکوۃ کس کو نہیں دی جا سکتی

۔ غیر مذہب

۔ صاحب استطاعت

 ۔ بیوی

۔ اولاد

۔ والدین

۔ مرتد

والدین، اولاد اور بیوی کو زکوۃ نہ دی جانے کی وجہ یہ ہے کہ ایک انسان پر یہ فرض ہے کہ وہ اپنے والدین، اولاد اور بیوی کی کفالت کرے ان کو زکوۃ کے پیسے سے کھلانا پلانا اور خواہشات پوری کرنا جائز کام نہیں ہے

زکوۃ کس چیز پر لاگو ہے

زکوۃ اس پیسے، قیمتی دھاتوں. جائداد اور اجناس پر لاگو ہوتی ہے جو انسان کے پاس ایک سال سے زائد عرصہ تک پڑی رہے

زکوۃ کا نصاب

۔ سونا ساڑھے سات تولہ

۔ چاندی باون تولہ

۔ رقم جو باون تولہ چاندی کے برابر یا زیادہ ہو

۔ ان تینوں میں سے کوئی دو یا تینوں چیزوں جن کی مشترکہ قیمت باون تولہ چاندی کے برابر یا اس سے زیادہ ہو

زکوۃ کی شرح

اوپر بیان کردہ اشیاء کا 2.5 یا ڈھائی فیصد سالانہ زکوۃ کی شرح ہے۔

اشیاء جن پر زکوۃ لاگو نہیں ہوتی

وہ تمام ضروریات کی اشیاء جو انسان کے مستقل استعمال میں ہوں

۔ گھر

۔ گھریلو اشیاء

۔ گاڑی یا موٹر سائیکل یا کسی قسم کی سواری

۔ قیمتی پتھر

۔ سونے اور چاندی کے علاوہ باقی دھاتیں

۔ گھوڑا، گدھا یا خچر

قرآن سے زکوۃ کا ثبوت

۔ کیا تم اپنی سرگوشی سے پہلے صدقہ نکالنے سے ڈر گئے؟ پس جب تم نے یہ نہ کیا اور اللہ تعالٰی نے بھی تمہیں معاف فرما دیا تو اب ( بخوبی ) نمازوں کو قائم رکھو زکوۃ دیتے رہا کرو اور اللہ تعالٰی کی اور اس کے رسول کی تابعداری کرتے رہو تم جو کچھ کرتے ہو اس ( سب ) سے اللہ ( خوب ) خبردار ہے ۔ سورت المجادلہ آیت 13

۔ اور نمازوں کو قائم کرو اور زکوۃ دو اور رکوع کرنے والوں کے ساتھ رکوع کرو ۔ سورت البقرہ آیت 43

۔ مومن مرد و عورت آپس میں ایک دوسرے کے ( مددگار و معاون ) اور دوست ہیں ، وہ بھلائی کا حکم دیتے ہیں اور برائیوں سے روکتے ہیں ، نمازوں کو پابندی سے بجا لاتے ہیں زکٰو ۃ ادا کرتے ہیں اللہ کی اور اس کے رسول کی بات مانتے ہیں یہی لوگ ہیں جن پر اللہ تعالٰی بہت جلد رحم فرمائے گا بیشک اللہ غلبے والا حکمت والا ہے ۔ سورت التوبۃ آیت 71

حدیث سے ثبوت

۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جب معاذ رضی اللہ عنہ کو یمن ( کا حاکم بنا کر ) بھیجا تو فرمایا کہ تم انہیں اس کلمہ کی گواہی کی دعوت دینا کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور یہ کہ میں اللہ کا رسول ہوں۔ اگر وہ لوگ یہ بات مان لیں تو پھر انہیں بتانا کہ اللہ تعالیٰ نے ان پر روزانہ پانچ وقت کی نمازیں فرض کی ہیں۔ اگر وہ لوگ یہ بات بھی مان لیں تو پھر انہیں بتانا کہ اللہ تعالیٰ نے ان کے مال پر کچھ صدقہ فرض کیا ہے جو ان کے مالدار لوگوں سے لے کر انہیں کے محتاجوں میں لوٹا دیا جائے گا۔ صحیح بخاری کتاب زکوۃ حدیث نمبر 1395

۔ ایک دیہاتی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آیا اور عرض کی کہ آپ مجھے کوئی ایسا کام بتلائیے جس پر اگر میں ہمیشگی کروں تو جنت میں داخل ہو جاؤں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ کی عبادت کر ‘ اس کا کسی کو شریک نہ ٹھہرا ‘ فرض نماز قائم کر ‘ فرض زکوٰۃ دے اور رمضان کے روزے رکھ۔ دیہاتی نے کہا اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے ‘ ان عملوں پر میں کوئی زیادتی نہیں کروں گا۔ جب وہ پیٹھ موڑ کر جانے لگا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اگر کوئی ایسے شخص کو دیکھنا چاہے جو جنت والوں میں سے ہو تو وہ اس شخص کو دیکھ لے۔  صحیح بخاری کتاب زکوۃ حدیث نمبر 1397

۔ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے نماز قائم کرنے ‘ زکوٰۃ دینے اور ہر مسلمان کے ساتھ خیر خواہی کرنے پر بیعت کی تھی۔  صحیح بخاری کتاب زکوۃ حدیث نمبر 1401

 

 

اگر اس مکالمے میں ہم سے کوئی غلطی یا کوتاہی ہوئی ہے تو براہ مہربانی غلطی کی نشاندہی کر کے ہماری اصلاح میں مدد کیجیئے۔ اللہ ہماری چھوٹی بڑی غلطیوں کو معاف فرمائے اور ہماری اس کاوش کو اپنی بارگاہ میں قبول و مقبول فرمائے۔اللہ اس کاوش کو ہمارے خاندان کے لئے نجات کا موجب بنائے اور دین پر ہماری پکڑ کو اور مضبوط کرے. آمین

Next Post

Previous Post

Leave a Reply

© 2019 Islamic Education

Theme by Anders Norén