Islamic Education

All About Islam

حرام گوشت

Facebooktwittergoogle_plusredditpinterestlinkedinmailFacebooktwittergoogle_plusredditpinterestlinkedinmail

 

اللہ تعالیٰ نے انسان کے لئے یہ تمام کائنات بنائی اور اسے ہر آرام اور آسائش کی چیز سے مزین کیا. اس میں پہاڑ، آسمان، زمین، پرندے، پودے بنائے تاکہ یہ انسان کو فائدہ پہنچا سکیں. اس کے علاوہ اللہ تعالیٰ نے انسان کے لیے کھانے پینے کی بے شمار اشیاء بھی اتاری کہ وہ اس روئے زمین پر آرام سے رہے. ہزاروں اقسام. کے پھل، سبزیاں اور ان کے علاوہ جانوروں کا گوشت بھی انسان کے لئے حلال بنایا تاکہ انسان اس سے مفید اور لطف اندوز ہو سکے. مگر ہر جانور اور پرندے کا گوشت انسان پر حلال نہیں کیا گیا. جن جانوروں کا گوشت حرم ان کی فہرست اور وجہ درج زیل ہے.

حرام گوشت کی اقسام

اللہ تعالیٰ نے انسان کے لئے مختلف چیزیں حرام قرار دی ہیں. سورت المائدہ آیت ٣ میں ارشاد ہوا

تم پر حرام کیا گیا مردار اور خون اور خنزیر کا گوشت اور جس پر اللہ کے سوا دوسرے کا نام پکارا گیا ہو ، اور جو گلا گھٹنے سے مرا ہو ، اور جو کسی ضرب سے مر گیا ہو اور جو اونچی جگہ سے گر کر مرا ہو جو کسی کے سینگ مارنے سے مرا ہو ، اور جسے درندوں نے پھاڑ کھایا ہو ، لیکن اسے تم ذبح کر ڈالو تو حرام نہیں ، اور جو آستانوں پر ذبح کیا گیا ہو ، اور یہ بھی کہ قرعہ کے تیروں کے ذریعے فال گیری ہو ، یہ سب بدترین گناہ ہیں ، آج کفار تمھارے دین سے ناآمید ہوگئے ، خبردار تم ان سے نہ ڈرنا اور مجھ سے ڈرتے رہنا ، آج میں نے تمہارے لئے دین کو کامل کر دیا اور تم پر اپنا انعام بھرپور کر دیا اور تمہارے لئے اسلام کے دین ہونے پر رضامند ہوگیا ۔ پس جو شخص شدت کی بھوک میں بے قر ار ہو جائے بشرطیکہ کسی گناہ کی طرف اس کا میلان نہ ہو تو یقیناً اللہ تعالٰی معاف کرنے والا ہے اور بہت بڑا مہربان ہے

سورت الانعام کی آیت نمبر 175 میں اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا کہ

آپ کہہ دیجئے کہ جو کچھ احکام بذریعہ وحی میرے پاس آئے ان میں تو میں کوئی حرام نہیں پاتا کسی کھانے والے کے لئے جو اس کو کھائے ، مگر یہ کہ وہ مردار ہو یا کہ بہتا ہوا خون ہو یا خنزیر کا گوشت ہو ، کیونکہ وہ بالکل ناپاک ہے یا جو شرک کا ذریعہ ہو کہ غیر اللہ کے لئے نامزد کر دیا گیا ہو پھر جو شخص مجبور ہو جائے بشرطیکہ نہ تو طالب لذت ہو اور نہ تجاوز کرنے والا ہو تو واقعی ہی آپ کا رب غفور ا لرحیم ہے ۔

ان آیات میں مندرجہ ذیل اقسام کا ذکر ہے

۔ مردار جانور

۔ پالتو جانور جیسے کتا، گھوڑا، گدھا

۔ خون

۔ خنزیر کا گوشت

۔ حرام طریقے سے زبح کیا گیا جانور

۔ حلال جانور جن پر غیر اللہ کا نام لیا گیا ہو

۔ کیڑے مکوڑے اور رینگنے والے جانور

۔ پنجوں والے پرندے

۔ ماہیت بدلنے والے جانور

مردار جانور

مردار جانور سے مراد وہ جانور ہے جو خود بہ خود مر گیا ہو یا کسی اور جانور نے اسے مارا ہو. قرآن کے مطابق مردار جانور حرام. ہے کیونکہ اس کا استعمال انسان کے لئے نقصان دہ ہے

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک مری ہوئی بکری کے قریب سے گزرے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم نے اس کے چمڑے سے فائدہ کیوں نہیں اٹھایا؟ لوگوں نے کہا کہ یہ تو مری ہوئی ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ صرف اس کا کھانا حرام کیا گیا ہے۔ صحیح بخاری کتاب زبح اور شکار کا بیان.

مردار کیوں ممنوع

جب ایک جانور بہ زات خود مر جاتا ہے تو اس پر فوری جراثیم اور کیڑے مکوڑے حملہ کر دیتے ہیں اور اس جانور کو کھانے سے مختلف بیماریاں لاحق ہو سکتی ہیں

اس کے علاوہ جانور کسی بیماری یا زہریلے جانور کے حملے کی وجہ سے بھی مر سکتا ہے اور ایسا جانور کھانا بھی جان کو خطرے میں ڈالنے کے مترادف ہے

پالتو جانور

پالتو جانور بھی ایک مسلمان کے لئے حرام قرار دیئے گئے ہیں. اس بات کا قرآن میں زکر نہیں ہے بلکہ یہ بات حدیث سے ثابت کردہ ہے. کتا عام طور پر ایک نجس جانور تصور کیا جاتا ہے اور یہ بلی کی طرح درندہ اور گوشت خور بھی ہے تو انہیں کھانا حرام ہے. گھوڑا، گدھا، ہاتھی سواری اور مزدوری کے کام آنے والے جانور ہیں اس لئے ان کو کھانا بھی حرام ہے

حدیث سے ثبوت

فتح خیبر کی شام کو لوگوں نے آگ روشن کی تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا کہ یہ آگ تم لوگوں نے کس لیے روشن کی ہے؟ لوگوں نے بتایا کہ گدھے کا گوشت ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ہانڈیوں میں کچھ ( گدھے کا گوشت ) ہے اسے پھینک دو اور ہانڈیوں کو توڑ ڈالو۔ ایک شخص نے کھڑے ہو کر کہا ہانڈی میں جو کچھ ( گوشت وغیرہ ) ہے اسے ہم پھینک دیں اور برتن دھو لیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ یہ بھی کر سکتے ہو۔ صحیح بخاری کتاب زبح اور شکار کا بیان حدیث نمبر 5497

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جنگ خیبر کے موقع پر پالتو گدھوں کے گوشت کی ممانعت کر دی تھی۔ صحیح بخاری کتاب زبح اور شکار کا بیان حدیث نمبر 5521

خون

خون جاندار کے جسم سے نکلتا ہے جو گوشت کے ساتھ ہوتا ہے. یہ بیشک حلال جانور سے نکلا ہو مگر اسے پینا حرام ہے. خون کو مائع گوشت بھی کہا جاتا ہے کیونکہ یہ پروٹین اور پانی سے بنا ہے. خون جنگلی جانوروں کی خوراک ہے اور اس سے جنگلی پن کا اظہار ہوتا ہے اس لئے ایک مسلمان پر خون پینا حرام کیا گیا ہے؛ موجودہ دور میں شیطان کو ماننے والی خون پی کر اپنے اعتقاد کا ثبوت دیتے ہیں

خنزیر کا گوشت

اسلام میں خنزیر کا گوشت کھانا بھی حرام قرار دیا گیا ہے. قرآن کے علاوہ باقی آسمانی کتابوں میں بھی اس سے منع کیا گیا ہے

قرآن سے خنزیر کے حرام ہونے کا ثبوت

تم پر مُردہ اور ( بہا ہوا ) خون اور سور کا گوشت اور ہر وہ چیز جس پر اللہ کے سوا دوسروں کا نام پکارا گیا ہو حرام ہے پھر جو مجبور ہو جائے اور وہ حد سے بڑھنے والا اور زیادتی کرنے والا نہ ہو ، اس پر ان کے کھانے میں کوئی گناہ نہیں ، اللہ تعالٰی بخشش کرنے والا مہربان ہے ۔ سورت البقرۃ آیت 173

آپ کہہ دیجئے کہ جو کچھ احکام بذریعہ وحی میرے پاس آئے ان میں تو میں کوئی حرام نہیں پاتا کسی کھانے والے کے لئے جو اس کو کھائے ، مگر یہ کہ وہ مردار ہو یا کہ بہتا ہوا خون ہو یا خنزیر کا گوشت ہو ، کیونکہ وہ بالکل ناپاک ہے یا جو شرک کا ذریعہ ہو کہ غیر اللہ کے لئے نامزد کر دیا گیا ہو پھر جو شخص مجبور ہو جائے بشرطیکہ نہ تو طالب لذت ہو اور نہ تجاوز کرنے والا ہو تو واقعی ہی آپ کا رب غفور ا لرحیم ہے ۔ سورت الانعام آیت 145

تم پر صرف مردار اور خون اور سور کا گوشت اور جس چیز پر اللہ کے سوا دوسرے کا نام پکارا جائے حرام ہیں پھر اگر کوئی شخص بے بس کر دیا جائے نہ وہ خواہشمند ہو اور نہ حد سے گزر جانے والا ہو تو یقیناً اللہ بخشنے والا رحم کرنے والا ہے ۔ سورت النحل آیت 115

سور کی نسل

سور ویسے تو بکری کی نسل کا جانور ہے مگر یہ گوشت خور جانور ہے اس لئے انسان پر اس کو حرام قرار دیا ہے. اسلام میں گھاس کھانے والے جانور حلال جبکہ گوشت خور جانور حرام قرار دیئے گئے ہیں. سورت المائدہ کی آیت نمبر 1 میں ارشاد ہوا

اے ایمان والو! عہد و پیمان پورے کرو تمہارے لئے مویشی چوپائے حلال کئے گئے ہیں بجز ان کے جن کے نام پڑھ کر سنا دیئے جائیں گے مگر حالت احرام میں شکار کو حلال جاننے والے نہ بننا ، یقیناً اللہ جو چاہے حکم کرتا ہے ۔

خنزیر کیوں حرام ہے؟

۔ خنزیر جسمانی طور پر ایک نجس جانور ہے اس لیے اس کا استعمال منع ہے

یہ بات سائنس نے بھی ثابت کی ہے کہ خنزیر کا گوشت کھانے سے تقریباً 70 قسم کی بیماریاں لاحق ہو سکتی ہیں

سائنس نے یہ بات بھی ثابت کی ہے کہ انسان جس جانور کا گوشت رغبت سے کھاتا ہے وہ اس جانور کی طرح کا رویہ بھی اختیار کر لیتا ہے تو خنزیر ایک بےشرم جانور ہے جو اپنی اہلیہ کو کسی دوسرے خنزیر کے ساتھ جنسی تعلقات بناتے ہوئے دیکھ کر خوش ہوتا ہے. آج کل غیر مسلموں میں یہ رویہ بھی بہت عام ہے کہ وہ اپنی شریک حیات کو دوسرےکے ساتھ خوشی خوشی جنسی تعلقات بنانے کی اجازت دے دیتے ہیں

۔ خنزیر ایک گندا جانور ہے جو اپنا فضلہ کھاتا ہے اور دوسرے جانوروں کا فضلہ بھی کھا جاتا ہے جو انسانی جسم کے لئے نقصان دہ ہے

بہت سے پیٹ کے کیڑے بھی انسان کے جسم میں خنزیر کا گوشت کھانے سے پیدا ہو جاتے ہیں جن میں سب سے خطرناک ٹیپ ورم ہوتے ہیں. ان کے انڈے بہت تیز گرمی سے بھی نہیں مرتے تو وہ انسانی خون میں فورا شامل ہو کر کسی بھی انسانی عضو میں داخل ہو سکتے ہیں اور انسانی موت کا باعث بنتے ہیں

۔ یہ موٹاپے کا باعث ہوتے ہیں

۔ یہ بلڈ پریشر کا موجب بنتے ہیں

MRSA ۔ نامی بیماری جس میں انسانی جسم پر ادویات بے اثر ہو جاتی ہیں وہ خنزیر کا گوشت کھانے سے پیدا ہوتی ہے

۔ خنزیر کے خون میں زہریلے مادے جذب کرنے کی صلاحیت ہوتی ہے توجب انسان اسے کھاتا ہے تو وہ زہریلے مادے انسانی جسم میں بھی شامل ہو جاتے ہیں اور موت کا باعث بن سکتے ہیں

۔ خنزیر کا نظام ہضم بہت تیز ہوتا ہے اس لئے اس کے گوشت میں کھانے کی افادیت کم یا بالکل بھی نہیں ہوتی ہے

کیا خنزیر کا مارنا جائز ہے؟

سور کا گوشت کھانے سے اسلام نے منع کیا ہے مگر اسے مارنے کی اجازت نہیں ہے

اللہ کا نام لئے بغیر جانور زبح کرنا

اس سے مراد ہے کہ وہ جانور جو اسلامی زبیحہ کے اصولوں کے مطابق زبح نہ کئے جائیں وہ مسلمان پر حرام ہیں. جو جانور اہل کتاب نے اسلامی اصولوں کے حساب سے زبح کئے ہوں وہ بھی مسلمانوں پر حلال ہیں. سمندری گوشت کو زبیحہ کی ضرورت نہیں ہوتی اور یہ بات سورت المائدہ کی آیت میں 96 میں واضح کی گئی ہے

تمہارے لئے دریا کا شکار پکڑنا اور اس کا کھانا حلال کیا گیا ہے تمہارے فائدے کے واسطے

حرام طریقے سے زبح کرنے کے مندرجہ ذیل طریقے ہیں

۔ جھٹکا

۔ بےہوش کر کے جانور کو مارنا

۔ گولی مارنا

۔ زہر لگا کرمارنا

غیر اللہ کے نام پر زبح کرنا

جن جانوروں پر غیر اللہ کا نام لیا جائے ان کو کھانا بھی حرام ہے. سورت المائدہ کی آیت نمبر 3 میں اس کا بھی زکر ہے. یہ اللہ کا اختیار ہے کہ وہ کسی کو زندگی یا موت دے تو جب انسان کسی جانور کو زبح کرتا ہے تو اللہ کا نام لینا اس بات کا ثبوت ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کا دیا ہوا رزق اس کے اختیار سے زبح کر رہا ہے. جب اس جانور پر اللہ کا نام. نہ لیا جائے تو انسان اللہ تعالیٰ کے زندگی اور موت کے اختیار سے انکار کرتا ہے.  سورت الانعام آیت 121 میں اللہ نے ارشاد فرمایا

اور ایسے جانوروں میں سے مت کھاؤ جن پر اللہ کا نام نہ لیا گیا ہو اور یہ کام نافرمانی کا ہے اور یقیناً شیاطین اپنے دوستوں کے دل میں ڈالتے ہیں تاکہ یہ تم سے جدال کریں اور اگر تم ان لوگوں کی اطاعت کرنے لگو تو یقیناً تم مشرک ہو جاؤ گے ۔

کیڑے مکوڑے، درندے، پنجوں والے پرندے

کیڑے مکوڑے، پنجوں والے پرندے اور گوشت خور جانور سب اسلام نے حرام قرار دیئے ہیں کیونکہ یہ درندے ہیں

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہر پھاڑ کھانے والے درندوں کا گوشت کھانے سے منع کیا تھا. صحیح بخاری کتاب زبیح اور شکار کا بیان حدیث 5530

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہر کچلی دانت والے درندے سے منع کیا.   جامع ترمذی کتاب شکار کا بیان حدیث 1477

ہیت بدلنے والے جانور

وہ جانور جو ہیت بدل سکتے ہیں وہ بھی کھانا اسلام میں منع ہے. جیسے تتلی، شہر کی مکھی، مینڈک، چھپکلی نما جانور، وغیرہ

کب حرام گوشت کھانے کی اجازت ہے؟

مسلمان حرام کردہ گوشت تب کھا سکتا ہے جب اس کے مرنے کا خطرہ ہو

تم پر مُردہ اور ( بہا ہوا ) خون اور سور کا گوشت اور ہر وہ چیز جس پر اللہ کے سوا دوسروں کا نام پکارا گیا ہو حرام ہے پھر جو مجبور ہو جائے اور وہ حد سے بڑھنے والا اور زیادتی کرنے والا نہ ہو ، اس پر ان کے کھانے میں کوئی گناہ نہیں ، اللہ تعالٰی بخشش کرنے والا مہربان ہے ۔ سورت البقرۃ آیت 173

 اس کے علاوہ سورت الانعام کی آیت 145 اور سورت النحل کی آیت 115 میں بھی اس بات کی اجازت دی گئی ہے

اگر اس مکالمے میں ہم سے کوئی غلطی یا کوتاہی ہوئی ہے تو براہ مہربانی غلطی کی نشاندہی کر کے ہماری اصلاح میں مدد کیجیئے۔ اللہ ہماری چھوٹی بڑی غلطیوں کو معاف فرمائے اور ہماری اس کاوش کو اپنی بارگاہ میں قبول و مقبول فرمائے۔اللہ اس کاوش کو ہمارے خاندان کے لئے نجات کا موجب بنائے اور دین پر ہماری پکڑ کو اور مضبوط کرے. آمین

Next Post

Previous Post

Leave a Reply

© 2019 Islamic Education

Theme by Anders Norén