Islamic Education

All About Islam

حجاب یا نقاب

Facebooktwittergoogle_plusredditpinterestlinkedinmailFacebooktwittergoogle_plusredditpinterestlinkedinmail

 

اسلام میں مرد اور عورت دونوں کو پردے کا حکم دیا گیا۔ مرد کا پردہ تو عام سا ہے مگر عورت کے پردے کو لے کر دو طرح کی رائے مفکرین میں پائی جاتی ہے ایک کے مطابق اسلام میں نقاب کا حکم ہے اور دوسری رائے کے مطابق اسلام صرف حجاب پر زور دیتا ہے۔ سب سے پہلے ہم خمر ، جلباب اور نقاب کے لغوی معنی سمجھتے ہیں تاکہ ہمیں ان اصطلاحات کو سمجھنے میں آسانی ہو سکے۔

نقاب  

۔ کسی چیز کے پیچھے مکمل طور پر چھپ جانا۔  

۔ اپنے اور دوسروں کے بیچ میں ایک پردہ حائل کر لینا۔  

خمر یا خمار 

 خمر سے مراد ہے وہ چیز جو ڈھک لے جیسے دوپٹہ یا اوڑھنی ۔

جلباب

جلباب ایک بڑی چادر یا کپڑے کو کہا جاتا ہے جو دوپٹے کے اوپر اوڑھا جاتا ہے تاکہ تمام جسم ڈھکا جائے۔   

پردے کا حکم 

پردے کا حکم قرآن کی 6000 سے زیادہ آیات میں صرف آدھی درجن آیات میں آیا ہے۔ قرآن کے نزول میں یہ حکم آخری احکامات  میں سے ایک ہے جو چوتھی ہجری کے آخر میں اتارا گیا۔ اس بات سے ثابت ہوتا ہے کہ قرآن کے دوسرے احکامات جیسے نماز، روزہ، زکوة، سچائی وہ احکامات ہیں جو زیادہ اہمیت کے حامل ہیں۔  

دور جہالت میں رائج طریقہ

دور جہالت میں لونڈیاں ننگے سر پھرتی تھیں مگر اونچے طبقے کی عورتیں اپنا سر اوڑھنی سے ڈھکتی تھیں مگر چھاتی ننگی ہوتی تھی۔ یہ ان کے مرتبے کی پہچان تھی ۔

نقاب لازم کہ مستحب

پردے کے معاملے میں مفکرین اور علما کی دو رائے ہیں۔ 

۔ ایک کے مطابق نقاب مستحب ہے۔ 

۔ دوسرے کے مطابق نقاب فرض ہے۔  

نقاب لازم

کچھ اسلامی علماء کے مطابق اسلام میں نقاب لازم ہے۔ اس کے چند دلائل یہ ہیں۔ 

  چہرہ خوبصورتی کا منبہ

جب انسان کسی کو دیکھتا ہے تو سب سے پہلی نظر اس کے چہرے پر ہی پڑتی ہے۔ انسانی چہرہ ہی اس کی خوبصورتی کا منبہ ہے اس لئے اگر اس کو نہ ڈھکا تو باقی جسم کے پردے کا کیا فائدہ۔  

  سورت احزاب آیت 59 

اس آیت میں مفکرین کے مطابق مراد ہے کہ اپنے چہرے کے آگے ایک چادر ڈال لیں تاکہ چہرہ کوئی اور نہ دیکھ سکے تو ان کی شناخت ہونا بھی ناممکن ہے اور اس طرح وہ بہت سی مشکلات اور پریشانیوں سے بچ جائیں گی۔  

  سورت نور آیت 31 سورت نور آیت 59 اور سورت احزاب آیت 55 

 اللہ نے فرمایا ہے کہ محرم مردوں، جس میں باپ، بھائی، بیٹا ، خاوند وغیرہ شامل ہیں، اور غلاموں اور نابالغ بچوں کے علاوہ سب مردوں سے اپنی زینت کو چھپاءو۔ تو اگر عورت کو نقاب کا حکم نہ ہوتا تو اس آیت کی ضرورت ہی پیش نہ آتی۔  

  سورت نور آیت 27

اللہ فرماتا ہے کہ کسی کے گھر میں بغیر اجازت داخل نہ ہو۔ اپنے گھر کی چار دیواری میں عورت بے پردہ ہوتی ہے تو اگر کوئی بغیر اجازت اندر داخل ہو جائے تو پردہ کا مقصد فوت ہو جائے گا۔ 

 سورت احزاب آیت 53

سورت احزاب کی آیت 53 میں اللہ فرماتا ہے کہ نبی کی بیویوں سے جب بات کرو تو پردے ک پیچھے سے بات کرو تاکہ تمھارے دل میں کوئی شک پیدا نہ ہو۔ اب اگر نبی کی بیوی پردہ کرے اور چہرہ ننگا ہو تو شک تو پیدا ہو گا۔ اس لئے اسلام میں چہرے کا پردہ لازم ہے۔ 

  سورت نور آیت 60

اس آیت میں اللہ بوڑھی عورتوں کو ذکر کرتا ہے کہ وہ نقاب نہ کریں تو گناہ نہیں ہے۔ کپڑے اتار پھینکنے سے مراد وہ کپڑا جو پردے کے طور پر اپنے اوپر ڈالتے ہیں۔ اس سے یہ مطلب ہرگز نہ لیا جائے کہ برہنہ ہو سکتی ہیں۔  

نقاب مستحب ہونے کے دلائل

کچھ مفکرین کی رائے میں نقاب مستحب ہے لازم نہیں۔ مستحب سے مراد وہ عمل ہے جو اگر کیا جائے تو ثواب ملے گا مگر اگر نہ بھی کیا جائے تو گناہ نہیں ہو گا۔ ان مفکرین کے دلائل درج زیل ہیں۔ 

  فرائض کا واضح ذکر قرآن سے ثابت

 ان کے مطابق اللہ نے تمام فرائض کا واضح ذکر قرآن پاک میں کیا ہے۔ جیسے نماز، روزہ، حج، ذکوۃ، وراثت وغیرہ۔ ان احکامات کا ماننا اور عمل کرنا لازم ہے۔ اس طرح جب اللہ نے پردے کا حکم دیا تو عورت کو اپنی اوڑھنی اپنے سر، شرم گاہ اور چھاتی پر ڈالنے کا حکم دیا۔ تو اس میں کوئی دو رائے نہیں ہونی چاہیئے کہ چہرے کا پردہ اسلام میں لازمی نہیں ہے۔  

 عورت کی چھاتی توجہ کا مرکز

ان مفکرین کی رائے میں ایک مرد کے لئے عورت کی چھاتی توجہ کا خاص مرکز ہوتی ہے۔ سائنس بھی اس بات کی تائید کرتی ہے کہ  68 فیصد مرد عورت کی چھاتی کو سب سے پہلے دیکھتے ہیں اور پھر اس کے چہرے کی طرف متوجہ ہوتے ہیں۔  

 حالت احرام  

مفکرین کے مطابق اسلام میں بہت سے چیزیں جو مستحب ہیں وہ حالت احرام میں حرام ہو جاتی ہیں مگر ایسا کوئی بھی حکم جو فرض ہے وہ حرام نہیں ہوتا۔ اس لئے اگر چہرے کا پردہ بھی اسلام میں فرض ہوتا تو وہ حالت احرام میں بھی عورت کو ڈھکنے کا حکم ہی ہوتا۔  

  دوران نماز منہ کا ننگا رکھنا 

اسلام میں نماز پڑھتے وقت عورت کا منہ ڈھکا نہیں ہونا چاہیئے۔ تو جب عورت مسجد میں غیر مردوں کے ساتھ نماز ادا کرے تو بھی بےپردگی کا ارتکاب ہوتا ہے۔ اس لئے چہرے کا پردہ فرائض کا حصہ نہیں ہے۔  

 چہرے میں سب سے خوبصورت آنکھیں 

 مفکرین کے مطابق انسانی چہرے میں سب سے زیادہ خوبصورت اس کی آنکھیں ہوتی ہے جو لوگوں کو اپنی طرف متوجہ کرتی ہیں۔ آنکھ کو شیطان کا تیر بھی کہا جاتا ہے تو جب پردے کے دوران عورت کی آنکھیں ہی  ظاہر ہوں تو باقی چہرے کے پردے کا کیا فائدہ۔ 

  سورت نور آیت31 

مفکرین کے مطابق اس آیت میں عورت کو واضع حکم ہے کہ اپنی اوڑھنی سے اپنی چھاتی ڈھک لیں اور شرم گاہوں کی حفاظت کرے اس زینت کے علاوہ جو نظر آجائے۔ تو اس سے مراد ہے کہ عورت کے جسم کے وہ حصے جو ظاہر ہوں جیسے اس کا چہرہ اور اس کے ہاتھ پاءوں۔ مگر پاءوں میں ٹخنے نظر نہیں آنے چاہیئے۔  

 سورت احزاب آیت 59 

اس آیت کے مطابق اللہ نے تمام عورتوں کو حکم دیا ہے کہ اپنے اوپر اپنی چادریں لٹکا لیں مطلب اپنا جسم ڈھک لیں۔ اور سر ڈھک لیں تاکہ ان کی شناخت ہو سکے۔  

  1. سورت نور آیت 60

اس آیت کے بارے میں مفکرین کی رائے ہے کہ اگر بڑی عمر کی عورت اپنا سر اور چھاتی نہ بھی ڈھکے تو وہ اس پابندی سے آزاد ہے۔  

 سورت احزاب آیت 53 

اس آیت کے بارے میں مفکرین کی رائے ہے کہ نبی کی بیویوں کا پردہ باقی امت مسلمہ کی عورتوں سے سخت تھا۔ ان کے گھر کی حدود میں بھی ان کے اور صحابہ کے درمیان ایک پردہ حائل ہوتا تھا۔  

 اس کے علاوہ مفکرین کی مشترکہ رائے یہی ہے کہ انسان کو اللہ کی قربت حاصل کرنے کے لئے اعمال کرنے چاہیئے اور ہمیشہ یہ کوشش کرنی چاہیئے کہ انسان اپنے اعمال سے اللہ کی زیادہ سے زیادہ قربت حاصل کرے۔تو اگر ایک عورت صرف اپنے اللہ کی خوشنودی کے لئے اپنا چہرہ بھی ڈھکے تو اس میں کوئی قباحت نہیں ہے۔  

 پردہ کہاں لازم ہے  ؟

 مفکرین کی مشترکہ رائے کے مطابق وہ جگہ جہاں عورت کے چہرہ نہ ڈھکنے  سے فتنہ ہونے کا ڈر ہو تو وہاں عورت کو لازم پردہ کرنا چاہیئے۔  مثلا اگر کسی علاقے میں عام رواج ہے چہرہ ڈھکنے کا اور نہ ڈھکنے سے فتنہ ہو سکتا ہے تو عورت کے لئے لازم ہے کہ حالات کی نزاکت کو سمجھے۔  

پردہ کہاں منع ہے 

مفکرین کی رائے میں اگر کسی جگہ چہرہ ڈھکنے سے فتنہ کا خطرہ ہو جیسے آج کل کافی ممالک میں عورت کے چہرہ ڈھکنے پر پابندی عائد ہو چکی ہے تو ایسی جگہ پر عورت کو چہرہ نہ ڈھکنا ہی فائدہ مند ہے۔ 

 

اگر اس مکالمے میں ہم سے کوئی غلطی یا کوتاہی ہوئی ہے تو براہ مہربانی غلطی کی نشاندہی کر کے ہماری اصلاح میں مدد کیجیئے۔ اللہ ہماری چھوٹی بڑی غلطیوں کو معاف فرمائے اور ہماری اس کاوش کو اپنی بارگاہ میں قبول و مقبول فرمائے۔اللہ اس کاوش کو ہمارے خاندان کے لئے نجات کا موجب بنائے اور دین پر ہماری پکڑ کو اور مضبوط کرے. آمین 

Next Post

Previous Post

Leave a Reply

© 2019 Islamic Education

Theme by Anders Norén