Islamic Education

All About Islam

الوہاب

Facebooktwittergoogle_plusredditpinterestlinkedinmailFacebooktwittergoogle_plusredditpinterestlinkedinmail

الوہاب کا مطلب ہے تحفہ ۔  الوہاب کے زریعے عطا کرنے کا مطلب وہ چیز عطا کرنا جو انسان کی روزمرہ کی ضروریات سے بڑھ کر ہو اور خاص چیز ہو۔   

الوہاب کا بیان 

قرآن پاک میں الوہاب کا مخصوص لفظ تو صرف تین دفعہ استعمال ہوا ہے. الوہاب اللہ کے ان مخصوص ناموں میں سے ہے جو تینوں دفعہ اکیلا استعمال ہوا ہے۔ حضرت سلیمان کی سلطنت کی وسعت، چرند ،پرند، جن و انس، ہوا، آب  سب ان کا حکم بجا لاتے تھے اور یہ معجزہ حضرت سلیمان کو اسی لفظ کے زریعے دعا مانگنے سے عطا کیا گیا تھا۔  

قرآن میں الوہاب کا استعمال 

قرآن پاک میں لفظ الوہاب 3 دفعہ استعمال ہوا ہے ۔ 

۔کہا اے میرے  ربمجھے بخش دے اور مجھے ایسا ملک عطا فرما جو میرے سوا   کسی ( شخص ) کے لائق نہ ہو تو بڑا ہی دینے والا ہے ۔ سورت ص آیت 35۔ 

اس آیت میں حضرت سلیمان کی دعا کا ذکر ہے جو انہوں نے اپنی وسیع و عریض          اور بے مثال سلطنت کے حصول کے لئے اللہ سے مانگی تھی۔  

۔یا  کیا ان کے پاس تیرے زبردست فیاض رب کی رحمت کے خزانے ہیں ۔ سورت ص آیت 9  

۔اے ہمارے ربہمیں ہدایت دینے کے بعد ہمارے دل ٹیڑھے نہ کر دے اور ہمیں    اپنے پاس سے رحمت عطا فرما ، یقیناً تو ہی بہت بڑی عطا دینے والا ہے ۔ سورت ال عمران آیت 8  

ہبہ

ہبہ ایک عربی لفظ ہے جس کا مطلب ہے تحفہ۔ الوہاب اسی لفظ سے اخذ کیا گیا ہے۔ اس لئے یہ نام خاص اولاد اور روحانی فوائد کے حصول کا ذریعہ ہے۔ قرآن پاک میں یہ لفظ بہت سی نعمتوں کی عطا کے موقع پر استعمال ہوا ہے 

قرآن میں لفظ ہبہ کا استعمال

سورت آل عمران میں جو اللہ کی خاص عطا کا ذکر ہے وہ حضرت عمران اور ان کی اولاد سے منصوب کیا گیا ہے۔ حضرت عمران بی بی مریم کے والد تھے۔ جن کی اولاد سے حضرت عیسی علیہ سلام کا سلسلہ آتا ہے۔ حضرت عمران کی بیوی نے اسی لفظ کی بدولت بی بی مریم جیسی نیک اولاد پائی تھی اور یہ اللہ کا ہبہ تھا۔

اس کے علاوہ حضرت زکریا کو اولاد کا ہبہ بھی اسی لفظ کی بنا پر ملا تھا۔ 

قرآنی آیات 

۔ اسی جگہ زکریا ( علیہ السلام ) نے اپنے رب سے دعا کی کہا کہ اے میرے پروردگار !مجھے اپنے پاس سے پاکیزہ اولاد عطا فرما بیشک تو دعا کا سُننے والا ہے ۔۔ سورت آل عمران آیت 38۔

اس آیت میں ہب لی کا لفظ ہبہ ہی ہے۔ 

۔ اور ہم نے داؤد کو سلیمان ( نامی فرزند ) عطا فرمایا ، جو بڑا اچھا بندہ تھا اور بےحد رجوع کرنے والا تھا ۔سورت ص آیت 30 

۔ اور ہم نے اسے اس کا پورا کنبہ عطا فرمایا بلکہ اتنا ہی اور بھی اسی کے ساتھ اپنی ( خاص ) رحمت سے ، اور عقلمندوں کی نصیحت کے لئے ۔سورت ص آیت 43

سورت ص کی اس  آیت میں حضرت ایوب کو اللہ کی عطا کا ذکر کیا گیا  ہے۔ 

۔ ہم نے اس کی دعا قبول فرما کر اسے یحیی ( علیہ السلام ) عطا فرمایا اور ان کی بیوی کو ان کے لئے درست کر دیا۔  یہ بزرگ لوگ نیک کاموں کی طرف جلدی کرتے تھے اور ہمیں لالچ طمع اور ڈر خوف سے پکارتے تھے ۔ ہمارے سامنے عاجزی کرنے والے تھے ۔ سورت انبیاء آیت 90

سورت انبیاء کی اس  آیت میں حضرت زکریا کی دعا کی قبولیت کا ذکر ہے۔  جس کے نتیجے میں انہیں حضرت یحیی بطور اولاد تحفے میں ملے۔ 

۔ اللہ کا شکر ہے جس نے مجھے اس بڑھاپے میں اسماعیل و اسحاق ( علیہا السلام ) عطا فرمائے۔  کچھ شک نہیں کہ میرا پالنہار اللہ دعاؤں کا سننے والا ہے ۔ سورت ابراہیم آیت 39

سورت ابراہیم کی اس آیت میں حضرت ابراہیم کو اولاد کا ہبہ دیا گیا ہے۔

۔ مجھے اپنے مرنے کے بعد اپنے قرابت والوں کا ڈر ہے۔  میری بیوی بھی بانجھ ہے پس تو مجھے اپنے پاس سے وارث عطا فرما ۔ سورت مریم آیت 5

اس آیت میں لفظ فھب لی ہبہ ہی ہے۔ 

جب ابراہیم ( علیہ السلام ) ان سب کو اور اللہ کے سوا ان کے سب معبودوں کو چھوڑ چکے تو ہم نے انہیں اسحاق و یعقوب ( علیہما السلام ) عطا فرمائے اور دونوں کو نبی بنا دیا ۔ سورت مریم آیت 49 

۔ اور ان سب کو ہم نے اپنی بہت سی رحمتیں عطا فرمائیں اور ہم نے ان کے ذکر جمیل کو بلند درجے کا کر دیا ۔ سورت مریم آیت 50 

۔ اور اپنی خاص مہربانی سے اس کے بھائی کو نبی بنا کر عطا فرمایا ۔ سورت مریم آیت 53۔

سورت مریم کی مندرجہ بالا آیت 53 میں حضرت موسی کا ذکر کیا گیا ہے۔ 

۔ پھر تم سے خوف کھا کر میں تم میں سے بھاگ گیا ۔  پھر مجھے میرے رب نے حکم و علم عطا فرمایا اور مجھے اپنےپیغمبروں میں سے کر دیا ۔ سورت الشعراء آیت 21۔

سورت الشعراء کی اس آیت میں بھی حضرت موسی کا ذکر کیا گیا ہے۔ اور فوہب لی کا لفظ بطور تحفہ استعمال کیا گیا ہے۔ 

۔ اور ہم نے انہیں ( ابراہیم کو ) اسحاق و یعقوب ( علیہما السلام ) عطا کئے ۔ اور ہم نے نبوت اور کتاب ان کی اولاد میں ہی کر دی اور ہم نے دنیا میں بھی اسے ثواب دیا۔  اور آخرت میں تو وہ صالح لوگوں میں سے ہے ۔ سورت العنکبوت آہت ۲۷

پس مندرجہ بالا آیات سے ثابت ہوتا ہے کہ اولاد اور دولت اللہ کا تحفہ ہے۔ وہ جسے چاہے عطا کرے اور جتنا چاہے عطا کرے۔ بس نیت نیک اور دل صاف ہونا چاہیئے۔

آسمانوں کی اور زمین کی سلطنت اللہ تعالٰی ہی کے لئے ہے ، وہ جو چاہتا ہے پیدا کرتا ہے جس کو چاہتا ہے بیٹیاں دیتا ہے جسے چاہتا ہے بیٹے دیتا ہے ۔ سورت الشوری آیت. 49

  

الوہاب کا وسیلہ  

الوہاب کا لفظ خاص اولاد کی نعمت کے حصول کے لئے استعمال کیا گیا ہے۔تمام بے اولاد افراد کے لئے یہ لفظ اللہ کا خاص تحفہ ہے۔۔بس مانگنے کی شرط یہ ہے کہ جو کچھ بھی مانگا جائے حلال ہونا چاہیئے۔ اولاد کے علاوہ روحانی اور دنیاوی فوائد کے لئے بھی اس لفظ کا ورد نہایت فائدہ مند ثابت ہوتا ہے۔  اولاد کے علاوہ دولت بھی اس نام کے وسیلہ سے مانگی جا سکتی ہے٫

 

اگر اس مکالمے میں ہم سے کوئی غلطی یا کوتاہی ہوئی ہے تو براہ مہربانی غلطی کی نشاندہی کر کے ہماری اصلاح میں مدد کیجیئے۔ اللہ ہماری چھوٹی بڑی غلطیوں کو معاف فرمائے اور ہماری اس کاوش کو اپنی بارگاہ میں قبول و مقبول فرمائے۔اللہ اس کاوش کو ہمارے خاندان کے لئے نجات کا موجب بنائے اور دین پر ہماری پکڑ کو اور مضبوط کرے. آمین  

Next Post

Previous Post

Leave a Reply

© 2019 Islamic Education

Theme by Anders Norén