Islamic Education

All About Islam

المہیمن

Facebooktwittergoogle_plusredditpinterestlinkedinmailFacebooktwittergoogle_plusredditpinterestlinkedinmail

 

 المہیمن اللہ تعالیٰ کاساتواں نام ہے۔ تمام دوسری خصوصیات کی طرح اس نام کے بھی اپنے فوائد ہیں۔ مہیمن لفظ قرآن پاک کے لئے بھی استعمال کیا گیا ہے۔اس نام کا مطلب فوائد اور باقی تفصیل درج ذیل ہے۔

المہیمن کا مطلب

المہیمن کے بہت سے مطلب ہیں جو درج ذیل ہیں۔

محافظ

المہیمن کا سب سے پہلا مطلب ہے محافظ۔ اس سے مراد ہے کہ اللہ تعالیٰ انسان اور اس کائنات میں بسنے والی تمام مخلوق کا محافظ ہے۔

شاہد

المہیمن کا ایک مطلب شاہد ہونا بھی ہے۔ اس سے مراد ہے کہ اللہ تعالیٰ انسان کے ہر کام کا شاہد ہے۔ وہ جانتا ہے کہ دنیا کا ہر انسان ہر پل کیا کر رہا ہے۔ چاہے وہ کام کھلا کیا جائے یا چھپ کر مگر اللہ تعالٰی سے نہیں چھپ سکتا۔.

نگہبان

اس سے مراد ہے کہ اللہ تعالیٰ سب کا نگہبان ہے۔ وہ ہر پل ہر کسی کی حفاظت کرتا ہے۔ جب انسان اپنی ماں کے رحم میں ہوتاہے تب بھی اللہ تعالیٰ ہی اس کی حفاظت کرتا ہے۔ اللہ تعالیٰ ہی انسان کی تمام ضروریات کو پورا کرنے والا بھی ہے۔

منتظم

المہیمن کا مطلب ہے وہ جو ہر کام کو خوش اسلوبی سے سر انجام دے۔ اس کائنات کی ہر شے ہر پل اللہ تعالیٰ پر انحصار کرتی ہے۔ وہ ہر چیز کا منتظم ہے۔

یاد رکھنے والا

اس سے مراد ہے کہ اللہ تعالیٰ انسان کے ہر کام کو یاد رکھتا ہے چاہے وہ اچھا ہو یا برا، بڑا ہو یا چھوٹا۔ انسان کا کوئی بھی عمل اللہ تعالیٰ کے یہاں ضائع نہیں ہوتا۔.

قابل یقین

اس سے مراد ہے کہ اللہ تعالیٰ قابل اعتبار ہے اور اس کا دیا گیا ہر حکم بھی قابل اعتبار ہے انسان اپنی زندگی کا ہر معاملہ اگر اللہ کے سپرد کر دے تو پھر اس کی کامیابی اور کامرانی میں کوئی شک نہیں رہے گا۔

مشاہدہ کرنے والا

اس سے مراد ہے کہ اللہ تعالیٰ بہترین مشاہدہ کرنے والا ہے۔ وہ انسان کا ہر عمل بغور دیکھتا ہے اور اس کا مشاہدہ کرتا ہے۔

اونچا

اس سے مراد ہے کہ اللہ تعالیٰ سب سے اونچا اور افضل ہے۔

المہیمن کی وضاحت

المہیمن کا لفظ قرآن مجید میں صرف ایک بار استعمال ہوا ہے۔ اللہ تعالیٰ محافظ، شاہد، منتظم، مشاہدہ کرنے والا ہے۔ اگر انسان کو اللہ تعالیٰ سے گہرا تعلق قائم کرنا ہے تو اسے چاہیے کہ اللہ تعالیٰ کے احکامات پر عمل کرے اور اس طرح اللہ تعالیٰ اس انسان کو اپنی حفاظت میں رکھیں گے۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید کو بھی مہیمن کہا ہے کیونکہ وہ بھی انسان کا محافظ، شاہد، اور قابل اعتبار ہے۔

اللہ تعالیٰ سے جڑنے کا زریعہ بھی ہے قرآن مجید۔ اسی طرح مہیمن حضرت محمد صل اللہ علیہ وسلم کو بھی کہا گیا ہے کیونکہ وہ انسانی شکل میں اللہ تعالیٰ کا بھیجا ہوا دین ہیں۔ ان سے جڑنا بھی اللہ تعالیٰ سے جڑنے کی ضمانت ہے۔.

قرآن بطور مہیمن

قرآن مجید اللہ تعالیٰ کی کتاب ہے اور اس کے سچے ہونے میں کوئی شک نہیں ہے۔ یہ تمام آسمانی کتابوں سے اونچی ہے اور انسان کی محافظ اور اس کے بیک ہونے کی شاہد ہے۔ قیامت والے دن قرآن مجید انسانی شکل میں آ کر انسان کے نیک ہونے کی گواہی دے گا۔ قرآن انسان، گزشتہ قوموں اور گزشتہ کتابوں کا مشاہدہ بھی رکھتا ہے۔

اور ہم نے آپ کی طرف حق کے ساتھ یہ کتاب نازل فرمائی ہے جو اپنے سے اگلی کتابوں کی تصدیق کرنے والی ہے اور ان کی محافظ ہے سورت المائدہ آیت 48

نبی صلی اللہ علیہ وسلم بطور مہیمن

قرآن کتابی شکل میں اللہ تعالیٰ کا دین ہے جبکہ ہمارے پیارے نبی اکرم صل اللہ علیہ وسلم انسانی روپ میں اللہ تعالیٰ کا دین ہیں۔ تو جس طرح وہ کتاب مہیمن ہے اور لوگوں کی محافظ ہے اسی طرح ہمارے نبی کریم کی سبنت پر عمل بھی انسان کے لئے بھی حفاظت کا باعث ہے۔

المہیمن کا مقصد

المہیمن لفظ انسان. کو ترغیب دیتا ہے کہ جب کسی انسان کو کوئی خاص مقام حاصل ہو تو اسے اس مقام اور رتبے کی قدر کرنی چاہیئے اور انسان کے لئے آسانی پیدا کونی چاہیئے نہ کہ مشکل رتبے والے انسان کو اچھا، شفیق اور خاد ترس ہونا چاہیئے۔

ملتے جلتے نام

الرقیب  سے مراد سے عمل سے واقف

الوکیل سے مراد قابل اعتبار

الحفیظ سے مراد محافظ

المانع سے مراد مشکلات سے بچانے والا

المومن جو امن پھیلاتا ہو

المہیمن کا ثبوت

سورت الحشر کی آیت نمبر 23 میں اللہ نے فرمایا

وہی اللہ ہے جس کے سوا کوئی معبود نہیں بادشاہ نہایت پاک سب عیبوں سے صاف امن دینے والا نگہبان غالب زورآور اور بڑائی والا پاک ہے اللہ ان چیزوں سے جنہیں یہ اس کا شریک بناتے ہیں ۔

اس آیت میں نگہبان سے مراد المہیمن ہے. اس کے علاوہ سورت المائدہ کی آیت 48 میں قرآن کع مہیمن کہا گیا ہے.

المہیمن سے دعا کا وسیلہ

جس انسان کو اللہ کی جانب سے حفاظت اور خداترسی کی طلب ہو وہ اس نام کا بےحساب ورد کرے. اس کے علاوہ اس نام کے جتنے بھی مطلب ہیں ان تمام سے فوائد اٹھانے کے لئے بھی المہیمن کا ورد فائدہ مند ثابت ہوتا ہے۔

 

اگر اس مکالمے میں ہم سے کوئی غلطی یا کوتاہی ہوئی ہے تو براہ مہربانی غلطی کی نشاندہی کر کے ہماری اصلاح میں مدد کیجیئے۔ اللہ ہماری چھوٹی بڑی غلطیوں کو معاف فرمائے اور ہماری اس کاوش کو اپنی بارگاہ میں قبول و مقبول فرمائے۔اللہ اس کاوش کو ہمارے خاندان کے لئے نجات کا موجب بنائے اور دین پر ہماری پکڑ کو اور مضبوط کرے. آمین

Next Post

Previous Post

Leave a Reply

© 2019 Islamic Education

Theme by Anders Norén