Islamic Education

All About Islam

الملک

Facebooktwittergoogle_plusredditpinterestlinkedinmailFacebooktwittergoogle_plusredditpinterestlinkedinmail

الملک کا مطلب

الملک کا مطلب ہے بادشاہ۔ اس کا مطلب ہے کہ اللہ اس تمام کائنات کا مالک ہے اور اس کائنات کی ہر چیز اللہ کے ہی قبضے میں ہیں

مخلوق کا مالک

اللہ تمام مخلوق کا مالک ہے انسان، جانور، چرند، پرند سب اس کی مخلوق یے

اعمال کا مالک

اس کائنات کی تمام مخلوق کے تمام اعمال بھی اللہ ہی کی ملکیت ہیں

زمین و آسمان کا مالک

اللہ اس ذمین اور آسمان اور نمام کائنات  کا بھی مالک ہے

قیامت کا مالک

اللہ روذ حشر کا بھی مالک ہے

غیبی مخلوق کا مالک

انسانی آنکھ سے دکھائی نہ دی جانے والی مغلوق بھی اللہ کی ہی ملکین میں ہے

جنت اور جہنم کا مالک

اس کائنات کے علاوہ اللہ دوزخ اور جنت کا بھی مالک ہے

عزت اور زلت کا مالک

کائنات کی تمام اشیاء کی طرح عزت اور زلت بھی اللہ ہی کی ملکیت ہے

جزا اور سزا کا مالک

اللہ ہی کے اختیار میں ہے انسان کی جزا اور سزا

زندگی اور موت کا مالک

وہی رب زندگی کا مالک ہے اور وہی موت پر اختیار رکھتا ہے

مالک یوم الدین سے مراد

 ملک یوم الدین سے مراد ہے قیامت کے دن کا مالک۔  اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ دن خاص اللہ کی قدرت کا دن ہو گا۔ اس دن اللہ انسان کو اس کے کئے گئے اعمال کے لئے جزا اور سزا دے گا۔ قیامت کے دن اللہ کی مرضی ہو گی کہ وہ کس کے گناہ معاف کر دے اور کس کی نیکیاں ضائع کر دے

الملک کی خصوصیت

مفسرین کی رائے میں الملک صرف وہ ہو سکتا ہے جو عمل کی طاقت رکھتا ہو۔اللہ کے سوا کون ہے جو اپنی مرضی سے عمل کر سکتا ہو۔ انسان اپنے ہر عمل کے لئے اللہ کی مرضی کا محتاج ہے۔ 

انسان کی ملکیت

دنیا میں انسان بہت سی چیزوں کو اپنی ملکیت قرار دیتا ہے ۔  مگر اللہ نے صرف وقتی طور پر اپنی ملکیت کا کچھ حصہ اپنی مرضی سے انسان کے سپرد کیا ہوتا ہے۔ جو اس کی موت کے ساتھ ہی آگے اس کی اولاد میں منتقل کر دی جاتی ہے ۔ اس  کا مطلب ہے کہ انسان کی کوئی بھی مستقل اور حقیقی ملکیت نہیں ہے۔

انسانی بادشاہ

 دنیا میں بہت سے لوگوں کو اللہ نے بادشاہت عطا کی مگر وہ بھی اللہ کی بادشاہت کا ہی ایک حصہ ہے اور اس دنیا میں عطا کی جانے والی بادشاہت اللہ قیامت کے دن واپس لے لے گا اور انسان کو اپنی ملکیت میں ہونے والی ہر چیز کا اور ہر فعل کا حساب اللہ کے حضور دینا ہو گا۔

ملائکہ سے مراد

قرآن پاک میں فرشتوں کے لئے لفظ ملائکہ استعمال کیا گیا ہے۔ جو کہ ملک سے اخذ کیا گیا ہے۔ ملائکہ سے مراد اللہ کی بنائی گئی وہ مخلوق ہے جو اللہ کی عطا کی گئی طاقت سے اللہ کے منتخب کردہ احکام بجا لاتے ہیں۔ فرشتے اللہ کے تفویض کردہ  کام اس کے حکم سے اور اس کے مقرر کردہ وقت پر بجا لاتے ہیں۔ اس بات کا ہرگز یہ مطلب نہیں ہے کہ اللہ فرشتوں سے اپنی بادشاہت بانٹتا ہے بلکہ فرشتے اللہ کی اجازت سے اور اسی کے حکم سے وہ کام اس کی سرپرستی میں سرانجام دیتے ہیں۔

حضرت سلیمان کی حکومت کا بیان

اس کائنات میں حضرت سلیمان ایک واحد بادشاہ تھے جنہیں اللہ نے تمام زمینی مخلوق اور اشیاء پر حکومت کا اختیار دیا ہوا تھا۔ تمام جن و انس، ہوا ،پرندے ، حشرات،درخت سب ان کی حکومت کا حصہ تھے اور ان کا حکم بجا لاتے تھے۔

سورت النمل کی آیت نمبر  15 سے آیت نمبر 44 تک اللہ نے حضرت سلیمان کی سلطنت کی وسعت کا ذکر کیا ہے۔ حضرت سلیمان کو جو بادشاہت نوازی گئی وہ بھی درحقیقت اللہ ہی کی بادشاہت میں ہیں مگر وقتی طور پر انہیں حضرت سلیمان کے سپرد کیا گیا تھا۔ اس بات کا ہرگز یہ مطلب نہیں لینا چاہیئے کہ یہ تمام اشیاء اور مخلوقات اللہ کے حکم کی تابع ہونے کی بجائے حضرت سلیمان کا حکم مانتی تھیں بلکہ زمیں کی تمام اشیاء اور مخلوقات اللہ کے حکم سے حضرت سلیمان کا حکم بجا لاتی تھیں۔

اگر اس مکالمے میں ہم سے کوئی غلطی یا کوتاہی ہوئی ہے تو براہ مہربانی غلطی کی نشاندہی کر کے ہماری اصلاح میں مدد کیجیئے۔ اللہ ہماری چھوٹی بڑی غلطیوں کو معاف فرمائے اور ہماری اس کاوش کو اپنی بارگاہ میں قبول و مقبول فرمائے۔اللہ اس کاوش کو ہمارے خاندان کے لئے نجات کا موجب بنائے اور دین پر ہماری پکڑ کو اور مضبوط کرے. آمین  

اللہ کی  ملکیت کا فرق

۔ اللہ اور انسان کی ملکیت میں بہت واضح فرق ہے

۔ انسان کو اپنے بقا کے لئے اللہ کی مدد کی ضرورت ہے جبکہ اللہ کو اپنے کسی کام کے لیے انسان کی ضرورت نہیں ہے۔

۔ انسان کو جو بھی چیز عطا کی وہ اللہ نے عطا کی ہے جبکہ تمام چیزیں اللہ نے ہی تخلیق کی ہیں۔

۔ انسان کو اپنے کام کرنے کے لئے محنت اور وقت درکار ہے مگر اللہ کو نہیں

۔ اس دنیا کی تمام اشیاء تب بھی اللہ کی ملکیت تھی جب ان کا وجود بھی نہیں تھا اور رہتے دم تک اسی کی ملکیت رہیں گی۔

۔ انسان کو مددگار کی ضرورت پڑتی ہے جبکہ اللہ کو مددگار کی ضرورت نہیں ہے۔

۔ اللہ اس دنیا کے علاوہ آخرت کا بھی مالک ہے۔

۔ اللہ کی ملکیت کا اندازہ لگانا انسانی زہن کی حدود سے بہت پرے ہے کیونکہ اللہ صرف ظاہر ہی نہیں بلکہ باطن کا بھی مالک ہے۔

۔ اللہ کی ملکیت فنا سے پاک ہے۔

۔ اللہ کی ملکیت میں کوئی اس کا شریک نہیں ہے

۔ اللہ کی ملکیت میں جو کچھ بھی ہے وہ اس کے ہر پل کی خبر رکھتا ہے۔ دوسرے انسانی بادشاہوں کی ملکیت میں وہی کام ان کے علم میں ہوتے ہیں جو ان کی نظروں کے سامنے کیے جائیں یا جو ان کے علم میں لائے جائیں۔

قرآن میں الملک کا استعمال

قرآن پاک میں الملک کا استعمال عظیم اور قدوس کے ساتھ ہوا ہے۔ اس کا مقصد یہ ہے کہ اللہ صرف مالک ہی نہیں بلکہ بہت عظیم مالک ہے۔ وہ ہر طرح کی شرکت سے پاک مالک ہے۔ 

قرآن سے الملک کا ثبوت

۔ ویسے تو اس کائنات کی ہر چیز ہی اللہ کی ملکیت کا منہ بولتا ثبوت ہے مگر اس کے علاوہ بھی قرآن پاک میں بہت جگہ اللہ کے الملک ہونے کا ذکر آیا ہے۔

۔ راستی اور عزت کی بیٹھک میں قدرت والے بادشاہ کے پاس ۔ سورت القمر آیت 55

۔ اسکے سوا کوئی معبود برحق نہیں وہی عظمت والے عرش کا مالک ہے ۔ سورت  النمل آیت 26۔

۔ بدلے کے دن ( یعنی قیامت ) کا مالک ہے ۔ سورت فاتحہ آیت 3۔

۔ لوگوں کے مالک کی ( اور )۔ سورت الناس آیت 2

المالک سے دعا کا وسیلہ

المالک اللہ کی ملکیت کو ظاہر کرتا ہے تو اس نام کے ذریعے اللہ سے رزق، دولت، معافی، طاقت طلب کی جا سکتی ہے۔

اگر اس مکالمے میں ہم سے کوئی غلطی یا کوتاہی ہوئی ہے تو براہ مہربانی غلطی کی نشاندہی کر کے ہماری اصلاح میں مدد کیجیئے۔ اللہ ہماری چھوٹی بڑی غلطیوں کو معاف فرمائے اور ہماری اس کاوش کو اپنی بارگاہ میں قبول و مقبول فرمائے۔اللہ اس کاوش کو ہمارے خاندان کے لئے نجات کا موجب بنائے اور دین پر ہماری پکڑ کو اور مضبوط کرے. آمین 

Next Post

Previous Post

Leave a Reply

© 2019 Islamic Education

Theme by Anders Norén