Islamic Education

All About Islam

اللہ، اسمِ اعظم

Facebooktwittergoogle_plusredditpinterestlinkedinmailFacebooktwittergoogle_plusredditpinterestlinkedinmail

 

اللہ ایک ایسا نام ہے جو اللہ کی شان اور اس کی ذات کے لیے مخصوص ہے اسلامی سکالرز کی

  یہ رائے میں یہ اسم اعظم ہے۔

اللہ کا مطلب

اللہ  کے مطلب کو لے کر مختلف مفسرین کی مختلف رائے ہے۔ کچھ مفسرین کی  رائے میں اللہ کے کوئی معنی نہیں ہیں۔ مگر یہ رائے ضعیف قرار دی جاتی ہے۔ احسن رائے کے مطابق اللہ  نام کے 18 معنی ہیں جن میں سے 6 مطلب سب سے زیادہ اہمیت کے حامل ہیں۔

۔ وہ اکیلا جسے سب دل کی گہرائیوں سے چاہتے ہیں۔

۔ وہ اکیلا جس کی طرف سب پلٹتے ہیں جب وہ مصیبت میں ہوتے ہیں۔

۔وہ ذات جس کی یاد سے دل کو سکون مہیا ہو۔

۔ وہ ذات جس کی قدرت کو دیکھ کر سب حیرت میں مبتلا ہو جائیں۔

۔ وہ ذات جس کے نام پر سب اکٹھا ہو جائیں۔

۔ وہ ذات جو انسان کے تصور سے باہر ہے۔ 

لفظ اللہ کا اسلام سے پہلے وجود

لفظ اللہ کا وجود اسلام اور قرآن کے وجود سے بہت پہلے وجود میں آ چکا تھا۔ اس نام کا ذکر پہلی آسمانی کتابوں  میں بھی کیا گیا ہے۔ پہلے زمانے کے لوگ بھی اللہ کو مانتے تھے مگر اس کے شریک ٹھہراتے تھے۔ قریش بھی  اپنے بہت سے  ناموں کے ساتھ اللہ کا لفظ استعمال کرتے تھے جیسے عبداللہ ۔ پہلے مذاہب میں اللہ کا نظریہ یہ تھا کہ وہ خداءوں کا خدا ہے۔ سب سے تعجب کی بات یہ تھی کہ باقی تمام خداءوں کے بت تراشنے والوں نے کبھی اللہ کے نام پر کوئی بت نہیں تراشا۔

اللہ کا عربی زبان میں استعمال

لفظ اللہ عربی زبان کا لفظ ہے۔ جب عربی کے کسی لفظ میں دو لام اکٹھے آئیں تو اس کا تلفظ مختلف ہوتا ہے مگر اللہ میں استعمال ہوئے دو لام کا بھاری آواز میں ادا کیا جاتا ہے۔ عربی زبان میں جس لفظ کو بھاری کر کے ادا کیا جائے اس کا مقصد اس لفظ کے زریعے عزت اور احترام ظاہر کرنا ہوتا ہے۔ پس اللہ لفظ کی ادائیگی میں ہی عزت اور احترام کا عنصر شامل ہے۔

لفظ اللہ کی باقی ناموں پر فضیلت

اللہ کا لفظ قرآن میں 3500  سے زیادہ دفعہ استعمال ہوا ہے۔ قرآن پاک کی شروعات بھی اسی لفظ سے ہوتی ہے

۔ بِسۡمِ اللّٰہِ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِ

شروع کرتا ہوں اللہ تعا لٰی کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے ۔

اور قرآن کے اختتام میں بھی اسی کا استعمال ہوا ہے۔

۔ اِلٰہِ  النَّاسِ ۙ۔

لوگوں کے معبود کی ( پناہ میں )۔ سورت الناس آیت 3۔

اس آیت میں الہ کا مطلب اللہ ہے۔

قرآن  مجید سے اللہ کا بیان

۔ اللہ تعالیٰ، فرشتے اور اہل علم اس بات کی گواہی دیتے ہیں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور وہ عدل کو قائم رکھنے والا ہے ، اس غالب اور حکمت والے کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں  سورت آل عمران آیت 18۔

۔ جس روز اللہ تعالٰی تمام پیغمبروں کو جمع کرے گا ، پھر ارشاد فرمائے گا کہ تم کو کیا جواب ملا تھا، وہ عرض کریں گے کہ ہم کو کچھ خبر نہیں تو ہی بے شک پوشیدہ باتوں کو پورا جاننے والا ہے۔ سورت مائدہ آیت 109

۔ قُلۡ ہُوَ  اللّٰہُ  اَحَدٌ  ۔

آپ کہہ دیجئے کہ وہ اللہ تعالٰی ایک ( ہی ) ہے ۔ سورت اخلاص آیت 1

۔ اَللّٰہُ  الصَّمَدُ ۚ۔

اللہ تعالٰی بے نیاز ہے ۔ سورت اخلاص آیت 2۔

     اللہ کے نام کا وسیلہ

اللہ نام بہت ہی فضیلت کا حامل ہے۔ اسلام کے چار بنیادی اذکار جو کہ درج زیل ہیں ان میں بھی یہی نام استعمال ہوا ہے۔

۔ سبحان اللہ والحمدللہ ولا الہ الا اللہ واللہ  اکبر

 احادیث میں اللہ کے پیارے نبی نے اسم اعظم کا ذکر کیا ہے اور وہ اسم اعظم اللہ کے 99 ناموں میں سے ہی ایک نام ہے مگر اس نام کو افشاں نہیں کیا گیا۔ مفکرین کی قوی رائے یہی ہے کہ وہ اسم اعظم لفظ اللہ کے علاوہ اور کوئی نہیں ہے۔ کیونکہ قرآن کی ہر دعا اور ذکر میں یہ شامل ہے۔

اسم اعظم کے ذریعے دعا مانگنے کی وجہ یہ ہے کہ اللہ اس نام کے وسیلے سے مانگی گئی دعا کبھی رد نہیں کرے گا۔۔اللہ کی ہر صفت اس نام میں موجود ہے تو اس نام کے توسط سے ہر دعا کی جا سکتی ہے۔ مطلب ہر مانگنے والے کی حاجت روا ہوتی ہے۔

 

 اگر اس مکالمے میں ہم سے کوئی غلطی یا کوتاہی ہوئی ہے تو براہ مہربانی غلطی کی نشاندہی کر کے ہماری اصلاح میں مدد کیجیئے۔ اللہ ہماری چھوٹی بڑی غلطیوں کو معاف فرمائے اور ہماری اس کاوش کو اپنی بارگاہ میں قبول و مقبول فرمائے۔اللہ اس کاوش کو ہمارے خاندان کے لئے نجات کا موجب بنائے اور دین پر ہماری پکڑ کو اور مضبوط کرے. آمین

Previous Post

Leave a Reply

© 2019 Islamic Education

Theme by Anders Norén