Islamic Education

All About Islam

العزیز

Facebooktwittergoogle_plusredditpinterestlinkedinmailFacebooktwittergoogle_plusredditpinterestlinkedinmail

  العزیز اللہ کے ننانوے ناموں میں سے ایک نام ہے۔ یہ اللہ کی صفات میں سے ایک صفت ہے جس کے معنی ہیں طاقتور۔ ایک ایسی ہستی جو سب پر غالب ہے، جسے کوئی نقصان نہیں پہنچا سکتا۔ العزیز کی صفت اللہ کے محافظ ہونے پر بھی دلیل ہے۔ یہ اس بات کا ضامن ہے کہ اللہ جو کہ زمین آسمان کا بادشاہ ہے کسی میں اتنی مجال نہیں کہ اسکی بادشاہی سے باہر نکل سکے۔

العزیز کے مفکرین کی رائے میں مختلف معنی ہیں۔

طاقتور۔ اس کو کوئی نقصان نہیں پہنچا سکتا اور نہ ہی اس کی بادشاہی سے کوئی باہر نکل سکتا ہے۔

سب کا محافظ.

غالب ہونا.

۔  سب سے زیادہ زور آور ۔

۔  بیش قیمتی  اور نایاب ۔

۔  بہت عالی نصب اور عظیم۔

۔  پر وقار۔

۔  عزت والا.

۔  اپنے ماننے والے کو مشکل میں دیکھنا پسند نہیں کرتا۔

 

العزیز کی لازم خصوصیات

مفکرین کی رائے میں العزیز کی تین خصوصیات ہیں جن کا اس شخصیت میں ہونا لازم ہے جس کو العزیز کہا جائے۔

نایاب ہونا

العزیز ہونے کے لئے نایاب ہونا یا قیمتی ہونا لازم ہے۔وہ شخصیت جو آپکی دسترس میں ہو اور جس سے ملاقات آسان ہو وہ نایاب نہیں ہو سکتا۔

جس کی ضرورت ہو

العزیز ہونے کے لئے لازم ہے کہ دوسروں کو  اس کی ضرورت ہو۔ انسان اپنے ہر کام کے لئے اللہ کا محتاج ہے۔ اسے اپنی ہر سوچ کو پایہ تکمیل تک پہنچانے کے لئے اللہ کے ساتھ کی ضرورت ہے۔

حصول مشکل ہو

العزیز کی ایک یہ بھی خصوصیت ہے کہ اس کا حصول آسان نہ ہو۔ اللہ  ہر انسان کو میسر ہے مگر اس تک رسائی اور اس سے اپنی دعا منوانے کا طریقہ ہر کسی کو نہیں آتا۔

قرآن سے العزیز کا ثبوت 

اللہ کی مدد سے وہ جس کی چاہتا ہے مدد کرتا ہے اصل غالب اور مہربان وہی ہے ۔

سورة الروم آیت 5 ۔

اے ہمارے رب! تو ہمیں کافروں کی آزمائش میں نہ ڈال اور اے ہمارے پالنے والے ہماری خطاؤں کو بخش دے ، بیشک تو ہی غالب حکمت والا ہے ۔ سورت الممتنہ آیت 5

اللہ تعالٰی اپنے بندوں پر بڑا ہی لطف کرنے والا ہے، جسے چاہتا ہے کشادہ روزی دیتا ہے اور وہ بڑی طاقت بڑے غلبہ والا ہے ۔ سورت الشوری آیت 19 

العزیز کا باقی ناموں کے ساتھ استعمال

:العزیز اللہ کے ان 5 ناموں میں سے ایک ہے جو قرآن میں سب سے زیادہ استعمال ہوا ہے۔ یہ نام قرآن مجید میں 92 دفعہ استعمال ہوا ہے۔ قرآن پاک میں العزیز کا استعمال الحکیم، الرحیم، الغفور اور الغفار کے ساتھ ہوا ہے۔

العزیز الحکیم

 العزیز الحکیم قرآن میں اکٹھا 50 دفعہ استعمال ہوا ہے۔ اس کے اکٹھے استعمال کی سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ جب کسی شخص کے پاس طاقت ہوتی ہے تو وہ اس کا غلط استعمال کرتا ہے  اور طاقت کے ساتھ ان کی دانائی ختم ہو جاتی ہے۔مگر اللہ کی زات نہ صرف لامحدود طاقت کا منبع ہے بلکہ  وہ لامحدود حکمت بھی رکھتا ہے۔ اس کے تمام کاموں میں حکمت کا خاص عمل دخل ہے اور اس کا کوئی کام حکمت سے خالی نہیں ہے۔

العزیز الرحیم

قرآن میں العزیز الرحیم کا اکٹھا استعمال 13 دفعہ ہوا ہے۔ طاقت اگر بشر کے پاس ہو تو اس کا دل سخت کر دیتی ہے۔ مگر اللہ طاقت کے ساتھ ساتھ رحمت کا بھی منبع ہے۔ اللہ عزیز ہونے کے ساتھ رحیم بھی ہے اور وہ اس طاقت کی وجہ سے اپنی رحمت میں کمی نہیں ہونے دیتا۔

العزیزالغفار ،العزیز الغفور

قرآن پاک میں العزیز کا استعمال الغفور اور الغفار کے ساتھ بھی ہوا ہے۔ کیونکہ جس کے پاس طاقت ہوتی ہے وہ معاف کرنا بھول جاتا ہے مگر اللہ  وہ طاقت والی زات ہے جو طاقت ہونے کے باوجود اپنی مخلوق کو معاف کرتا ہے۔

العزیز کون؟

اللہ بطور العزیز

قرآن پاک میں العزیز کا لفظ اللہ کی زات کے لئے استعمال ہوا ہے ۔ قرآن میں اللہ کو رب العزت بھی کہا گیا ہے۔

 قرآن بطور کتاب العزیز

قرآن کی ایک آیت میں اسے کتاب العزیز کہا گیا ہے کیونکہ یہ کتاب انسان کو مشکل پریشانیوں سے محفوظ رکھتی ہے۔ برائیوں سے اور تکالیف سے انسان کی حفاظت کرتی ہے۔ یہ کتاب خود بھی کسی تبدیلی اور اضافے سے  اپنی حفاظت کرتی ہے۔

حضرت محمد بطور عزیز

اللہ نے حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو بھی عزیز کا نام دیا ہے کیونکہ آپکی پوری زندگی قرآن کا عملی روپ ہے تو جب وہ کتاب العزیز ہے تو اس کا عملی روپ کیسے عزیز نہیں ہو گا۔

انسان بطور عزیز

قرآن کی ایک آیت میں انسان کو بھی عزیز کہا گیا ہے۔

بادشاہ نے پوچھا اے عورتوں ! اس وقت کا صحیح واقعہ کیا ہے جب تم داؤ فریب کرکے یوسف کو اس کی دلی منشا سے بہکانا چاہتی تھیں انہوں نے صاف جواب دیا کہ معاذاللہ ہم نے یوسف میں کوئی برائی نہیں پائی ، پھر تو عزیز کی بیوی بھی بول اٹھی کہ اب تو سچی بات نتھر آئی میں نے ہی اسے ورغلایا تھا ، اس کے جی سے ، اور یقیناً وہ سچوں میں سے ہے ۔  سورت یوسف آیت 51

دعا کا وسیلہ

اس نام کے ذریعے کمزور کو طاقت ، کناہ گار کو معافی طلب کرنی چاہیئے۔ یہ نام اللہ کا رحم پانے کا بھی وسیلہ ہے۔ خوف کے وقت پڑھنے سے اللہ خوف کو دور کرتا ہے۔ اس نام کے ذریعے اللہ عزت بخشتا ہے۔ بے سکونی میں سکون فراہم کرتا ہے۔

 

اگر اس مکالمے میں ہم سے کوئی غلطی یا کوتاہی ہوئی ہے تو براہ مہربانی غلطی کی نشاندہی کر کے ہماری اصلاح میں مدد کیجیئے۔ اللہ ہماری چھوٹی بڑی غلطیوں کو معاف فرمائے اور ہماری اس کاوش کو اپنی بارگاہ میں قبول و مقبول فرمائے۔اللہ اس کاوش کو ہمارے خاندان کے لئے نجات کا موجب بنائے اور دین پر ہماری پکڑ کو اور مضبوط کرے. آمین 

Next Post

Previous Post

Leave a Reply

© 2019 Islamic Education

Theme by Anders Norén