Islamic Education

All About Islam

السلام

Facebooktwittergoogle_plusredditpinterestlinkedinmailFacebooktwittergoogle_plusredditpinterestlinkedinmail

 

 اسلام ایک سلامتی والا دین ہے اور سلامتی کا ہی درس دیتا ہے۔ اسلام اور مسلمان کو لوگ شر پسند سمجھتے ہیں جو کہ ایک غلط نظریہ ہے۔ اسلام سلامتی والا دین ہے اس کے بےشمار اور واضح ثبوت یہ ہیں

السلام کا مطلب

 السلام کے دو مطلب ہیں۔

امن یا سلامتی

السلام کا ایک مطلب ہے امن اور سلامتی والا ۔ اس میں لوگوں کو امن دینا اور امن پھیلانا دونوں شامل ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں اور اپنی تمام مخلوق کو امن اور سلامتی کا درس دیا ہے اور سلامتی پھیلانے کا حکم بھی دیا ہے۔

کامل ہونا

السلام کا ایک مطلب ہے کامل ہونا۔ اس کا مطلب ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے ہر کام اور عمل میں کامل ہے ۔ اللہ تعالٰی انسان کو کامل حفاظت، کامل رحمت، کامل آسانیاں فراہم کرتا ہے۔

 

اللہ سلامتی والا

اللہ کا نام السلام جس کا مطلب ہے سلامتی والا. اللہ ہر قسم کے شر سے پاک ہے اس کا مطلب کہ وہ سلامتی والا ہے۔ اللہ خود بھی امن ہے، امن کو پسند بھی کرتا ہے اور امن کو پھیلاتا بھی ہے۔

اسلام سلامتی والا مذہب

اسلام وہ مذہب ہے جسے اللہ نے اپنی مخلوق کے لئے پسند کیا ہے۔ اسلام کا مطلب بھی سلامتی ہی ہے. اسلام کی تمام تعلیمات امن اور سلامتی کا درس دیتی ہیں اور شر پسندی اور شدت پسندی سے روکتی ہیں۔

مسلمان سلامتی پھیلانے والا

اللہ نے اپنے پسندیدہ دین کو اسلام کا نام دیا ہے اور اسلام کی تعلیمات پر عمل کرنے والے کو مسلمان کہتے ہیں۔ مسلمان لفظ بھی سلام سے ہی اخذ کیا گیا ہے اور اس کا مطلب ہے وہ شخص جو سلامتی کو پھیلاتا ہے۔ اسلام میں مومن یا مسلمان کی جو تعریف ملتی ہے وہ یہی ہے کہ

۔ وہ شخص جس کے ہاتھ اور زبان سے دوسرے مسلمان محفوظ رہے وہ مسلمان ہے۔

 

۔ السلام علیکم اور وعلیکم السلام

 جب مسلمان دوسرے مسلمان سے ملتا ہے تو اسلام علیکم کہتا ہے جس کا مطلب ہے تم پر سلامتی ہو اور سامنے والا وعلیکم اسلام کہہ کر پہلے والے پر بھی سلامتی بھیجتا ہے۔ اللہ نے جب حضرت آدم کو بنایا تو انہیں سب سے پہلا لفظ اسلام علیکم  سکھایا۔

دارالسلام کا مطلب

دارالسلام کا لفظ قرآن پاک میں جنت کے لئے استعمال کیا گیا ہے۔ جنت کو دارالسلام اس لئے کہا گیا ہے کیونکہ یہ وہ جگہ ہے جو انسان کو ہر قسم کے غم ، دکھ،  پریشانی ، موت ، نفرت غرض ہر دنیاوی اور فانی چیز سے محفوظ کر دے گا۔ دارالسلام میں داخلے کی شرط ہے کہ انسان سلامتی کا راستہ اختیار کرے اور سلامتی کا راستہ اسلام سے بہتر کونسا ہو سکتا ہے؟ مگر صرف مسلمان ہونا اس بات کی گارنٹی نہیں ہے کہ انسان جنت میں داخل ہو جائے گا بلکہ مسلمان ہونے کی تمام شرائط پر عمل پیرا ہونا لازم ہے۔ مسلمان جب تک خود سلامتی والا نہیں ہو گا تب تک اس کو دارالسلام میں داخلہ نہیں ملے گا۔

نماز سلامتی والا عمل

نماز انسان کو سلامتی کا درس دیتی ہے اور ہر مسلمان پر فرض کی گئی ہے۔ نماز ویسے تو سلامتی والا عمل ہے مگر نماز کے آخر میں خاص طور پر جو کلمات پڑھے جاتے ہیں

۔ السلام علیکم ورحمتہ اللہ و برکاتہ۔

ان کلمات کے دو مقصد مفسرین نے بیان کئے ہیں۔

۔ فرشتوں پر سلام بھیجنا

کچھ مفسرین کی رائے میں نماز کے آخر میں بولے جانے والے یہ کلمات کراما کاتبین پر سلام بھیجنے کے لئے استعمال کئے جاتے ہیں۔

۔ ساتھ والے نمازی پر سلام بھیجنا

کچھ مفسرین کی رائے میں نماز کے آخر میں بولے جانے والے یہ کلمات اپنے ساتھ والے نمازی پر سلامتی اور برکت بھیجنے کے لئے استعمال کئے جاتے ہیں۔

حدیث مبارکہ سے ثبوت

حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔

اللهم أنت السلام، ومنك السلام، تباركت يا ذا الجلال والإكرام.صحیح مسلم ھدیث نمبر 591

اے اللہ تعالیٰ میری مدد کر تاکہ میں تجھے یاد کر سکوں، اور تیرا شکر ادا کر سکوں، اور تیری عبادت کر سکوں بہترین طریقے سے

اس آیت کا ورد ہر نماز کے بعد کرنا باعث سلامتی ہے۔

قرآن پاک سے السلام کا ثبوت

السلام کا لفظ قرآن میں اللہ تعالیٰ کے لیے صرف ایک دفعہ سورة الحشر کی آیت نمبر 23 میں آیا ہے۔ 

۔ وہی اللہ ہے جس کے سوا کوئی معبود نہیں۔ بادشاہ نہایت پاک،سب عیبوں سے صاف۔ امن دینے والا نگہبان غالب زورآور اور بڑائی والا۔ پاک ہے اللہ ان چیزوں سے جنہیں یہ اس کا شریک بناتے ہیں ۔ سورة الحشر آیت 23۔

لفظ السلام قرآن میں اور بھی بہت دفعہ مختلف چیزوں کے لیے استعمال ہوا ہے۔

۔ اور اللہ تعالٰی سلامتی کے گھر کی طرف تم کو بلاتا ہے اور جس کو چاہتا ہے راہ راست پر  چلنے کی توفیق دیتا ہے ۔ سورة یونس آیت 25

اس آیت میں سلامتی کا گھر مطلب خانہ کعبہ ہے۔

۔ تو کہہ دیجیے کہ تمام تعریف اللہ ہی کے لئے ہے اور اس کے برگزیدہ بندوں پر سلام ہے کیا اللہ تعالٰی بہتر ہے یا وہ جنہیں یہ لوگ شریک ٹھہرا رہے ہیں ۔ سورة النمل آیت 59

دعا کا وسیلہ

السلام کا بےحساب ورد کرنا مشکلات کو ختم کرتا ہے اس لئے مشکل کی آسانی کے لئے اس کا ورد کرنا باعث سلامتی اور آسانی ہو گا۔

 

اگر اس مکالمے میں ہم سے کوئی غلطی یا کوتاہی ہوئی ہے تو براہ مہربانی غلطی کی نشاندہی کر کے ہماری اصلاح میں مدد کیجیئے۔ اللہ ہماری چھوٹی بڑی غلطیوں کو معاف فرمائے اور ہماری اس کاوش کو اپنی بارگاہ میں قبول و مقبول فرمائے۔اللہ اس کاوش کو ہمارے خاندان کے لئے نجات کا موجب بنائے اور دین پر ہماری پکڑ کو اور مضبوط کرے. آمین 

Next Post

Previous Post

Leave a Reply

© 2019 Islamic Education

Theme by Anders Norén