Islamic Education

All About Islam

الرحیم

Facebooktwittergoogle_plusredditpinterestlinkedinmailFacebooktwittergoogle_plusredditpinterestlinkedinmail

الرحیم کا مطلب

الرحیم کا مطلب ہے بہت رحم کرنے والا۔ اللہ کا دوسرا صفاتی نام رحیم ہے جو قرآن مجید میں 114 دفعہ استعمال ہوا ہے۔ 

اللہ کی رحمت کا بیان 

رحیم سے مراد اللہ کی رحمت کا وہ نزول ہے جو کبھی بھی ختم نہیں ہو گا اور یہ مستقل ہے۔ ہمارا نیک اعمال کرنا بھی اللہ کی خاص رحمت کا ایک حصہ ہے ۔یہ اللہ کی رحمت ہی ہو گی جس کی بنا پر ہمیں مسلمان بنایا اور جنت میں داخل ہونے کا حکم دیا جائے گا۔  یہ. بھی اللہ کی بے مثال رحمت ہی ہے جو انسان کے ایک نیک عمل کی وجہ سے اس کے تمام گناہ معاف فرما دیتا ہے۔   

قرآن سے الرحیم کا ثبوت  

۔ حضرت  آدم علیہ السّلام  نے اپنے رب سے چند باتیں سیکھلیں  اور اللہ تعالیٰ  نے انکی توبہ قبولفرمائیں بیشک  وہ ہی توبہ قبول کرنے والا اور رحم کر نے والا ہے ۔   

  سورة بقرہ آیت 37۔  

۔کیا ان کو یہ خبر نہیں کہ اللہ ہی اپنے بندوں کی توبہ قبول کرتا ہے اور وہ ہی      صدقات    کو قبول فرماتا ہے اور یہ کہ اللہ ہی توبہ قبول کرنے میں اور رحمتکر نے  میں کامل  ہے ۔سورة توبہ آیت 104  

۔ کہہ دیجئے کہ اسے تو اس اللہ نے اتارا ہے جو آسمان و زمین کی تمامپوشیدہ  باتوں کو جانتا    ہے بےشک وہ بڑا ہی بخشنے والا ہے مہربان ہے ۔ سورة الفرقان آیت 6

الرحیم کا استعمال  

قرآن پاک میں رحیم لفظ بہت مقامات پر اکیلا استعمال ہوا ہے مگر اس کا زیادہ تر استعمال دوسری صفات کے ساتھ ملا کر ہوا ہے۔ جیسے غفور الرحیم ،عزیزالرحیم، رحمٰن الرحیم،تواب الرحیم۔  

رحمن اور رحیم کا فرق

۔ رحمن اور رحیم دونوں اللہ کی رحمت بیان کرنے کے لئے استعمال ہوتے ہیں مگر دونوں میں فرق ہے 

۔ اللہ کا رحمٰن ہونا پوری کائنات سے منصوب ہےاللہ پوری کائنات کی ہر مخلوق کے لئے رحمن ہے مگر رحیم ہونا صرف مسلمانوں کے لئے مختص کیا گیا ہے۔ 

۔  رحمٰن ہونے کی بنا پر اللہ نے اس کائنات کی تخلیق کی اور رحیم ہونے کی بنا پر وہ لوگوں کو ان کے کئے گئے برے اعمال پر بخش دیتا ہے۔

۔ اللہ کی رحمانیت عارضی ہے جبکہ اس کی رحیمیت مستقل ہے

رحمٰن اور رحیم کا اکٹھا استعمال 

قرآن پاک میں بارہا ان دونوں صفات کا ذکر اکٹھا کیا گیا ہے۔ اس کی سب سے بڑی مثال “بسم اللہ الرحمٰن الرحیم ہے”۔ 

سورة فاتحہ کی دوسری آیت، سورة طور کی 28 آیت ،سورة نور کی 20 آیت، سورة ال عمران کی آیت 3 اور اس کے علاوہ بھی بہت سی آیات میں ان کا ایک ساتھ استعمال ہوا ہے۔   

الرحیم سے دعا کی فضیلت

اللہ  تعالی کو اس نام کا بے حساب واسطہ دے کر دعا کرنا اللہ کو باور کروانا ہے کہ اے خدا میں ہر حال میں تیری رحمت کا طلب گار ہوں اور بے شک میں گناہگار ہوں خطا کار ہوں مگر تو رحیم ہے ہمیں بخش دے. اپنی رحمت کی بنا پر ہماری حاجات پوری کر دے۔ ہم تیری اسی رحمت کا واسطہ دیتے ہیں کہ ہماری حاجات پوری کر۔آمین۔ 

 

اگر اس مکالمے میں ہم سے کوئی غلطی یا کوتاہی ہوئی ہے تو براہ مہربانی غلطی کی نشاندہی کر کے ہماری اصلاح میں مدد کیجیئے۔ اللہ ہماری چھوٹی بڑی غلطیوں کو معاف فرمائے اور ہماری اس کاوش کو اپنی بارگاہ میں قبول و مقبول فرمائے۔اللہ اس کاوش کو ہمارے خاندان کے لئے نجات کا موجب بنائے اور دین پر ہماری پکڑ کو اور مضبوط کرے. آمین 

Next Post

Previous Post

Leave a Reply

© 2019 Islamic Education

Theme by Anders Norén