Islamic Education

All About Islam

الجبار

Facebooktwittergoogle_plusredditpinterestlinkedinmailFacebooktwittergoogle_plusredditpinterestlinkedinmail

 

الجبار کا لفظی مطلب

الجبار کا لفظی مطلب ہے بہت زبردست۔ قرآن پاک میں یہ لفظ اللہ کی ذات کے لئے صرف 1 دفعہ استعمال کیا گیا ہے اور اس کو مفکرین تین معنوں میں استعمال کرتے ہیں۔ 

۔  اللہ جب جو چاہتا ہے وہی ہوتا ہے  

۔ اللہ عظیم، قوی اور ہر چیز پر غالب ہے

۔ اللہ اپنی مخلوق کی اصلاح کرنے والا  اور اپنی مخلوق کے لئے بہترین کا انتخاب کرتا ہے  

الجبار کی تفصیل

اللہ تعالی کے الجبار ہونے سے مراد ہے کہ وہ  اپنے ہر فعل میں بہت زبردست ہے۔ وہ جب کسی کام کا ہونا چاہتا ہے تو وہ کام ہو جاتا ہے۔ اللہ عظیم ہے اور پوری کائنات اس کے حکم کے تابع ہے۔ اللہ سب کا پالنہار اور اصلاح کرنے والا ہے۔جب انسان کے ارادے کمزور پڑنے لگتے ہیں تو وہی انہیں مضبوطی بخشتا ہے۔ جب انسان ناکام ہوتا ہے تو اللہ ہی اسے کامیابی کا نیا راستہ دکھاتا ہے

قرآن کا بیان

قرآن پاک میں جبار کا لفظ 9 دفعہ استعمال ہوا ہے مگر الجبار کا لفظ صرف 1 دفعہ استعمال ہوا ہے۔ ان دونوں الفاظ کے استعمال میں کافی فرق ہے. الجبار کا استعمال اللہ کی ذات کے لئے سورت الحشر میں کیا گیا ہے۔باقی 9 دفعہ لفظ جبار یا جابرین استعمال ہوا ہے جس کا مطلب ہے کہ یہ لفظ ان جابر اور ظالم لوگوں کے لئے استعمال کیا گیا ہے جو اللہ کی حدود سے تجاوز کرتے تھے اور سرکش تھے۔ 

وہی اللہ ہے جس کے سوا کوئی معبود نہیں۔ بادشاہ نہایت پاک سب عیبوں سے صاف۔ امن دینے والا۔ نگہبان، غالب، زورآور اور بڑائی والا۔ پاک ہے اللہ ان چیزوں سے جنہیں یہ اس کا شریک بناتے ہیں۔ سورت الحشر آیت 23  

قر ٓان میں جبار لفظ کا استعمال

قرآن میں کفار کے لئے جبار کا لفظ استعمال ہوا ہے جو درج زیل میں ہے۔  

۔اور  جب کسی  پر ہاتھ ڈالتے ہو تو سختی اور ظلم سے پکڑتے ہو ۔ سورت الشعرا آیت 130  

انہوں نے جواب دیا  کہ اے موسیٰ  وہاں تو زور آور سرکش لوگ ہیں اور جب تک وہ

 وہاں سے نکل نہ جائیں ہم تو ہرگز وہاں نہ جائیں  گے ہاں اگر وہ وہاں سے نکل جائیں    پھر تو ہم  ( بخوشی ) چلے جائیں گے ۔ سورت المائدہ آیت 22۔ 

الجبار اور جبار کا فرق

الجبار کا لفظ اللہ کے لئے اور جبار کا لفظ انسانوں کے لئے استعمال کیا گیا ہے۔ جبار لفظ اپنے اندر منفی اثر رکھتا ہے اور انسان کو یہ زیب نہیں دیتا کہ وہ کسی پر جبر کرے۔ اور الجبار کا لفظ مثبت انداز میں استعمال کیا ہے جیسے کہ اس کا مطلب اور تفصیل  اوپر بیان کر چکے ہیں۔ 

الجبار سے دعا کا وسیلہ 

ایک حدیث مبارکہ میں حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا۔ 

اللھم اغفرلی وارحمنی و اھدنی و جبرنی وعافنی ورزقنی و رفعنی “ کا ورد نماز کے دوران دونوں سجدوں کے درمیان پڑھنی چاہیئے۔” 

اس دعا کے جہاں بےشمار فضائل ہیں وہیں اس میں جبرنی کا لفظ بھی استعمال ہوا ہے۔ یہاں جبرنی سے مراد ہے کہ میری اصلاح کیجیئے۔  

اللہ اس نام کی بدولت ٹوٹی ہوئی امید کو بحال کرتا ہے کمزور کی کمزوری کو دور کرتا ہے،بھٹکے ہوئے کی اصلاح کرتا ہے،ناکامی میں کامیابی دیتا ہے۔ اس کا بھی بے حساب ورد فوائد کا باعث ہے۔ 

 

 اگر اس مکالمے میں ہم سے کوئی غلطی یا کوتاہی ہوئی ہے تو براہ مہربانی غلطی کی نشاندہی کر کے ہماری اصلاح میں مدد کیجیئے۔ اللہ ہماری چھوٹی بڑی غلطیوں کو معاف فرمائے اور ہماری اس کاوش کو اپنی بارگاہ میں قبول و مقبول فرمائے۔اللہ اس کاوش کو ہمارے خاندان کے لئے نجات کا موجب بنائے اور دین پر ہماری پکڑ کو اور مضبوط کرے. آمین 

Next Post

Previous Post

Leave a Reply

© 2019 Islamic Education

Theme by Anders Norén