Islamic Education

All About Islam

اسلام میں پردے کی اہمیت

Facebooktwittergoogle_plusredditpinterestlinkedinmailFacebooktwittergoogle_plusredditpinterestlinkedinmail

 

پردہ 

مذہب اسلام میں پردہ بہت اہمیت کا حامل ہے۔ یہ نہ صرف عورت کے لئے لازم ہے بلکہ مرد کے لئے بھی اسلام میں پردہ لازم قرار دیا گیا ہے۔ 

اسلام میں پردہ کیا ہے؟ 

اسلام انسان کو ایک یونیفارم  مہیا کرتا ہے۔ مگر اس یونیفارم کا دائرہ کار بہت وسیع ہے. اسلام کسی خاص رنگ ،کپڑے یا طریقے کے یونیفارم کی ترغیب نہیں دیتا بلکہ اس کے کچھ اصول ہیں جو انسان کے لئے پورے کرنا لازم ہیں۔ 

قرآن سے پردے کا بیان

قرآن کی جن آیات میں پردے کا حکم آیا ہے وہ درج زیل ہیں۔ 

سورت احزاب آیت59 

 اے نبی! اپنی بیویوں سے اور اپنی صاحبزادیوں سے اور مسلمانوں کی عورتوں سے کہہ دو کہ وہ اپنے اوپر اپنی چادریں لٹکا لیا کریں ۔ اس سے بہت جلد ان کی شناخت ہو جایا کرے گی پھر نہ ستائی جائیں گی اور اللہ تعالٰی بخشنے والا مہربان ہے ۔ 

 سورت نور آیت 31

مسلمان عورتوں سے کہو کہ وہ بھی اپنی نگاہیں نیچی رکھیں اور اپنی عصمت میں فرق نہ آنے دیں اور اپنی زینت کو ظاہر نہ کریں سوائے اس کے جو ظاہر ہے اور اپنے گریبانوں پر اپنی اوڑھنیاں ڈالے رہیں اور اپنی آرائش کو کسی کے سامنے ظاہر نہ کریں سوائے اپنے خاوندوں کے یا اپنے والد یا اپنے خسر کے یا اپنے لڑکوں کے یا اپنے خاوند کے لڑکوں کے یا اپنے بھائیوں کے یا اپنے بھتیجوں کے یا اپنے بھانجوں کے یا اپنے میل جول کی عورتوں کے یا غلاموں کے یا ایسے نوکر چاکر مردوں کے جو شہوت والے نہ ہوں یا ایسے بچوں کے جو عورتوں کے پردے کی باتوں سے مطلع نہیں اور اس طرح زور زور سے پاؤں مار کر نہ چلیں کہ ان کی پوشیدہ زینت معلوم ہو جائے ، اے مسلمانوں! تم سب کے سب اللہ کی جناب میں توبہ کرو تاکہ تم نجات پاؤ ۔  

30 سورت نور آیت

 مسلمان مردوں سے کہو کہ اپنی نگاہیں نیچی رکھیں اور اپنی شرم گاہوں کی حفاظت رکھیں یہی ان کے لئے پاکیزگی ہے ، لوگ جو کچھ کریں اللہ تعالٰی سب سے خبردار ہے ۔ 

اسلام میں پردہ کا دائرہ 

اسلام صرف عورت کو پردے کا حکم نہیں کرتا بلکہ مرد پر بھی اس کا اطلاق ہوتا ہے۔  پردے میں جونسی چیزیں شامل ہیں ان کا زکر درج زیل ہے۔  

نظر کا پردہ 

اسلام میں سب سے پہلے مرد اور عورت کو نظر نیچی رکھنے کا حکم دیا گیا ہے۔ نظر کو شیطان کا تیر کہا جاتا ہے کیونکہ انسانی نظر وہ پہلی چیز ہے جو انسان کو گناہ پر اکساتی ہے ۔ جب انسان کی نظر نامحرم پر پڑتی ہے تو وہ اس کے بارے میں دماغ میں مختلف آرا قائم کرتا ہے۔  

ستر کا پردہ 

اسلام میں ستر کا پردہ سب سے اہم ہے۔ درج بالا آیات میں اپنی شرم گاہوں کو ڈھکنے کا حکم دیا گیا ہے۔ مرد اور عورت کے ستر میں بہت فرق ہے۔ 

مرد کا ستر 

مرد کا ستر ناف سے لے کر گھٹنے تک ہوتا ہے اور اسے اپنی شریک حیات کے علاوہ کسی کے سامنے ظاہر کرنے کو سختی سے منع کیا گیا ہے۔ مرد کی ناف کے اور گھٹنا بھی چھپا ہونا چاہیئے۔ 

عورت کا ستر 

سورت نور کی آیت 31 کے مطابق عورت کے ستر میں اس کا پورا جسم شامل ہے سوائے ان چیزوں کے جو ظاہر ہوں مطلب اس کا چہرہ اور ہاتھ پاءوں۔   

ہاتھ کا پردہ 

عورت اور مرد کے ہاتھ کے پردے سے مراد ہے کہ وہ کسی نامحرم کو ہاتھ نہیں لگا سکتے 

آواز کا پردہ 

آواز کے پردہ پر مفکرین اسلام کا اختلاف ہے۔ کچھ مفکرین کی رائے میں عورت کی آواز مرد کے کانوں میں پڑنا بھی عورت لے لئے گناہ کا باعث ہے۔ مگر دوسرے مفکرین کی رائے میں عورت غیر محرم سے پردہ کی اوٹ سے بات کر سکتی ہے مگر اس کے بھی کچھ اصول و ضوابط ہیں۔ 

۔ بلا ضرورت بات نہ کی جائے۔ 

۔ خوشگوار لہجے میں بات نہ کی جائے 

۔ اس طرح کی بات نہ کی جائے جس سے فتنہ ہونے کا خدشہ ہو۔ 

سوچ اور دل  کا پردہ 

سوچ اور دل کے پردے سے مراد ہے کہ انسان کسی غیر محرم کے بارے میں غلط قسم کی سوچ نہ رکھے  

نیت کا پردہ 

انسان کی نیت پاک اور صاف ہونی چاہیئے۔ اللہ نیتوں کے حال جانتا ہے اگر انسان کی نیت ہی پاک نہ ہو تو اوپری پردے کا کوئی فائدہ نہیں ہوتا   

پردے کے لباس کی شرائط 

اسلام میں انسان کو جو یونیفارم بتایا گیا ہے اس کی چھ شرائط ہیں جو درج زیل ہیں۔ 

۔لباس سے سارا جسم ڈھکا ہونا چاہیئے۔ 

۔لباس زیادہ تنگ نہ ہو بلکہ ڈھیلا ڈھالا ہو۔ 

۔کپڑا ایسا نہ ہو جس کے آرپار دیکھا جا سکے۔ 

۔لباس زیادہ بھڑکیلا نہ ہو۔ 

۔لباس مخالف جنس کے جیسا نہ ہو۔ 

۔لباس ایسا نہ ہو جو کسی دوسرے مذہب کی پیروی کرتا ہو۔ 

پردے کا مقصد 

اسلام میں پردے کا مقصد عورت کی حفاظت ہے نہ کہ کوئی سزا ہے۔ حجاب کے ذریعے عورت کو عزت دی گئی ہے تاکہ جب کوئی اس کو دیکھے تو عزت کئے بنا نہ رہ سکے۔   

جب لوگ اس عورت کو دیکھے تو اس کے جسم اور لباس کی قدر کرنے کی بجائے عورت کے کردار اور صلاحیتوں کی قدر کریں۔ لوگ عورت کا ظاہری حسن دیکھ کر اس کو سراہنے کی بجائے اس کے باطنی حسن کو دیکھیں۔ 

 

اگر اس مکالمے میں  ہم سے کوئی غلطی یا کوتاہی ہوئی ہے تو براہ مہربانی ہماری غلطی کی نشاندہی کر کے ہماری اصلاح میں ہماری مدد کیجیئے۔ اللہ ہماری چھوٹی بڑی غلطیوں کو معاف فرمائے اور ہماری اس کاوش کو اپنی بارگاہ میں قبول و مقبول فرمائے۔  

Next Post

Previous Post

Leave a Reply

© 2019 Islamic Education

Theme by Anders Norén