Islamic Education

All About Islam

اسلام میں وسیلہ اور مقبروں کی تعیمر

Facebooktwittergoogle_plusredditpinterestlinkedinmailFacebooktwittergoogle_plusredditpinterestlinkedinmail

 

اسلام بہت سے فرقوں میں بٹا ہوا ہے. کچھ فرقوں کے مطابق اللہ سے اپنی حاجات منوانے کے لئے کسی کو بطور وسیلہ استعمال کرنا ضروری ہے. یہ بدعت ہے کیونکہ اس کا قرآن اور سنت سے کوئی بھی تعلق نہیں ہے. اللہ تعالی انسان کی شہہ رگ سے بھی قریب ہے تو انسان کو اس سے کچھ مانگنے کے لئے وسیلے کی ضرورت نہیں ہے. یہ ایک فرقے کا نظریہ ہے جبکہ دوسرے فرقے کے مطابق وسیلہ انسانی اللہ کی قربت کا زریعہ ہے. ان دونوں فرقوں کے نظریات اور قرآن کی آیات کا بیان درج زیل میں ہے

وسیلہ کا مطلب

لفظ وسیلہ عربی زبان کا لفظ ہے جس کا مطلب ہے کسی ایک مقام پر پہنچنے کے لئے استعمال کیا جانے والا زریعہ

مختلف فرقوں میں وسیلہ کا مطلب

اسلام کے مختلف فرقوں میں وسیلہ کا استعمال مختلف انداز میں ہوتا ہے. کچھ کے نزدیک کسی انسان کو وسیلہ بنانا غلط بات نہیں ہے.  جبکہ دوسرے فرقے اسے درست مانتے ہیں. سورت المائدہ کی آیت 35  اس تفرقے کا باعث ہے کیونکہ مختلف مکاتب فکر اس آیت کی مختلف تشریح کرتے ہیں

مسلمانو! اللہ تعالٰی سے ڈرتے رہو اور اس کا قرب تلاش کرو اور اس کی راہ میں جہاد کرو تاکہ تمہارا بھلا ہو ۔

پہلے فرقے کی تشریح

اس فرقے کے مطابق اللہ کے اچھے اور برگزیدہ بندے، زندہ یا مردہ، اللہ اور عام. انسان کے درمیان وسیلہ ہوتے ہیں. وہ ہمیں سن سکتے ہیں

یہ نیک لوگ اللہ سے قریب ہونے کے باعث ہماری بخشش اور حاجات پوری کروا سکتے ہیں

اللہ کے نیک بندے، زندہ یا مردہ، اسے دعا کروانے سے انسان کی بخشش یا حاجت روی لازن ہو جتی ہے

دوسرے فرقے

ان کے مطابق اللہ تعالیٰ سے دعا کا وسیلہ اس کے 99 نام اور صفات ہیں. اللہ تعالیٰ سے انناموں کا وسیلہ دے کر مانگا جائے تو وہ ضرور عطا کرتا ہے

اور اچھے اچھے نام اللہ ہی کیلئے ہیں سو ان ناموں سے اللہ ہی کو موسوم کیا کرو ۔ سورت الاعراف آیت 180

اللہ نے اس آیت میں جس وسیلے کا زکر کیا ہے وہ نماز، زکوۃ، روزہ، حرام اور حلال احکامات پر عمل، ماں باپ کی عزت وغیرہ کے احکامات ہیں

ایک نیک اور صالح انسان اس حالت میں وسیلہ بن سکتا ہے جب وہ زندہ ہو اور انسان کو اس کی نیکی کی زاتی معلومات ہوں. مگر اس شخص سے دعا کروا سکتے ہیں اور یہ قبولیت اللہ کے پاس قبول ہو یا نہیں اس بات کا علم بس اللہ تعالیٰ کو ہی ہے. اس زمرے میں وہ صوفی نہیں آتے جو نیک یونے کا ڈھونگ رچاتے ہیں

والدین انسان کے لئے دعا کا وسیلہ ہو سکتے ہیں

انسان کے نیک اعمال بھی اللہ تعالیٰ کے ہاں بطور وسیلہ پیش کئے جا سکتے ہیں

مردہ انسان کبھی بھی وسیلہ نہیں ہو سکتا کیونکہ نہ تو وہ سن سکتا ہے اور نہ اسے کسی بات پر اختیار ہے. اس زمرے میں درج زیل آیات ملاحظہ فرمائیں

کیا ان لوگوں نے اللہ تعالٰی کے سوا ( اوروں کو ) سفارشی مقرر کر رکھا ہے؟ آپ کہہ دیجئے! کہ گو وہ کچھ بھی اختیار نہ رکھتے ہوں اور نہ عقل رکھتے ہوں ۔سورت الزمر آیت 43

اور جن جن کو یہ لوگ اللہ تعالٰی کے سوا پکارتے ہیں وہ کسی چیز کو پیدا نہیں کر سکتے ، بلکہ وہ خود پیدا کیئے ہوئے ہیں ۔

مردے ہیں زندہ نہیں انہیں تو یہ بھی شعور نہیں کہ کب اٹھائے جائیں گے ۔ سورت النحل آیت 20،21

مندرجہ بالا آیات میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ مردہ انسانوں کو کسی بات کا علم نہیں ہے اس لئے ان کو وسیلہ بنانا ٹھیک نہیں ہے

اسلام میں قبروں پر جانا

اسلام میں قبروں پر جانے کا حکم دیا گیا ہے تاکہ انسان ان سے عبرت سیکھے. قبریں اور قبرستان ہر انسان کا آخری ٹھکانہ ہے تو قبرستان جانے سے اسے اپنی موت یاد رہتی ہے اور انسان گناہوں سے بچنے کی کوشش کرتا ہے. اس کے علاوہ جب انسان قبر پر جاتا ہے تو اپنے پیاروں کے لئے مغفرت کی دعا کرتا ہے نہ کہ ان سے دعا مانگتا ہے

جنہیں یہ لوگ پکارتے ہیں خود وہ اپنے رب کے تقرب کی جستجو میں رہتے ہیں کہ ان میں سے کون زیادہ نزدیک ہو جائے وہ خود اس کی رحمت کی امید رکھتے اور اس کے عذاب سے خوف زدہ رہتے ہیں ، ( بات بھی یہی ہے ) کہ تیرے رب کا عذاب ڈرنے کی چیز ہی ہے ۔ سورت بنی اسرائیل آیت 57

اسلام میں مقبرے بنانا حرام ہے

اسلام میں مقبرے بنانا منع ہے. اسلام میں قبر کو پکا کرنا یا بہت اونچا بنانا بھی منع ہے. حدیث کےمطابق ایک ہاتھ سے اونچی قبر کر گرا کے زمیں کے برابر کر دینے کا حکم ہے

دنیا میں پہلا مقبرہ اور اس کے زریعے شرک کا آغاز

ود وہ پہلا بت تھا جسے پوجا گیا تھا. لفظ ود کا مطلب ہے محبت اور یہ لفظ ودہ سے نکلا ہے. وہ بہت نیک اور صالح بندہ تھا. اس کی نیکہ کو وجہ سے اللہ تعالیٰ نے لوگوں کے دلوں مین اس کی نحبت ڈال دی. اور اللہ تعالیٰ سے محبت کی بنا پر اللہ تعالیٰ نے بہت نیک اولاد سے بھی نوازاتھا. اس کے چار بیٹے سواء، یاگوتھ، یاعوق اور نصر تھے جو اپنے والد کی طرح بہت نیک تھے. ان پانچوں کا زکر سورت نوح کی آیت 23 میں بھی آیا ہے

ان پانچوں نے اللہ تعالیٰ کے دین کو لوگوں میں پھیلایا. اردکرد کے لوگ ان سے بہت محبت کرتے تھے. ان پانچوں کی وفات کے بعد لوگ انہیںبہت یاد کرنے لگے. شیطان کو موقع ملا اور وہ انسانی روپ میں لوگوں کو بہکانے آ گیا. اس نے لوگوں کو اکسایا کہ وہ ان پانچوں کی قبروں پر بیٹھیں اور اوہ وزاری کریں. پھر شیطان نے لوگوں کو ان کے مقبرے بنانے کی ترغیب دی. اس کے بعد شیطان نے لوگوں کو ورغلایا کہ وہ ان پانچوں کے مجسمے بنائیں اور اپنے اکٹھے ہونے کے مقام پر رکھ دیں تاکہ ان مجسموں کو دیکھ کر لوگوں کو عبادت کا طریقہ یاد رہے. اس نسل کے گزرنے کے بعد جب دوسری نسل آئی تو شیطان نے ان کو دوبارہ ورغلایا کہ وہ سب ان پانچوں کے مجسمے اور تصویریں بنا کر اپنے اپنے گھروں میں رکھ لیں تاکہ اگر وہ ان کی قبروں پر نہ آ سکیں تو ان کی یاد میں کمی نہ آئے. لوگوں نے ان پانچوں کی محبت میں یہ کام بھی سرانجام دیا اور بت اور تصاویر بنا کر گھروں میں لگا لیں. اس نسل کے گزرنے کے بعد شیطان تیسری نسل کت سامنے آیا اور اس نے لوگوں کو بہکایا کہ تمہارے باپ دادا ان پانچوں کو پوجتے تھے کیونکہ یہ تمہارے خدا ہیں. جب لوگ ان سب کو پوجنے لگے تو حضرت نوح علیہ السلام کو دنیا میں بھیجا گیا تاکہ وہ اللہ تعالیٰ کا پیغام لوگوں تک پہنچائیں مگر اپنی سرکشی کی وجہ سے وہ قوم تباہ ہو گئی

اسی طرح حضرت عیسی علیہ السلام کے لئے بھی لوگوں کے دلوں میں والہانہ محبت نے ان کو شرک کی جانب راغب کیا. قرآن پاک میں بھی بہت سی آیات ہیں جس میں اس بات کا تذکرہ ملتا ہے کہ شرت کی محبت بھی شرک کی جانب مبذول کرتی ہے

کیا نبی صلی اللہ علیہ وسلم وسیلہ بن سکتے ہیں؟

ہمارے پیارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم اللہ تعالیٰ کے محبوب ہیں اور ہر نبی کی طرح ان کو بھی اللہ تعالیٰ نے ایک خاص دعا عطا کی تھی جو کبھی رد نہیں کی جائے گی. یہ دعا ہمارے پیارے بنی نے قیامت کے دن مسلمانوں کی شفاعت کے لئے سنبھال کر رکھی تھی. وہ یقیناً قیامت کے دن ہم سب کی شفاعت کریں گے مگر اس دنیا میں ان. کو وسیلہ. سمجھنا درست نہیں ہے. اگر انسان کو کوئی دعا قبول کروانی ہے تو اللہ تعالیٰ کو اس کے ناموں اور اچھے اعمال سے پکار کر دعا کرنی چاہئے

سنت نہیں ثقافت

درگاہ اور مقبروں پر جانا سنت نہیں بلکہ ایک ثقافتی عمل ہے. اسے اسلام سے جوڑنا قطعاً درست عمل نہیں ہے. یہ عمل بتوں کی پوجا کے مساوی ہے

لوگ یا دوسری چیزیں وسیلہ کیوں نہیں ہو سکتے؟

قرآن پاک میں اللہ تعالیٰ نے بہت دفعہ اس بات کا زکر کیا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے ہاں کسی کی سفارش کام نہیں آئے گی جب تک کہ وہ قیامت کے دن کسی کو اس نات کا اختیار نہیں دے گا. کسی انسان کو وسیلہ تصور کرنا اللہ تعالیٰ کی ان آیات کی تردید کرنا ہے کیونکہ یہ اختیار اللہ کا ہے ہمارا نہیں کہ وہ ہمارے بنائے ہوئے وسیلوں کو مانے یا نہ مانے

اس کے علاوہ صحیح بخاری کی حدیث نمبر 4712 میں بیان کیا گیا ہے کہ قیامت کے روز تمام انبیاء اکرام بھی اللہ تعالیٰ کے خوف سے کانپ رہے ہوں گے اور اپنے حساب کتاب سے خوفزدہ ہوں گے. تو اگر انبیاء اور رسول اللہ تعالیٰ سے اس قدر خوفزدہ ہوں گے تو عام انسان کی کیا مجال ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کے سامنے کسی دوسرے کی شفاعت کر سکے

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں گوشت لایا گیا اور دست کا حصہ آپ کو پیش کیا گیا۔ تو آپ نے اپنے دانتوں سے اسے ایک بار نوچا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو دست کا گوشت بہت پسند تھا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ قیامت کے دن میں سب لوگوں کا سردار ہوں گا تمہیں معلوم بھی ہے یہ کون سا دن ہو گا؟ اس دن دنیا کے شروع سے قیامت کے دن تک کی ساری خلقت ایک چٹیل میدان میں جمع ہو گی کہ ایک پکارنے والے کی آواز سب کے کانوں تک پہنچ سکے گی اور ایک نظر سب کو دیکھ سکے گی۔ سورج بالکل قریب ہو جائے گا اور لوگوں کی پریشانی اور بےقراری کی کوئی حد نہ رہے گی جو برداشت سے باہر ہو جائے گی۔ لوگ آپس میں کہیں گے، دیکھتے نہیں کہ ہماری کیا حالت ہو گئی ہے۔ کیا ایسا کوئی مقبول بندہ نہیں ہے جو اللہ پاک کی بارگاہ میں تمہاری شفاعت کرے؟ بعض لوگ بعض سے کہیں گے کہ آدم علیہ السلام کے پاس چلنا چاہئے۔ چنانچہ سب لوگ آدم علیہ السلام کی خدمت میں حاضر ہوں گے اور عرض کریں گے آپ انسانوں کے پردادا ہیں، اللہ تعالیٰ نے آپ کو اپنے ہاتھ سے پیدا کیا اور اپنی طرف سے خصوصیت کے ساتھ آپ میں روح پھونکی۔ فرشتوں کو حکم دیا اور انہوں نے آپ کو سجدہ کیا اس لیے آپ رب کے حضور میں ہماری شفاعت کر دیں، آپ دیکھ رہے ہیں کہ ہم کس حال کو پہنچ چکے ہیں۔ آدم علیہ السلام کہیں گے کہ میرا رب آج انتہائی غضبناک ہے۔ اس سے پہلے اتنا غضبناک وہ کبھی نہیں ہوا تھا اور نہ آج کے بعد کبھی اتنا غضب ناک ہو گا اور رب العزت نے مجھے بھی درخت سے روکا تھا لیکن میں نے اس کی نافرمانی کی، پس نفسی، نفسی، نفسی مجھ کو اپنی فکر ہے تم کسی اور کے پاس جاؤ۔ ہاں نوح علیہ السلام کے پاس جاؤ۔ چنانچہ سب لوگ نوح علیہ السلام کی خدمت میں حاضر ہوں گے اور عرض کریں گے، اے نوح! آپ سب سے پہلے پیغمبر ہیں جو اہل زمین کی طرف بھیجے گئے تھے اور آپ کو اللہ نے ”شکر گزار بندہ“ ( عبد شکور ) کا خطاب دیا۔ آپ ہی ہمارے لیے اپنے رب کے حضور میں شفاعت کر دیں، آپ دیکھ رہے ہیں کہ ہم کس حالت کو پہنچ گئے ہیں۔ نوح علیہ السلام بھی کہیں گے کہ میرا رب آج اتنا غضبناک ہے کہ اس سے پہلے کبھی اتنا غضبناک نہیں تھا اور نہ آج کے بعد کبھی اتنا غضبناک ہو گا اور مجھے ایک دعا کی قبولیت کا یقین دلایا گیا تھا جو میں نے اپنی قوم کے خلاف کر لی تھی۔ نفسی، نفسی، نفسی آج مجھ کو اپنے ہی نفس کی فکر ہے تم میرے سوا کسی اور کے پاس جاؤ، ابراہیم علیہ السلام کے پاس جاؤ۔ سب لوگ ابراہیم علیہ السلام کی خدمت میں حاضر ہوں گے اور عرض کریں گے، اے ابراہیم! آپ اللہ کے نبی اور اللہ کے خلیل ہیں روئے زمین میں منتخب، آپ ہماری شفاعت کیجئے، آپ ملاحظہ فرما رہے ہیں کہ ہم کس حالت کو پہنچ چکے ہیں۔ ابراہیم علیہ السلام بھی کہیں گے کہ آج میرا رب بہت غضبناک ہے؟ اتنا غضبناک نہ وہ پہلے ہوا تھا اور نہ آج کے بعد ہو گا اور میں نے تین جھوٹ بولے تھے ( راوی ) ابوحیان نے اپنی روایت میں تینوں کا ذکر کیا ہے۔ نفسی، نفسی، نفسی مجھ کو اپنے نفس کی فکر ہے۔ میرے سوا کسی اور کے پاس جاؤ۔ ہاں موسیٰ علیہ السلام پاس کے جاؤ۔ سب لوگ موسیٰ علیہ السلام کی خدمت میں حاضر ہوں گے اور عرض کریں گے اے موسیٰ! آپ اللہ کے رسول ہیں، اللہ تعالیٰ نے آپ کو اپنی طرف سے رسالت اور اپنے کلام کے ذریعہ فضیلت دی۔ آپ ہماری شفاعت اپنے رب کے حضور میں کریں، آپ ملاحظہ فرما سکتے ہیں کہ ہم کس حالت کو پہنچ چکے ہیں۔ موسیٰ علیہ السلام کہیں گے کہ آج اللہ تعالیٰ بہت غضبناک ہے، اتنا غضبناک کہ وہ نہ پہلے کبھی ہوا تھا اور نہ آج کے بعد کبھی ہو گا اور میں نے ایک شخص کو قتل کر دیا تھا، حالانکہ اللہ کی طرف سے مجھے اس کا کوئی حکم نہیں ملا تھا۔ نفسی، نفسی، نفسی بس مجھ کو آج اپنی فکر ہے، میرے سوا کسی اور کے پاس جاؤ۔ ہاں عیسیٰ علیہ السلام کے پاس جاؤ۔ سب لوگ عیسیٰ علیہ السلام کی خدمت میں حاضر ہوں گے اور عرض کریں گے۔ اے عیسیٰ! آپ اللہ کے رسول اور اس کا کلمہ ہیں جسے اللہ نے مریم علیھا السلام پر ڈالا تھا اور اللہ کی طرف سے روح ہیں، آپ نے بچپن میں ماں کی گود ہی میں لوگوں سے بات کی تھی، ہماری شفاعت کیجئے، آپ ملاحظہ فرما سکتے ہیں کہ ہماری کیا حالت ہو چکی ہے۔ عیسیٰ بھی کہیں گے کہ میرا رب آج اس درجہ غضبناک ہے کہ نہ اس سے پہلے کبھی اتنا غضبناک ہوا تھا اور نہ کبھی ہو گا اور آپ کسی لغزش کا ذکر نہیں کریں گے ( صرف ) اتنا کہیں گے، نفسی، نفسی، نفسی میرے سوا کسی اور کے پاس جاؤ۔ ہاں، محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) کے پاس جاؤ۔ سب لوگ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوں گے اور عرض کریں گے، اے محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) ! آپ اللہ کے رسول اور سب سے آخری پیغمبر ہیں اور اللہ تعالیٰ نے آپ کے تمام اگلے پچھلے گناہ معاف کر دیئے ہیں، اپنے رب کے دربار میں ہماری شفاعت کیجئے۔ آپ خود ملاحظہ فرما سکتے ہیں کہ ہم کس حالت کو پہنچ چکے ہیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ آخر میں آگے بڑھوں گا اور عرش تلے پہنچ کر اپنے رب عزوجل کے لیے سجدہ میں گر پڑوں گا، پھر اللہ تعالیٰ مجھ پر اپنی حمد اور حسن ثناء کے دروازے کھول دے گا کہ مجھ سے پہلے کسی کو وہ طریقے اور وہ محامد نہیں بتائے تھے۔ پھر کہا جائے گا، اے محمد! اپنا سر اٹھایئے، مانگئے آپ کو دیا جائے گا۔ شفاعت کیجئے، آپ کی شفاعت قبول ہو جائے گی۔ اب میں اپنا سر اٹھاؤں گا اور عرض کروں گا۔ اے میرے رب! میری امت، اے میرے رب! میری امت پر کرم کر، کہا جائے گا اے محمد! اپنی امت کے ان لوگوں کو جن پر کوئی حساب نہیں ہے، جنت کے داہنے دروازے سے داخل کیجئے ویسے انہیں اختیار ہے، جس دروازے سے چاہیں دوسرے لوگوں کے ساتھ داخل ہو سکتے ہیں۔ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اس ذات کی قسم! جس کے ہاتھ میں میری جان ہے۔ جنت کے دروازے کے دونوں کناروں میں اتنا فاصلہ ہے جتنا مکہ اور حمیر میں ہے یا جتنا مکہ اور بصریٰ میں ہے۔ صحیح بخاری کتاب قرآن کے فضائل حدیث 4712

روز قیامت بس حضرت محمد صل اللہ علیہ وسلم کو اس بات کا اختیار ہو گا کہ وہ شفاعت کر سکیں اور وہ بھی اللہ تعالیٰ کی اجازت سے. وہ اپنی دعا کے زریعے اللہ سے شفا طلب کریں گے

اللہ کے واحد شافی ہونے کا بیان

اللہ تعالیٰ نے بارہا قرآن پاک میں اس بات کا تذکرہ کیا ہے کہ وہی انسان کا خالق اور مالک ہے اس کی تمام خواہشات پوری کرتا ہے اور وہی وسیلہ ہے

 

 

کہہ دیجئے! کہ تمام سفارش کا مختار اللہ ہی ہے ۔ تمام آسمانوں اور زمین کا راج اسی کے لئے ہے تم سب اسی کی طرف پھیرے جاؤ گے ۔سورت الزمر آیت 44

اور ایسے لوگوں کو ڈرائیے جو اس بات سے اندیشہ رکھتے ہیں کہ اپنے رب کے پاس ایسی حالت میں جمع کئے جائیں گے کہ جتنے غیر اللہ ہیں نہ کوئی ان کا مددگار ہوگا اور نہ کوئی شفیع ہوگا اس امید پر کہ وہ ڈر جائیں ۔ سورت الانعام آیت 51

 

وہ رات کو دن میں اور دن کو رات میں داخل کرتا ہے اور آفتاب و ماہتاب کو اسی نے کام میں لگا دیا ہے ۔ ہر ایک میعاد معین پر چل رہا ہے یہی ہے اللہ تم سب کا پالنے والا اسی کی سلطنت ہے ۔ جنہیں تم اس کے سوا پکار رہے ہو وہ تو کھجور کی گھٹلی کے چھلکے کے بھی مالک نہیں ۔سورت الفاطر آیت 13

 

اور جب کہ دوزخ میں ایک دوسرے سے جھگڑیں گے تو کمزور لوگ تکبر والوں سے ( جن کے یہ تابع تھے ) کہیں گے کہ ہم تو تمہارے پیرو تھے تو کیا اب تم ہم سے اس آگ کا کوئی حصہ ہٹا سکتے ہو؟ وہ بڑے لوگ جواب دیں گے ہم تو سبھی اس آگ میں ہیں ، اللہ تعالٰی اپنے بندوں کے درمیان فیصلہ کر چکا ہے ۔ سورت غافر آیت 47 48

اس تمام بات سے ثابت ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ ہی وہ واحد وسیلہ ہے جو انسان کی ہر مشکل. اور حاجت پوری کر سکتا ہے. کسی انسان کو وسیلہ سمجھنا غلط عمل ہے تو اس سے اجتناب کریں

 

((اگر اس مکالمے میں ہم سے کوئی غلطی یا کوتاہی ہوئی ہے تو براہ مہربانی غلطی کی نشاندہی کر کے ہماری اصلاح میں مدد کیجیئے۔ اللہ ہماری چھوٹی بڑی غلطیوں کو معاف فرمائے اور ہماری اس کاوش کو اپنی بارگاہ میں قبول و مقبول فرمائے۔اللہ اس کاوش کو ہمارے خاندان کے لئے نجات کا موجب بنائے اور دین پر ہماری پکڑ کو اور مضبوط کرے. آمین )

Next Post

Previous Post

Leave a Reply

© 2019 Islamic Education

Theme by Anders Norén