Islamic Education

All About Islam

اسلام میں عورت کا مقام

Facebooktwittergoogle_plusredditpinterestlinkedinmailFacebooktwittergoogle_plusredditpinterestlinkedinmail

 

اسلام میں عورت کا مقام بہت صاف اور واضح طور پر بیان کیا گیا ہے مگر کم علم رکھنے والے اور غیر مسلم جب اپنی عقل اور سمجھ کے مطابق قرآن کی وضاحت کرتے ہیں تو غلط فہمی کا احتمال ہوتا ہے. اسلام اس کا ئنات کا پہلا مزہب ہے جس میں ععرت کع حقوق دیئے گئے. اسلام بہت آزاد اور ماڈرن مزہب ہے جو عورت کو تمام بنیادی حقوق مثلاً پسند کی شادی، طلاق، جائداد میں حصہ، وراثت، ملکیت کے حقوق، تعلیم اور بہت سے دیگر حقوق مہیا کرتا ہے

عورت کو قرآن میں کن ناموں سے مخاطب کیا ہے؟

قرآن میں عورت کو مختلف ناموں سے مخاطب کیا گیا ہے. عورت کے لئے سب سے مخصوص لفظ انثا ہے. اس کے علاوہ ایک پوری سورت عورت کے لئے مخصوص کی گئی ہے جس کا نام سورت النساء ہے. عورت کو مومنات، مسلمات کے علاوہ اور بھی بہت ناموں سے مخاطب کیا گیا ہے۔

اسلام سے پہلے عورت کا مقام

اسلام سے پہلے عورت کو انسان کی بجائے ضرورت کی چیز سمجھا جاتا تھا. اس کی نہ تو کوئی حیثیت تھی اور نہ ہی کوئی حقوق. عورت کو صرف مردوں کی خوشی کا سامان سمجھا جاتا تھا. لڑکیوں کو زندہ جلانے کا عام رواج تھا. جب کسی کو بیٹی کی پیدائش کا علم ہوتا تو وہ افسردہ ہو جاتے اور پھر بیٹی کو دفنا دیتے تھے. عورتوں کی خرید و فروخت اس وقت بہت عام تھا. عورت کو شادی اور طلاق کا کوئی حق نہیں تھا. مرد عورت کو طلاق دینے کے باوجود اپنی خوشی کے لئے تمام عمر استعمال کر سکتا تھا. عورت کو کوئی جائداد رکھنے کا حق حاصل نہیں تھا. اپنے والد، بھائی یا شوہر کی غلطی کی پاداش میں دوسروں کی وراثت میں منتقل کر دیا جاتا تھا۔

اسلام کی چار عظیم خواتین

۔ خدیجہ بی بی
۔ حضرت فاطمہ بنت محمد صل اللہ علیہ وسلم
۔ آسیہ بنت مزاہم یا زوجہ فرعون
۔ حضرت مریم بنت عمران

وراثت میں عورت کا آدھا حصہ

عورت کو والدین کی جائداد میں آدھا حصہ جبکہ مرد کو ایک حصہ دیا جاتا ہے. اس سے مراد عورت اور مرد کی حیثیت میں فرق نہیں بلکہ عورت کو جائداد کا جو حصہ ملت ہے وہ صرف اس کی ملکیت ہوتے ہیں جس عورت کو کسی اور پر خرچ کرنے کی ضرورت نہیں ہے مگر مرد کا حصہ صرف مرد کا نہیں ہوتا بلکہ وہ حصہ اس کے زیر کفالت تمام افراد پر خرچ ہونا ہوتا ہے جیسے بیوی، بچے، والدین حتیٰ کہ وہ بہن بھی جا اپنا حصہ لے چکی ہے۔

قرآن میں عورت کو دی گئی عزت

قرآن میں عورت کے لئے ایک سورت مخصوص کی گئی ہے جس کا نام سورت النساء ہے. اسمیں عورت کے حقوق بیان کئے گئے ہیں. اس کے علاوہ سورت مریم، بی بی مریم سے منسوب ہے اس میں بھی کئی مقامات پرعورت کے مسائل کا ذکر ہے۔

اسلام میں عورت کو دیے گئے حقوق

اسلام میں عورت کو بےشمار حقوق حاصل ہیں. ان میں سے کچھ درج زیل ہیں اور ان کی تفصیل ہم دوسرے مکالمے میں بیان کریں گے۔

مرد اور عورت مساوی مگر مختلف

اسلام نے مرد اور عورت کو مساوی بنایا ہے. مگر انہیں ایک جیسا نہیں بنایا. مرد اور عورت جسمانی اور جذباتی طور پر ایک دوسرے سے مختلف ہیں مگر ان کے حقوق مساوی ہیں۔

پاکیزہ تخلیق

عورت اللہ تعالیٰ کی بنائی ہوئی بہت پاکیزہ اور خوبصورت تخلیق ہے. اسی لئے اس کی حفاظت کے پیش نظر اللہ تعالیٰ نے اسے پردے کا حکم دیا۔

لڑکی کی پیدائش پر افسوس

اسلام نے مسلمانوں کو لڑکی کی پیدائش پر افسردہ ہونے سے منع فرمایا ہے اور اسے زندہ دفنا دینا بھی بہت بڑا گناہ ہے۔

عورت بطور تاوان

عورت کا بطور تاوان کسی دوسرے کو دے دینا بھی اسلام میں سخت منع ہے اور اس کی سخت مذمت کی گئی ہے۔

جائداد میں عورت کا حق

اسلام نے کفار سے مخالف عورت کا اپنے والدین اور خاوند کی جائداد میں بھی حصہ مقرر کیا۔

مرد بطور محافظ اور کفیل

اسلام نے مرد کو عورت پر حاکم نہیں بلکہ محافظ اور کفیل بنا کر بھیجا ہے۔

شادی

عورت کو اسلام نے یہ حق دیا ہے کہ وہ اپنی پسند سے شادی کر سکے. کوئی اسے شادی کے لئے نہ تو مجبور کر سکتا ہے اور نہ زبردستی کر سکتا ہے۔

اللہ کی عبادت

عورت کو مرد کی طرح اللہ کی عبادت کا بھی حق حاصلِ ہے. بہت سے مذاہب میں عورت کو اپنے لئے عبادت کرنے کی اجازت نہیں ہے بلکہ وہ اپنے خاوند کے لیے عبادت کرتی ہے۔

عورت کمتر نہیں بلکہ نازک ہے

اسلام عورت کے مزاج کو سمجھتا ہے کہ وہ مرد کی نسبت نازک ہے مگر وہ کسی قدر بھی مرد سے کمتر نہیں ہے. یہ فرق اللہ تعالیٰ نے بنایا ہے اور سب کو اس فرق کی عزت کرنی چاہئیے۔

عورت ہمسفر نہ کہ غلام

اسلام نے عورت اور مرد کو شادی میں برابر کے حقوق دیئے ہیں. عورت مرد کی ہمسفر ہے غلام نہیں۔

طلاق کے بعد دوبارہ شادی

عورت کو طلاق یا خاوند کی وفات کے بعد دوسری شادی کرنے کا پورا حق ہے۔

طلاق کا حق

عورت کو طلاق کا بھی حق حاصل ہے. اگر اسے اپنا خاوند نہ پسند ہے یا وہ اس کے ساتھ ناخوش ہے تو عورت اپنے خاوند سے طلاق لے سکتی ہے۔

شادی کے بعد الگ گھر

عورت کو یہ حق بھی حاصل ہے کہ اگر وہ چاہے تو اپنے خاوند سے الگ گھر کا مطالبہ کر سکتی ہے۔

جائداد میں حصہ

عورت کو اس کے خاوند اور شوہر کہ جائداد میں حصہ بھی دی گیا ہے۔

تعلیم کا حق

عورت کو اسلام میں مرد کی طرح تعلیم حاصل کرنے کا حق حاصل ہے. بی بی عائشہ رضی اللہ عنہ تعلیم یافتہ عورت ہونے کی سب سے بڑی مثال ہیں۔

جائیداد یا کاروبار کی مالک

عورت جائداد اور کاروبار کی مالک ہو سکتی ہے. یہ حق اسلام نے آج سے 1400 سال پہلے عورت کو دیا جبکہ ماڈرن دور میں 18 رویں صدی کے آخر تک عورت کو ایسا کوئی حق حاصل نہیں تھا۔

جائیداد کی خرید و فروخت

عورت جس طرح جائداد کی مالک ہو سکتی ہے اسی طرح جائداد کی خرید و فروخت بھی کر سکتی ہے۔

کفالت کا حق

عورت کویہ حق حاصل ہے کہ اس کی کفالت کی جائے مرد خواہ باپ ہو، بھائی ہو، خاوند ہو یا خاندان کا کوئی اور محرم مرد ہو. اگر کوئی محرم نہیں ملتا تو حاکم وقت کی زمہ داری ہے کہ وہ عورت کی کفالت کرے. عورت کو اسلام نے کمانے کی مشقت سے آزادی دی ہے مگر اگر عورت اپنی آزاد مرضی سے نوکری کرنا چاہے تو وہ کر سکتی ہے۔

حق مہر

عورت کو نکاح میں دیا جانے والا حق مہر بھی اس کی حفاظت کے پیش نظر رکھا گیا ہے۔

عورت بحیثیت ایک بیوی

عورت مرد کا آدھا ایمان پورا کرتی ہے. اور وہ شخص اسلام میں سب سے بہتر ہے جو اپنی بیوی کے حق میں بہتر ہے۔

عورت بطور بیٹی

ایک بیٹی اپنے باپ کے لئے جنت کی بشارت ہے۔

عورت بطور بہن

اگر بھائی بہن کا حق ادا کرتے ہیں تو ان کے لئے بھی جنت کی بشارت دی گئی ہے۔

عورت بطور ماں

ماں کے قدموں تلے اولاد کے لئے جنت ہے۔

عورت کی پاکیزگی پر الزام

اگر کوئی عورت کی پاکیزگی پر الزام لگائے اور ثابت نہ کر سکے تو اس کے لئے وہ سزا کا مستحق ہے۔

عورت سے جنسی زیادتی

اگر کوئی عورت کی عزت پامال کرتا ہے تو اسے سزائے موت کی سزا ہوتی ہے۔

عورت اور جہاد

اسلام عورت کو جہاد میں حصہ لینے کا حق بھی دیتا ہے. آج کل ماڈرن عورت اس حق کو اپنی بہت بڑی کامیابی تصور کرتی ہے مگر اسلام. عورت کو یہ حق بھی 1400 سال پہلے سے چکا ہے۔

 

اگر اس مکالمے میں ہم سے کوئی غلطی یا کوتاہی ہوئی ہے تو براہ مہربانی غلطی کی نشاندہی کر کے ہماری اصلاح میں مدد کیجیئے۔ اللہ ہماری چھوٹی بڑی غلطیوں کو معاف فرمائے اور ہماری اس کاوش کو اپنی بارگاہ میں قبول و مقبول فرمائے۔اللہ اس کاوش کو ہمارے خاندان کے لئے نجات کا موجب بنائے اور دین پر ہماری پکڑ کو اور مضبوط کرے. آمین 

Next Post

Previous Post

Leave a Reply

© 2019 Islamic Education

Theme by Anders Norén