Islamic Education

All About Islam

اسلام میں طہارت کی اہمیت

Facebooktwittergoogle_plusredditpinterestlinkedinmailFacebooktwittergoogle_plusredditpinterestlinkedinmail

 

طہارت اور پاکیزگی کو اسلام میں ایک خاص مقام حاصل ہے۔ دینِ اسلام میں طہارت کی اہمیت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ میں طہارت کو نصف ایمان کا درجہ حاصل ہے۔ ہمارا مذہب ہر حال میں بالعموم اور عبادات کے لئے باالخصوص جسم کی صفائی پر زور دیتا ہے۔ طہارت کے لئے اسلام میں کچھ شرائط ہیں جن کا پورا کرنا فرض ہے۔

طہارت کا مطلب

طہارت کا لفظ طاہر سے نکلا ہے جس کا مطلب ہے صفائی، پاکی

طہارت کی وضاحت

طہارت اسلام کا سب سے اہم اور بنیادی اصول ہے. طہارت طہارت صرف جسم کی صفائی ہی نہیں بلکہ کپڑوں، روح، سوچ اور ادرگرد کی صفائی بھی لازم ہے ۔

طہارت کی اقسام 

طہارت دو طرح کی ہوتی ہے

طہارت کبیرہ

طہارت صغیرہ

طہارت کبیرہ

طہارت کبیرہ سے مراد ہے غسل جو اسلامی قوانین و ضوابط کو مدنظر رکھتے ہوئے جسم کی صفائی کا طریقہ ہے۔

طہارت صغیرہ

طہارت صغیرہ سے مراد وضو یا تیمم ہے۔

وضو میں جسم کے ظاہری حصوں کو پانی سے دھو کر پاک کیا جاتا ہے

تیمم تب کیا جاتا یے جب پانی میسر نہ ہو یا کسی بیماری کی وجہ سے پانی استعمال کرنا خطرناک ہو۔

مطھرات

طہارت کے لئے پانی کا استعمال کیا جاتا ہے تاکہ جسم کو گندگی سے پاک کیا جا سکے اور اگر پانی میسر نہ ہو تو جنس زمیں سے اخذ کی گئی اشیاء سے طہارت کی جا سکتی ہے

 اور وہی ہے جو باران رحمت سے پہلے خوشخبری دینے والی ہواؤں کو بھیجتا ہے اور ہم آسمان سے پاک پانی برساتے ہیں ۔ سورت الفرقان آیت 48 

کیسا پانی استعمال کیا جا سکتا ہے؟

۔ صاف پانی

۔بارش کا پانی

۔بہتا ہوا پانی جیسے جھیل، آبشار

۔کھڑا پانی بشرطیکہ  وہاں 550 لیٹر پانی سے زیادہ پانی ہو. جیسے سمندر، دریا، تالاب وغیرہ

۔برف سے پگھلا پانی

 

پانی جس کا استعمال ممنوع ہے 

۔پانی جس کا رنگ، بو یا ذائقہ تبدیل ہو گیا ہو

۔نجاست والا پانی

۔تھوک

 ۔پھولوں یا پھلوں سے اخذ کیا گیا پانی جیسے عرق گلاب وغیری.

 

طہارت کب ضروری ہے

جب انسان کسی بھی نجس چیز سے رابطے میں آتا ہے تو طہارت لازم ہو جاتی ہے. نجس اشیاء درج ذیل ہیں.

 ۔ پیشاب

۔ پاخانہ

۔ خون

۔ جنابت

۔ خنزیر

۔ کتا

۔ مردہ

۔ شراب

اشیاء جنہیں طہارت کی ضرورت ہے

ہر وہ چیز جو نجس اشیاء سے رابطے میں آنے کی وجہ سے گندی ہو جائیں ان کو پاک کرنا لازم ہے مثلاء

۔جسم

۔کپڑے

اپنے کپڑوں کو پاک رکھا کر ۔ سعرت المدثر آیت 4

۔جوتے

۔زمین

۔برتن

طہارت کا ثبوت

ناپاکی کو چھوڑ دے ۔ سورت المدثر آیت 5

سورت البقرہ آیت 222 میں ارشاد  ہے.

اللہ توبہ کرنے والوں کو اور پاک رہنے والوں کو پسند فرماتا ہے ۔

سورت المائدہ آیت 6 میں اللہ پاک نے فرمایا ہے

اے ایمان والو! جب تم نماز کے لئے اُٹھو تو اپنے منہ کو اور اپنے ہاتھوں کوکہنیوں سمیت دھو لو ۔ اپنے سروں کا مسح کرو اور اپنے پاؤں کو ٹخنوں سمیت دھو لو اور اگر تم جنابت کی حالت میں ہو تو غسل کرلو ہاں اگر تم بیمار ہو یا سفر کی حالت میں ہو یا تم میں سے کوئی حاجت ضروری سے فارغ ہو کر آیا ہو ، یا تم عورتوں سے ملے ہو اور تمہیں پانی نہ ملے تو تم پاک مٹی سے تیمم کر لو ، اسے اپنے چہروں پر اور ہاتھوں پر مل لو اللہ تعالٰی تم پر کسی قسم کی تنگی ڈالنا نہیں چاہتا بلکہ اس کا ارادہ تمہیں پاک کرنے کا اور تمہیں اپنی بھرپور نعمت دینے کا ہے تاکہ تم شکر ادا کرتے رہو ۔

نجاست کی حالت میں کیا کرنا منع ہے؟  

جب انسان نجس ہو تو ان چیزوں سے اجتناب کرنا چاہیئے.

۔نماز

(۔روزہ (اگر جنب یا حائضہ ہو تو

۔قرآن کو ہاتھ لگانا

 

اگر اس مکالمے میں ہم سے کوئی غلطی یا کوتاہی ہوئی ہے تو براہ مہربانی غلطی کی نشاندہی کر کے ہماری اصلاح میں مدد کیجیئے۔ اللہ ہماری چھوٹی بڑی غلطیوں کو معاف فرمائے اور ہماری اس کاوش کو اپنی بارگاہ میں قبول و مقبول فرمائے۔اللہ اس کاوش کو ہمارے خاندان کے لئے نجات کا موجب بنائے اور دین پر ہماری پکڑ کو اور مضبوط کرے. آمین

Next Post

Previous Post

Leave a Reply

© 2019 Islamic Education

Theme by Anders Norén