Islamic Education

All About Islam

اسلام میں طلاق

Facebooktwittergoogle_plusredditpinterestlinkedinmailFacebooktwittergoogle_plusredditpinterestlinkedinmail

 

اسلام میں عورت اور مرد کو یہ مساوی حق دیا گیا ہے کہ ایک دوسرے سے طلاق لے سکتے ہیں۔ یہ ایک مسلمان جوڑے کو قانون اور اسلام دونوں کی جانب سے حق دیا گیا ہے۔لفظ طلاق  ط ل ق سے اخذ کیا گیا ہے جس سے

مراد ہے آزاد کرنا

طلاق سے مراد

 لفظ طلاق سے مراد ہے کہ ایک ایسا اسلامی حق جس کی بنا پر ایک مسلمان جوڑا ایک دوسرے سے علیحدگی اختیار کر سکتا ہے اگر وہ کسی بھی وجہ سے ایک دوسرے کے ساتھ ناخوش ہیں۔

طلاق کی وضاحت

لفظ عقد (نکاح) کا مطلب ہے گرہ لگانا اور اس کے بر عکس لفظ طلاق کا مطلب ہے گرہ کھولنا۔ تو نکاح کر کے ایک مرد اور عورت کے درمیان جو گرہ لگائی جاتی ہے وہ طلاق کے ذریعے کھول دی جاتی ہے۔ جب ایک مرد اور عورت کو نکاح کرمے ذریعے ایک کیا جاتا ہے مگر نکاح کے بعد دونوں کو یا کسی ایک کو محسوس ہوتا ہے کہ یہ نکاح کا رشتہ ان کے لئے خوشی کی بجائے اذیت کا باعث بن گیا ہے تو وہ شخص اپنی آزاد مرضی سے طلاق لے سکتا ہے۔

ایک حلال مگر ناپسندیدہ عمل

اسلام نے مرد اور عورت کو طلاق کا حق تو دیا ہے کیونکہ اسلام ایک حقیقت پسند مذہب ہے اور انسان کی بہتری کے لئے تشکیل دیا گیا ہے مگر اس کے باوجود یہ اللہ کی طرف سے ناپسندیدہ عمل ہے۔

طلاق حلال بھی اور ناپسندیدہ بھی کیوں؟

بہت سے غیر مسلم اس بات پر اسلام کو تنقید کا نشانہ بناتے ہیں کہ اسلام میں طلاق کا حق کیوں دیا گیا ہے۔ اسلام ایک حقیقت پسند اور عام فہم مذہب ہے جو انسانوں کی فطرت کے عین مطابق بنایا گیا ہے۔ اگر ایک جوڑا ایک دوسرے کے ساتھ خوش نہیں ہے یا کوئی اس طرح کے حالات درپیش ہیں جن میں دونوں کا ساتھ رہنا ناممکن ہے، تو ان کے لئے ایک دوسرے سے الگ ہو جانا ہی بہتر ہے۔

طلاق کا موجب

جو کوئی بھی دو انسانوں کے درمیان طلاق کا موجب بنے ،چاہے وہ اس کے ماں باپ ہی کیوں نہ ہوں وہ انسان اللہ کی حدود سے تجاوز کرنے والا ہے ۔اللہ کی بارگاہ میں گناہ گار ہے پس قیامت کے دن اسے اپنے گناہ کی سزا بھگتنی پڑے گی کیونکہ یہ شیطان کی پیروی کرنے کے برابر ہے۔

طلاق کی وجوہات

طلاق کی بہت سی وجوہات میں سے کچھ درج ذیل ہیں

دلچسپی کا نہ ہونا

کبھی کبھی میاں اور بیوی کو ایک دوسرے میں دلچسپی نہیں ہوتی۔ یہ دلچسپی کبھی کبھار تو شروع سے ہی نہیں ہوتی اور کبھی کبھی شادی کے بعد یہ دلچسپی ختم ہو جاتی ہے۔ ایسے حالات میں میاں بیوی ایک دوسرے سے الگ ہو جانا مناسب سمجھتے ہیں۔ یا کبھی کبھی دونوں میں سے ایک پارٹی تو مفاہمت کرنا چاہتی ہے مگر دوسرا اس بات پر راضی نہیں ہوتا اور وہ طلاق کا راستہ اختیار کر لیتا ہے

کسی دوسرے کی جانب مائل ہو جانا

کبھی کبھار دونوں میں سے ایک پارٹی کی توجہ کسی دوسرے کی جانت مبذول ہو جاتی ہے اور اس طرح طلاق کی نوبت آ جاتی ہے۔ جب تیسرا فرد سبز باغ دکھا کر کسی کو اپنی جانب راغب کرتا ہے تو انہیں اپنے ہنستے بستے گھر میں برائی اور کمی محسوس ہونے لگتی ہے اور آخر کار کسی دوسرے کی لگائی گئی آگ سے اپنا گھر جل جاتا ہے اور طلاق سے نکاح جیسے مقدس رشتے کا اختتام ہو جاتا ہے

زبردستی کی شادی

جب شادی جیسا مقدس رشتہ زبردستی جوڑا جاتا ہے تو اس کا انجام آخر کار طلاق ہی ہوتا ہے کیونکہ یہ پیار کی ڈور کی بجائے زبردستی کی زنجیر سے بندھا ہوتا ہے۔

بنیادی ضروریات کی طرف عدم توجہ

عام طور پر انسان کی جنسی خواہشات کی جانب عدم توجہی بھی ایک بڑی وجہ ہے طلاق کی۔ ایک مرد کو اللہ نے اولاد پیدا کرنے کے لئے بنایا ہے تو جنسی تعلق مرد کی خواہش نہیں ضرورت ہوتی ہے۔ جب عورت اس بنیادی ضرورت کو پورا نہیں کر پاتی تو مرد آخرکار اپنی ضرورت کے پیش نظر اس عورت کو طلاق دینا ہی مناسب سمجھتا ہے۔ کبھی کبھار عورت کی جنسی خواہشات مرد کی نسبت زیادہ ہوتی ہیں اور مرد کی عدم توجہ بھی آخر کار طلاق کا موجب بنتے ہیں

ہم آہنگی نہ ہونا

اگر مرد اور عورت میں ذہنی ہم آہنگی نہ ہو تو ایسے رشتے بھی طلاق کی بھینٹ چڑھ جاتے ہیں

منفی رویے

انسانی رویے مثلاً مار پیٹ، ناشکری، طنز، لعن طعن، لڑائی، جھگڑا، بحث و تکرار، ہٹ دھرمی وغیرہ نکاح کے رشتے کو طلاق کی نہج پر لا کھڑا کرتے ہیں

غصہ میں طلاق

اس بات پر مختلف علماء کی مختلف رائے ہے۔ کچھ کے مطابق غصے میں دی گئی طلاق اگرچہ بغیر ارادے کے دی جائے وہ طلاق ہی شمار کی جائے گی مگر دوسروں کے مطانق طلاق کے لئے نیت ہونا ضروری ہے

قرآن مجید سے طلاق کا ثبوت  

قرآن مجید کی سورت البقرہ کی آیات نمبر 227 سے232، سورت الطلاق کی آیات 1سے7 اور سورت الاحزاب کی آیاتِ 28 اور29 طلاق سے متعلق ہیں

حدیث سے طلاق کا ثبوت

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ نے میری امت کے خیالات کو جو دل میں آتے ہیں معاف فرما دیا ہے جب تک کہ وہ انہیں زبان سے ادا نہ کرے، یا ان پر عمل نہ کرے“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اہل علم کا اسی پر عمل ہے کہ آدمی جب اپنے دل میں طلاق کا خیال کر لے تو کچھ نہیں ہو گا، جب تک کہ وہ منہ سے نہ کہے۔ ترمذی شریف کتاب طلاق حدیث نمبر 1183

لوگوں کا حال یہ تھا کہ آدمی اپنی بیوی کو جتنی طلاقیں دینی چاہتا دے دینا رجوع کر لینے کی صورت میں وہ اس کی بیوی بنی رہتی، اگرچہ اس نے سویا اس سے زائد بار اسے طلاق دی ہو، یہاں تک کہ ایک آدمی نے اپنی بیوی سے کہا: اللہ کی قسم! میں تجھے نہ طلاق دوں گا کہ تو مجھ سے جدا ہو جائے اور نہ تجھے کبھی پناہ ہی دوں گا۔ اس نے کہا: یہ کیسے ہو سکتا ہے؟ اس نے کہا: میں تجھے طلاق دوں گا پھر جب عدت پوری ہونے کو ہو گی تو رجعت کر لوں گا۔

اس عورت نے عائشہ رضی الله عنہا کے پاس آ کر انہیں یہ بات بتائی تو عائشہ رضی الله عنہا خاموش رہیں، یہاں تک کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم آئے تو عائشہ رضی الله عنہا نے آپ کو اس کی خبر دی۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم بھی خاموش رہے یہاں تک کہ قرآن نازل ہوا «الطلاق مرتان فإمساك بمعروف أو تسريح بإحسان» ”طلاق ( رجعی ) دو ہیں، پھر یا تو معروف اور بھلے طریقے سے روک لینا ہے یا بھلائی سے رخصت کر دینا ہے“ ( البقرہ: ۲۲۹ ) ۔ عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں: تو لوگوں نے طلاق کو آئندہ نئے سرے سے شمار کرنا شروع کیا، جس نے طلاق دے رکھی تھی اس نے بھی، اور جس نے نہیں دی تھی اس نے بھی۔

ترمذی شریف کتاب طلاق حدیث نمبر 1192

اگر اس مکالمے میں ہم سے کوئی غلطی یا کوتاہی ہوئی ہے تو براہ مہربانی غلطی کی نشاندہی کر کے ہماری اصلاح میں مدد کیجیئے۔ اللہ ہماری چھوٹی بڑی غلطیوں کو معاف فرمائے اور ہماری اس کاوش کو اپنی بارگاہ میں قبول و مقبول فرمائے۔اللہ اس کاوش کو ہمارے خاندان کے لئے نجات کا موجب بنائے اور دین پر ہماری پکڑ کو اور مضبوط کرے۔ آمین

Next Post

Previous Post

Leave a Reply

© 2019 Islamic Education

Theme by Anders Norén