Islamic Education

All About Islam

اسلام اور جادو

Facebooktwittergoogle_plusredditpinterestlinkedinmailFacebooktwittergoogle_plusredditpinterestlinkedinmail

 

اسلام میں جادو کرنے سے کسی بھی حالت میں منع کیا گیا ہے۔ اگر کوئی شخص یہ خیال کرتا ہے کہ وہ کسی اچھے کام کے لئے جادو کر رہا ہے تو وہ ٹھیک کر رہا ہے تو یہ خیال بالکل درست نہیں ہے۔ اس کو ممنوع کرنے کی سب سے بڑی وجہ اس کا شیطان سے منسلک ہونا ہے۔ جادو کا مطلب، اور اس کے بارے میں باقی معلومات درج زیل ہیں

جادو کا مطلب

ایک عمل یا کچھ عوامل جب کسی بری نیت سے کی جائیں اور اس میں کچھ خاص کلمات کو استعمال کیا جائے جو شیطانیت سے منسوب ہوں تو ان عوامل کو جادو کرنا کہتے ہیں

کالا جادو اور سفید جادو کیا ہوتا ہے؟

ان اصطلاحات کا استعمال مغربی ممالک میں کیا جاتا ہے مگر اسلام کی رو سے جادو جادو ہوتا ہے، کالا یا سفید جادو کچھ نہیں ہوتا اور دونوں ہی اقسام اسلام میں منع کی گئی ہیں

جادو کی تاریخ

جادو کی شروعات کے بارے میں مختلف قسم کے نظریات ہیں جن میں سے دو سب سے عام نظریات درج زیل ہیں

سورت البقرہ کی آیت نمبر 102 میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ دو فرشتے ہاروت اور ماروت حضرت ابراہیم کے دور سے بھی بہت پہلے بابل کے علاقے میں اتارے گئے تھے۔ یہ انسانوں پر ایک امتحان کے طور پر اتارے گئے تھے۔ انہوں نے انسانوں کو جادو سکھایا مگر سکھانے سے پہلے وہ لوگوں کو آگاہ کر دیتے تھے کہ یہ ایک شیطانی عمل ہے اور اس کو سیکھنے والا اللہ کے دین سے خارج ہو جائے گا

دوسرا خیال یہ ہے کہ ہاروت اور ماروت خود لوگوں کو جادو نہیں سکھاتے تھے بلکہ وہ لوگوں کو اس جگہ کا پتہ بتاتے تھے جس جگہ پر شیطان اور جن جادو کیا کرتے تھے اور اس جگہ کا پتہ بتانے سے پہلے یہ فرشتے ان لوگوں کو بتا دیتے تھے کہ وہ اس کام سے دور رہے کیونکہ یہ کھلا کفر ہے

سورت البقرہ کی آیت 102 کی وضاحت

مندرجہ زیل سورت البقرہ کی آیت نمبر 102 ہے

ا ور اس چیز کے پیچھے لگ گئے جسے شیاطین ( حضرت ) سلیمان کی حکومت میں پڑھتے تھے ۔ سلیمان نے تو کفر نہ کیا تھا ، بلکہ یہ کفر شیطانوں کا تھا ، وہ لوگوں کو جادو سکھایا کرتے تھے اور بابل میں ہاروت ماروت دو فرشتوں پر جو اتارا گیا تھا وہ دونوں بھی کسی شخص کو اس وقت تک نہیں سکھاتے تھے جب تک یہ نہ کہہ دیں کہ ہم تو ایک آزمائش ہیں تو کفر نہ کر پھر لوگ ان سے وہ سیکھتے جس سے خاوند و بیوی میں جدائی ڈال دیں اور دراصل وہ بغیر اللہ تعالٰی کی مرضی کے کسی کو کوئی نقصان نہیں پہنچا سکتے یہ لوگ وہ سیکھتے ہیں جو انہیں نقصان پہنچائے اور نفع نہ پہنچا سکے ، اور وہ با یقین جانتے ہیں کہ اس کے لینے والے کا آخرت میں کوئی حصہ نہیں ۔ اور وہ بدترین چیز ہے جس کے بدلے وہ اپنے آپ کو فروخت کر رہے ہیں ، کاش کہ یہ جانتے ہوتے ۔

اس آیت کو سمجھنے کے لئے اس کو الگ الگ حصوں میں تقسیم کرنا پڑے گا

حصہ ایک

ا ور اس چیز کے پیچھے لگ گئے جسے شیاطین ( حضرت ) سلیمان کی حکومت میں پڑھتے تھے ۔ سلیمان نے تو کفر نہ کیا تھا ، بلکہ یہ کفر شیطانوں کا تھا ، وہ لوگوں کو جادو سکھایا کرتے تھے

اس حصے میں بھی ایک تاریخی واقعہ بیان کیا گیا ہے۔ حضرت سلیمان کو اللہ تعالیٰ نے بہت بڑی حکومت سے نوازا تھا۔ ان کے حکم کے تابع تمام چرند، پرند، ہوا، جن اور انس تھے۔ یہ سب مخلوق اللہ تعالیٰ کے حکم سے حضرت سلیمان علیہ السلام کا حکم مانتے تھے۔ اس واقعے کےبارے میں بھی دو رائے ہیں۔ ایک رائے کے مطابق حضرت سلیمان کی وفات کے بعد ان کے تابع کچھ جنات نے لوگوں میں یہ بات پھیلانا شروع کر دی کہ حضرت سلیمان ان پر حکم جادو کے زریعے کرتے تھے اور وہ جن  تمام علم جانتے ہیں جو حضرت سلیمان کے پاس تھا۔ اور لوگوں نے ان سے جادو سیکھنا شروع کیا

دوسرا خیال یہ ہے کہ حضرت سلیمان کے دور میں کچھ جنات ان کی بادشاہی سے فرار حاصل کرنے میں کامیاب ہوگئے اور انہوں نے لوگوں میں یہ افواہ پھیلا دی کہ وہ جادو جو حضرت سلیمان کے پاس ہے ہم وہ سب کو سکھا سکتے ہیں اور لوگوں نے ان سے جادو سیکھنا شروع کیا

اس حصے میں اللہ تعالیٰ نے یہ بھی وضاحت کر دی کہ کفر یعنی جادو حضرت سلیمان نہیں بلکہ شیاطین اور جنات کرتے ہیں۔ اس حصے میں جادو کو کفر سے مشابہہ کر کے واضح کر دیا گیا ہے کہ جادو کرنا اور کفر کرنا ایک ہی ہے۔ یہ معصوم انسانوں کو پھنسانے کے لئے شیطان کا پھیلایا ہوا جال ہے

حصہ دوئم

بابل میں ہاروت ماروت دو فرشتوں پر جو اتارا گیا تھا وہ دونوں بھی کسی شخص کو اس وقت تک نہیں سکھاتے تھے جب تک یہ نہ کہہ دیں کہ ہم تو ایک آزمائش ہیں تو کفر نہ کر پھر لوگ ان سے وہ سیکھتے

اس حصے میں جو بات بیان کی ہے وہ اوپر جادو کی تاریخ میں بیان کی گئی ہے

حصہ تین

جس سے خاوند و بیوی میں جدائی ڈال دیں اور دراصل وہ بغیر اللہ تعالٰی کی مرضی کے کسی کو کوئی نقصان نہیں پہنچا سکتے یہ لوگ وہ سیکھتے ہیں جو انہیں نقصان پہنچائے اور نفع نہ پہنچا سکے

اس حصے میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ جادو ہمیشہ سے دوسروں کو نقصان پہنچانے کی غرض سے کیا جاتا ہے۔ اس کا کوئی فائدہ نہیں ہے۔ اس کے علاوو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ انسان کو لگتا ہے کہ۔وہ جادو کے زریعے دوسروں کا نقصان کر ریا ہے مگر در حقیقت وی اپنا نقصان کر رہا ہوتا ہے۔ اللہ تعالیٰ کی مرضی کے بغیر کوئی انسان دوسرے کو نقصان نہیں پہنچا سکتا

حصہ چہارم

اور وہ با یقین جانتے ہیں کہ اس کے لینے والے کا آخرت میں کوئی حصہ نہیں ۔ اور وہ بدترین چیز ہے جس کے بدلے وہ اپنے آپ کو فروخت کر رہے ہیں ، کاش کہ یہ جانتے ہوتے ۔

 اس حصے میں بنی اسرائیل اور یہودیوں کو تذکرہ کیا گیا ہے کہ انہی لوگوں نے جادو سیکھنا اور سکھانا شروع کیا اور ایسے لوگوں کا آخرت میں کوئی حصہ نہیں ہے۔ اللہ تعالیٰ نے یہودیوں کو ان کی جہالت اور اکڑ کے لئے لعنت کی ہے

نبی پاک پر جادو کا اثر کیونکر ہوا؟

یہ انسانی دماغ میں ابھرتا سب سے عام سوال ہے کہ ہمارے پیارے نبی کریم پر جادو کیسے اثر کر رہا ہے جبکہ وہ تو سب سے پاک انسان تھے۔ ہمارے پیارے نبی کریم کی تمام زندگی ہمارے لئے مشل راہ ہے ان کے ساتھ تمام زندگی میں جو بھی ہوا وہ ہمیں سبق دینے کے لئے تھا۔ اللہ تعالیٰ کے حکم سے ان پر جادو نے جو اثر دکھایا وہ ہمیں جادو کی حقیقت دکھانے کے لئے تھا

اس کے علاوہ اس واقع سے انسان کو یہ بھی دکھایا گیا کہ اگر اس پر جادو کا اثر ہو جائے تو اسے کیا کرنا چاہیئے۔ ہمارے پیارے نبی کریم نے جادو کے اثر کو زائل کرنے کے لئے قرآن سے رہنمائی لی۔ وہ اپنے جادو کے علاج کے لئے کسی عامل کے پاس نہیں گئے بلکہ قرآن کی آیات سے اپنا علاج کیا کیونکہ 99 فءصد یہ عامل جعلی ہوتے ہیں اور معصوم انسانوں کو گمراہ کرتے ہیں

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر ( جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم حدیبیہ سے لوٹے تھے ) جادو ہوا تھا۔ اور لیث بن سعد نے بیان کیا کہ مجھے ہشام نے لکھا تھا، انہوں نے اپنے والد سے سنا تھا اور یاد رکھا تھا اور ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا تھا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر جادو کیا گیا تھا۔ آپ کے ذہن میں بات ہوتی تھی کہ فلاں کام میں کر رہا ہوں حالانکہ آپ اسے نہ کر رہے ہوتے۔ آخر ایک دن آپ نے دعا کی پھر دعا کی کہ اللہ پاک اس جادو کا اثر دفع کرے۔ اس کے بعد آپ نے عائشہ رضی اللہ عنہا سے فرمایا کہ تمہیں معلوم بھی ہوا اللہ تعالیٰ نے مجھے وہ تدبیر بتا دی ہے جس میں میری شفا مقدر ہے۔ میرے پاس دو آدمی آئے، ایک تو میرے سر کی طرف بیٹھ گئے اور دوسرا پاؤں کی طرف۔ پھر ایک نے دوسرے سے کہا، انہیں بیماری کیا ہے؟ دوسرے آدمی نے جواب دیا کہ ان پر جادو ہوا ہے۔ انہوں نے پوچھا، جادو ان پر کس نے کیا ہے؟ جواب دیا کہ لبید بن اعصم یہودی نے، پوچھا کہ وہ جادو ( ٹونا ) رکھا کس چیز میں ہے؟ کہا کہ کنگھے میں، کتان میں اور کھجور کے خشک خوشے کے غلاف میں۔ پوچھا، اور یہ چیزیں ہیں کہاں؟ کہا بئر دوران میں۔ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم وہاں تشریف لے گئے اور واپس آئے تو عائشہ رضی اللہ عنہا سے فرمایا، وہاں کے کھجور کے درخت ایسے ہیں جیسے شیطان کی کھوپڑی۔ میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا، وہ ٹونا آپ نے نکلوایا بھی؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ نہیں مجھے تو اللہ تعالیٰ نے خود شفا دی اور میں نے اسے اس خیال سے نہیں نکلوایا کہ کہیں اس کی وجہ سے لوگوں میں کوئی جھگڑا کھڑا کر دوں۔ اس کے بعد وہ کنواں بند کر دیا گیا۔ صحیح بخاری کتاب انسان کی تخلیق کا بیان حدیث نمبر 3268

جادو کیوں منع ہے؟

۔ اسلام میں جادو مندرجہ زیل وجوہات کی بنا پر ممنوع ہے

۔ جادو اس لئے ممنوع ہے کیونکہ یہ کفر ہے

۔ یہ شیطان کا عمل ہے

۔ جادو کا نتیجہ ہمیشہ برا ہی ہوتا ہے

۔ جادو ہمیشہ دوسروں کا نقصان کرنے کے لئے کیا جاتا ہے

۔ غیب کا علم صرف اللہ تعالیٰ کے پاس ہے تو جو شخص کسی دوسرے انسان کے پاس غیب کا علم ہونے کا دعوی کرے یا یقین کرے تو وہ کفر کرتا ہے

۔ جادو شیطان کا رستہ ہے

۔ یہ اللہ تعالیٰ کے لئے نفرت کا اظہار ہے

جادو کا توڑ

جب اللہ تعالیٰ قرآن پاک میں کسی بری چیز کا زکر کرتا ہے تو اس کا حل بھی بتاتا ہے

سورت البقرۃ کی آیت نمبر 255 جو کہ آیت الکرسی ہے اس کا صبح شام اور ہر نماز کے بعد ورد جادو سے بچاتا ہے

مودتین ( سورت الناس اور سورت الفلق) کا ورد بھی جادو اور بری نظر سے بچاتا ہے کیونکہ یہ دونوں سورتیں اسی موقع پر اتری تھی جب نبی پاک صل اللہ علیہ وسلم پر کسی یہودی نے جادو کر دیا تھا

وضو کہ حالت میں بھی جادو اثر نہیں کرتا

عورتوں کی حالت حیض اور نفاس میں بھی آیت الکرسی اور مودتین کا ورد کرتے رہنا چاہیئے

کیا انسان کسی پر جادو کرنے کا الزام لگا سکتا ہے؟

نہیں، اسلام میں کسی پر الزام لگانا سختی سے منع کیا گیا ہے۔ الزام لگانے والے کی تمام عبادات اور نیک عمل دوسرے کے نامہ اعمال میں لکھ دیئے جاتے ہیں

 

 

(اگر اس مکالمے میں ہم سے کوئی غلطی یا کوتاہی ہوئی ہے تو براہ مہربانی غلطی کی نشاندہی کر کے ہماری اصلاح میں مدد کیجیئے۔ اللہ ہماری چھوٹی بڑی غلطیوں کو معاف فرمائے اور ہماری اس کاوش کو اپنی بارگاہ میں قبول و مقبول فرمائے۔اللہ اس کاوش کو ہمارے خاندان کے لئے نجات کا موجب بنائے اور دین پر ہماری پکڑ کو اور مضبوط کرے۔ آمین

Next Post

Previous Post

Leave a Reply

© 2019 Islamic Education

Theme by Anders Norén