Islamic Education

All About Islam

ارکانِ اسلام

Facebooktwittergoogle_plusredditpinterestlinkedinmailFacebooktwittergoogle_plusredditpinterestlinkedinmail

  

اسلام کے بنیادی طور پر پانچ ارکان ہیں۔ دین اسلام کی تشکیل انہی پانچ ارکان پر ہوتی ہے۔ دین اسلام ایک عمارت کی طرح ہے اور یہ پانچ ارکان اس کے مضبوط ستون ہیں۔ اگر عمارت کا ایک بھی ستون کمزور ہو یا سرے سے ہو ہی نہ تو آپ خود تصور کر سکتے ہیں کہ ان نامکمل یا کمزور ستونوں پر کھڑی عمارت کتنی مضبوط ہو سکتی ہے۔  

ارکان اسلام کون سے ہیں؟ 

 اسلام کے پانچ ارکان ہیں 

۔ شہادت یا توحید 

۔ نماز 

   ۔ روزہ 

   ۔ حج 

   ۔ زکوة  

سب سے اہم ستون 

عام طور پر لوگ تصور کرتے ہیں کہ شہادت کا رکن پورا کر لیا اب باقی ارکان پر عمل پیرا ہونا اتنا لازمی نہیں ہے۔ یہ خیال بالکل غلط ہے۔ شہادت کے اعتراف سے بےشک انسان دائرہ اسلام میں تو داخل ہو جاتا ہے مگر باقی تمام احکامات پر عمل پیرا ہونا بھی اتنا ہی لازم ہے ۔ ان تمام ارکان میں سے کسی ایک رکن کا انکار کرنا اسلام سے خارج ہونے کے مترادف ہے۔ اور اگر ایک مسلمان کسی ایک رکن کی ادائیگی میں کوتاہی کرتا ہے تو وہ گناہ کا مرتکب ہوتا ہے۔ اس لئے تمام ارکان کو اہمیت دینا اور ان پر عمل پیرا ہونا لازمی ہے ۔ 

ارکان اسلام کا مختصر تعارف

اسلام کے بنیادی ارکان کا مختصراً تعارف کچھ یوں ہے۔  

شہادت سے مراد

شہادت سے مراد ہے کہ اللہ کی واحدانیت اور مالک ہونے کی شہادت دینا۔ شہادت اسلام کا سب سے پہلا اور مرکزی رکن ہے ۔ شہادت کے لئے لازم ہے کہ یہ انسان کی آزاد مرضی سے دی جائے اور دل سے دی جائے۔ 

صلوٰۃ سے مراد

صلوٰۃ عربی زبان کا لفظ ہے جس کا مطلب ہے دعا کرنا، استغفار کرنا. اس سے مراد ہے کہ اللہ کی عبادت کا وہ طریقہ جو ہمیں حضرت محمدؐ  نے سکھایا ہے ۔

صوم سے مراد 

صوم سے مراد ہے کسی چیز سے رک جانا اور اسلامی شریعت کے مطابق طلوع آفتاب سے غروب آفتاب تک کچھ بھی کھانے پینے اور مباشرت سے اجتناب کرنا ۔

زکوٰةسے مراد 

زکوٰۃ کا مطلب  ہے طہارت یا ترقی. اس سے مراد وہ دولت ہے جو الله کی راہ میں خرچ کرتے ہیں  ۔

حج سے مراد 

حج کا مطلب ہے ارادہ کرنا. شرعی اصطلاح میں حج سے مراد وہ خاص عمل جو ایک مخصوص مقام پر، مخصوص ایام میں ، ایک خاص طریقے سے سر انجام دیا جائے  ۔

حدیث سے ثبوت

ایک بار ہم مسجدِ نبوی میں نبی کریم ﷺ کے ساتھ بیٹھے ہوئے تھے ، اتنے میں ایک شخص اونٹ پر سوار ہو کر آیا۔ اور اونٹ کو مسجد میں بٹھا کر باندھ دیا۔ پھر پوچھنے لگا (بھائیو) تم لوگوں میں محمدؐ کن سے ہیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت لوگوں میں تکیہ لگائے بیٹھے ہوئے تھے۔ ہم نے کہا محمدؐ یہ سفید رنگ والے بزرگ ہیں جو تکیہ لگائے ہوئے تشریف فرما ہیں۔ تب وہ آپ سے مخاطب ہوا کہ اے عبدالمطلب کے فرزند!۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، کہو میں آپ کی بات سن رہا ہوں۔ وہ بولا میں آپؐ سے کچھ دینی باتیں دریافت کرنا چاہتا ہوں۔ اور ذرا سختی سے بھی پوچھوں گا تو آپؐ دل میں برا نہ مانیے گا۔ آپؐ نے فرمایا، نہیں جو تمہارا دل چاہے پوچھو۔ تب اس نے کہاکہ میں آپ کو آپ کے رب اور اگلے لوگوں کے رب تبارک و تعالیٰ کی قسم دے کر پوچھتا ہوں کیا آپ کو اللہ نے دنیا کی طرف سب لوگوں کی طرف رسول بنا کر بھیجا ہے؟ آپؐ نے فرمایا، ہاں یا میرے اللہ! پھر اس نے کہا میں آپؐ کو اللہ کی قسم دیتا ہوں، کیا اللہ نے آپؐ کو رات دن میں پانچ نمازیں پڑھنے کا حکم فرمایا ہے؟ آپؐ نے فرمایا، ہاں یا میرے اللہ! پھر کہنے لگا میں آپؐ کو اللہ کی قسم دے کر پوچھتا ہوں کہ کیا اللہ نے آپؐ کو یہ حکم دیا ہے کہ سال بھر میں اس مہینہ رمضان کے روزے رکھے۔ آپؐ نے فرمایا، ہاں یا میرے اللہ! پھر کہنے لگا میں آپؐ کو اللہ کی قسم دے کر پوچھتا ہوں کہ کیا اللہ نے آپؐ کو یہ حکم دیا ہے کہ آپؐ ہم میں سے جو مالدار لوگ ہیں ان سے زکوٰة وصول کر کے ہمارے محتاجوں میں بانٹ دیا کریں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہِ وسلم نے فرمایا، ہاں یا میرے اللہ! تب وہ شخص کہنے لگا جو حکم آپؐ اللہ کے پاس سے لائے ہیں، میں ان پر ایمان لایا اور میں اپنی قوم کے لوگوں کا جو یہاں نہیں آئے ہیں بھیجا ہوا ( تحقیق حال کے لئے ) آیا ہوں۔ میرا نام ضمام بن ثعلبہ ہے، میں بنی سعد بن بکر کے خاندان سے ہوں۔ اس حدیث کو (لیث کی طرح) موسیٰ اور علی بن عبدالحمید نے سلیمان سے روایت کیا، انہوں نے ثابت سے، انہوں نے انس سے، انہوں نے یہی مضمون نبی کریم صؒی اللہ علیہ وسلم سے نقل کیا ہے۔

صحیح بخاری کتاب علم حدیث نمبر 63 

     

اگر اس مکالمے میں ہم سے کوئی غلطی یا کوتاہی ہوئی ہے تو براہ مہربانی غلطی کی نشاندہی کر کے ہماری اصلاح میں مدد کیجیئے۔ اللہ ہماری چھوٹی بڑی غلطیوں کو معاف فرمائے اور ہماری اس کاوش کو اپنی بارگاہ میں قبول و مقبول فرمائے۔اللہ اس کاوش کو ہمارے خاندان کے لئے نجات کا موجب بنائے اور دین پر ہماری پکڑ کو اور مضبوط کرے. آمین  

Next Post

Previous Post

Leave a Reply

© 2019 Islamic Education

Theme by Anders Norén