Islamic Education

All About Islam

آیت الکرسی

Facebooktwittergoogle_plusredditpinterestlinkedinmailFacebooktwittergoogle_plusredditpinterestlinkedinmail

 

آیت الکرسی کا مطلب ہے بادشاہی کی آیت کیونکہ اس میں اللہ کی بادشاہت اور اس کی طاقت  بیان کی گئی ہے۔ آیت الکرسی ایک مکمل آیت ہے اور اپنے معنی کے اعتبار سے بہت طاقتور ہے۔ اس آیت میں اللہ کی تعریف اور اسکی بادشاہت کا ذکر کیا گیا ہے اور بتایا گیا ہے کہ اللہ تبارک و تعالیٰ ایک مکمل اور طاقتور ذات ہے۔ اپنی اسی خصوصیت کے باعث آیت الکرسی انسان کو خطرات اور دوسری بلاؤں سے محفوظ رکھنے کے لئےموثر ہے۔

 آیت الکرسی کا ترجمہ

اللہ تعالٰی ہی معبود برحق ہے جس کے سوا کوئی معبود نہیں

جو زندہ اور سب کا تھامنے والا ہے 

جسے نہ اونگھ آتی ہے نہ نیند

اس کی ملکیت میں زمین اور آسمانوں کی تمام چیزیں ہیں 

کون ہے جو اس کی اجازت کے بغیر اس کے سامنے شفاعت کرسکے

وہ جانتا ہے جو اس کے سامنے ہے اور جو ان کے پیچھے ہے اور وہ اس کے علم میں سے کسی چیز کا احاطہ نہیں کر سکتے مگر جتنا وہ چاہے 

اس کی کرسی کی وُسعت نے زمین اور آسمان کو گھیر رکھا ہے اور اللہ تعالٰی ان کی حفاظت سے نہ تھکتا ہے اور نہ اُکتاتا ہے

وہ تو بہت بلند اور بہت بڑا ہے  

آیت الکرسی کی وضاحت  

آیت الکرسی کے نو حصے ہیں مگر ان نو حصوں کو اللہ نے بہت ہم آہنگی سے بنایا ہے

اَللّٰہُ لَاۤ اِلٰہَ اِلَّا ہُوَۚ اَلۡحَیُّ الۡقَیُّوۡمُ  اور  وَ ہُوَ الۡعَلِیُّ  الۡعَظِیۡمُ

یہ دونوں اس آیت کے پہلی اور آخری حصے ہیں جن کے آخر میں اللہ کی دو خصوصیات بیان کی گئی ہیں جو یہ ہیں اَلۡحَیُّ الۡقَیُّوۡمُ اور  الۡعَلِیُّ  الۡعَظِیۡم

لا تَاۡخُذُہٗ سِنَۃٌ وَّ لَا نَوۡمٌ اور وَ لَا یَئُوۡدُہٗ حِفۡظُہُمَ

یہ آیت الکرسی کا حصہ دوئم اور ہشتم ہے. ان حصون کو اگر گہرائی سے دیکھا جائے تو دونوں میں اللہ کی بارے میں ایک ہی بات بیان کی گئی ہے کہ وہ کسی قسم کی تھکاوٹ سے پاک ہے. جب اللہ کسہ چیز کی خفاظت کرتا ہے تو اسے نہ نیند آتی ہے نہ اونگھ اور زمین و آسمان کی نگرانی بھی اللہ کو تھکاتی نہیں ہے 

لہ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ مَا فِی الۡاَرۡضِ اور وَسِعَ کُرۡسِیُّہُ السَّمٰوٰتِ وَ الۡاَرۡضَ

یہ اس آیت کا تیسرا اور ہفتم حصہ ہے. ان دونوں کو دیکھنے سےمعلوم ہوتا ہے کہ یہ آپس میں ملتے جلتے ہیں. ان حصوں میں اللہ انسان کع باعر کرواتا ہے کہ وہ نا صرف زمیں و آسمان کا مالک ہے بلکہ تمام کائنات میں پھیلی ہوئی ہر شے کا بادشاہ بھی ہے. ( بادشاہت اور ملکیت کا فرق جاننے کے لئے المالک اور الملک کا فرق ملاحظہ فرمائیں 

مَنۡ ذَا الَّذِیۡ یَشۡفَعُ  عِنۡدَہٗۤ  اِلَّا بِاِذۡنِہٖ ؕ   اور وَ لَا یُحِیۡطُوۡنَ بِشَیۡءٍ مِّنۡ عِلۡمِہٖۤ اِلَّا بِمَا شَآءَ

اس چوتھے اور چھٹے حصے میں اللہ انسان کو اس کے کمزور اور اللہ کے محتاج ہونے کی یاددہانی کرواتا ہے اور پھر کہتا ہے کہ سواۃے اس انسان کے جسے اللہ خود طاقت عطاکرے 

یعۡلَمُ مَا بَیۡنَ اَیۡدِیۡہِمۡ وَ مَا خَلۡفَہُمۡ 

یہ اس آیت کا درمیانہ اور پانچواں حصہ ہے. اس میں اللہ انسان کو بتاتا ہے کہ وہ جانتا ہے کہ اس آیت میں اس نے پہلے کیا بیان کیا ہے اور بعد میں کیا بیان کیا ہے 

آیت الکرسی کا نزول

یہ کوئی سورت نہیں بلکہ سورت البقرہ کی آیت نمبر 255 ہے 

آیت الکرسی کیوں کہتے ہیں

یہ قرآن پاک کی سب سے لمبی آیت ہے جس میں اللہ کے 5 صفاتی نام اور 26 خصوصیات بیان کی گئی ہیں. قرآن کی باقی آیات کے بر عکس اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے صرف اپنی بڑائی اور بزرگی بیان کی ہے ۔ اسے آیت الکرسی اس لئے بھی کہا جاتا ہے کیونکہ یہ قرآن کی سب آیات کی مالک ہے۔ 

آیت الکرسی کی فضیلت 

علماء کے مطابق، قرآن تمام کتابوں کا بادشاہ ہے. سورت البقرہ تمام سورتوں کا بادشاہ ہے اور آیت الکرسی تمام آیات کا بادشاہ ہے۔

آیت الکرسی کا مقصد 

اس آیت  میں اللہ کی بڑائی بیان کی ہے کہ وہ تمام کائنات میں پائی جانے والی ہر شے کا نہ صرف مالک ہے بلکہ وہ اس تمام کائنات میں ہونے والے تمام کاموں سے بھی واقف ہے۔ تمام کائنات اس کی محتاج ہے۔

آیت الکرسی کے فوائد 

۔یہ شیطان سے حفاظت کرتی ہے

۔اس کا صبح شام نماز کے بعد ورد کرنا برائیوں اور جنات سے حفاظت کا ضامن ہے

۔ ناگہانی آفات سے بچاتی ہے

۔ نقصان سے بچاتی ہے

۔ شیطان اور اس کی چال سے محفوظ رکھتی ہے

۔لوگوں کی بری نظر سے حفاظت کرتی ہے

 

آیت الکرسی کا حدیث سے ثبوت

وہ عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہ کی اس حدیث «ما خلق الله من سماء ولا أرض أعظم من آية الكرسي» کی تفسیر میں کہتے ہیں: آیت الکرسی کی فضیلت اس وجہ سے ہے کہ یہ اللہ کا کلام ہے اور اللہ کا کلام اللہ کی  مخلوق یعنی آسمان و زمین سے بڑھ کر ہے۔ جامع ترمذی شریف کتاب قرآن کے فضائل حدیث نمبر 2884.

 

اگر اس مکالمے میں ہم سے کوئی غلطی یا کوتاہی ہوئی ہے تو براہ مہربانی غلطی کی نشاندہی کر کے ہماری اصلاح میں مدد کیجیئے۔ اللہ ہماری چھوٹی بڑی غلطیوں کو معاف فرمائے اور ہماری اس کاوش کو اپنی بارگاہ میں قبول و مقبول فرمائے۔اللہ اس کاوش کو ہمارے خاندان کے لئے نجات کا موجب بنائے اور دین پر ہماری پکڑ کو اور مضبوط کرے. آمین 

Next Post

Previous Post

Leave a Reply

© 2019 Islamic Education

Theme by Anders Norén